کرکٹ عالمی کپ 1992ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کرکٹ عالمی کپ 1992
1992 Benson and Hedges Cricket World Cup
200px
تاریخ 22 فروری – 25 مارچ
منتظم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل
کرکٹ ایک روزہ کرکٹ
ٹورنامنٹ Round-robin اور Knockout
میزبان آسٹریلیا
نیوزی لینڈ
فاتح  پاکستان (1-پہلی بار)
شریک ممالک 9
مقابلوں کی تعداد 39
بہترین کھلاڑی Flag of نیوزی لینڈ Martin Crowe
زیادہ رنز Flag of نیوزی لینڈ مارٹن کرو (456)
زیادہ وکٹیں Flag of پاکستان وسیم اکرم (18)
1987
1996

پانچواں کرکٹ عالمی کپ 22 فروری سے 25 مارچ 1992 تک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے میدانوں پر کھیلا گیا جوکہ پاکستان نے فائنل میں انگلستان کو 22 دوڑ سے ہرا کر جیتا۔اس ورلڈ کپ میں کل نو ٹیموں نے حصہ لیا اور فائنل ملا کر 39 مقابلے کھیلے گئے۔

جائزہ[ترمیم]

جن ٹیموں نے اس ورلڈکپ میں حصہ لیا ان میں مندرجہ ذیل ممالک کی ٹیمیں شامل تھیں۔:[1]


ان میں سے چار انگلستان۔ جنوبی افریقہ۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں نے سیمی فائنلز تک رسائی حاصل کی جبکہ انگلستان اور پاکستان کی ٹیمیں فائنل میں پہنچیں۔

نئے قوانین[ترمیم]

اس ورلڈ کپ میں جو نئے قوانین متعارف کروائے گئے ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔

  1. مصنوعی روشی کا استعمال جس کی بدولت D/N میچز کا انعقاد کیا گیا
  2. پہلی مرتبہ کسی ورلڈ کپ میں سفید گیند کا استعمال ہوا۔
  3. بارش زدہ میچز کا فیصلہ کرنے کے ایک نئے قانون کو متعارف کروایا گیا (گو کہ یہ قانون ورلڈ کپ کے اختتام سے پہلے ہی متنازع ہوگیا)
  4. پچھلے ورلڈ کپس کے برعکس اس مرتبہ راونڈ رابن round-robin کا استعمال کیا گیا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ پہلے راونڈ میں ہر ٹیم نے ایک دوسرے کے خلاف کھیلنا تھا۔
  5. نیوزی لینڈ کی ٹیم نے جو پاکستان کے سواہ باقی تمام ٹیموں پر بھاری رہی ایک انوکھے منصوبہ کو متعارف کرایا اور وہ تھا اسپنر سے بالنگ کا آغاز جو ان کے لئے بہت سودمند رہا۔

راونڈ میچز کے نتائج[ترمیم]

ٹیم پوائنٹس کھیلے جیتے ہارے بے نتیجہ برابر دوڑکےفرق کا اوسط دوڑ کا اوسط
نیوزی لینڈ 14 8 7 1 0 0 0.59 4.76
انگلستان 11 8 5 2 1 0 0.47 4.36
جنوبی افریقہ 10 8 5 3 0 0 0.14 4.36
پاکستان 9 8 4 3 1 0 0.17 4.33
آسٹریلیا 8 8 4 4 0 0 0.20 4.22
ویسٹ انڈیز 8 8 4 4 0 0 0.07 4.14
بھارت 5 8 2 5 1 0 0.14 4.95
سری لنکا 5 8 2 5 1 0 −0.68 4.21
زمبابوے 2 8 1 7 0 0 −1.14 4.03

راونڈ میچز[ترمیم]

