سر جان شور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سر جان شور
JohnShore.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 5 اکتوبر 1751  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 14 فروری 1834 (83 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان[2]،  انجینئر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ہندوستان کا گورنر جنرل۔ 1768ء میں ہندوستان آیا۔ 1775ء سے 1780ء تک کلکتہ میں ریونیو کونسل اور 1787ء سے 1789ء تک بنگال کی سپریم کونسل کا رکن رہا۔ وارن ہیسٹنگز کے بعد اور لارڈ کارنوالس کے مقرر ہونے سے پہلے تقریباً ڈیڑھ سال عارضی طور پر گورنر جنرل کے فرائض سر انجام دیتا رہا۔ کارنوالس نے اس اسے بنگال کے بندوبست دوامی میں اپنا مشیر مقرر کیا۔ کارنوالس کے بعد 1793ء سے 1798ء تک گورنر جنرل کے عہدے پر فائز رہا۔ اس کے عہد میں پیشوا دولت راؤ سندھیا، ٹکوجی ہولکر اور راجا برابر نے مل کر نظام دکن کو کردلا ’’احمد نگر سے 56 میل جنوب مشرق‘‘ کے مقام پر شکست دی۔ اگر سرجان شور چاہتا تو فروری 1768ء کے عہد نامے کے تحت نظام کو مدد دے سکتا تھا لیکن اس نے پٹس انڈیا ایکٹ پر عمل کرتے ہوئے مداخلت سے انکار کر دیا۔ اس کی اس پالیسی کی وجہ سے نظام نے انگریزوں کے مقابلے میں فرانسیسیوں سے تعلقات بڑھا لیے۔ ٹیپو سلطان نے اپنی فوجی طاقت مستحکم کی اور مرہٹے زور پکڑ گئے۔

سر جان شور عام طور پر عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کرتا رہا۔ صرف اودھ کے معاملے میں مداخلت کی۔ 1797ء میں آصف الدولہ نواب اودھ کی وفات پر جانشینی کا جھگڑا پیدا ہوا تو سر جان شور نے نواب کے بڑے بھائی سعادت علی خان کو اس کا جانشین مقرر کیا اور 21 جنوری 1798ء کو اس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کی رو سے نواب نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہر سال 76 لاکھ روپیہ دینا منظور کیا۔ اور الہ آباد کا قلعہ کمپنی کے حوالے کر دیا ۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6h429dq — بنام: John Shore, 1st Baron Teignmouth — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. اجازت نامہ: CC0