"چندرگپت موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  3 سال پہلے
م
خودکار: خودکار درستی املا ← راجا
م (خودکار: خودکار درستی املا ← راجا)
|death_place = [[شروبیلگولا]]، [[کرناٹک]]<ref>[http://books.google.com/books?id=i-y6ZUheQH8C&printsec=frontcover#v=onepage&q&f=false Chandragupta Maurya and his times] By Radha Kumud Mookerji, 4th ed. 1966, p.40. ISBN 81-208-0405-8; 81-208-0433-3</ref>
}}
'''چندر گپت موریا''' (Chandragpta Maura) [[ہندوستان]] کی [[موریا|موریا سلطنت]] کا بانی تھا۔ عام روایات کے مطابق یہ نند[چندر خاندان کا فرد تھا جوکسی بنا پر راجہراجا کی ناراضی سے ڈر کر [[خطۂ پنجاب|پنجاب]] کی طرف بھاگ گیا تھا۔ [[خطۂ پنجاب|پنجاب]] میں چندر گپت [[خطۂ پنجاب|پنجاب]] و سرحد کے غیر مطمعین قبائل کا رہنما بن گیا۔ اس نے اپنے وزیر [[چانکیا]] یا [[کوٹلیا]] chanikya or Koutilya کی مدد سے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی اور ایک سال کے اندر یونانی حکومت کے اثر و نفوز کو مٹا کر ایک نئے شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔ جو اس کی ماں کے نام سے موریہ تاریخ میں مشہور ہوا۔ چندر گپت یونانی اثرات کو زائل کرنے کے بعد مگدھ کی ریاست پر حملہ آور ہوا۔ اس جنگ میں نند خاندان کا آخری حکمران مارا گیا۔
چندر گپت سے [[تاریخ ہند]] کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جو شمالی ہند کے اتحاد اور ہندو تمذن کی نشونماہ نظام حکومت کی توسیع اور برہمنت کے اثر و رسوخ کے لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پہلا حکمران ہے جس نے شمالی ہند کی تمام ریاستوں کو زیر کرکے ایک متحدہ حکومت کی بنیاد رکھی اور اپنی مملکت کو خلیج بنگال سے لیکر بحیرہ عرب تک وسیع کیا۔ اس نے اپنے چوبیس سالہ (322ء تا 298ء ق م) دور میں بڑی بڑی جنگیں لڑیں، جس میں سب سے اہم جنگ [[سکندر اعظم|سکندر]] کے سالار سلوکس Seleuces سے لڑی۔
 
== پاٹلی پتر ==
سلوکس نے اپنے ایک سفیر میگھستینز Maghasthenes کو اس کے دربار میں بھیجا، جس نے اس عہد کے حالات تفصیل سے قلمبند کیے ہیں۔ میگھستینز پاٹلی پتر کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ شہر نو 9 میل چوڑا اور ڈیرھ میل لمبا تھا۔ اس کے گرد لکڑی کی مظبوط فصیل تھی جس میں چونستھ 46 دروازے تھے اور اس کے اوپر پانچ سو500 برج تھے۔ فصیل کے باہر ایک وسیع اور عمیق قندق تھی جس میں دریائے سون کا پانی بھرا ہوا تھا۔ شہر کے اندر چندر گپت موریا کا محل تھا جو لکڑیوں کا بنا ہوا تھا اور بہت عالی شان تھا۔ اس کے ستونوں اور دیواروں پر سونے کا پانی پھرا ہوا تھا اور ان پر سونے کی بیلیں اور چاندی کے پرندے منقوش تھے۔ تمام عمارتیں ایک وسیع میدان میں تھیں۔ جس میں مچھلی کے تلاب اور انواع قسم کے نمائشی درخت اور بیلیں پائی جاتی تھیں۔
ہم تک صرف پاٹلی پتر دارلسلطنت کے انتظام کی تفصیل پہنچی ہے۔ مگر ہم اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ سلطنت کے اور بڑے شہروں یعنی ٹیکسلا، اجین وغیرہ کا بھی اسی اصول سے انتظام ہوتا ہوگا۔ راجہراجا اشوک کے صوبوں کے نام سے فرمان میں کلنگ کے شہر ٹوسل کے ان افسروں کو مخاطب کیا گیا ہے جو اس کے انتظام کے مجاز تھے۔
 
