خواجہ صوفی محمد علی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ صوفی محمد علی( ولادت1901ء۔ وفات22 نومبر 1974ء )

قطب الاولیاء، مظہر انوار خفی و جلی خواجہ صوفی محمد علی نقشبندی جو قطب الکونین خواجہ سید محمد حسین شاہ کے خلیفہ خاص اور شارح مکتوبات امام ربانی ابو البیان محمد سعید احمد مجددی کے پیر و مرشد تھے۔

نسب و ولادت[ترمیم]

آپ کا اسم گرامی محمد علی اور والد ماجد کا نام خواجہ رکن الدین آلو مہاروی تھا۔ آپ سیدنا صدیق اکبر کی اولاد میں سے تھے، اسی لیے نسباً صدیقی کہلاتے تھے۔ سندھ اور پنجاب میں جس ڈول بادشاہ کی جود و سخا کے قصے خاص و عام میں مشہور تھے، یہ بادشاہ اسی خاندان کا ایک فرد تھا۔ ڈول بادشاہ کے شہزادوں میں سے ایک شہزادہ نے حکمرانی چھوڑ کر فقر و درویشی کا راستہ اختیار کیا۔ اس طرح یہ خاندان جو پہلے جسموں پر حکمران تھا اب دلوں پر حکومت کرنے لگا۔

خواجہ صوفی محمد علی کی ولادت 1901ء میں موضع آلو مہار شریف، تحصیل ڈسکہ، ضلع سیالکوٹ میں ہوئی۔ آپ کا آبائی گاؤں گوجرانوالہ کے نواح میں موضع ماچھیکے سندھواں ہے چونکہ آپ کے والدین نے ساری عمر مشائخ آلو مہار شریف کی خدمت میں گزاری تھی اور وہیں سکونت پزیر تھے، اسی لیے آپ کی ولادت بھی وہیں ہوئی۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

خواجہ صوفی محمد علی کی تحنیک(گڑتی) کے ساتھ ساتھ پرورش اور تعلیم و تربیت کے مراحل میں قطب (تصوف) زمانہ، غوث یگانہ خواجہ سید محمد امین شاہ کی خصوصی توجہات شامل حال رہیں۔ کبھی آپ کی گود میں اور کبھی کندھوں پر سواری فرماتے رہے، خواجہ نے ولادت کے روز ہی اپنی تسبیح مبارک آپ کے گلے میں ڈال دی اور فرمایا یہ بچہ ولی ہوگا غالباً یہی وجہ تھی کہ بچپن سے ہی آپ پر عشق و محبت اور جذب و مستی کی کیفیات کا غلبہ تھا۔ حافظ صاحب سے قرآن حکیم ناظرہ پڑھا اور کچھ سکول کی تعلیم حاصل کی مگر جذبہ (تصوف) اس قدر طاری تھا کہ یہ کیفیت علوم کے حاصل کرنے میں رکاوٹ ثابت ہونے لگی۔ آپ عام بچوں سے بالکل الگ اور مختلف تھے۔ چونکہ آپ مادر زاد ولی تھے لہذا ہروقت مراقبہ اور ذکر میں مصروف رہتے، فضول قسم کے کھیل کود میں کبھی حصہ نہ لیتے، آپ کو علم لدنی سے وافر حصہ عطا ہو اتھا۔ آپ کی مجلس میں وقت کے علما حاضر ہوتے تو آپ ان کو بھی تبلیغ فرماتے۔ کتابت اور نقشہ نویسی میں بغیر محنت کے آپ کو کمال حاصل تھا۔ آپ کو ہندی، اردو اور پنجابی زبانوں پر دسترس حاصل تھی، کبھی کبھار درد و سوز کی کیفیات میں ڈوب کر پنجابی کے دوچار شعر بھی فرما لیا کرتے، نمونہ کے طور پر تین شعر نذر قارئین ہیں ۔

