اشرف غنی احمد زئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اشرف غنی


برقرار
برسر منصب 
29 ستمبر 2014
وزیرِ اعظم عبداللہ عبداللہ
نائب صدر
پیشرو حامد کرزئی

چانسلر جامعہ کابل
در منصب
22 دسمبر 2004 – 21 دسمبر 2008
پیشرو حبیب اللہ حبیب
جانشین حمیداللہ امین

در منصب
2 جون 2002 – 14 دسمبر 2004
صدر حامد کرزئی
پیشرو Hedayat Amin Arsala
جانشین Anwar ul-Haq Ahady

پیدائش 12 فروری 1949 (1949-02-12) ‏(65)
Logar, Afghanistan
سیاسی جماعت Independent
ازواج رولہ غنی
بچے 2
مادر علمی American University of Beirut
Columbia University
مذہب اسلام
اشرف غنی احمد زئی

موجودہ صدر افغانستان، سابق افغان وزیر خزانہ، ماہر اقتصادیات اور صدارتی امیدوار 2009ء انتخابات۔ 1949ء کو صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے۔ پشتون قبیلے سے ان کا تعلق ہے۔ان کے والد شاہی دور میں اعلٰی عہدوں پر فائز رہے۔2014ء کے صدارتے انتخابات کامیابی کے بعد عبداللہ عبداللہ کےساتھ مل کر حکومت بنائی ہے۔

تعلیم و تحقیق[ترمیم]

انہوں نے بین الاقومی تعلقات، انتھراپولوجی، ڈویلپمنٹ اور حکومتی اور نجی شعبوں کی منیجمنٹ کو بطور مضامین پڑھا ہے۔ انہوں نے لبنان میں قائم امریکی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائئنس اور بین الاقوامی تعلقات میں تعلیم حاصل کی اور انیس سو تہتر میں واپس آکر کابل یونیورسٹی کے سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ میں چار سال تک انتھراپولوجی پڑھاتے رہے۔ انہوں نے انیس سو پچاسی میں پاکستان کے مدارس پر ایک سال تک تحقیق کی۔

جلاوطنی[ترمیم]

جب ایک کورس کے سلسلے میں امریکہ گئے تو اس دوران افغانستان پر روس نے حملہ کیا جس میں ان کے خاندان کے زیادہ تر افراد کو جیل جانا پڑا۔ اس لیے بعد میں انہوں نے امریکہ میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا اور وہاں پر کولمبیا یونیورسٹی میں بطور استاد پڑھانا شروع کردیا۔ ڈاکٹراشرف غنی نے انیس اکیانوے میں ورلڈ بینک کے ساتھ کام شروع کردیا۔ وہ انیس سو پچانوے تک جنوبی اور مشرقی ایشیاء میں ورلڈ بینک کے پروجیکٹ کی نگرانی کرتے رہے۔ بعد میں انہوں نے بینک کی طرف سے روس، چین اور انڈیا کے دیگر پروگراموں کی دیکھ بھال کی۔

وزیر خزانہ[ترمیم]

وہ دو ہزار دو سے دو ہزار چار تک افغانستان کی عبوری حکومت میں حامد کرزئی کی کابینہ میں وزیر خزانہ رہے لیکن جب دو ہزار چار میں حامد کرزئی باقاعدہ طور پر صدر منتخب ہوئے اور انہوں نے ڈاکٹر اشرف غنی سے وزیر خزانہ کے طور پر کام کرنے کی پیشکش کی تو انہوں نے معذرت کرلی۔ اس کے بعد وہ کابل یونیورسٹی کے سربراہ بنادیے گئے۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

انتخابات 2009[ترمیم]

انتخابات 2014[ترمیم]