بائیس خاندان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ایک اصطلاح۔ جس کی بنیاد ایک تقریر بنی۔ جس نے دور رس سیاسی نتائج پیدا کیے۔ اپریل 1968ء میں منصوبہ بندی کمشن کے چیف معاشیات دان ڈاکٹر محبوب الحق نے کراچی کے ایک منتخب اجلاس میں صدر ایوب خان کے دس سالہ عہد ترقی میں جمع شدہ دولت کے موضوع پر تقریر کی۔ ڈاکٹر صاحب نے صرف ان بڑے خاندانوں سے متعلق اعداد و شمار کا سہارا لیا تھا جو کراچی سٹاک اکسچینج کی فہرست کے مطابق تجارتی و صنعتی فرموں کے مالک یا منتظم یا نگران تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان اعداد و شمار سے جو نتائج اخذ کیے وہ بلاشبہ ڈرامائی تو تھے ہی لیکن پوری طرح درست نہ تھے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی دو تہائی صنعتی اثاثے پر بائیس خاندانوں کا قبضہ ہے۔ کراچی سٹاک ایکسچینج میں درج شدہ فرموں کے اثاثے کے معاملے تو یہ بات درست ہو سکتی تھی لیکن انہوں نے اپنے اعداد و شمار میں ان غیر رجسٹرڈ اور چھوٹی فرموں کو شامل نہیں کیا جنہوں نے ملک کی صنعتی پیداوار بڑھانے میں انتہائی فعال کردار ادا کیا تھا۔ اس تقریر سے معاشیات کے سیاسی حالات پر گہرا اثر پڑا۔ تقریر اور رپورٹ کے اعداد و شمار اور دولت کے طریق ارتکاز و استعمال کو فراموش کر دیا گیا، بس ایک لفظ بائیس خاندان سیاسی زبان کا محاورہ بن گیا۔ سیاست دانوں نے عوام کو یہ تاثر دیا کہ صدر ایوب کی دہائی میں پاکستان میں غریب تو غریب تر ہو گیا ہے اور امیر، امیر تر۔ ڈاکٹر محبوب کے اس تقریر کے نتیجے میں بایس خاندان گویا دولت کی ذخیرہ اندوزی اور معاشی استحصال کی علامت بن گئے۔ وہ بائیس خاندان تو کسی بھی یاد نہ رہے۔ البتہ بائیس خاندان تو کسی کو بھی یاد نہ رہے البتہ بائیس خاندان سیاسی صحافت کی اصطلاح بن گیا جس سے بالخصوص اس وقت کے حزب اختلاف کے رہنما ذو الفقار علی بھٹو نے خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی تقریروں میں بائیس خاندانوں کے خلاف سخت غصے اور ناراضی کا اظہار کیا جس نے بالآخر جنوری 1972ء کو ایک مقبول سیاسی حربے کی طور پر بڑی بڑی صنعتوں کو قومیانے کی شکل اختیار کر لی۔