فسانہ عجائب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

فسانہ عجائب رجب علی بیگ سرورؔ کی لکھی ہُوئی داستان ہے۔

بقول شمس الدین احمد،
”فسانہ عجائب لکھنؤ میں گھر گھر پڑھا جاتا تھا۔ اور عورتیں بچوں کو کہانی کے طور پر سنایا کرتی تھیں اور بار بار پڑھنے سے اس کے جملے اور فقرے زبانوں پر چڑھ جاتے تھے۔“
سرور 1786ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے اور1867ء کو بنارس میں وفات پائی۔ سرور کو فارسی اور اردو پر پوری پوری دسترس حاصل تھی۔ شعر و شاعری کے بڑے شوقین تھے۔ فسانہ عجائب ان کی سب سے مشہور تصنیف ہے۔ جوایک ادبی شاہکار اور قدیم طرز انشاء کا بہترین نمونہ ہے۔ اس کی عبارت مقفٰفی اور مسجع، طرز بیان رنگین اور دلکش ہے۔ ادبی مرصع کاری، فنی آرائش اور علمی گہرائی کو خوب جگہ دی گئی ہے۔
اگرچہ فورٹ ولیم کالج کی سلیس نگاری نے مولانا فضلی اور مرزا رسوا کے پرتکلف انداز تحریر پر کاری ضرب لگائی تھی۔ اور اس کا ثبوت باغ و بہار کی سادہ و سلیس نثر ہے۔ تاہم پھر بھی اکثر ادبا ہٹ دھرمی کا ثبوت دیتے ہوئے قدیم طرز کے دلدادہ اور اور پرستار رہے۔ رجب علی بیگ سرور بھی اسی لکیر کو پیٹ رہے تھے۔ چنانچہ باغ و بہار کے آسان اور عام فہم اسلوب پر اس زمانے میں اعتراضات کیے جانے لگے تو انہوں نے اس کے مقابلے میں ”فسانہ عجائب“ کی صورت میں مشکل اور گراں عبارت لکھ کر ”باغ و بہار“ کی ضد پیش کی۔ اور اس زمانے میں خوب داد حاصل کی۔

اسلوب[ترمیم]

زبان و بیان:۔[ترمیم]

ڈاکٹر عابدہ بیگم فسانہ عجائب کے متعلق لکھتی ہیں،
”فسانہ عجائب اپنے دور کی مقبو ل ترین کتا ب تھی۔ یہ متاثرین فارسی کی انشاپردازی کا اردو جواب تھی۔ سرور نے کچھ ایسا جادو جگایا جو تیس سال تک اردو نثر کے سر پر چڑھا رہا۔“
فسانہ عجائب کی سب سے بڑی خوبی اس کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ اس کی عبارت از اوّل تا آخر مقفٰی اور مسجع ہے۔ سرور موقع و محل کے مطابق زبان اختیار کرنے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ منظر کشی، مختلف فنون کی اصطلاحیں، ہر قسم کے سازو سامان کی تفصیلات، عوام الناس کے مختلف طبقوں کا طرز کلام، گویا ہر قسم کا بیان اس کے مناسب اور موزوں الفاظ میں کیا گیا ہے۔ عبارت آرائی اور قافیہ بندی میں سرور کو قدرت اور استادانہ مہارت حاصل تھی۔ اور یہ کتاب اردو نثر پر کئی حوالوں سے اثر انداز ہوئی۔
” اس کتاب سے ایک ادبی روایت کی مستحکم بنیاد پڑی۔ اردو کی کم کتابوں نے اپنے عہد کی زبان اور ادب پر اتنا اثرڈالا جتنا فسانہ عجائب نے۔“
فسانہ عجائب کی زبان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک قسم سلیس اور بامحاورہ زبان اور دوسری قسم وہ پیچیدہ اور گراں بار زبان ہے جس کو سمجھنے کے لیے قاری کو فرنگی محل کی گلیوں کی خاک چھاننا پڑتی ہے۔

سادگی و پرکاری:۔[ترمیم]

