الجبار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الجبار

الجبار اسماء الحسنی میں شامل ایک نام۔ سب پر غالب بڑی عظمت والا۔ (کذا قال ابن عباس) جبروت اللہ ‘ اللہ کی عظمت ‘ اس توضیح پر الجبار اللہ کی صفت ذاتی ہوگی۔

معانی[ترمیم]

بعض اہل عرب کے نزدیک الجبر سے مشتق ہے اور جبر کا معنی ہے درست کرنا ‘ محاورہ میں کہا جاتا ہے : جبرت الامر ‘ میں نے وہ کام ٹھیک کر دیا۔ جبرت العظم ‘ میں نے ہڈی کو جوڑ دیا۔ اللہ بھی فقیر کو غنی کردیتا ہے اور ٹوٹے کو جوڑ دیتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے : وہ ٹوٹی ہڈی کو جوڑ دینے والا ہے۔ سدی اور مقاتل نے کہا : جبار اس کو کہتے ہیں جو طاقت کے ساتھ سب لوگوں پر غالب ہو اور جو کچھ ارادہ کرلے اس کو اپنی غالب کل قوّت سے اس کو پورا کرلے۔ ایک عالم سے جبار کا معنی دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا : جبار وہ غالب کل ہے جو اگر کسی کام کا ارادہ کرے تو اس کو پورا کرلے ‘ کوئی اس کو روک نہ سکے۔[1] اصل میں جبر کے معنی زبردستی اور دباؤ سے کسی چیز کی اصلاح کرنے کے ہیں۔ الجبار انسان کی صفت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ناجائز تعلی سے اپنے نقص کو چھپانے کی کوشش کرنا۔ بدیں معنی اس کا استعمال بطور مذمت ہی ہوتا ہے۔ جیسے قرآن میں ہے : ۔

  • Ra bracket.png وَاسْتَفْتَحُواْ وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ Aya-15.png La bracket.png تو ہر سرکش ضدی نامراد ہو گیا ۔[2]

' الجبار ': المصلح امور خلقہ المتصرف فیھم بما فیہ صلاحھم۔ یعنی اپنی مخلوقات کے امور کو درست کرنے والا اور ان میں ایسا تصرف کرنے والا جس میں ان کی فلاح اور بہبود ہوتی ہے۔ اس صورت میں یہ جبر سے مشتق ہوگا جس کا معنی اصلاح ہے۔ ٹوٹی ہوئی ہڈی پر پٹی باندھ کر اسے درست کرنے کو بھی جبر کہتے ہیں۔ جبرت العظم فجبر۔ اس کا معنی یہ بھی کیا گیا ہے جس کی سطوت کو برداشت نہ کیا جاسکے۔ الذی لا تطاق سطوتہ۔ قال ابن عباس ھو العظیم۔[3] اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

  • Ra bracket.png هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ Aya-23.png La bracket.png

وہ (اللہ) زبردست، غالب آنے والا اور کبریائی والا ہے۔ الجبار سے مراد سب پر غلبہ پا لینے والا نیز جو اپنے زور اور قوت و عظمت کے ذریعے سب طاقتوروں پر غلبہ حاصل کر لے۔ خواہ کوئی کتنا ہی زبردست اور طاقتور کیوں نہ ہو وہ اللہ کی عظمت اور غلبہ سے مغلوب رہتا ہے۔
الجبار اسے بھی کہتے ہیں جو شکستہ دل والوں اور کمزوروں، عاجزوں کے دلوں کو تقویت دے بلکہ جو بھی اللہ کی پناہ طلب کرے اور اس کی امان میں آنا چاہے۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی سکون دل عطا کرتا ہے۔ الجبار کا مفہوم یہ بھی ہے کہ جو ہر برائی، عیب اور نقص سے مبرا ہو۔ نیز جو اپنے حصہ دار، ہمسر اور مشابہ سے بھی بڑا ہو۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی
  2. مفردات القرآن امام راغب اصفہانی
  3. ضیاء القرآن پیر کرم شاہ
اسماء الحسنیٰ
اللہالرحمٰنالرحیمالملکالقدوسالسلامالمؤمنالمہیمنالعزیزالجبارالمتکبرالخالقالباریالمصورالغفارالقہارالوہابالرزاقالفتاحالعلیمالقابضالباسطالخافضالرافعالمعزالمذلالسمیعالبصیرالحکمالعدلاللطیفالخبیرالحلیمالعظیمالغفورالشکورالعلیالکبیرالحفیظالمقیتالحسیبالجلیلالکریمالرقیبالمجیبالواسعالحکیمالودودالمجیدالباعثالشہیدالحقالوکیلالقویالمتیناولیالحمیدالمحصیالمبدیالمعیدالمحییالممیتالحیالقیومالواجدالماجدالواحدالصمدالقادرالمقتدرالمقدمالمؤخرالاولالآخرالظاہرالباطنالوالیالمتعالالبرالتوابالمنتقمالعفوالرؤفالمقسطالجامعالغنیالمغنیالمانعالضارالنافعالنورالہادیالبدیعالباقیالوارثالرشیدالصبورمالک الملکذو الجلال و الاکرام
یہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فہرست ہے