اشرف غنی احمد زئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اشرف غنی احمد زئی

سابق افغان وزیر خزانہ۔ ماہر اقتصادیات۔ صدارتی امیدوار 2009ء انتخابات۔ 1949ء کو صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے۔ پشتون قبیلے سے ان کا تعلق ہے۔ان کے والد شاہی دور میں اعلٰی عہدوں پر فائز رہے۔2014 کے صدارتے انتخابات میں صدر کے اودے کے امیدوار بهی ہے.

تعلیم و تحقیق[ترمیم]

انہوں نے بین الاقومی تعلقات، انتھراپولوجی، ڈویلپمنٹ اور حکومتی اور نجی شعبوں کی منیجمنٹ کو بطور مضامین پڑھا ہے۔ انہوں نے لبنان میں قائم امریکی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائئنس اور بین الاقوامی تعلقات میں تعلیم حاصل کی اور انیس سو تہتر میں واپس آکر کابل یونیورسٹی کے سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ میں چار سال تک انتھراپولوجی پڑھاتے رہے۔ انہوں نے انیس سو پچاسی میں پاکستان کے مدارس پر ایک سال تک تحقیق کی۔

جلاوطنی[ترمیم]

جب ایک کورس کے سلسلے میں امریکہ گئے تو اس دوران افغانستان پر روس نے حملہ کیا جس میں ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد کو جیل جانا پڑا۔ اس لیے بعد میں انہوں نے امریکہ میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور وہاں پر کولمبیا یونیورسٹی میں بطور استاد پڑھانا شروع کردیا۔ ڈاکٹراشرف غنی نے انیس اکیانوے میں ورلڈ بینک کے ساتھ کام شروع کردیا۔ وہ انیس سو پچانوے تک جنوبی اور مشرقی ایشیاء میں ورلڈ بینک کے پروجیکٹ کی نگرانی کرتے رہے۔ بعد میں انہوں نے بینک کی طرف سے روس، چین اور انڈیا کے دیگر پروگراموں کی دیکھ بھال کی۔

وزیر خزانہ[ترمیم]

وہ دو ہزار دو سے دو ہزار چار تک افغانستان کی عبوری حکومت میں حامد کرزئی کی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے لیکن جب دو ہزار چار میں حامد کرزئی باقاعدہ طور پر صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے ڈاکٹر اشرف غنی سے وزیر خزانہ کے طور پر کام کرنے کی پیشکش کی تو انہوں نے معذرت کرلی۔ اس کے بعد وہ کابل یونیورسٹی کے سربراہ بنادیے گئے۔