محمد احمد سعید خان چھتاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد احمد سعید خان چھتاری
MuhammadSaidKhan.jpg 

صوبجات متحدہ کے کابینی وزیر
مدت منصب
17 مئی 1923ء – 11 جنوری 1926ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png دستیاب نہیں
دستیاب نہیں Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
صوبجات متحدہ کے گورنر
مدت منصب
7 اپریل 1933ء – 26 نومبر 1933ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Sir Alexander Phillips Muddiman
Sir William Malcolm Hailey Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
صوبجات متحدہ کے وزیر اعظم
مدت منصب
3 اپریل 1937ء – 16 جولائی 1937ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نیا انتخاب
گووند ولبھ پنت Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
قومی دفاعی کونسل کے رکن
مدت منصب
جولائی 1941ء – ستمبر 1941ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نیا انتخاب
خالی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
صدر المہام
نظام حیدرآباد
(یعنی وزیر اعظم حیدرآباد)
(دو اصطلاحیں)
مدت منصب
ستمبر 1941ء – اگست 1946ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سر اکبر حیدری
مرزا محمد اسماعیل Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مدت منصب
مئی 1947ء – 1 نومبر 1947ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مرزا محمد اسماعیل
سر مہدی یار جنگ Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ہندوستان کے چیف اسکاؤٹ
مدت منصب
1955ء – 1982ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نیا انتخاب
جسٹس محمد ہدایت اللہ Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 12 دسمبر 1888  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
چھتاری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1982 (93–94 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

لیفٹینٹ کرنل سعید الملک نواب سر محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری جی بی ای، کے سی ایس آئی، کے سی آئی ای[3][4] کو عرفِ عام میں نواب چھتاری کہا جاتا ہے (پیدائش 12 دسمبر 1888ء[5][6] - وفات 1982ء) صوبجات متحدہ کے گورنر[7][8]، صوبجاتِ متحدہ کے وزیرِ اعلی،[9] نظام حیدرآباد کی مجلس عاملہ کے صدر (وزیر اعظم حیدرآباد)[10] کے علاوہ ہندوستان کے چیف سکاؤٹ تھے۔

ابتدائی زندگی اور خاندان[ترمیم]

نواب احمد سعید نواب محمد عبد العلی خان نواب چھتاری کے گھر[11] برطانوی ہندوستان کے صوبجات متحدہ میں چھتاری میں 12 دسمبر 1888ء[5] کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی۔[5] ان کی شادی اپنے چچا اور نواب طالب نگر عبد الصمد خان بہادر کی بیٹی سے ہوئی۔[5] ان کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام فرحت سعید خان رکھا گیا جو ہندوستانی کلاسیکل موسیقی میں اپنی دلچسپی اور شغف کی بنا پر معروف تھے۔[12]

گول میز کانفرنس[ترمیم]

نواب چھتاری نے 12 نومبر 1930 کو لندن میں سینٹ جیمز محل میں ہونے والی پہلی گول میز کانفرنس میں شرکت کی۔[13] مسلمان وفد کی صدارت آغا خان سوم اور محمد علی جناح، سر محمد شفیع، مولانا محمد علی، ڈاکٹر شفاعت علی، سر محمد ظفراللہ خان، نواب چھتاری کے ساتھ فضل الحق کر رہے تھے۔[14]

حکومتی کونسل[ترمیم]

17 مئی 1923 سے 11 جنوری 1926 تک نواب چھتاری متحدہ صوبجات کی کابینہ میں وزارت کے عہدہ پر فائز رہے[15] اور پھر 1931 میں وزیرِ زراعت بھی بنے۔[16] دوسرے بڑے مسلمان زمینداروں بشمول راجا سلیم پور کی مانند نواب چھتاری بھی متحدہ صوبجات میں برطانوی انتظامیہ کے قابلِ بھروسا ساتھی تھے۔[17] انہیں اپریل سے نومبر 1933 تک اس کا گورنر بھی مقرر کیا گیا۔ گورنمنٹ آف ہندوستان ایکٹ 1935ء کو گول میز کانفرنس کی روشنی میں بنایا گیا، یکم اپریل 1937ء کو لاگو کیا گیا اور نواب چھتاری کو قومی زراعتی پارٹیوں کے رہنما کے طور پر کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دی گئی۔ 1937 کے دوران وہ کچھ عرصے کے لیے وزیرِ اعلیٰ بھی رہے۔[18] جلد ہی انہوں نے وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ کر متحدہ صوبجات کی حکومت میں وزیرِ داخلہ کا عہدہ سنبھال لیا جہاں ان کی تنخواہ 2٫500 روپے مقرر کی گئی۔[19]