اردو کی کم کتابوں کو تعریف و تنقیص اور تعظیم و تحقیر کے اتنے متضاد تجربے ہوئے ہوں گے جتنے ”فسانہ عجائب “ کو سامنا کرنا پڑا۔ بعض نقادوں کا خیال ہے کہ یہ کتاب اپنے اسلوب کی وجہ سے مقبول ہوئی۔ جبکہ کچھ نقاد اس کی طرز تحریر سے نالاں ہیں۔ مثال کے طور پر کلیم الدین احمد لکھتے ہیں۔ ”فسانہ عجائب ایک عجوبہ روزگار ہے اس کی ممکن ہے کچھ تاریخی اہمیت ہو لیکن زندہ ادب میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔“
اس رائے کی سب سے بڑی وجہ مسجع اور مقفٰی اور آورد سے بھر پور زبان ہے۔ اُن کی عبارت آرائی کی مثال مندرجہ ذیل ہے۔
”اس نقش قدرت پر تصویر مانی و بہزاد حیران او ر صناعی آذر کی ایسے بعت حقیقت کے روبرو پشمان۔“ لیکن اس کے برعکس جو لوگ مرزا سرور کی مقفٰی اور مسجع اور دقیق نثر پر معتر ض ہیں انہیں مرزا کا یہ اقتباس بھی دیکھنا چاہیے۔ اس جیسے بے شمار اقتباسات فسانہ عجائب سے نقل کیے جا سکتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فسانہ عجائب میں سہل ممتنع اور سادگی سے بھی کام لیا گیا ہے۔ ” شہزادہ گھوڑے سے اتر کر نلکہ کے پاس گیا۔ وسم سلام بجا لایا۔ اس نے دعائے خیر دے کر چھاتی سے لگایا۔ کہا: الحمداللہ تمہیں صحت و عافیت نے کامیاب کر دکھایا۔ “
اس لیے قمر الہدیٰ نے کلیم الدین احمد کی رائے کو انتہا پسندانہ قرار دیا ہے۔ ان کا خیال ہے۔ ” بلاشبہ اس انداز تحریر کو اپنایا نہیں جا سکتا، مگر یہ ایک دور، ایک تہذیب کا نمائندہ اسلوب ہے۔ اسے اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔“

قافیہ پیمائی:۔[ترمیم]

سرور کے بارے میں یحییٰ تنہا کا خیال ہے کہ،
” فسانہ عجائب اپنے خاص رنگ میں بہترین تصنیف ہے۔ جس کی عبارت، مقفٰی و مسجع ہے۔ یہ رنگینی اور قافیہ پیمائی فارسی تحریروں میں پائی جاتی ہے۔ لیکن اردو میں اس انداز تحریر کے آپ ہی موجد ہیں۔“
سرور کی عبارت میں قافیہ بندی عام پائی جاتی ہے۔ وہ بعض اوقات کسی پیراگرا ف کے چند فقروں کو مقفٰی کرتے ہیں اور بعض دفعہ پورا پیراگراف مقفٰی ہوتا ہے۔ کئی بار وہ جملوں کو ہم قافیہ لاتے ہیں اور کئی بار اس سے زیادہ فقروں کو۔ جہاں مسلسل قافیہ بندی سے کام لیا گیاہے وہاں قافیے بدلتے رہتے ہیں۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ دوتین تین جملوں یا اُن کے اجزاءکے بعد قافیہ آیا ہے۔ آئیے سرور کی قافے ہ بندی کی ایک مثال دیکھتے ہیں۔
” اس رات کی بے قراری، گریہ وزاری، اختر شماری، شہزادے کی کیا کہوں ہر گھڑی بہ حال پریشاں، سوئے آسماں مضطر نگراں تھا کہ رات جلد بسر ہو جائے، نمایاں رخِ سحر ہو۔“

اختصار:۔[ترمیم]