  1. 22 فروری آکلینڈ (Auckland) میں آسٹریلیا (211) اور نیوزی لینڈ (6/248) کی ٹیموں کے مابین ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ کھیلا گیا جسں میں نیوزی لینڈ نے 37 دوڑ سے کامیابی حاصل کی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  2. 22 فروری پرتھ (Perth) میں انگلستان (236/9) نے بھارت (227) کو 9 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  3. 23 فروری نیو پلیمتھ (New Plymouth) میں زمبابوے (4/312) سری لنکا (7/313) سے 3 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  4. 23 فروری میلبورن (Melbourne) میں پاکستان (2/220) ویسٹ انڈیز (0/221) سے 10 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  5. 25 فروری ہیملٹن (Hamilton) میں سری لنکا (9/206) نیوزی لینڈ (4/210) سے 6 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  6. 26 فروری سڈنی (Sydney) میں آسٹریلیا (9/170) جنوبی افریقہ (1/171) سے 9 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  7. 27 فروری ہوبارٹ (Hobart) میں پاکستان (4/254) نے زمبابوے (7/201) کو 53 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  8. 27 فروری میلبورن (Melbourne) میں ویسٹ انڈیز (157) انگلستان (4/160) سے 6 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  9. 28 فروری میکے (Mackay) میں بھارت (0/1) سری لنکا (-) بارش کی وجہ سے بےنتیجہ رہا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  10. 29 فروری آکلینڈ (Auckland) میں جنوبی افریقہ (7/190) نیوزی لینڈ (3/191) سے 7 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  11. 29 فروری برسبین (Brisbane) میں ویسٹ انڈیز (8/264) نے زمبابوے (7/189) کو 75 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  12. 01 مارچ برسبین (Brisbane) میں آسٹریلیا (9/237) نے بھارت (234) کو بارش سے متاثرہ میچ میں صرف 1دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  13. 01 مارچ ایڈیلیڈ (Adelaide) میں پاکستان (74) انگلستان (1/24) بارش کی وجہ سے بےنتیجہ رہا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  14. 02 مارچ ویلنگٹن (Wellington) میں جنوبی افریقہ (195) سری لنکا (7/198) سے 3 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  15. 03 مارچ نیپئر (Napier) میں نیوزی لینڈ (3/162) نے زمبابوے (7/105) کو بارش سے متاثرہ میچ میں 48 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  16. 04 مارچ سڈنی (Sydney) میں بھارت (8/216) نے پاکستان (173) کو 43 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  17. 05 مارچ کرائسٹ چرچ (Christchurch) میں جنوبی افریقہ (8/200) نے ویسٹ انڈیز (136) کو 64 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  18. 05 مارچ سڈنی (Sydney) میں آسٹریلیا (171) انگلستان (2/173) سے 8 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  19. 07 مارچ ہیملٹن (Hamilton) بھارت (7/203) نے زمبابوے (1/104) کو بارش سے متاثرہ میچ میں 55 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  20. 07 مارچ ایڈیلیڈ (Adelaide) میں سری لنکا (9/189) آسٹریلیا (3/193) سے 7 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  21. 08 مارچ آکلینڈ (Auckland) میں ویسٹ انڈیز (7/203) نیوزی لینڈ (5/206) سے 5 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  22. 08 مارچ برسبین (Brisbane) میں جنوبی افریقہ (7/211) نے پاکستان (8/173) کو بارش سے متاثرہ میچ میں 20 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  23. 09 مارچ بیلریٹ (Ballarat) میں انگلستان (6/280) نے سری لنکا (174) کو 106 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  24. 10 مارچ ویلنگٹن (Wellington) میں بھارت (197) ویسٹ انڈیز (5/195) سے بارش سے متاثرہ میچ میں 5 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  25. 10 مارچ کینبرا (Canberra) میں زمبابوے (163) جنوبی افریقہ (3/164) سے 7 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  26. 11 مارچ پرتھ (Perth) میں پاکستان (9/220) نے آسٹریلیا (172) کو 48 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  27. 12 مارچ ڈنیڈن (Dunedin) میں بھارت (6/230) نیوزی لینڈ (6/231) سے 4 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  28. 12 مارچ میلبورن (Melbourne) میں جنوبی افریقہ (4/236) انگلستان (7/226) سے بارش سے متاثرہ میچ میں 3 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  29. 13 مارچ بیری (Berri) میں ویسٹ انڈیز (8/268) نے سری لنکا (9/177) کو 91 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  30. 14 مارچ ہوبارٹ (Hobart) میں آسٹریلیا (6/265) نے زمبابوے (137) کو 128 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  31. 15 مارچ ویلنگٹن (Wellington) میں انگلستان (8/200) نیوزی لینڈ (3/201) سے 7 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  32. 15 مارچ ایڈیلیڈ (Adelaide) میں بھارت (6/180) جنوبی افریقہ (4/181) سے بارش سے متاثرہ میچ میں 6 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  33. 15 مارچ پرتھ (Perth) میں سری لنکا (6/212) پاکستان (6/216) سے 4 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  34. 18 مارچ کرائسٹ چرچ (Christchurch) میں نیوزی لینڈ (166) پاکستان (3/167) سے 7 وکٹوں سے شکست کھا گیا۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  35. 18 مارچ البری (Albury) میں زمبابوے (134) نے انگلستان (124) کو 9 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔
  36. 18 مارچ میلبورن (Melbourne) میں آسٹریلیا (6/216) نے ویسٹ انڈیز (159) کو 57 دوڑ سے شکست دی۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔

سیمی فائنلز اور فائنل[ترمیم]

پہلا سیمی فائنل[ترمیم]

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ 21 مارچ ایڈن پارک آکلینڈ (Auckland) ٹاس نیوزی لینڈ نے جیتا۔ مرد میدان انضمام الحق رہے۔
نیوزی لینڈ (7/262) 50 اوورز میں. مارٹن کرو 91 جبکہ کین ردرفورڈ 50 ٹاپ اسکورر رہے۔ وسیم اکرم نے 2 اور مشتاق احمد نے بھی 2 وکٹ حاصل کئے۔
جواب میں پاکستان (6/264) 49 اوورز میں بناکر میں 4 وکٹوں سے جیت گیا۔ انضمام الحق 60 جبکہ جاوید میانداد 57 ناٹ آوٹ رہے۔ ویلی واٹسن نے 2 وکٹ حاصل کئے۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔

دوسرا سیمی فائنل[ترمیم]

انگلستان بمقابلہ جنوبی افریقہ 22 مارچ سڈنی (Sydney) ٹاس جنوبی افریقہ نے جیتا۔ مرد میدان گریم ہک رہے۔
انگلستان (6/252) 45 اوورز میں بارش سے متاثرہ میچ میں 19 دوڑ سے جیتا. گریم ہک 83 ٹاپ اسکورر رہے۔ اینل ڈونیلڈ نے 2 اور میرک پرنگل نے بھی 2 وکٹ حاصل کئے۔
جواب میں جنوبی افریقہ (6/232) 43 اوورز میں بنا سکی۔ میچ بارش سے متاثر رہا. اینڈریو ہڈسن 46 ٹاپ اسکورر رہے۔ رچرڈ ایلنگورتھ نے 2 اور سمال نے بھی 2 وکٹ حاصل کئے۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔

فائنل[ترمیم]

پاکستان بمقابلہ انگلستان 25 مارچ میلبورن (Melbourne) ٹاس پاکستان نے جیتا۔ مرد میدان وسیم اکرم رہے۔
پاکستان (6/249) 50 اوورز میں 22 دوڑ سے جیتا. عمران خان 72 جبکہ جاوید میانداد 58 ٹاپ اسکورر رہے۔ ڈیرک پرنگل نے 3 وکٹ حاصل کئے۔
جواب میں انگلستان (6/227) 49.2 اوورز میں بناسکی. نیل فیئر برادر 62 ٹاپ اسکورر رہے۔ وسیم اکرم نے 3 اور مشتاق احمد نے بھی 3 وکٹ حاصل کئے۔ میچ کا مکمل اسکور کارڈ ملاحضہ کیجئیے۔


بیرونی روابط[ترمیم]


مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]