المتکبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
المتكبر

المتکبر اسماء الحسنی میں شامل ایک نام۔ تکبر والا بڑی عظمت والا۔

معانی[ترمیم]

التکبر۔ اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ایک یہ فی الحقیقت کسی کے افعال حسنہ زیادہ ہوں اور وہ ان میں دوسروں سے بڑھا ہوا ہو۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ صفت تکبر کے ساتھ متصف ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمایا : الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ * Ra bracket.png هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ Aya-23.png La bracket.png
غالب زبردست بڑائی۔ دوم یہ کہ کوئی شخص صفات کمال کا دعوی کرے لیکن فی الواقع وہ صفات حسنہ عاری ہو اس معنی کے لحاظ سے یہ انسان کی صفت بن کر استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے ؛فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ [ الزمر/ 72]

  • Ra bracket.png قِيلَ ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ Aya-72.png La bracket.png
    متکبروں کا کیا بڑا ٹھکانا ہے۔ تو معنی اول کے لحاظ سے یہ صفات محمود میں داخل ہے اور معنی ثانی کے لحاظ سے صفت ذم ہے ۔[1]

المتکبر ': جس کی عظمت وکبریائی انتہا کو پہنچی ہوئی ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لیے متکبر ہونا صفت ہے لیکن مخلوق کے لیے یہ مذمت کا سبب ہے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں۔ فی الصحیح عن ابی ہریرہ ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال فیما یرویہ عن ربہ تبارک وتعالیٰ انہ قال الکبریاء ردائی والعظمۃ ازاری ومن نازعنی فی واحد منھما قصمتہ وقذفتہ فی النار۔

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار ہے۔ جو ان کو اوڑھنے کی کوشش کرے گا میں اس کی کمر توڑ دوں گا اور اس کو دوزخ میں پھینک دوں گا[2]

( المتکبر) کے معنی ہیں اپنی بڑائی اور برتری کا احساس رکھنے والا، یہ احساس اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے اندر ہو تو باطل ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی ایسی بڑائی حاصل نہیں ہے جو اس کی ذاتی ہو بلکہ جس کو بھی کوئی بڑائی حاصل ہے وہ اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے لیے تکبر زیبا اور بر حق ہے اس لیے کہ اس کی بڑائی ذاتی اور ازلی و ابدی ہے۔ اس کے اس احساس ہی کا یہ اثر ہے کہ وہ اپنی خدائی اور بادشاہی ہی کسی کی شرکت گوارا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کے اس شعور کی تعبیر دوسرے آسمانی صحیفوں میں یوں کی گئی ہے کہ تمہارا خداوند خدا غیور ہے۔ جس طرح تم یہ گوارا نہیں کرتے کہ تمہاری بیوی کسی غیر کی بغل میں سوئے اسی طرح وہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ اس کا بندہ کسی غیر کی بندگی کرے۔ میرے نزدیک قرآن نے جو مضمون لفظ متکبر سے ادا کیا ہے دوسرے آسمانی صحیفوں میں وہی مضمون ’ غیور ‘ سے ادا کیا گیا ہے۔[3]
اللہ ہر برائی، نقص، عیب اور ظلم سے اعلیٰ ہے۔ وہ مخلوقات کی صفات سے بھی اعلیٰ ہے۔ نیز متکبر، کبریائی والے اور عظمت والے کو کہتے ہیں۔ یہ وصف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ کسی اور کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہ وصف اللہ سے چھیننے کی کوشش کرے لہذا جو بندہ بھی تکبر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں ذلیل کرتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مفردات القرآن امام راغب اصفہانی
  2. ضیاء القرآن پیر کرم شاہ
  3. تدبر القرآن امین اصلاحی
اسماء الحسنیٰ
اللہالرحمٰنالرحیمالملکالقدوسالسلامالمؤمنالمہیمنالعزیزالجبارالمتکبرالخالقالباریالمصورالغفارالقہارالوہابالرزاقالفتاحالعلیمالقابضالباسطالخافضالرافعالمعزالمذلالسمیعالبصیرالحکمالعدلاللطیفالخبیرالحلیمالعظیمالغفورالشکورالعلیالکبیرالحفیظالمقیتالحسیبالجلیلالکریمالرقیبالمجیبالواسعالحکیمالودودالمجیدالباعثالشہیدالحقالوکیلالقویالمتیناولیالحمیدالمحصیالمبدیالمعیدالمحییالممیتالحیالقیومالواجدالماجدالواحدالصمدالقادرالمقتدرالمقدمالمؤخرالاولالآخرالظاہرالباطنالوالیالمتعالالبرالتوابالمنتقمالعفوالرؤفالمقسطالجامعالغنیالمغنیالمانعالضارالنافعالنورالہادیالبدیعالباقیالوارثالرشیدالصبورمالک الملکذو الجلال و الاکرام
یہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی فہرست ہے