پاکستان کی بین الاقوامی درجہ بندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


یہ پاکستان کی بین الاقوامی درجہ بندی کی فہرست ہے۔

زراعت[ترمیم]

میدان درجہ بندی تاریخ
پھول گوبھی اور شاخ گوبھی، پیداوار: 227,591 ٹن 9 2011
ماہی گیری، پیداوار: 515,095 ٹن 36 2005
کپاس، پیداوار: 2,215,000 میٹرک ٹن 4 2012
مال مویشی (گدھا) 1 2006
پیاز، پیداوار: 1,701,100 میٹرک ٹن 7 2012
آم، پیداوار: 1.95 ملین ٹن 5 2012
انگور, غیر مصدقہ پیداوار غیر مصدقہ 2010
گندم، پیداوار: 24.2 ملین میٹرک ٹن 9 2010

شہر[ترمیم]

فہرست پاکستانی درجہ بندی نوٹس
شہروں کی آبادی دوسرا شہر: لاہور

(لاہور 34ویں درجہ پر)

میٹروپولیٹن علاقہ جات 20واں شہر: کراچی
شہری علاقہ جات 7واں شہر:کراچی (لاہور کا درجہ 42واں)

جغرافیہ[ترمیم]

فہرست پاکستانی درجہ بندی/کل ممالک نوٹس
کل رقبہ 34واں/233 *بشمول شمالی علاقہ جات
ساحلی لمبائی 82واں/196
بلند ترین نقطہ دوسرا/241 کے ٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے

آبادیات[ترمیم]

فہرست پاکستانی درجہ بندی/تمام ممالک مآخذ نوٹس
شرح بار آوری 52واں/223 سی آئی اے، ٹی ایف آر درجہ بندی
انگریزی بولنے والے افراد تیسرا/133 فہرست ممالک بلحاظ انگریزی بولنے والے افراد
ہیومین ڈویلپمنٹ انڈیکس 146واں/177 اقوام متحدہ ڈویلپمنٹ پروگرام کی ہیومن ڈویلمنٹ رپورٹ
مشعر کیفیت حیات 93واں/111 اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ 2005 تخمینہ
شرح خواندگی 159واں/177 فہرست ممالک بلحاظ شرح خواندگی
آبادی 6واں/221 سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک کل آبادی کا 2008ء میں تخمینہ۔, 172,800,048
کثافت آبادی 58واں/241 اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ فہرست ممالک بلحاظ کثافت آبادی

معیشت[ترمیم]

فہرست پاکستانی درجہ بندی/کل ممالک مآخذ نوٹس
اکاؤنٹ بیلنس 172/188 سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک 2007 تخمینہ
برآمدات 61/196 فہرست ممالک بلحاظ برآمدات 2011 تخمینہ
درآمدات 49/197 فہرست ممالک بلحاظ درآمدات 2007 تخمینہ
مشعر اقتصادی آزادی 93/157[1] وال سٹریٹ جرنل اور ہیریٹیج فاونڈیشن 2008 تخمینہ
جی ڈی پی (فرضی) فی کس 135/182 بین الاقوامی مالیاتی فنڈ 2006 تخمینہ
جی ڈی پی (فرضی) 45/181 بین الاقوامی مالیاتی فنڈ 2006 تخمینہ
جی ڈی پی (پی پی پی) 26/179 بین الاقوامی مالیاتی فنڈ 2007 تخمینہ
جی ڈی پی (پی پی پی) فی کس 127/179 بین الاقوامی مالیاتی فنڈ 2007 تخمینہ
عالمی تقابلی روداد 91/125 ورلڈ اکنامک فورم 2006-2007
مشعر سہولیات کاروبار 76/178 عالمی بنک
لاہور فورس 10/222 سی آئی اے ورلڈ بک
شرح افراط زر 163/224 سی آئی اے ورلڈ بک 2007 تخمینہ
ذخائر قدرتی گیس 29/207 سی آئی اے ورلڈ بک 2006 تخمینہ
59/155 بین الاقوامی کرنسی اور سونے کے ذخائر سی آئی اے ورلڈ بک 31 دسمبر 2007 تخمینہ

ماحولیات[ترمیم]

عالمگیریت[ترمیم]

عسکریہ[ترمیم]

سیاسی[ترمیم]

فہرست عالمی بنک 2012 2010 2009 2008 2007 2006 2005 2004 2003 2002 Source
مشعر ادراک بدعنوانی
 
143/182
 
2.3 [3]
[143]
2.4 [4]
[139]
2.5 [5]
[134]
2.4 [6]
[138]
2.2 [7]
[142]
2.1 [8]
[144]
2.1 [9]
[129]
2.6
 
شفافیت بین الاقوامی
 
نامہ نگار بلا سرحدیں
 
151/178
 
56.17
[151]
65.67
[159]
54.88
[152]
64.83
[152]
70.33
[157]
60.75
[150]
61.75
[150]
39.00
[128]
44.67
[119]
نامہ نگار بلا سرحدیں
 
مشعر جمہوریت
 
108/167
 
4.46 [10]
[108]
3.92 [11]
[113]
اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ
 
مشعر ناکام ریاست
 
10/177 [12]
 
102.5
[10]
104.1
[10]
103.8
[9]
100.1
[12]
103.1
 
89.4
 
فنڈ فار پیس and خارجہ پالیسی
 

ابلاغیات[ترمیم]

فہرست عالمی بنک آبادیات (تخمینہ)
تعداد مستعمل خطوط ہاتف 33/232[13] 4.546 ملین (2008)
موبائل فون 9/222[14] 91.44 ملین (2009)
موبائل فون 57/233[15] 330,466 (2010)
تعداد انٹرنیٹ صارفین 27/212[16] 18.96 ملین (2012)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.heritage.org/research/features/index/countries.cfm
  2. KOF Globalisation Index – KOF Swiss Economic Institute | ETH Zurich
  3. "مشعر ادراک بدعنوانی 2010"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "مشعر ادراک بدعنوانی 2009"۔
  5. "مشعر ادراک بدعنوانی 2008"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  6. "مشعر ادراک بدعنوانی 2007"۔
  7. "مشعر ادراک بدعنوانی 2006"۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. "مشعر ادراک بدعنوانی 2005"۔ مورخہ 11 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  9. "مشعر ادراک بدعنوانی 2004"۔
  10. "مشعر جمہوریت 2008" (پی‌ڈی‌ایف)۔
  11. "مشعر جمہوریت 2007" (پی‌ڈی‌ایف)۔ The Economist۔
  12. "مشعر ناکام ریاست 2010"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  13. "تعداد مستعمل خطوط ہاتف"۔ سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2010۔
  14. "Telephone - موبائل فون استعمال کنندگان"۔ سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2010۔
  15. "تعداد جالبینی میزبان"۔ سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2010۔
  16. "تعداد انٹرنیٹ صارفین"۔ سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2010۔

بیرونی روابط[ترمیم]