ایرانی مظاہرے، 2017ء-18ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایرانی مظاہرے، 2017ء-18ء
[[File:|frameless|upright=1.35]]
کرمانشاہ میں 29 دسمبر 2017ء کو جاری مظاہرے
تاریخ 28 دسمبر 2017ء – جاری (176 دن)
مقام ایران
وجوہات
مالیاتی و اقتصادی مسائل
مذہبی اور انسانی حقوق کے مسائل
  • مذہبی حکومت کی مخالفت[2]
اہداف مذہبی حکومت میں تبدیلی، دیرینہ حکومت رہنما خامنہ ای کی برطرفی[3][4][4][5][6][7]
طریقہ کار مظاہرے، فسادات، سول نافرمانی
صورتحال جاری
فریق تنازع

مظاہرین

  • طلبہ
  • بالغ افراد

حکومت ایران

سرکردہ رہنما
کسی رہنما کا علم نہیں
تعداد
دسیوں ہزار[10]
متاثرین

20 ہلاک[11]

550+ گرفتار[12]
2 ہلاک[13][14]

سنہ 2017–18 میں ایرانی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو ہنوز ایران کے متعدد شہروں میں جاری ہے۔ مظاہروں کا آغاز ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں 28 دسمبر 2017ء کو ہوا۔ سماجی ذرائع ابلاغ پر حسن روحانی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر «گرانی نہیں » کے عنوان سے شروع ہونے والے احتجاج کا یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے حکومت مخالف سیاسی نعروں تک پہنچ گیا۔

گرچہ ان مظاہروں میں حکومت مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں، تاہم ایرانی کے متعدد افراد، جماعتیں اور ذرائع ابلاغ انہیں درست سمجھ رہے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ عوام سے مذاکرات کرے نیز عوام کی رہنمائی بھی رہے ہیں تاکہ دشمنان ایران ان مظاہروں سے فائدہ نہ اٹھائیں۔

تفصیلات[ترمیم]

28 ستمبر 2017ء کو ایرانی شہر مشہد میں چند ناکام مالی اداروں نے بے روزگاری، غربت اور افراط زر کے خلاف مظاہرے شروع کیے، اس دوران میں ان کے مطالبات محض اقتصادی نوعیت کے تھے۔ بعد ازاں سماجی ذرائع ابلاغ پر ان مظاہروں میں «گرانی نہیں » کے عنوان سے شرکت کی دعوت دی گئی، لیکن جلد ہی ان مظاہروں کا دائرہ وسعت اختیار کر گیا اور حکومت مخالف اور سیاسی نعرے بازی شروع ہو گئی۔ چنانچہ جو افراد پہلے گرانی کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے جب انہوں نے ان سیاسی نعروں کو دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے۔ ان مظاہروں میں افراط زر اور گرانی کے خلاف لگائے جانے والے نعروں میں «مالدار افراد عوام کے لیے باعث ننگ»، «گرانی مردہ باد»، «بے روزگاری مردہ باد» قابل ذکر ہیں۔ نیز حکومت مخالف نعرے کچھ اس طرح تھے : «روحانی مردہ باد، آمر مردہ باد»، «ہمیں اسلامی جمہوریہ نہیں چاہیے » وغیرہ۔ اسی طرح بعض مظاہرین نے اپنے بینروں پر ایران کی عرب ممالک میں مداخلت کے خلاف اظہار نفرت درج کیا تھا مثلاﹰ «سوریہ سے واپس آؤ اور ہماری فکر کرو» اور «نہ لبنان نہ غزہ۔۔ بس ایران» وغیرہ۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق یہ مظاہرے صوبہ خراسان کے دار الحکومت مشہد سے بڑھ کر نیشاپور تک پہنچ گئے ہیں۔

گرفتاریاں[ترمیم]

29 دسمبر 2017ء کو ایک نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نے بتایا کہ گزشتہ رات مظاہرے میں شامل 52 افراد کو پولس نے گرفتار کیا ہے۔

خط زمانی[ترمیم]

شہر بلحاظ دن، جب احتجاج شروع ہوا:
  سرخ: 28 دسمبر
  مالٹئی: 29 دسمبر
  پیلا: 30 دسمبر

یہ مظاہرے ایران بھر میں ہجوم کی صورت میں شروع ہوئے، بشمول مشہد، جو ایران کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ دیگر شہروں میں نیشاپور، کاشان، کرمان، کرمانشاہ، کاشمر، رشت، اصفہان، اراک، بندر عباس، اردبیل، قزوین، ہمدان، ساری، ایران، بابل، ایران، آمل،شاہین‌ شهر، شہر کرد، شیراز، خرم‌آباد، زنجان، گرگان، زاہدان، ارومیہ (ایران)، دورود، یزد اور شاہ رود شامل ہیں۔[15]