نواب چھتاری ہندوستان کی قومی دفاعی کونسل کے جولائی سے اگست 1941 تک رکن رہے۔ انہوں نے اس عہدے سے مستعفی ہو کر حیدرآباد کی مجلس عاملہ کے صدر کا عہدہ سنبھال لیا جو اس ریاست کے وزیرِ اعظم کے مترادف تھا۔[20][21]

جناح کے ساتھ اختلاف[ترمیم]

17 اکتوبر 1936ء بروز اتوار نواب چھتاری نے آل انڈیا مسلم لیگ کے تیسرے عام اجلاس مین شرکت کی جو لکھنؤ کے لال باغ کے پنڈال میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت جناح نے کی تھی۔ اجلاس میں مولانا شوکت علی، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان، ڈاکٹر سید حسین، راجا غضنفر علی خان، خان بہادر قلی خان، فضل حق، نواب جمشید علی خان وغیرہ بھی شریک تھے۔[22][23]

صدر المہام حیدرآباد[ترمیم]

نواب چھتاری کو نظام حیدرآباد کی مجلس عاملہ کے صدر کا عہدہ (یعنی حیدرآباد کی وزارت عظمی) اگست 1941ء کو دیا گیا۔[24] انہوں نے ستمبر 1941 سے یکم نومبر 1947 تک اس عہدے پر کام کیا۔[25]

6 ستمبر 1941 کو بہادر یار جنگ اور نظام حیدرآباد نے نواب چھتاری کو قابل منتظم کے طور پر سراہا۔ 1944ء میں نواب چھتاری کو نظام حیدرآباد نے سعید الملک کا خطاب عطا کیا۔[26] 25 نومبر 1945ء کو نواب چھتاری نے انسٹی ٹیوٹ آف انجینیرز (بھارت) کا سنگِ بنیاد رکھا۔[27]

1946 میں نظام حیدرآباد نے گورنر جنرل ہند کو تجویز دی کہ نواب چھتاری کو وسطی صوبجات اور برار کا گورنر مقرر کیا جائے۔[28]

چھتاری وفد[ترمیم]

11 جولائی 1947ء میں جب نظام نے ہندوستان کے آزادی کے بل کے التوا کو دیکھا تو انہیں پتہ چل گیا کہ ان کے اصرار کے باوجود ریاستوں کو ڈومینین کی حیثیت نہیں دی جا رہی ہے، انہوں نے دہلی وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا جس کی سربراہی نواب چھتاری کو سونپی گئی۔ اس وفد کو وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن، برما سے ملاقات کرنی تھی۔[29][30] 17 اگست 1947ء کو نواب چھتاری نے ماؤنٹ بیٹن کو تحریری طور پر یہ خواہش پیش کی کہ وہ حیدرآباد کے مستقبل کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔[31]

اگست 1947 میں سر والٹر مونکٹن جو نظام کے آئینی مشیر تھے اور نواب چھتاری نے رضاکاروں اور اتحاد المسلمین کے حملوں کے بعد استعفیٰ دیا مگر اسے قبول نہیں کیا گیا۔[32]

27 اکتوبر 1947ء کو رضاکاروں اور اتحاد المسلمین نے وفد کے اراکین، مونکٹن، نواب اور سر سلطان احمد کی رہائش گاہوں کے باہر مظاہرے کا بندوبست کیا اور اس طرح ان اراکین کی دہلی روانگی کو ناممکن بنا دیا۔[33] بعد میں ہونے والی گفتگو سے کوئی نتیجہ نہ نکل پایا اور یکم نومبر کو نواب چھتاری نے اپنی حیثیت کا اندازہ کرتے ہوئے ایگزیکٹو کونسل کے صدر کے عہدے کو چھوڑ دیا۔ مونکٹن نے بھی استعفے پر اصرار کیا۔

21 دسمبر 1947 کو گاندھی نے نواب چھتاری، حسین شہید سہروردی، برج لعل نہرو، رمیشوری نہرو، شیخ عبد اللہ، بیگم عبد اللہ، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، بکشی غلام محمد، کچھ کے شہزادے، مہاراجا بھاؤنگر، اننت رائی پٹانی اور دیگر افراد کے ساتھ گفت و شنید کی۔