اس داستان میں اختصار کی وجہ سے ابتداءاور انتہا میں ایک ربط پید ا ہوا۔ جبکہ گردو پیش کے ماحول اور حال سے متاثر ہے۔ یعنی ماضی کو حال کا رنگ دیا گیا ہے۔ جبکہ مصنف نے اسلوب کو کتاب کی دلچسپی کی جان بنایا ہے۔ گویا اختصار اور قصوں کے درمیان باہمی ربط نے ناول کے لیے آئندہ کے لیے راستہ بنایا۔ دوسرے دلکش اسلوب کے لیے جس کی پیروی آزاد نے کی کے لیے راستہ ہموار کیا۔ ڈاکٹر منیر مسعود فسانہ عجائب کے اختصار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ،
”فسانہ عجائب کا اختصار اس لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کہ بعد میں جو داستانیں اس سے متاثر ہو کر لکھی گئیں ان میں طوالت سے پرہیز کیا گیا اور اس طرح اردو ناول کے لیے راہ ہموار ہوئی۔
عزیز احمد اسی اختصار کی وجہ سے فسانہ عجائب کو ناول سے قریب مانتے ہیں، مگر ڈاکٹر سہیل بخاری کو اس بات سے اتفاق ہے کہ فسانہ عجائب داستان اور ناول کی درمیانی کڑی ہے اور اس کتاب نے ناول کی پیدائش میں بہت کچھ مدد دی ہے۔

مکالمہ نگاری:۔[ترمیم]

سرور کی مکالمہ نگاری کی اکثر ناقدین نے تعریف کی ہے۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ سرور کی مکالمہ نگاری میں کافی حد تک پختگی پائی جاتی ہے اور یہ انداز سرور سے پہلے کے افسانوی ادب میں تقریباً مفقود ہے۔ سرور نے مکالمات میں لکھنوی لہجہ اور مزاج اپنایا ہے اور ہر کردار کے سماجی مرتبہ و حیثیت کے مطابق اس سے بات کہلوائی ہے۔
سوداگر اور بھٹیاری کا مکالمہ سنیے،
سوداگر: یہاں کون رہتا ہے
بھٹیاری: چڑی مار!
سوداگر: اس کا لڑکا خوب باتیں کرتا ہے۔
بھٹیاری : لڑکا بالا تو کوئی نہیں فقط جورو خصم رہتے ہیں۔

خامیاں:۔[ترمیم]

کچھ نقادوں کے خیال میں فسانہ عجائب میں پلاٹ اور کہانی میں نقائص پائے جاتے ہیں۔ مثلا فسانہ عجائب کا موضوع فرسود ہ اور گھسا پٹا ہے۔ ”گلشن نو بہار “ جس کا یہ مکمل چربہ ہے۔ مہجور نے فسانہ عجائب سے بیس سال قبل لکھنؤ میں ہی لکھی اور یقینا سرور کی نظروں سے بھی گزری ہوگی اس لیے اس کہانی میں کوئی نیا پن اور اچھوتا پن نہیں بلکہ انہی قصوں کو آگے پیچھے کرکے لکھ دیا ہے۔
فسانہ عجائب کا قصہ ہیرو کی چند مصیتوں کا بیان ہے چند بلائیں اٹھانے کے بعد اسے اس کی محبوبہ مل جاتی ہے۔ عموما کلائمکس (ارتقا) کے بعد اختتام ہوتا ہے مگر فسانہ عجائب میں ارتقاءکے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ واقعات سلجھائے جاتے مگر ان کو بے جا طول دیا گیا ہے۔ قصہ ختم ہوتے ہوتے درمیان سے پھر شروع ہو جاتا ہے۔ پلاٹ کے لیے یہ ایک اہم نقص ہے۔
لیکن ان تمام تر اعتراضات کے باوجود ہم اس داستان کی اہمیت کو نظراندا ز نہیں کر سکتے۔ جو سادگی اور پرکاری کا بہترین نمونہ ہے۔ اور اسی خصوصیت نے اس کو زندہ جاوید کر دیا ہے۔ اس کی عظمت کا سب سے بڑ اثبوت یہ ہے کہ لکھنؤ میں مائیں اپنے بچوں کو یہ داستان زبانی یاد کرکے سناتی تھیں۔

معاشرت کی عکاسی[ترمیم]