شوق طوفان سمندر وانگوں اندر ٹھاٹھاں مارے

اگ فراق نے مار جلایا وسدے دور پیارے

ادھی راتیں اٹھ اٹھ کے تے آہیں مار پکاراں

تیرے باہجھ مدینے والے، کون لوے گا ساراں

نیک عمل میں کر نہ سکیا، اینویں عمر گزاری

المدد یا مکی، مدنی، روواں کر کر زاری

تحصیل سلوک[ترمیم]

آپ ازل ہی سے فقر و ولایت کی دولت سے مالا مال تھے اور اولیاء کی تربیت نیز پاکیزہ سیرت و کردار کے حامل والدین کی پرورش و شفقت اس پر مستزاد۔

خواجہ سید محمد امین شاہ کی روحانی توجہات اور دعاؤں کے علاوہ عارف کامل خواجہ پیر سید محمدحسین شاہ کے دست حق پر ست پر حصول بیعت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا، آپ کی صحبت (تصوف) میں ہی سلوک (تصوف) نقشبندیہ مجددیہ کی تعلیم پائی اور آپ نے ہی ظاہری خلافت و اجازت سے نوازا۔ باطنی خلافت آپ کو امام ربانی مجدد الف ثانی سے عطا ہوئی اور سرہند شریف کئی سال تک حاضر رہنے کے بعد سلوک (تصوف) کی تکمیل ہوئی۔

نسبتِ اویسی[ترمیم]

آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، امام ربانی اورخواجہ سید محمد امین شاہ کے اویسی تھے اور اکثر اوقات انہی حضرات کی ظاہری و باطنی حاضری و حضوری سے مشرف رہتے۔

اکتسابِ فیض[ترمیم]

آپ نے جن اولیاء کرام کی خدمت اور ظاہری صحبت میں حاضر ہو کر اکتساب فیض کیا، ان کے اسماء گرامی حسبِ ذیل ہیں:

اہل قبور سے فیض[ترمیم]

آپ نے مندرجہ ذیل بزرگان دین کی قبور مقدسہ پر حاضر ہو کر فیض حاصل کیا ۔

اخلاق و عادات[ترمیم]

آپ صورت و سیرت میں سلف صالحین کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ دور اول کے صوفیائے کرام کے قافلے سے بچھڑ کر ایک مسافر اس دور میں آگیا ہے۔ آپ انتہائی بلند کردار، عالی ظرف، خوش خلق، غریب پرور، پیکر عشق و محبت، خادم دین و ملت، تکبر و غرور سے خالی، فقر و فاقہ کے عادی اور زہد و توکل کا کوہ گراں تھے۔ آپ کی راتیں عبادت میں اور دن ریاضت میں بسر ہوتے، درویشوں اور مہمانوں کی خدمت آپ کا خصوصی مشغلہ تھا۔ علما کے احترام میں پورا پورا اہتمام فرماتے۔ آپ کاکردار سپیدۂ صبح سے زیادہ صاف اور شبنم سے زیادہ پاکیزہ تھا۔ حق گوئی کا یہ عالم تھا کہ بڑے سے بڑے حاکم کو بھی خاطر میں نہ لاتے۔ درد دل کا یہ عالم تھا کہ کمزور اور بیمار جانوروں کی بھی خدمت کرتے، کسی پریشان حال کو دیکھتے تو بے اختیار آنکھیں چھلک پڑتیں، کسی فاقہ مست غمزدہ کو دیکھتے تو جو کچھ جیب میں ہوتا اس کے حوالے کر دیتے اور خود کئی کئی دن فاقہ مستی کی حالت میں رہتے مگر کبھی اظہار نہ فرماتے۔ مسجد اور مدرسہ میں اپنے ہاتھوں سے جھاڑو دیتے، صفائی کرتے جب کوئی طالب علم یا عقیدت مند آگے بڑھتا تو فرماتے مجھے بھی اپنے مالک کی مزدوری کر لینے دو اور زبان سے یہ شعر گنگناتے رہتے:

اٹھ فریدا ستیا جھاڑو دے مسیت

توں ستا رب جاگدا تیری ڈاہڈے نال پریت

آپ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرتے اور اسی کی تلقین فرماتے۔ جانوروں پر خصوصی شفقت فرماتے اور تانگے پر سواری سے گریز فرماتے بلکہ کئی کئی میل تک پیدل چلنا پسند فرماتے۔ ہر کسی کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے اور نہایت توجہ سے مزاج پرسی فرماتے اور سالانہ عرس کے موقع پر مریدین میں خود لنگر تقسیم فرماتے اور سب سے آخر میں خود کھاتے۔ آپ سادگی پسند تھے، لباس، بود و باش اور رہائش میں سادگی کو ترجیح دیتے، سفید لباس استعمال کرتے اور شلوار قمیص شیروانی کے ساتھ دستار زیب سر فرماتے تھے۔ عالم پیری میں لٹھے کی سفید قمیص، سفید تہبند اور نقشبندی ٹوپی پنج ترکی استعمال فرماتے۔ لباس میں سادگی مگر صفائی و طہارت کو ترجیح دیتے۔

معمولات[ترمیم]

آپ روزانہ تہجد سے لے کر نماز فجر تک دس پارے تلاوت فرمایا کرتے۔ تیسرے روز قرآ ن پاک ختم کرتے اور نماز عشاء کے فوراً بعد آرام فرماتے۔ گرمی ہو یا سردی ہمیشہ رات کے ایک بجے بیدار ہو جاتے۔ روزانہ دس ہزار مرتبہ درود خضری پڑھتے اور پچیس ہزار مرتبہ ذکر اسم ذات کرتے۔ روزانہ ختم خواجگان نقشبندیہ، ختم مجددیہ، ختم معصومیہ آپ کے اور اوراد و وظائف میں شامل تھے۔ آپ ذکر خفی اور مراقبہ کا خصوصی انتظام فرماتے۔ آپ کی طبیعت میں جذبہ و شوق کا غلبہ رہتا۔ مریدین کی تربیت پر خاصا زور دیتے، امیروں کی دعوتیں بہت ہی کم قبول فرماتے، بازار اور ہوٹل کے کھانے قطعاً پسند نہ فرماتے، حقہ ،سگریٹ اور پان تک سے بھی مکمل اجتناب فرماتے۔

غلبۂ جذب و مستی[ترمیم]

جب آپ پر عشق الٰہی کا غلبہ ہوتا اور جذب و جنون کی کیفیت مستقل صورت اختیار کرگئی تو آپ آبادی چھوڑ کر جنگل کی طرف چلے جاتے اور تلاش کرنے پر کسی غار یا کسی درخت کی کھوہ میں مراقب نظر آتے، جب یہ کیفیات روز افزوں ہوگئیں تو آپ نے آبادیوں کو خیرآباد کہہ دیا اور جنگلوں اور سنسان بیابانوں کی راہ لی اور اسی حالت میں اٹھائیس (28) برس گزر گئے، جنگلوں میں آپ کی غذا ذکر الہی اور درود خضری تھا۔ کبھی درختوں کے پتے اور گھاس پر گزار ہ ہوتا اور کبھی ہاتھ کی انگلیاں منہ میں رکھتے تو دودھ اور شہد کا مزہ پاتے۔ جہاں بیٹھ کر تلاوت یا ذکر کرتے تو جنگل کے جانور بھی آپ کے اردگرد بیٹھ جاتے، جن میں شیر، چیتا، اژدہا وغیرہ شامل تھے، اسی دوران آپ سے محیر العقول کرامات بھی صادر ہوتیں، جن میں اہل قبور سے ملاقاتیں اور مردوں کو زندہ کرنے کے عجیب واقعات رونما ہوتے۔

خلفاء[ترمیم]

آپ نے جن خوش نصیب حضرات کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کی اجازت و خلافت سے نوازا، ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں:

وصال[ترمیم]

آپ کا وصال 22 نومبر 1974 بروز جمعرات ہوا۔ عطاء محمد اسلامیہ ہائی اسکول کے وسیع گراؤنڈ میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔

بیرونی روابط[ترمیم]

[1] قطب الاولیاء، مظہر انوار خفی و جلی حضرت خواجہ صوفی محمد علی نقشبندی قدس سرہُ العزیز از افادات حضرت ابو البیان محمد سعید احمد مجددی