23 ستمبر 1948 میں نظام نے ریڈیو کی تقریر میں کہا: پچھلے نومبر میں ملیشیا نما اداروں نے وزیرِ اعظم نواب چھتاری کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا۔ نواب چھتاری -جن کی ذہانت پر مجھے پورا بھروسا ہے-، سر ولیم مونکٹن جو میرے آئینی مشیر ہیں اور دیگر وزرا کو اپنے عہدے سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اس گروہ کی سربراہی قاسم رضوی نے کی تھی جس کا اس ملک سے کوئی مفاد نہیں تھا اور نہ ہی اس ملک کی کوئی خدمت کی تھی۔ انہی طریقوں کو اپنا کر ہی ہٹلر نے جرمنی میں عنانِ حکومت سنبھالی اور ملک میں دہشت پھیلا دی تھی۔ اس طرح ان لوگوں نے مجھے ناکام کر دیا۔[34]

عوامی زندگی[ترمیم]

23 اکتوبر 1931 کو نواب چھتاری نے عشائیہ دیا جس میں علامہ اقبال نے بھی شرکت کی۔[35] 1935 میں انہوں نے لندن میں ہندوستانی آموں کی نمائش کی اور وہاں رٹول قسم کا آم پیش کیا جسے پہلا انعام ملا اور اسے دنیا کا بہترین آم مانا گیا۔[36] 15 جنوری 1939 میں ان کا ایک پیغام ایک پمفلٹ میں چھاپا گیا جو "یومِ خواندگی" پر ایجوکیشن ایکسپینشن ڈیپارٹمنٹ نے منایا تھا۔[37] 1945 میں مہاتما گاندھی نے نواب کو دو خط بھیجے، پہلا خط پنچ گنی اور دوسرا سیوسگرام سے بھیجا۔[38] نواب چھتاری جامعہ اردو، علی گڑھ کے پیٹرن بھی رہے۔[39] انہوں نے دسمبر 1965 تا 6 جنوری 1982 تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر کے طور پر بھی فرائض سر انجام دیے۔ اس کے علاوہ 1955 تا 1982 آل انڈیا بوائے سکاؤٹس ایسوسی ایشن کے چیف سکاؤٹ بھی رہے۔[40]

القاب[ترمیم]

  • 1888–1919: نواب محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری
  • 1919–1921 نواب محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری، ایم بی ای
  • 1921–1922: نواب محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری، کے سی آئی ای،[41] ایم بی ای
  • 1922–1927: سیکنڈ لیفٹننٹ[42] نواب محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری، کے سی آئی ای، ایم بی ای
  • 1927–1928: لیفٹیننٹ[43] نواب محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری، سی آئی ای، ایم بی ای
  • 1928–1931: لیفٹیننٹ نواب سر محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری، کے سی آئی ای،[44] ایم بی ای
  • 1931–1933: کیپٹن نواب محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری، کے سی آئی ای، ایم بی ای
  • 1933–1936: کیپٹن نواب محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری، کے سی ایس آئی،[45] کے سی آئی ای، ایم بی ای
  • 1936–1944: میجر[46] نواب محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری، کے سی ایس آئی، کے سی آئی ای، ایم بی ای
  • 1944–1946: میجر سعید الملک نواب محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری، کے سی ایس آئی، کے سی آئی ای، ایم بی ای
  • 1946–1982: لیفٹینٹ کرنل سعید الملک نواب محمد احمد سعید خان، نواب چھتاری، جی بی ای،[47] کے سی ایس آئی، کے سی آئی ای

خط زمانی[ترمیم]

سرکاری دفاتر
ماقبل 
دستیاب نہیں
صوبجات متحدہ کے کابینی وزیر
17 مئی 1923 – 11 جنوری 1926
مابعد 
دستیاب نہیں
ماقبل 
Sir Alexander Phillips Muddiman
صوبجات متحدہ کے گورنر
7 اپریل 1933 – 26 نومبر 1933
مابعد 
Sir William Malcolm Hailey
سیاسی عہدے
ماقبل 
نیا انتخاب
صوبجات متحدہ کے وزیر اعلی
3 اپریل 1937 – 16 جولائی 1937
مابعد 
گووند ولبھ پنت
سرکاری دفاتر
ماقبل 
نیا انتخاب
قومی دفاعی کونسل کے رکن
جولائی 1941 – ستمبر 1941
مابعد 
خالی
ماقبل 
سر اکبر حیدری
صدر مجلس عاملہ
نظام حیدر آباد
(i.e. وزیر اعظم حیدرآباد)
(پہلی دفعہ)

