صادق محمد خان چہارم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صادق محمد خان چہارم
Sadiq IV-2.jpg 

مناصب
نواب ریاست بہاولپور (10 )   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
25 مارچ 1866  – 14 فروری 1899 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد بہاول خان چہارم 
محمد بہاول خان پنجم  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 11 نومبر 1861  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہاولپور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 14 فروری 1899 (38 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہاولپور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن قلعہ دراوڑ  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نواب سر صادق محمد خان چہارم G.S.C.I (پیدائش 1861ء وفات 1899ء) ریاست بہاولپور کے دسویں نواب تھے۔ آپ کی ساڑھے چار سال کی عمر میں دستار بندی کی گئی لیکن تخت نشینی بلوغت میں ہوئی۔ آپ کے دور حکومت میں نور محل، صادق گڑھ پیلس اور دربار محل جیسی عظیم عمارتیں بنائی گئی۔

پیدائش[ترمیم]

صاحبزادہ صادق محمد خان کی پیدائش 11 نومبر 1861ء میں ہوئی۔ [1]

سلسلہ نسب[ترمیم]

نواب آف بہاولپور عباس بن عبد المطلب کے خاندان سے ہیں ان کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے

دستار بندی[ترمیم]

صاحبزادہ صادق محمد خان کی دستار بندی ساڑھے چار سال کی عمر میں 8 ذیقعد 1282ھ بمطابق 26 مارچ 1866ء میں ہوئی۔ تاہم 1866ء سے لے کر 1879ء تک ریاست کے انتظامات برطانوی حکام کے سپرد رہے۔ اس عرصہ حکمرانی کو ایجنسی کی حکومت کا نام دیا جاتا ہے۔

بغاوت[ترمیم]

ابھی نواب محمد بہاول خان چہارم کا جنازہ دراوڑ میں قبرستان تک پہنچا ہی تھا کہ حکیم سعداللہ اور دیگر نے محمد بہاول خان سوم کے بھائی صاحبزادہ جعفر خان کو رہا کر کے تخت پر بٹھایا اور جنازے کے ساتھ جانے والے تمام امرا کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے درج ذیل افراد پر مشتمل کابینہ تشکیل دی

  • وزیر : محمد رضا خان
  • میر منشی : حکیم سعد اللہ خان
  • فوج کا کمانڈر : سید محمد شاہ غوری

اس بحران میں صادق محمد خان چہارم کے درباریوں نے برطانوی حکومت سے اپیل کی۔ برطانوی حکام نے غاصب کو گرفتار کرنے کے لیے ایک دستہ روانہ کیا۔ اس دستے کا سامنا دراوڑ کی مسجد میں توپیں لے کر بیٹھے ہوئے باغیوں سے ہوا۔ لڑائی ہوئی جس میں جلد ہی باغیوں کو بھاگ کر قلعے میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا گیا۔ تب ریاستی سپاہیوں نے مسجد میں اپنی توپیں نصب کر دیں۔ 9 روز طویل محاصرے کے بعد باغیوں نے ہتھیار پھینک دیے اور غاصب کو قیدی بنا لیا گیا۔ دریں اثنا غلام محمد چاکی (جسے سابقہ نواب کے حکم پر لما کے داؤد پوتروں کی سرکوبی کا کام سونپا گیا تھا) احمد پور واپس آیا۔ وہاں اس پر شک کیا گیا اور مقامی پولیٹکل ایجنٹ کی مرضی سے حراست میں لے لیا گیا۔ نواب کے وزیر محمد نظام خان نے اسے بہاول گڑھ کے قلعے میں قید رکھا اور وہیں پر موت کے گھاٹ اتاروا دیا۔ کچھ ہی عرصہ بعد باغی داؤد پوتر وں نے معافی مانگی اور اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔ نواب صادق محمد خان چہارم کی دستار بندی پر خريطہ وصول کرنے کے بعد سید محمد شاہ اور امام شاہ حکومت سے مداخلت کی درخواست کر نے لاہور گئے اور کمشنر ملتان مسٹر ڈبلیو فورڈ کو ریاست میں صورت حال کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ وہ یکم جون 1866ء کو احمد پور ایسٹ (شرقیہ) پہنچا۔ ابھی وہ وہاں پر موجود ہی تھا کہ سپاہیوں نے صاحبزادہ کی حمایت میں ایک شورش کا منصوبہ بنایا۔ دربار نے فورا موخر الذکر کو باہر نکال دیا اور جب سپاہیوں نے گڑ بڑ پیدا کی تو محمد نظام خان، جمعدار حاجی خان اور دیگر کو قید کر کے صاحبزادہ کو ان کا قائد تعینات کر نے کی کوشش کی۔ انہیں پتہ چلا کہ انہیں روکنے کے لیے پیشگی انتظامات کیے جا چکے تھے جس پر انہوں نے اپنے کچھ قیدیوں کو چھوڑ دیا۔ ان کے قائد امام بخش خان معروفانی کو پکڑ کر بطور قیدی برطانوی علاقے میں بھجوا دیا گیا۔

