الرحمٰن، اسماء الحسنیٰ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
الرحمٰن

الرحمٰن اسماء الحسنی میں شامل ایک نام۔ دنیا میں مومنوں اور کافروں پر اور آخرت میں صرف مؤمنوں پر رحم کرنے والا(الرحیم)

قرآن میں ذکر[ترمیم]

قرآن میں لفظ الرحمن 48 مرتبہ آیا ہےاللہ تعالیٰ نے فرمایا:

  • Ra bracket.png وَإِلَـهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَّ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ Aya-163.png La bracket.png

اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے اس کے علاوہ کوئی (سچا) معبود نہیں وہ (دنیا و آخرت میں ) رحم کرنے والا ہے۔

  • Ra bracket.png الرَّحْمـنِ الرَّحِيمِ Aya-3.png La bracket.png

نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے

صفت رحمٰن اور رحیم[ترمیم]

الرحمن اور الرحیم: دونوں نام رحمت سے مشتق ہیں یہ دونوں ہم معنی لفظ مبالغہ کے صیغے ہیں لیکن الرحمن میں زیادتی لفظ کے باعث رحیم کی نسبت مبالغہ زیادہ تر ہے۔ رحمن کے معنی سب پر عام رحم فرمانے والا۔ رحیم کے معنی خاص خاص پر خاص رحم فرمانے والا۔ پانی، ہوا، صحت، بارش، سورج کی روشنی بلافرق سب کو عطا فرمائی یہاں رحمانیت کی جلوہ گری ہے۔ لیکن ایمان، ولایت، نبوت، حکومت، عبادت یہ سب کو نہ عطا کیا گیا بلکہ خاص خاص کو عطا کیا گیا ان میں رحیم کے معنی کا ظہور ہے۔ دوست، دشمن، مومن، کافر، گبروترسا سب کو اپنی رحمت سے نواز دیا یہ سب صفت رحمانی ہی کا ظہور ہے۔ لیکن آخرت میں صرف اور صرف ایمان والوں پر رحمت و کرم ہوگا۔ کافر و مشرک پر عذاب ہوگا یہ صفت رحیمی کا ظہور ہے[1]۔
اہل ایمان پرجتنی بھی نعمتیں ظاہری و باطنی ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کی دلیل ہیں۔ مثلاً امن و سلامتی صحت و اموال ،اولاد، خورد و نوش وغیرہ لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف اہل توحید کے ساتھ خاص ہو گی۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ( بخشش کرنے والے مہربان کے) یہ دونوں لفظ رَحْمَۃ سے مشتق ہیں اور رحمت رقت قلب (دِل کی نرمی) کو کہتے ہیں جس کا تقاضا فضل و احسان ہے مگر یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء صفات میں آغاز و الفاظ کا لحاظ نہیں ہے بلکہ انجام و معانی کا لحاظ رکھا گیا ہے ( رحمت کا انجام احسان ہے)
ابن عباس فرماتے ہیں یہ دونوں اسم مہربانی پر دال ہیں اور ایک دوسرے کی نسبت زیادتی اور مبالغہ پایا جاتا ہے پھر یہ زیادتی کبھی مقدار ( کمی بیشی) کے لحاظ سے ہوتی ہے ( یعنی رحمت سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ ہوتے ہیں) اس اعتبار سے اللہ کو رَحْمٰنُ الدنیا وَ رَحِیْمُ الْاٰخِرَۃ کہتے ہیں کیونکہ رحمت آخرت میں صرف پرہیزگاروں کا حصہ(آخرت میں رحمت سے فائدہ اٹھانے والے صرف مومن ہوں گے اور دنیا میں سب ہی لوگ فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ مومن بھی اور کافر بھی) ہے اور کبھی یہ زیادتی محض کیفیت کے لحاظ سے ہوتی ہے اس لحاظ سے اللہ کو رحمن الدنیا والاخرۃ و رحیم الدنیا کہتے ہیں کیونکہ آخرت کی تمام نعمتیں بیش قیمت ہیں اور دنیا کی بعض نعمتیں حقیر ہیں اور بعض جلیل القدر چونکہ لفظ رحمن اعلام کی طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے لفظ رحیم پر مقدم رکھا گیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ رحمت کو تقدم زمانی حاصل ہے اور عموم رحمت دنیا میں مقدم ہے[2]

حوالہ جات[ترمیم]

اسماء الحسنیٰ
اللہالرحمٰنالرحیمالملکالقدوسالسلامالمؤمنالمہیمنالعزیزالجبارالمتکبرالخالقالباریالمصورالغفارالقہارالوہابالرزاقالفتاحالعلیمالقابضالباسطالخافضالرافعالمعزالمذلالسمیعالبصیرالحکمالعدلاللطیفالخبیرالحلیمالعظیمالغفورالشکورالعلیالکبیرالحفیظالمقیتالحسیبالجلیلالکریمالرقیبالمجیبالواسعالحکیمالودودالمجیدالباعثالشہیدالحقالوکیلالقویالمتیناولیالحمیدالمحصیالمبدیالمعیدالمحییالممیتالحیالقیومالواجدالماجدالواحدالصمدالقادرالمقتدرالمقدمالمؤخرالاولالآخرالظاہرالباطنالوالیالمتعالالبرالتوابالمنتقمالعفوالرؤفالمقسطالجامعالغنیالمغنیالمانعالضارالنافعالنورالہادیالبدیعالباقیالوارثالرشیدالصبورمالک الملکذو الجلال و الاکرام
یہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فہرست ہے
  1. تفسیر الحسنات،ابو الحسنات سید محمد احمد قادری
  2. تفسیر مظہری،قاضی ثناء اللہ پانی پتی