مرزا سرور کی کتاب ”فسانہ عجائب “ معاشرت نگاری کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔ اس میں ہندی معاشرے کے زیر اثر تشکیل پانے والے مسلم معاشرہ کی نہایت عمدہ ڈھنگ سے تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس کے دیباچے میں لکھنؤ کی جو مرقع نگاری کی گئی ہے۔ اس میں لکھنوی تہذیب کے خدوخال واضح دکھائی دیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں رام بابو سکسینہ کا یہ بیان ملاحظہ فرمائیے۔
”فسانہ عجائب کا دیباچہ اس لیے اور بھی دلچسپ ہے کہ اس میں اس زمانے کی شہر لکھنؤ کی سوسائٹی، وہاں کی طرز معاشرت، امرا اور روسا کی وضعداریوں، ان کے پر تکلف جلسوں، شہر کے رسوم و رواج، کھیل تماشوں، دلچسپ مناظر، مختلف پیشیوں اور اہل کمال کے حالات، بازاروں کی چہل پہل، سودا فروشوں کی آوازوں وغیرہ وغیرہ کی دلکش اور جیتی جاگتی تصویریں ہیں۔“

لکھنؤ کی تصویر کشی:۔[ترمیم]

”فسانہ عجائب“ کے کردار اگرچہ غیر ملکی اور مافوق الفطرت ہیں۔ لیکن سرور نے جہاں کہیں ان کے ماحول اور معاشرت کا نقشہ کھینچا ہے۔ وہاں ہندوستانی معاشرت، بالخصوص لکھنؤ کی تہذیب و تمدن کو پیش نظر رکھا ہے۔ انہیں اپنے وطن لکھنؤ سے بے انتہا محبت ہے۔ انہوں نے لکھنؤ کے ہر طبقہ فکر اس کے رسم و رواج اور چال ڈھال کی بات کی ہے۔ ان کو ناز ہے کہ ان کہ ان کا شہر لکھنؤ رشکِ جناں اور حورو غلماں کا مسکن ہے۔ یہاں کے باشندے ڈکی فہم اور انصاف کے گرویدہ ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس شہر کو دیکھ کر دنیا کے کسی شہر کو دیکھنے کی حسرت باقی نہیں رہتی۔ وہ اس شہر کے گلی کوچوں،نانبائیوں، مٹھائیوں اور کھانوں کا ذکر اس ڈھب سے کرتے ہیں کہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ کہ ہم خود کو ان گلی بازاروں میں پہنچ گئے ہیں اور جیتے جاگتے کرداروں کو اپنے اپنے کام میں منہمک دیکھ رہے ہیں۔ سرور کی زبانی لکھنؤ کا حال سنیے؛
” عجب شہر گلزار ہے۔ ہر گلی کوچہ دلچسپ باغ وبہار ہے۔ ہر شخص اپنے طور پر باوضع، قطع دار ہے۔ ہر چند ہر محلے میں جہاں کا سازوسامان مہیا ہے۔ لیکن اکبری دروازے سے جلو خانے اور پکے پل تک صراط مستقیم ہے۔ کیا جلسہ ہے۔ نانبائی سلیقہ شعار، شیر مال، کباب، نان، نہاری جہاں کی نعمت اس آبداری کی، جس کی بوباس سے دل طاقت پائے دماغ معطر ہو جائے۔“

امرد پرستی:۔[ترمیم]

جس طرح اردو، فارسی غزل میں امرد پرستی کی جھلکیاں ملتی ہیں۔ اس طرح سرور کے ہاں امرد پرستی کا تذکرہ موجود ہے۔ لگتا ہے کہ لکھنؤ کے لونڈوں کے بھی عشاق تھے۔ سرور نو خیز چھوکروں کا تذکرہ یوں کرتے ہیں۔
”جب ابوتراب کے کٹرے میں جا، میاں خیراتی سے کسی خیرات میں خط بنوایا، بارہ برس کے سن کا لوگوں کا مزہ آیا۔ چار پہر کھونٹی ٹٹولی، پتہ نہ پایا، کاتب قدرت کا لکھا مٹایا، ایسا خط بنایا۔“

رسوم و رواج:۔[ترمیم]