ایجنسی کی حکومت[ترمیم]

دوواگر بیگم نے محمد نظام خان اور دیگر کو مسٹر فورڈ کے پاس بہاولپور بھیجا اور دوسری مرتبہ مداخلت کی درخواست کی۔ اس درخواست کو قبول کیا گیا اور مسٹرفورڈ 4 اگست 1866 کو ریاست کا پولیٹکل ایجنٹ تعینات ہوا۔ 1867ء کے آخر میں صاحبزادہ ( جو لاہور قلعے میں نظر بند رہ چکا تھا) کو شہر میں رہنے کی اجازت دی گئی بشرطیکہ وہ ریاست میں شورش پسندوں کے ساتھ گٹھ جوڑ سے باز رہے۔ کچھ عرصہ تک ہر قسم کی سازشیں ختم نہ ہوئیں کیونکہ جلد ہی احمد پور ایسٹ میں سپاہیوں کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ مسز فورڈ کی جانب سے فوری اقدامات نے اس کا تدارک کر دیا اور سازشیوں سے موزوں سلوک کیا گیا۔ مسٹر فورڈ فوراً ہی ریاست میں ضروری اصلاحات متعارف کروانے میں لگ گیا۔ پوچھ گچھ کے بعد اس نے تخمینہ پیش کیا کہ کل محصول 2270767 احمد پوری روپے (1455210 کمپنی کے روپے) بنتا ہے۔ تاہم وہ صرف نومبر 1866 ، تک ہی ریاست میں رکا ، جب کیپٹن سی سی Minchin کو ریاست کا سیاسی سپرنٹنڈنٹ تعینات کر دیا گیا۔ مسٹر فورڈ ملتان کی کمشنری پر واپس آ گیا لیکن بہاولپور کے امور کے لیے لیفٹیننٹ جنرل کے چیف پولیٹکل آفیسر اور ایجنٹ کے طور پر کام کرنا جاری رکھا۔ تمام عدالتی، مالی اور انتظامی امور میں کیپٹن مِنچن کے احکامات قطعی تھے ماسوائے موت کی سزاؤں کے جن کے لیے مسٹر فورڈ کی توثیق ضروری تھی ۔ کیپٹن منچن نے اصلاحات کا کام جاری رکھا۔ کارداری بہاول گڑھ (موجودہ تحصیل منچن آباد) بنجر پڑی بارانی زمینیں بیکانیر، سرسا، لدھیانہ اور فیروز پور کے لوگوں کو کاشت کے لیے پٹے پر دے دی گئیں۔ ان کا کل رقبہ 166000 بیگھہ بنتا تھا اور انہیں 40 دیہات میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک آنہ فی بیگھہ کے حساب سے محصول 16888 احمد پوری روپے ( 10375 کمپنی کے روپے) بنتا تھا۔ عام معافی کا اعلان ہونے پر باغی گھروں کو واپس آئے اور ریاست کی زرعی ترقی بہت تیزی سے ہوئی۔ الہ آباد علاقہ میں خان واہ پر ایک نیا ہیڈ بنایا گیا اور اس نہر (جو برسوں سے بند پڑی تھی) نے الہ آباد تحصیل میں وسیع علاقے کو سیراب کیا۔ بہاول گڑھ (موجود منچن آباد) علاقہ میں دریا سے ہریاری نشیب کی طرف ایک نئی نہر نکالی اور یوں 15 میل کا رقبہ سیراب ہوا۔ جولائی 1868ء میں مسٹر جے ڈبلیو بارنز F.R.G.S کو آب پاشی کا سپرنٹنڈنٹ بنایا گیا اور اس نے متعددی نہریں کھدوائیں۔ 1866ء اور 1876ء کے درمیان میں ریاست نے نہروں کی کھدائی اور صفائی پر 1729976 روپے خرچ کیے۔ کیپٹن منچن نے ریاست کے لیے بلا تکان کام کیا اور متعدد اصلاحات متعارف کروائیں۔ مارچ1871ء میں جب وہ چھٹی پر گیا تو کیپٹن (موجودہ کرنل) ایل جے ایچ گرے C.S.I نے پولیٹکل ایجنٹ کی حیثیت میں ریاست کے ساتھ اپنے طویل تعلق کا آغاز کیا۔ اصلاح کا کام جاری رہا، ریاست کی خوش حالی میں اضافہ ہوا اور آمدنی بڑھ کر 20 لاکھ تک پہنچ گئی۔ 1877ء میں سالت اور کسٹم ڈیوٹی ختم کردی گئیں جس کے بدلے حکومت ریاست کو سالانہ 80000 روپے بطور تلافی ادا کرتی تھی۔

