سید جماعت علی شاہ لاثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی علی پور سیداں کے عظیم نقشبندی صوفیا میں سے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

زبدة العارفین ،سراج السالکین ،شمس المشائخ ،پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی ابن سید علی شاہ 21 ماہ ساون 1916بکرمی1276ھ بمطابق 19 اگست 1860ء کوعلی پور سیداں میں پیدا ہوئے۔ آپکا سلسلہ نسب 32واسطوں سے امیر المومنین سیدنا علی المرتضیٰ سے جاملتا ہے۔[1]

علم باطن[ترمیم]

لاثانی بعد حصول تعلیم ظاہری خواجہ فقیر محمد چوراہی المعروف با با جی کے مرید ہوئے اور خلافت پائی۔ تلاش مرشد میں ا ٓپ کئی دفعہ چورہ شریف حا ضر ہوئے۔ جب دل پوری طرح مطمئن ہو گیا تو گھر سے بیعت کا ارادہ لے کر لاہور پہنچے کیونکہ آ پ کو معلوم ہوا تھا کہ با با جی لاہور میں تشریف فرما ہیں۔ وہاں سے معلوم ہوا کہ آپ موضع پٹیا لہ تشریف لے گئے ہیں چنانچہ آپ لاہور سے پٹیالہ پھر موضع دھو نکل(وزیر آباد ) اور وہاں سے سیالکوٹ پہنچے اور شرف بیعت سے مشرف ہوئے بہت جلد مدارج سلوک طے کرتے ہوئے اس مرتبہ پر پہنچے کہ خلافت سے نواز دیے گئے[2]

ثانی صاحب جن کو لاثانی صاحب بھی کہتے ہیں، امیر ملت حافظ جماعت علی شاہ محدث علی پوری کے پیر بھائی اور ہم وطن تھے۔ ثانی صاحب صحیح النسب حسینی سید اور اپنے وقت کے باکمال اولیا میں سے تھے۔ مشائخ عصر آپ کی بہت تکریم کرتے تھے۔ ہزاروں لوگوں نے آپ سے راہ ہدایت پائی اور سینکڑوں آپ کے فیض صحبت سے ولی کامل بن گئے۔ آپ بُستان رسول ﷺ اور چمنستان مرتضوی کے ایک سدا بہار پھول اور خاندان سادات کے فرد فرید تھے۔ آپ اپنے سینے میں اسرار و معارف کے بحر بیکراں لیے ہوئے تھے۔ آپ سادگی کے مبلغ ،غرباﺅں وبے نواؤں کے پیر تھے۔ آپ صاحب کشف و کرامت تھے۔ مستجاب الدعوات کا درجہ آپکو وراثت میں ملا تھا۔ بھولی بھٹکی مخلوق کو اللہ تعالیٰ سے ملانا آپکا منشور حیات تھا۔ مسلمانوں کو عشق رسول ﷺ کے جام پلانا آپکا مقصد عظیم تھا۔ شاہ لاثانی ساری زندگی اشاعت اسلام میں مصروف عمل رہے۔ آپ مرد کامل اور فقیر بے ریا تھے ۔

مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی سے آپکو بے حد محبت و عقیدت تھی۔ جبکہ صحابہ کرام ا،ہل بیت اطہار سے آپکو والہانہ محبت تھی ،مرشد خانہ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپکو بوجہ علالت عرض کیا گیا کہ اس سال چورہ شریف جانے کا ارادہ ترک فرما دیں تو آپ نے فرمایا جو مجھے چورہ شریف سے روکے وہ میرا دشمن ہے۔ آپ کی کرامات کو احاطہ تحریر میں لانے کے لیے اوراق کے دفتر درکار ہیں۔ نارووال کے صوفی محمد خان بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ حضرت بابابلھے شاہ کے دربار شریف پر حاضر ہوئے تو مختصر تلاوت و دعا کیساتھ چل دیے۔ تھوڑی دور جا کر دوبارہ دربار شریف میں مراقبہ فرمایا اور جی بھر کر تلاوت قرآن فرمائی۔ اراد تمندوں نے فراغت کے بعد سوال کیا کہ دوبارہ جانے میں کیا حکمت تھی۔ توآپ نے فرمایا جب میں تلاوت و دعا کے بعد چل دیا تو صاحب مزار نے راستہ روک لیا تھا اور کہنے لگے شاہ جی قرآن سننے کا مزہ آیا تو آپ چل دیے۔ تو میں دوبارہ دربار شریف میں پہنچا اور قرآن حکیم پڑھا ۔

وفات[ترمیم]

16 شعبان المعظم، ایک اکتوبر( 1358ھ/1939ء)کو آپ نے داعئی اجل کو لبیک کہا آپ کا مزار پر انوار علی پور سیداں میں مرجع انام ہے، ۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انسا ئیکلو پیڈیا، فیروز سنز لاہور، ص 518
  2. محمد سلیم نقشبندی، مولانا : ضیائے لاثانی طیب بکڈ پو، نشاط آباد ،فیصل آباد ص 18،
  3. Famous Personalities Articles : Hamariweb.com - عظیم روحانی بزرگ حضرت پیر سید جماعت علی شاہ لاثانی رحمة اللہ علیہ[مردہ ربط]