سرور نے داستان کے کرداروں کی معاشرت میں بھی لکھنوی معاشرت دکھائی ہے۔ جہاں کہیں رسوم و رواج کا تذکرہ ہے، وہاں لکھنوی رسوم کی عکاسی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر مشکل کشا کا دانا دینا۔ امام جعفر صادق کے کونڈے بھر نا،دودھ کے کوزے بھرنا، سہ ماہی کے روزے رکھنا، سقائے سکے نہ کا علم چڑھانا وغیرہ۔ داستان میں جب شہپال کی بیٹی جادو کے عمل سے جان عالم کے لشکر کے نصف جسم کو پتھر کا بنا دیتی ہے تو شہزادوں کی خدمت پر مامور خادمائیں مصیبت سے چھٹکار ا پانے کے لیے منتیں ماننے لگتی ہیں۔
”کوئی کہتی ہمارا لشکر اس بلا سے نکلے تو مشکل کشا کا کھڑا دونا دوں گی۔ کوئی بولی، سہ ماہی کے روزے رکھوں گی۔ کسی نے کہا سقائے سکے نہ کا علم چڑھاؤں گی۔ چہل منبری کرکے نذر حسین پلاؤں گی۔“

توہم پرستی:۔[ترمیم]

داستان کا مطالعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا سرور کے دور کا مسلم لکھنوی معاشرہ، ہندو معاشرہ ہی کی طرح توہمات کا شکار تھا اور اس میں پیدائش اور شادی بیاہ کے موقع پر پنڈتوں اور جوتشیوں وغیرہ سے زائچے کھنچوانے اور سعد و نجس ساعتوں کے دریافت کرنے کا رواج تھا۔ سرور نے بادشاہ کے دربار میں پنڈتوں، جوتشیوں اور مالوں کا ہجوم دکھایا ہے۔ یہ دوسری لوک داستانوں میں بھی نظر آتا ہے۔ ذیل کا اقتباس دیکھیے جس میں جان عالم کی پیدائش پر جوتشی اور نجومی بادشاہ فیروز بخت کے دربار میں شہزادہ کے مستقبل کے بارے میں قیافہ آرائیاں کر رہے ہیں،
”ہماری پوتھی کہتی ہے کہ بگوان کی دیا سے چندر ماں بلی ہے، چھٹا سورج ہے، جو گرہ ہے وہ بھلی ہے۔ دیگ تیگ کا مالک رہے، دھرم مورت یہ بالک رہے۔ جلد راج پر براجے، پرتھوی میں دھوم مچائے۔“

شادی بیاہ:۔[ترمیم]

جان عالم کی شادی کے موقع پر مہندی کی جو رسم دکھائی گئی ہے ہندئوں کے علاوہ ہندی مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ لکھنومیں یہ تقریب بطور خاص منائی جاتی تھی۔ سرور کی زبانی مہندی کی تعریف سنیے،
”نار نول کی مہندی، ہزار من بو باس میں دلہن پن رنگین، جس کی دیدسے ہاتھ مثل پنجہ مرجان رشک عمیق یمن اور لعل بدخشاں ہو جائے۔“
دلہن کی رخصتی پر اد ا کی جانے والی ایک رسم کا تذکرہ سنیے،
”جب دولہا دلہن کو رخصت کراکے لے گیا، اس وقت بکرا ذبح کیا انگوٹھے میں لہو دیا پھر کھیر کھلائی۔“

مشرقیت:۔[ترمیم]

برصغیر پاک و ہند میں بیٹیاں بالغ ہونے پر بھی اپنے والدین، بالخصوص والد کی مرضی کے تابع ہوتی ہیں۔ شادی کے سلسلے میں لڑکی اپنے والدین کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔ وہ جہاں چاہیں اس کی شادی کر دیں۔ گویا عورت ایک گائے ہے، اس کے والدین اسے جس کھونٹے سے چاہیں باندھ دیں۔ لڑکیوں سے ان کی مرضی پوچھنے کا رواج نہیں۔ اگر رسمی طور پر پوچھا جائے تو لڑکیاں شرما جاتی ہیں۔ اور اس موقع پر اکثر خاموش رہتی ہیں۔ انجمن آراء اگرچہ جان عالم کو چاہتی ہے اور اسی سے منسوب ہونے کا تہیہ کر چکی ہے۔ لیکن جب اس کی ماں اس کا عندیہ لینا چاہتی ہے تو شرما کر رہ جاتی ہے۔ مشرقی شرم و حیا کا تقاضا ہے، جسے سرور نے اس موقع پر دکھایا ہے،
”صاحبو !دلہن سے صاف صاف کہلوایا چاہتے ہو؟ دنیا کی شرم و حیا نگوڑی کیا اڑ گئی؟ اتنا تو سمجھو بھلا ماں باپ کا فرمان کس نے ٹالا ہے۔ جو یہ نہ مانیں گی۔ الخاموشی نیم رضا، بوڑھے بڑوں کے روبرو اور کہنا کیا۔“
قصہ مختصر کہ رجب علی بیگ سرور نے اپنی کتاب ”فسانہ عجائب “ میں جس معاشرت کی تصویر کشی کی ہے وہ ہندی اور بالخصوص لکھنوی معاشرت ہے۔