تخت نشینی[ترمیم]

1879ء میں صاحبزادہ صادق محمد خان نے بلوغت حاصل کر لی تھی اور ان کی عمر اٹھارہ سال ہو چکی تھی۔ سر رابرٹ ایجرٹن نے 28 نومبر 1879ء کو آپ کی تاج پوشی کی۔ صاحبزادہ صادق محمد خان نے اپنے لیے نواب صادق محمد خان چہارم کا خطاب منتخب کیا۔

کابل مہم[ترمیم]

ریاست نے پہلی کابل مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔ بالخصوص کوئٹہ کالم کی معاونت کے حوالے سے 20000 سے زائد اونٹ اکٹھے کر کے کمسریٹ ڈیپارٹمنٹ کو پیش کیے گئے جن کے لیے بہت بڑی مقدار میں سامان بھی خریدا گیا۔ بیل اور خچر خاصی بڑی مقدار میں راجن پور بھیجے گئے۔ کمشنر ملتان کی درخواست پرفوج کو 2800 تلواریں مہیا کی گئیں۔ نواب صاحب نے ذاتی طور پر تمام انتظامات کا جائزہ لیا۔ 500 پیدل اور 100 سواروں کی خدمات حکومت ہند کو پیش کی گئیں جو ہِزایکسیلینی وائسرائے نے قبول کیں۔ یہ جزل واٹسن کی زیر قیادت جنرل بریگیڈ کا جزو نہیں تھیں بلکہ انہیں ڈیرہ غازی خان میں ٹھہرایا گیا تھا جہاں انہوں نے سرحدی چوکیوں کو مستحکم بنانے میں شاندار کردار ادا کیا۔ قبل ازیں کابل کالمز کے لیے پنجاب فرنٹیئر فورس کو واپس بلانے سے سرحدی چوکیاں بہت کمزور ہو گئی تھیں۔

خدمات کا انعام[ترمیم]

ہزایکسیلینی نے نواب کے قابل تعریف طرز عمل اور نظم و ضبط کو بہت سراہا۔ ان خدمات کے اعتراف میں نواب صادق محمد خان چہارم کو نومبر 1880ء میں لارڈ Ripon کے دورہ بہاولپور کے موقع پر G.S.C.I کا اعزاز دیا گیا۔

وزراء[ترمیم]

نواب محمد بہاول خان چہارم نے تقریباً بیس سال کونسل کی معاونت سے ریاست پر حکومت کی۔ اس دور حکومت میں درج ذیل وزراء کو تعینات کیا گیا۔