ستمبر 1941 – اگست 1946
مابعد 
مرزا اسماعیل
ماقبل 
مرزا اسماعیل
صدر مجلس عاملہ
نظام حیدر آباد
(i.e. وزیر اعظم حیدرآباد)
(دوسری دفعہ)

مئی 1947 – نومبر 1947
مابعد 
Mehdi Yar Jung
سکائوٹی
ماقبل 
نیا انتخاب
بھارت کے چیف اسکاؤٹ
1955–1982
مابعد 
جسٹس محمد ہدایت اللہ

خودنوشت سوانح عمری[ترمیم]

  • یاد ایام (1949ء) نواب احمد سعید خان نواب چھتاری کی خودنوشت سوانح عمری ہے، جس میں انھوں نے انتہائی فنکارانہ انداز میں اپنی زندگی کی جھلکیاں اور تجربات پیش کیے ہیں۔[48]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بنام: Nawab Sir Muhammad Ahmad Said Khan Chhatari — National Portrait Gallery (London) person ID: https://www.npg.org.uk/collections/search/person/mp86451 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. "The Sunday Tribune - Spectrum - Books"۔ Tribuneindia.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-01-23۔
  3. [1] Separatism Among Indian Muslims: The Politics of the United Provinces By Francis Robinson
  4. [2] Archived 11 جون 2011 at the وے بیک مشین
  5. ^ ا ب پ ت Who's who in India, Burma & Ceylon۔ Who's who Publishers India۔ صفحہ 307۔
  6. "National Portrait Gallery - Person - Nawab Sir Muhammad Ahmad Said Khan Chhatari"۔ Npg.org.uk۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-01-23۔
  7. Kashmir Information website
  8. Constructing Post-Colonial India: National Character and the Doon School By Sanjay Srivastava by Sanjay Srivastava - 2005
  9. "Chief Minister"۔ Uplegisassembly.gov.in۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-01-23۔
  10. Ibid.
  11. Celebrities: a comprehensive biographical thesaurus of important men and women in India-by Jagdish Bhatia - 1952 Page 27.
  12. The Lost World of Hindustani Music by Kumāraprasāda Mukhopādhyāẏa - 2006 -- Page 216
  13. "Round Table Conferences"۔ Story of Pakistan۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-01-23۔
  14. Muslim Delegation at 1930 Round Table Conference
  15. United Provinces Assembly website
  16. Journey to Forever.org
  17. Nawab of Chhatari (گوگل کیش شدہ نسخہ)
  18. Tribune India website
  19. Hansard
  20. Ibid.
  21. Ibid.
  22. Muslim League meeting 17 October 1936 (گوگل کیش شدہ نسخہ)
  23. www.chowk.com
  24. Nawab of Chhatari appointed President of the Executive Council of the Nizam of Hyderabad
  25. www.atlaswords.com
  26. File 34(3)-G/1944 IOR/R/1/4/327 1944-1945 UK National Archives website
  27. IEIAPSC.org
  28. UK National Archives
  29. www.telangana.com
  30. www.telangana.com
  31. #11 Letter to Mountbatten (گوگل کیش شدہ نسخہ)
  32. #11 Resignation of Sir Walter Monckton to Nizam (گوگل کیش شدہ نسخہ)
  33. #12 Razakar/Ittehad-ul-Muslimeen demonstrations
  34. Autocracy to Integration, Lucien D Benichou, Orient Longman (2000), p. 237
  35. www.allamaiqbal.com
  36. www.rataulmangoking.com
  37. Dept. of Education, India website
  38. www.gandhiserve.org (PDF)
  39. Urdunetwork at Yahoo.com
  40. Boy Scouts of India website
  41. Gazette Issue 32346 published on the 4 June 1921.
  42. Gazette Issue 32598 published on the 3 February 1922.
  43. Gazette Issue 33276 published on the 20 May 1927.
  44. Gazette Issue 33390 published on the 1 June 1928.
  45. Gazette Issue 33898 published on the 30 December 1932.
  46. Gazette Issue 34379 published on the 12 March 1937.
  47. Gazette Issue 37598 published on the 4 June 1946.
  48. Yad-e-Ayyam (گوگل کیش شدہ نسخہ)

بیرونی روابط[ترمیم]