کردار نگاری[ترمیم]

رجب علی بیگ نے فسانہ عجائب کے کرداروں کو بڑی مہارت کے ساتھ پیش کیا ہے اور ہر کردار کی شخصیت واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہیں کرداروں کے ماحول کی تصویر کشی کرنے میں خاص ملکہ حاصل ہے۔ انہوں نے داستان سنانے میں داستان سرائی کے اسلوب، ادائیگی، لہجے اور کیفیات پر گہری توجہ دی ہے۔ اور کرداروں کے منہ سے جو الفاظ کہلوائے ہیں۔ ان میں لکھنوی زبان، لہجہ، محاورہ بندی، روزمرہ انداز گفتگو اور مزاج کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ ان کے مافوق الفطرت کرداروں کی کرشمہ سازیوں اور جادو وغیر ہ کو دیکھ کر تعجب نہیں ہوتا کہ ہندوستا ن میں اس قسم کی داستانیں اور واقعات پہلے ہی سے عام تھے۔ سرور نے ان کرداروں کے تصور کو ہندودیو مالا سے ہم آہنگ کر دیاہے۔ آئیے فسانہ عجائب کے اہم کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں۔

شہزادہ جان عالم :۔[ترمیم]

شہزادہ جان عالم داستان کا مرکزی کردار ہے۔ جو بادشاہ فیروز بخت کے ہاں ساٹھ سال کی عمر میں پیدا ہوا۔ سرور نے اسے نہایت حسین و جمیل دکھایاہے۔ وہ اپنے حسن کی بدولت ساحرہ کو بھی رام کر لیتا ہے۔ ملکہ مہر نگار جب اس کو دیکھتی ہے تو اس کے جلوہ حسن کی تاب نہ لا کربے ہوش ہو جاتی ہے۔ مہر نگار کی باندیاں اسے چاند، سورج اور پرستان کا وزیر زادہ تصور کرتی ہیں۔ اسی طرح انجمن آراء بھی اس کے حسن سے مسحور ہو جاتی ہے۔
شہزادہ جان عالم حسین ہونے کے ساتھ ساتھ حسن پرست بھی ہے۔ طوطے کی زبانی حسن آرا کے حسن کی تعریف سن کر تصور ہی تصور میں اس پر عاشق ہو جاتا ہے۔ اور پھر اس صورت کو ڈھونڈنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور ہزاروں مصیبتیں برداشت کرتا ہے۔
اس کی فقرہ بازی اور چرب زبانی اسے لکھنؤ کا کوئی بانکا ثابت کرتی ہے۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ سرور نے جان عالم کے کردار میں لکھنوی شہزادوں اور نوابوں کی زندگی پیش کی ہے۔ اور نواب بھی اس دور کے جب مغلیہ حکومت روبہ زوال ہوچکی تھی۔ بہر حال ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جان عالم لکھنؤ کے تعیش پسند اور نمائشی معاشرہ کا ایک نمائندہ ہے
بعضوں کا کہنا ہے کہ اس کے کردار میں مردانہ پن اور قوت اور طاقت کی بجائے عورتوں کی سی نزاکت پائی جاتی ہے۔ لیکن جب اسے مرکزی کردار کی حیثیت سے اس کے تحریک کو دیکھتے ہیں تو اس کا مصیبتیں جھیلنا اور آفات کا ثابت قدمی سے سامنا کرنا اس کی مستقل مزاجی اور ہمت و حوصلہ کی دلیل ہے۔
وہ ایک دانشمند شخص ہے لیکن کبھی کبھار یہ دانشمندی، عیاری و حیلہ سازی یہاں تک کہ منافقت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ساحرہ کے چنگل میں گرفتار ہونے کے بعد جب اسے نجات کی کوئی صورت نہیں دکھائی دیتی تو وہ حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے نہایت عیاری سے ساحرہ کو اپنی محبت کا یقین دلاتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ساحرہ کی گردن میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ بعض مقامات پر وہ بے وقوفی کا مظاہر ہ بھی کرتا ہے۔ جس کی بنا پر مہر نگار اسے ”احمق الذی“ کہتی ہے۔ اور ایک موقع پر مہر نگار کہتی ہیں۔
” شہزادے کا سا عقل کا دشمن دیکھا نہ سنا۔“