  1. شیخ فیروز الدین 1880ء تک وزیر رہے۔ شیخ فیروز الدین کی وفات کے بعد وزیر کی ذمہ دارں نواب مارچ 1881ء تک خود سر انجام دیتے رہے۔
  2. محمد نواز شاہ مارچ 1881ء سے جنوری 1882ء تک وزیر تعینات رہے۔ انہوں نے استعفی دے دیا تھا۔ یہ عہدہ اگست 1883ء تک خالی رہا۔
  3. آغا محمد خان اگست 1883ء سے دسمبر 1888ء تک وزیر تعینات رہے۔ چھ ماہ تک یہ عہدہ کونسل کے پاس رہا۔
  4. میر ابراہیم علی E.A.C جولائی 1889ء سے 1891ء تک تعینات رہے۔ دوسری مرتبہ فروری 1892ء سے فروری 1898ء تک تعینات رہے۔
  5. مرزا جنددادے خان 1898ء سے 1903ء تک تعینات رہے۔

وفات[ترمیم]

7 فروری 1899ء کو نواب بہت بیمار پڑ گیا۔ اگرچہ ہرکوشش کی گئی لیکن وہ 14 فروری کو دنیا سے کوچ کر گیا۔ اسے دراوڑ میں عباسی سرداروں کے خاندانی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ [3] نواب صادق محمد چہارم کے متعلق مقامی لوگ کہتے ہیں پیر ہو تو غلام فرید جیسا اور مرید ہو تو صادق جیسا

تعمیرات[ترمیم]

نواب صادق محمد خان چہارم نے اپنے دور حکومت میں دولت خانہ (دربار محل)، صادق گڑھ پیلس، نور محل اور گلزار محل جیسی عظیم عمارتیں تعمیر کروائی۔[1]

نور محل[ترمیم]

نور محل کی تعمیر کا کام 1872ء میں شروع کیا گیا اور 1875ء میں یہ محل پایئہ تکمیل کو پہنچا۔ اس کی تعمیر میں دال ماش اور چاول کی آمیزش سے بنے ہوا مسالا استعمال کیا گیا۔ اس کی تعمیر پر اس وقت کی خطیر رقم خرچ ہوئی جو 12 لاکھ روپے بنتی تھی۔ یہ محل 44 ہزار 6 سو مربع فٹ پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ محل دو منزلوں پر مشتمل ہے۔ اس محل کے لیے فرنیچر اور تین فانوس اٹلی سے منگوائے گئے۔[4]

دربار محل[ترمیم]

نواب صادق محمد خان چہارم نے 1881ء میں دو لاکھ کی خطیر رقم سے ایک محل بہاولپور میں تعمیر کروایا جو پہلے دولت خانہ اور بعد میں دربار محل کے نام سے مشہور ہوا۔ اس محل میں نواب کی بیگمات کے لیے چھوٹے چھوٹے محل تعمیر ہے۔ اس میں ایک بڑا ہال موجود ہے جہاں نواب آف بہاولپور اپنا دربار لگاتے۔ [5]

اولاد[ترمیم]

نواب صادق محمد خان چہارم کے تین بیٹے تھے۔

  1. صاحبزادہ رحیم یار خان
  2. صاحبزادہ محمد مبارک خان (محمد بہاول خان پنجم)
  3. صاحبزادہ حاجی خان [6]

صاحبزادہ رحیم یار خان 1883ء میں کمسنی میں وفات پا گئے تھے۔ [7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "Information and History about the Founder and the Former Rulers of the State of Bahawalpur."۔ Bahawalpur۔
  2. گزیٹر آف ریاست بہاولپور 1904ء مولف محمد دین اردو مترجم یاسر جواد صفحہ 231
  3. گزیٹر آف ریاست بہاولپور 1904ء مولف محمد دین اردو مترجم یاسر جواد صفحہ 103 تا 106
  4. ""نور محل" جسے پاکستان کا تاج محل بھی کہا جاتا ہے"۔ jang.com.pk۔
  5. دربار محل روزنامہ دنیا
  6. "bahawal4"۔ www.royalark.net۔
  7. گزیٹر آف ریاست بہاولپور 1904ء مولف محمد دین اردو مترجم یاسر جواد صفحہ 423