== بادشاہ اور دربار ==
یہاں شاہی دربار وحشیانہ اور عیش و عشرت کی شان سے نمودار تھا۔ سونے کے آّفتابے اور پیالے جن میں بعض چھ چھ فٹ ہوتے تھے۔ نہایت عمدہ مرصع اور شاہانی کرسیاں۔ تانبے کے برتن جو جوہرات سے ہوتے تھے اور زر بفت کے زرق برق لباس ہر طرف نظر آتے تھے اور ان کی وجہ سے عام درباروں کے مواقع کی چہل پہل اور شان و شوکت زیادہ ہو جاتی تھی۔ جب کبھی بادشاہ مہربانی کرکے شاہی جشنوں کے کے موقع پر رعایا کے سامنے ظاہر ہوتا تو وہ سونے کی ایک پالکی میں سوار ہوتا تھا۔ جس میں موتیوں کی جھالر ٹکی ہوتی تھی اور خود بادشاہ کا ملبوس خاص نہایت باریک ململ ہوتی تھی، جس پر قرمز اور سونے کا کام ہوتا تھا۔ جب کبھی چھوٹے سفر پر کہیں جاتا تھا تو گھوڑے پر سوار ہوتا تھا۔ لیکن مسافت اگر ذرا طولانی ہوتی تھی ہاتھی پر سوار ہوتا تھا۔ جس کا ساز و سامان سونے کا ہوتا تھا۔ راجہراجا ہمیشہ سانڈوں، مینڈھوں، ہاتھیوں، گینڈوں اور دوسرے جانوروں لڑائیاں دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ دو آدمیوں کی لڑائیاں بھی اس کے لیے تفریح و طبع کا باعث ہوتی تھی۔ ایک عجیب و غریب سامان تفریح بیلوں کی ڈور تھی۔ اس میں شرطیں لگائی جاتی تھیں۔ بادشاہ نہایت دلچسپی سے اس کا تماشاہ دیکھا کرتا تھا۔ اور بیلوں کو گاڑیوں میں جوت کر ڈوراتے تھے اور ان کے علاوہ گھوڑے بھی گاڑیوں میں جوت کر انہیں بھی ڈوراتے تھے۔
راجہراجا کا سب سے بڑا سامان تفریح شکار تھا۔ یہ نہایت تکلف اور نمود سے کیا جاتا تھا۔ ایک گھرے ہوئے میدان میں جانور چبوترے تک جانور لائے جاتے تھے، جہاں راجہراجا بیٹھتا تھا اور وہیں بیٹھے بیٹھے ان کا شکار کرتا تھا۔ لیکن اگر شکار کھلے میدان ہوتا تھا راجہراجا ہاتھی پر سوار ہوتا تھا۔ جب وہ شکار کے لیے شکار پر جاتا تھا تو اس کے ہم رکاب عورتوں کی فوج کا ایک دستہ ہوتا تھا۔ جن کو دوسرے ملکوں سے خرید کر لائے تھے اور یہ تمام ہندی راجاؤں کے دربار کا ایک ضروری جزو ہوا کرتی تھیں۔ شاہی گزر کی سرکوں کو دونوں جانب رسی بنی ہوتی تھی اور اس کے پار جانے کی سزا موت تھی شاہی شکار کے دستور کو چندرا گپتا کے پووتے اشوک نے 952 ق م میں موقوف کر دیا تھا۔
عام طور پر راجہراجا محل میں زیادہ رہتا تھا اور عورتوں کی فوج اس کو گھیرے رہتی تھی۔ محل سے باہر صرف بھینٹ چرھانے یا فوج کشی یا شکار کے موقعوں پر نکلا کرتا تھا۔ غالباً توقع کی جاتی تھی کہ کم از کم ہر روز ایک مرتبہ رعایا کے سامنے آئے، جو عرائض پیش کریں وہ سنے اور بذات خود ان کے مقدمات کا تصفیہ کرے۔ راجہراجا کو چمپی کرانے میں خاص لطف آتا تھا اور دستور یہ تھا کہ جب وہ رعایا کے سامنے ظاہر ہو تو ساتھ چمپی کرتا جاتا تھا۔ جب وہ لوگوں کے مقدمے سنتا تو چار نوکر آبنوس کے تکیوں سے اس کو چمپی کرتے جاتے تھے۔ ایرانی دستور کے مطابق جس کا اثر ہندی درباروں اور نظم و نسق پر بھی پڑا تھا۔ راجہراجا اپنی سالگرہ میں نہایت تزک و احتشام سے اپنے سر کے بال دھوتا تھا۔ سالگرہ کے موقع پر بڑی عید منائی جاتی تھی اور اس موقع بڑے بڑے امرا سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بیش بہا نذرانے راجہراجا کی خدمت میں پیش کریں۔
اس تزک و احتشام اور شان اور شوکت اور ہر قسم کی حفاظت کے باوجود راجہراجا کبھی بھی سازشوں اور بغاوتوں سے بے خوف نہ ہوتا تھا۔ راجہراجا کی زندگی سازشوں کی وجہ سے اس طرح متواتر خطرے میں رہتی تھی کہ وہ دن کے وقت سونے یا دو راتوں کو لگاتار ایک ہی کمرے میں سونے کو خطرناک سمجھتا تھا۔ (ناٹک نویس نے ہمارے سامنے نہایت بین طور پر وہ سین کھنچ دیا ہے کہ کس طرح زیرک اور تیز فہم برہم مشیر ساشوں اور زہر خوانی کا سوراخ لگایا کرتا تھا اور کس طرح ان بہادر لوگوں کا کھوج لگایا کرتا تھا جو زیر زمین راستوں میں چھپے رہتے تھے)۔ جو چندرا گپت کے سونے کمرے میں جاتے تھے تاکہ رات کے وقت اس میں داخل ہو ہوں اور سوتے ہوئے اسے قتل کر دیں۔
 