شہزادی انجمن آراءکا کردار:۔[ترمیم]

ملک زر نگار کی شہزادی انجمن آراء، جان عالم کی محبوبہ اور داستان کی ہیروئن ہے۔ رجب علی بیگ سرور نے اسے نہایت حسین اور جمیل بتا یا ہے۔ لیکن حسین ہونے کے ساتھ وہ ایک بااخلاق، نیک دل اور عالی ظرف خاتون ہے۔ مہر نگار سے پہلی ملاقات کے موقع پر بجائے حسد یا بعض کے، جو عورت کی فطرت کے پیش نظر اس سے بعید نہیں تھا ملکہ سے بڑے اخلاص اور گرمجوشی سے ملتی ہے۔ رات بھر اس سے بے تکلفانہ گفتگو کرتی ہے اور بڑی عالی ظرفی سے جان عالم کی تعریفیں کرتی ہے۔ ورنہ اگر وہ خود غرض اور پست ہمت ہوتی تو وہ ایسا ہرگز نہ کرتی۔ یہ انجمن آراءکے عمد ہ اخلاق کے سبب ہی ممکن ہوا کہ دونوں سوکنوں میں مثالی محبت تھی۔ اور حسد اور دشمنی کا نام و نشان نہیں۔
سرور نے انجمن آرا کو نہایت بھولی بھالی اور الھڑ دوشیزہ دکھایاہے۔ جس میں مشرقی عورت کی شرم و حیا کو ٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ وہ اگرچہ جان عالم پر فریفتہ ہے اور اسے پانا چاہتی ہے لیکن اس کا تذکرہ زبان پر نہیں لاتی۔ اور جب جان عالم سے نکاح کی بابت اس سے پوچھا جاتا ہے تو شرما جاتی ہے جو ہندوستانی عورت کا شیوہ ہے۔ شادی کے بعد وہ شوہر کو مجازی خدا سمجھتی ہے اور اس کے احکام پر بے چوں چراں عمل کرتی ہے۔ اب وہ مہر نگار پر حاوی نظرآتی ہے۔ کیونکہ ملکہ بے بیاہی عورت ہے اور وہ خود بیوی بن چکی ہے۔ اب ملکہ اسے جھک کر سلام کرتی ہے۔ لیکن وہ اب بھی ملکہ کی عزت کرتی ہے اورخلوص کے ساتھ پیش آتی ہے۔

مہر نگار کا کردار:۔[ترمیم]

