روزيٹا (خلائی جہاز)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دیگر استعمالات کے لیے، دیکھیے Rosetta (disambiguation)۔

Rosetta
Rosetta spacecraft
Artist's illustration of Rosetta
طرز مشن Comet orbiter/lander
آپریٹر یورپی خلائی ایجنسی
COSPAR ID 2004-006A
SATCAT № 28169
ویب سائٹ esa.int/rosetta
مشن دورانیہ Final: 12 سال، 6 ماہ، 28 دن
Spacecraft properties
صانع Astrium
Launch mass Orbiter: 2,900 کلوگرام (6,400 پونڈ)
Lander: 100 کلوگرام (220 پونڈ)
Dry mass Orbiter: 1,230 کلوگرام (2,710 پونڈ)
Payload mass Orbiter: 165 کلوگرام (364 پونڈ)
Lander: 27 کلوگرام (60 پونڈ)
ابعاد 2.8 × 2.1 × 2 میٹر (9.2 × 6.9 × 6.6 فٹ)
طاقت 850 watts at 3.4 فلکیاتی اکائی[1]
آغازِ مہم
Launch date 2 March 2004, 07:17:51 (2 March 2004, 07:17:51) متناسق عالمی وقت[2]
راکٹ Ariane 5G+ V-158
Launch site Kourou ELA-3
Contractor Arianespace
اختتام مہم
Disposal Deorbited
Last contact Did not recognize date. Try slightly modifying the date in the first parameter. متناسق عالمی وقت SCET
Landing site Sais, Ma'at region[3]
2 سال، 55 دن of operations at the comet
Flyby of مریخ
Closest approach 25 February 2007
Distance 250 کلومیٹر (160 میل)
Flyby of 2867 Šteins
Closest approach 5 September 2008
Distance 800 کلومیٹر (500 میل)
Flyby of 21 Lutetia
Closest approach 10 July 2010
Distance 3,162 کلومیٹر (1,965 میل)
67P/Churyumov–Gerasimenko orbiter
Orbital insertion 6 August 2014, 09:06 UTC[4]
Orbit parameters
Periapsis 29 کلومیٹر (18 میل)[5]
Transponders
Band S band (low gain antenna)
X band (high gain antenna)
Bandwidth from 7.8 bit/s (S band)[6]
up to 91 kbit/s (X band)[7]
150px
Rosetta mission insignia