== فوجی نظام ==
 
== آبپاشی ==
[[ہندوستان]] میں آبپاشی کا مناسب انتظام ایک نہایت ہی اہم امر ہے اور اس بات سے چندر گپت کی سلطنت کی خوبی معلوم ہوتی ہے کہ اس نے ایک خاص محکمہ آبپاشی قائم کیا تھا، جس کا یہ فرض تھا کہ زمینوں کی پیمائش کرے اور پانی نالیوں کا ایسا انتظام کرے کہ ہر ایک شخص کو حصہ رسدی معتدبہ مقدار میں پانی مل سکے۔ اراضی کی پیمائش کی طرف سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ پانی کا محصول ضرور لگایا جاتا ہوگا اور نالیوں کے ذکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آبپاشی کا نظام باکل باقیدہ تھا۔ پشی گپتا جو چندر گپتا کا کی حکومت کی طرف سے مغربی صوبوں کا عامل تھا دیکھا کہ ایک چھوٹی سی ندی کو روکنے سے آبپاشی کے لیے ایک نہایت عمدہ تالاب بن سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک جھیل سندر سن (یعنی خوبصورت) نامی قلعے کی مشرقی جانب ایک پہاڑی اور اس کے آگے کتبے کی چٹان تک مشرقی زمین کو لے کر تیار کی۔ مگر اس سے سوا اور ضروری نالیاں بنانے میں کامیاب نہ ہوا۔ چندر گپتا کے پوتے اشوک کے زمانے میں اس کے نائب راجہراجا تشاسف ایرانی کی زیر نگرانی جو اس وقت کا گورنر تھا تیار ہوئیں۔ یہ سود مند تعمیر جو موریاؤں کے عہد حکومت میں تیار ہوئی تھی چار سو سال تک کام دیتی رہیں۔ لیکن 051ء؁ کے ایک طوفان نے جو غیر معمولی طور پر شدید تھا اس کے بند کو توڑ دیا اور اس کے ساتھ ہی اس جھیل کو فنا کر دیا۔ یہ امر کہ سلطنت کے ایک ایسے دور دراز صوبے میں آبپاشی کے کام پر اتنا روپیہ اور محنت صرف کی گئی صٓف ظاہر کرتا ہے کہ موریا خاندان کے راجہراجا کھیتوں کے لیے پانی بہم پہنچانا اپنا ایک اہم فرض تصور کرتے تھے۔
[[ہندوستان]] کے دیسی قانون کی رو سے ہمیشہ تمام مزروغہ زمین بادشاہی ملک قرار دی گئی ہے اور بادشاہ کا یہ حق تسلیم کر لیا گیا ہے کہ لگان یا محصول وصول کرے جو یا تو اس کی پیداوار یا اس پیداوار کی قیمت کا ایک معتدبہ حصہ ہوتا تھا۔ اس زمانے میں بندوبست اراضی کی تفصیل ہم تک نہیں پہنچی اور ہم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا ہر سال نیا بندوبست ہوا کرتا تھا یا اس سے زیادہ مدت میں برائے نام تمام پیدا وار کا چوتھائی حصہ سرکار محصول کے طور پر جمع کیا کرتی تھی۔ جیسے کہ اس زمانے میں بھی ہوتی ہے اور یہ ناممکن تھا کہ تمام صوبوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ اس کے علاوہ چند اور غیر مصرحہ ابواب میں بھی وصول کیے جاتے تھے۔ چونکہ فوج میں سپاہی پیشہ نوکر رکھے جاتے تھے اور ان کے لیے جنگجو اقوام سے منتخب کیا جاتا تھا اس لیے کاشکار فوجی خدمت سے مستثنیٰ تھے اور مگھیشنز نہایت تعجب اور حیرت سے بیان کرتا ہے کہ عین اس وقت جب دو حریف بادشاہوں کی فوجوں میں مقابلہ ہو رہا اور کاشکار نہایت اطمینان سے امن کے ساتھ کام کرتا تھا۔
 
111,622

ترامیم

فہرست رہنمائی