ملکہ مہر نگار، فسانہ عجائب کا ایک ایسا کردار ہے جسے سائیڈ ہیروئن کہا جا سکتا ہے۔ اس کے متحرک کردار کی بناءپر نیرمسعود نے اسے داستا ن کی ہیروئن قرار دیا ہے۔ رفیع الدین ہاشمی کے نزدیک، ملکہ مہر نگار فسانہ عجائب کا سب سے جاندار، دلکش اور دلنواز کردار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ داستان کے روایتی کرداروں کے برعکس وہ نسبتاً غیر مثالی، فطری اور انسانی کردار ہے اور اسی لیے اس میں تحریک اور فعالیت زیادہ نمایاں ہے۔
سرور نے ملکہ مہر نگار کو نہایت حسین، باوقار، پر تمکنت، بااخلاق، خوش مزاج، مصلح جو، دانشمند، موقع شناس اور باتدبیر دکھایاہے۔ وہ ایک تارک الدنیا بادشاہ کی بیٹی ہے۔ جان عالم سے اس کی پہلی ملاقات اس وقت ہوتی ہے جب وہ جنگل میں سہیلیوں کے ہمراہ شکار کھیلنے میں مصروف تھی۔ جان عالم مہر نگار کو دیکھتے ہی دل دے بیٹھتا ہے۔ وہ پہلے تمکنت اختیار کرتی ہے اور شہزادے کو اپنی باتوں سے مرغوب کرلیتی ہے۔ لیکن آخر میں شہزادے کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ اور اُس کی رہنمائی کرتی ہے۔
بیوی کے روپ میں مہر نگار ایک مشرقی عورت ہے۔ اس میں شوہر سے وفاداری کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مہر نگار لکھنوی معاشرے کی ایک خوبصورت مہذب اور شریف خاندانی عورت کی تصویر ہے۔ داستا ن میں شروع سے لے کر آخر تک اس کا کردار متحرک ہے۔

ماہ طلعت:۔[ترمیم]

ماہ طلعت جان عالم کی پہلی بیو ی ہے۔ جو دولت دینوی اور دولت حسن پر نازاں ہے۔ طوطا جب ایک اجنبی حسینہ کے حسن کی تعریف کرتا ہے تو وہ چاہتی ہے کہ طوطا اس کے حسن کی تعریف کرے۔ طوطا جب اس کی خواہش پوری نہیں کرتا تو وہ اس کی گردن مروڑنے اور کھانا پینا چھوڑ دینے کی دھمکی دیتی ہے اس کا کردار تھوڑی دیر کے لیے ہمارے سامنے آتا ہے اور اس کے بعد منظر سے غائب ہوجاتا ہے۔

وزیر زادہ:۔[ترمیم]

وزیر زادہ جان عالم کا ایک دوست ہے جس پر وہ بے حد اعتماد کرتا ہے۔ جان عالم جب مہر نگار سے ملتا ہے تو مہر نگار وزیر زادہ کی وفاداری پر شک کرتی ہے۔ اور اپنے خدشہ سے جان عالم کو آگاہ کرتی ہے۔ لیکن جان عالم اپنے دوست کے خلاف کوئی بات نہیں سننا چاہتا۔ جان عالم جب انجمن آراءکی ایک جھلک دیکھ کر اس پر شق ہو جاتا ہے تو وہ نمک حرامی پر اتر آتا ہے۔ اور و ہ انجمن آرا ءکو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اپنے آقا کو بند ر کے قالب میں تبدیل کرکے خود جان عالم کا قالب اختیار کرتا ہے۔ اور تمام بندروں کی ہلاکت کا حکم دیتاہے۔ مختصر یہ کہ یہ کردار نمک حرام، بے وفا اور مطلب پرست اور ظالم قسم کے انسان کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ یہ مناظر انتہاءی دلچسپ اور سحر انگیز ہیں۔

چڑی مار کی بیوی کا کردار:۔[ترمیم]

چڑی مار کی بیوی داستان کا ایک ضمنی کردار ہے۔ جب وزیر زادہ جان عالم کو بندر کے قالب میں تبدیل کرکے حکم دیتا ہے کہ تمام بندروں کوہلاک کر دیا جائے تو چڑی مار بندر(جان عالم ) کو پکڑ کر گھر لے جاتا ہے۔ جب وہ اسے مارنے کا ارادہ کرتاہے تو تو اس کی بیوی اسے منع کرتی ہے۔ اور بندر کی نگہداشت کا بیڑا اٹھاتی ہے۔ وہ غریب قلاش ہوتے ہوئے بھی نہایت صابر و شاکر اور رحمدل عورت ہے۔ وہ خود بھوکا رہتی ہے۔ لیکن جاندار کی جان گنوانا پسند نہیں کرتی۔ وہ جان عالم کی محسنہ ہے اسی کے طفیل جان عالم نئی زندگی پاتا ہے۔
مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو سرور نے داستان میں نسوانی کرداروں کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔ اور اُن کی شکل و صورت سنوارنے میں کافی محنت سے کام لیا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کرداراپنی ایک انفرادی حیثیت بھی ضرور رکھتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]