جسونت سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جسونت سنگھ
Jaswant Singh.jpg 

مناصب
وزیر خزانہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
16 مئی 1996  – 1 جون 1996 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png منموہن سنگھ 
پی جدمبرم  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر خارجہ بھارت   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
5 دسمبر 1998  – 5 دسمبر 2002 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png اٹل بہاری واجپائی 
یشونت سنہا  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر دفاع   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
2 جنوری 2000  – 18 اکتوبر 2001 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png جارج فرنانڈیز 
جارج فرنانڈیز  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر خزانہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
1 جولا‎ئی 2002  – 21 مئی 2004 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png یشونت سنہا 
پی جدمبرم  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
قائد حزب اختلاف، راجیہ سبھا (14 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
3 جون 2004  – 16 مئی 2009 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png منموہن سنگھ 
ارون جیٹلی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکن 15ویں لوک سبھا   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
رکن مدت
2009  – 2014 
پارلیمانی مدت پندرہویں لوک سبھا 
معلومات شخصیت
پیدائش 3 جنوری 1938 (81 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
راجپوتانہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت[1]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب ہندو مت
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی میو کالج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان[2][1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
نمایاں ماہرِ پارلیمانی امور اعزاز (2001)
بانگا بیبھوشن (2001)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

جسونت سنگھ بھارت کے ایک ریٹائر فوجی افسر اور سابق وزیر ہیں۔ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانیوں میں سے ایک[3] اور پارلیمان میں سب سے لمبے عرصے تک رہنے والے ارکان میں شامل ہیں۔ جسونت سنگھ 1980ء سے 2014ء تک تقریباً تمام عرصہ کسی ایک پارلیمان کے رکن رہے۔ انہوں نے پانچ دفعہ راجیہ سبھا کا انتخاب 1980، 1986، 1998، 1999 اور 2004 اور چار دفعہ لوک سبھا کا انتخاب 1990، 1991، 1996 اور 2009 میں جیتا ہے۔

جب 2009ء میں مسلسل دوسری دفعہ اُن کی جماعت کو انتخابات میں شکست ہوئی تو اُنہوں نے جماعت کے لوگوں کو مباحثہ کی دعوت دی جو اُن کی جماعت کے ارکان کو پسند نہیں آئی۔[4] ایک ہفتے بعد اُن کی لکھی ہوئی کتاب منظر عام پر آئی جس میں اُنہوں نے جناح کے بارے میں ہمدردانہ رائے لکھی تھِی۔ 2014ء میں اُن کی جماعت نے فیصلہ کیا کہ وہ اب کہیں سے انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔ چنانچہ اُنہوں نے بحثیت آزاد اُمیدوار لڑنے کا فیصلہ کیا اس طرح وہ اپنی ہی جماعت کے اُمیدوار کے مقابل آگئے۔ اِس کی وجہ سے اُنہیں 2014 میں جماعت سے نکال دیا گیا[5][6] اور وہ اس انتخاب میں ناکام بھی رہے۔

اُس کے کچھ ہی ہفتوں بعد وہ غسل خانے میں گرے جس سے اُم کے سر پر گہری چوٹ آئی۔ فوراً دہلی کے ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ اُس وقت سے وہ کومے میں ہے۔[7]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

جسونت سنگھ 3 جنوری 1938ء کو جسول میں ایک راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے۔[8] ان کے باپ کا نام ٹھاکر سردار سنگھ راٹھور اور ماں کا نام کنور بیسا تھا۔ جسونت سنگھ نے شیتل کنور سے شادی کی جس کے بعد ان کے دو بیٹے ہوئے۔ بڑا بیٹا منوندر سنگھ بھی سیاست میں رہا ہے۔[9] اُنہوں نے 1960ء کی دہائی کے دوران میں فوج میں بھی کام کیا ہے۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

اگرچہ جسونت سنگھ 1960ء کی دہائی میں سیاست میں آچکے تھے مگر بھیروں سنگھ شخاوت کے ملنے تک اُنہیں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ بھیروں سنگھ سیاست میں اُن کے استاد ثابت ہوئے۔ اُنہیں سیاست میں کامیابی 1980ء میں ملی جب وہ پہلی دفعہ راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔ اُنہوں نے اٹل بہاری واجپائی کے مختصر دورِ حکومت میں وزیر خزانہ کا قلم دان سنبھالا جو صرف 16 مئی 1996ء سے 1 جون 1996ء تک رہا۔ جب واجپائی دو سال بعد دوبارہ وزیر اعظم بنے تو اس دفعہ 5 دسمبر 1998ء سے 19 اگست 2002ء تک وہ وزیر خارجہ رہے۔ اس دوران میں اُنہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان میں انتہائی کشیدہ خارجہ پالیسی پر کام کیا۔ جولائی 2002ء میں وہ دوبارہ وزیر خزانہ بنے اور واجپائی کی حکومت کی ناکامی تک وہاں رہے۔ 19 اگست 2009ء کو اُنہیں اپنی کتاب میں پاکستان کے بانی جناح کی تعریف کرنے کی وجہ سے جماعت سے نکال دیا گیا۔

اُمیدوار نائب صدر[ترمیم]

2012 میں وہ بھارتی نائب صدر جمہوریہ کے لیے اُمیدوار تھے[10] مگر محمد حامد انصاری سے ہار گئے۔[11]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب https://eci.gov.in/files/category/97-general-election-2014/
  2. اجازت نامہ: CC0
  3. "Jaswant's expulsion is the BJP's gift to the RSS"۔ Rediff۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-01-05۔
  4. "BJP expels Jaswant Singh over Jinnah book – Livemint"۔ www.livemint.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-01-05۔
  5. Jaswant Singh rules out withdrawal from Barmer Lok Sabha seat۔ The Indian Express (29 مارچ 2014)۔ Retrieved on 2014-05-21.
  6. BJP expels defiant Jaswant Singh for 6 years۔ Hindustan Times. Retrieved on 21 مئی 2014.
  7. Jaswant Singh in coma after severe head injury, condition `highly critical` | India News
  8. "Jaswant is sacked without show-cause notice, but Vasundhara could defy directive to resign"
  9. Jaswant Singh Rathore Biography
  10. "Jayalalithaa extends support to Jaswant Singh"۔ 6 اگست 2012۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. "Jaswant Singh to challenge Hamid Ansari test Vice-President's post"۔ 16 جولائی 2012۔