دس برس قبل خلا ميں بھيجا جانے والے روزيٹا نامي سيٹيلائٹ کے دمدار ستارے سے ٹکرا کر تباہ ہونے کے ساتھ ہي اِس کا تاريخي مشن آج ختم ہو گیا ہے۔ اِس سيٹيلائٹ کو دمدار ستارے 67 پی کے مطالعے کے ليے بھيجا گيا تھا اور يہ دو برس سے يہ کام کر رہا تھا۔ یورپين سپيس ايجنسي کا کہنا تھا کہ روزيٹا سورج سے اتني دور ہوتا جا رہا تھا کہ اپني بيٹرياں خود سے ري چارج کرنے کے قابل نہيں رہتا۔ یورپی خلائی ایجنسی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مصنوعی سیارے کی کارآمد زندگی ختم ہو رہی تھی اور وہ اس کی تباہی سے قبل کچھ آخری اعدادوشمار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ روزیٹا نامی خلائی جہاز جو گذشتہ دو برس سے اس دمدار ستارے پر نظر رکھے ہوئے تھا، اب اسی چار کلومیٹر چوڑی برف اور گرد کی دیوار سے ٹکرا گیا۔ خیال یہی تھا کہ روزیٹا 67 پی سے اپنے تصادم کو برداشت نہیں کر سکے گا اور تباہ ہو جائے گا۔ تاہم اگر اس کے کچھ حصے کام بھی کرتے رہے تب بھی اس میں موجود سافٹ ویئر تصادم پر ہر چیز کو بند کر دے گا۔ جرمنی میں واقع کمانڈ سینٹر میں موجود کنٹرولرز نے روزیٹا کو جمعرات کی شب اپنا راستہ تبدیل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد وہ دمدار ستارے کی براہِ راست راہ میں آ گیا۔ دمدار ستارے اور روزیٹا کے درمیان فاصلہ کم ہوتا گیا اور وہ جمعے کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دن 11 بج کر 18 منٹ پر 67 پی سے ٹکرا گیا۔ روزیٹا اگست 2014 میں دس سال کے سفر کے بعد اس ستارے تک پہنچا تھا اور یہ انسانی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کوئی خلائی جہاز کسی دمدار ستارے کی سطح کے قریب پہنچا تھا۔ 25 ماہ جاری رہنے والی تحقیق کے دوران اس سیارے کی ایک لاکھ سے زیادہ تصاویر کھینچیں اور اعدادوشمار حاصل کیے۔ ان معلومات کی مدد سے دمدار ستاروں کی ساخت، کیمیا اور رویوں کے بارے میں ایسی معلومات ملیں جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھیں۔ روزیٹا نے نومبر 2014 میں دمدار ستارے پر 'فیلے' نامی ایک روبوٹک گاڑی بھی اتاری اور یہ بھی خلائی تاریخ میں ایسا پہلا واقعہ تھا۔ روزیٹا کے فلائیٹ ڈائریکٹر آندریا اکومازو کا کہنا ہے کہ'ہم اس مشن کے آخری مرحلے میں داخل ہوگئے لیکن روزیٹا سے حاصل کردہ ڈیٹا آنے والی کئی دہائیوں تک کام آتا رہے گا۔' ای ایس اے کے سینیئر سائنس ایڈوائزر مارک میکاگریئن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم دنیا کو ایک دمدار ستارے کے مرکز میں ایک سنسنی خیز سفر پر لے گئے اور ہم نے دیکھا کہ دنیا نے روزیٹا اور فیلے کے اس کارنامے کو دل میں بسا لیا۔ 67 پی اعدادوشمار کی روشنی میں : دمدار ستارے کے گرد چکر مکمل کرنے میں 12 گھنٹے کا وقت لگتا ہے۔ دمدار ستارے کے سب سے بڑا حصہ یا اس کا جسم 4 × 3 × 2 کلومیٹر کا ہے۔ دمدار ستارے کے سب سے چھوٹا حصہ یا اس کا سر 2 × 2 × 2.5 کلومیٹر کا ہے۔ کششِ ثقل کے پیمانوں کے تحت اس ستارے کا وزن دس ارب ٹن ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Rosetta at a glance — technical data and timeline"۔ German Aerospace Center۔ اصل سے جمع شدہ 8 January 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 January 2014۔ 
  2. "No. 1 - Rosetta in Good Health"۔ Status Reports۔ European Space Agency۔ 4 March 2004۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 October 2016۔ 
  3. Emily Baldwin (3 October 2016)۔ "Rosetta impact site named Sais"۔ European Space Agency۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 October 2016۔ 
  4. "Rosetta timeline: countdown to comet arrival"۔ European Space Agency۔ 5 August 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 August 2014۔ 
  5. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ esa20140910 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  6. "No. 2 — Activating Rosetta"۔ European Space Agency۔ 8 March 2004۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 January 2014۔ 
  7. "We are working on flight control and science operations for Rosetta, now orbiting comet 67P, and Philae, which landed on the comet surface last week. Ask us Anything! AMA!"۔ Reddit۔ 20 November 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 November 2014۔ 

بیرونی روابط[ترمیم]

Media

سانچہ:Rosetta mission

سانچہ:Comet spacecraft سانچہ:Comets سانچہ:European Space Agency

سانچہ:Breakthrough of the Year سانچہ:Orbital launches in 2004 سانچہ:2014 in space سانچہ:2016 in space