پورے ملک میں کئی مظاہرین "اپنی روح کو برکت دو" اور رضا شاہ پہلوی کی تعریف میں کئی دیگر نعرے لگا رہے ہیں،[16][17][18][19] رضا شاہ کو انقلاب ایران کے دوران میں معزول کر دیا گیا تھا، اس انقلاب کے نتیجے میں جدید اسلامی ایران کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ مظاہرین محمد رضا شاہ پہلوی [20] اور اس کے بیٹے اور سابق شاہی وارث جلاوطن رضا پہلوی کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں۔ مظاہرین طویل عرصے سے رہنما علی خامنہ ای سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے منصب سے دستبردار ہو جائیں،[3][17] نیز خامنہ ای کے پوسٹر گرائے گئے[5] اور تہران میں خامنہ ای کے پوسٹر کو آگ لگائی گئی۔[21] مظاہرین نعرے لگا رہاے ہیں : “خامنہ ای، شرم کرو اور ملک کی جان چھوڑو!”[17] اور “آمر مردہ باد۔”[7] مظاہرین کا ایک نعرہ یہ بھی ہے"لوگ کنگال ہیں اور ملا خداؤں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔”[22]

حکومتی رد عمل[ترمیم]

انگریزی کی تدریس پر پابندی[ترمیم]

ایران نے بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد پرائمری اسکول میں انگریزی کی تعلیم پر پابندی لگا دی۔ خامنہ ای نے دعوی کہ انگریزیک زبان مغربی اقدار کی "ثقافتی یلغار" کی راہ ہموار کر رہی ہے۔[23][24]

تصاویر[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 Reuters (30 دسمبر 2017)۔ "Protests over alleged corruption and rising prices spread to Tehran"۔ دی گارڈین۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ29 دسمبر 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 دسمبر 2017۔ 
  2. CNN، Phil Gast and Dakin Andone,۔ "Here's why the Iran protests are significant"۔ CNN۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-01-02۔ 
  3. ^ 3.0 3.1 Erdbrink، Thomas (30 دسمبر 2017)۔ "Iran Confronts 3rd Day of Protests, With Calls for Khamenei to Quit"۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ30 دسمبر 2017 کو – بذریعہ NYTimes.com۔ (ضرورت رکنیت)۔ 
  4. ^ 4.0 4.1 "Iranian protesters attack police stations, raise stakes in unrest"۔ 2 جنوری 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 جنوری 2018 – بذریعہ Reuters۔ (ضرورت رکنیت)۔ 
  5. ^ 5.0 5.1 CNN، Laura Smith-Spark, Dakin Andone and Jennifer Hauser,۔ "Iran warns against 'illegal' gatherings after protests"۔ CNN۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ30 دسمبر 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 دسمبر 2017۔ 
  6. "Protesters set fire to picture of leader Khamenei in Tehran – Daily Mail Online"۔ Mail Online۔ 
  7. ^ 7.0 7.1 Dehghan، Saeed Kamali؛ Graham-Harrison، Emma (31 دسم 2017)۔ "Iranians chant ‘death to dictator’ in biggest unrest since crushing of protests in 2009"۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 جنوری 2018 – بذریعہ www.theguardian.com۔ (ضرورت رکنیت)۔ 
  8. خطير، حسن قلي پور (1 جنوری 2018)۔ "تصویری متفاوت از نیروهای یگان ویژہ در تهران - - " دهمین - تصویری متفاوت از نیروهای یگان ویژہ در تهران"۔ موتور جستجوی قطرہ (fa زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جنوری 2018۔ 
  9. Farda، Radio (30 دسمبر 2017)۔ "Latest On Continuing Unrest In Iran – Basij Enters The Foray To Crack Down"۔ RFE/RL۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ31 دسمبر 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جنوری 2018۔ 
  10. Crisis of expectations: Iran protests mean economic dilemma for government، Reuters, 1 جنوری 2018
  11. 22 people died,[1] 2 of which were security forces members,[2][3] leaving a total of 20 protesters reported dead
  12. "Ex-Iranian president, seen by some as moderate, condemns violence and US"۔ 2 جنوری 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 جنوری 2018۔ 
  13. correspondent، Saeed Kamali Dehghan Iran؛ agencies (2 جنوری 2018)۔ "Nine more reported dead in Iran as protests enter sixth day"۔ The Guardian (en-GB زبان میں)۔ آئی ایس ایس این 0261-3077۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 جنوری 2018۔ 
  14. "Iranian policeman killed, three hurt in protests: police spokesman"۔ 1 جنوری 2018۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جنوری 2018 – بذریعہ Reuters۔ (ضرورت رکنیت)۔ 
  15. "Iranians protest against high prices in Mashhad"۔ بی بی سی نیوز۔ 28 دسمبر 2017۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ29 دسمبر 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 دسمبر 2017۔ 
  16. "UPDATE 10-Iran protesters rally again despite warning of crackdown"۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ1 جنوری 2018 کو۔ 
  17. ^ 17.0 17.1 17.2 "Iran protesters rally again despite warning of crackdown"۔ 1 جنوری 2018۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ1 جنوری 2018 کو – بذریعہ Reuters۔ (ضرورت رکنیت)۔ 
  18. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ RadioFardaDozensArrested نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  19. "Rouhani urges against violence amid anti-government protests"۔ PBS NewsHour۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ1 جنوری 2018 کو۔ 
  20. "Two reportedly killed in Iran protests as nation clamps down"۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ31 دسمبر 2017 کو۔ 
  21. "Protesters set fire to picture of leader Khamenei in Tehran – Daily Mail Online"۔ Mail Online۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ1 جنوری 2018 کو۔ 
  22. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ veconomist نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  23. "After mass protests, Iran bans English in schools to fight Western 'cultural invasion'"۔ 
  24. "Iran Bans English in Primary Schools After Leaders' Warning"۔ Voanews.com۔ 4 نومبر 2017۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 جنوری 2018۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:جاری احتجاج