عبرانی صوتیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

یہودیت

Star of David.svg
Lukhot Habrit.svg  Menora.svg

تاریخ یہودیت

عقائد
خدا کی وحدانیت · ارض اسرائیل · بنی اسرائیل · صدقہ · صنوعت
عبادات اور عبادت گاہیں
مِقواہ · شول · بیت مِقداش · منیان · شاخاریت · منخا · معاریب · شماع
تہوار
شابات · روش ھاشاناہ · عشرۃ التوبہ · یوم کِپور · سکوت · سِمخات توراہ · ہنوکا · عیدپوریم · عید فسح · شاوُوت
اہم شخصیات
ابراہیم · سارہ · اسحاق · یعقوب عرف اسرائیل · بارہ قبائل · موسیٰ · سلیمان · داؤد
کتب و قوانین
تورات · زبور
مشنی ·
تلمود · ہالاخا · کاشرُوت


Jewish funun.jpg
یہودی ثقافت
بصری فنون
بصری فنون فہرست
ادب
ییدش لادینی
عبرانی اسرائیلی
امریکی انگریزی
فلسفہ فہرست
فنون ادا
موسیقی رقص
اسرائیلی ایوان عکس ییدش جلوہ گاہ
طرز طباخی
یہودی اسرائیلی
سفرڈی اشکینازی
شامی
دیگر
مزاح زبانیں
علامات لباس

عبرانی زبان سامی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کا اولین رسم الخط فینیقی تھا، جسے بعد میں یہود نے آرامی سے مماثل رسم خط میں تبدیل کردیا۔

تاریخ[ترمیم]

عبرانی زبان کی ابتدا کے متعلق کوئی حتمی بات اب تک سامنے نہیں آئی ہے، اس لیے اس حوالے سے گفتگو خاصی مشکل ہے۔ مختصر طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان تمام سامی زبانوں کا تعلق ایک ایسی زبان سے ہے جسے سامی زبانوں کی ماں کہا جاتا ہے اور جس کی نشونما جزیرۃ العرب میں ہوئی، جو بعد میں سامیوں کی نقل مکانی کے نتیجہ میں دجلہ و فرات، شام اور حبشہ منتقل ہوئی۔ البتہ یہ بات یقینی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ اس اصل سامی زبان کی صورت وماہیت کیا تھی۔

عبرانی دور انتشار میں[ترمیم]

دور ہیکل سلیمانی یا ہیکل اول (تقریباً 973 ق م تا 587 ق م) عبرانی زبان کا زریں عہد تھا۔ اس دور میں یہ یہود (صرف بنی اسرائیل نہیں) کی عام بول چال کی بھی زبان تھی اور مذہبی زبان بھی۔ لیکن اسیریٔ بابل میں عبرانی زبان اپنی اصل حیثیت کھو بیٹھی، اور یہ صرف مذہبی کتابوں اور رسومات تک محدود ہوگئی۔ یہی وہ دور ہے جب یہود نے عراقی زبانوں (بابلی،آرامی) کو اختیار کرلیا۔ پھر فارس کے دور اقتدار میں فارسی کے بھی کچھ اثرات مرتب ہوئے۔ نیز عراق عرب تجارتی تعلقات کے سبب عربی زبان کے بھی اثرات عبرانی پر پڑے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یہود نے اپنی زندگی سے اپنی مقدس اور مذہبی زبان کو اس حد تک بے دخل کردیا تھا کہ تورات کا آرامی ترجمہ کرنا پڑا۔ اس کا نام ترجُم (תרגום)‎ ہے۔ تلمود میں جمارا بھی آرامی میں لکھا گیا۔ حتی کہ تیسری صدی ق م تک ایک نیا لہجہ وجود میں آگیا جس کے قواعد ہی قدیم عبرانی سے مختلف ہوگئے۔ اس لہجہ میں فارسی، بابلی، یونانی، عربی اور آرامی کے کثیر الفاظ داخل ہوگئے تھے۔
دوسرے انتشار (diaspora) کے وقت یہود دو حصوں میں منقسم ہوکر دنیا میں پھیل گئے۔ ایک حصہ بحر ابیض متوسط کے علاقہ (mediterranean basin) میں آباد ہوا یعنی جنوبی یورپ میں، جبکہ دوسرا حصہ شمالی افریقہ اور یورپ کے بعض شمالی علاقوں میں آباد ہوا۔ یہاں سے عبرانی زبان دو لخت ہوگئی۔ اور یہی وہ تاریخی موڑ ہے جسے سمجھنا عبرانی صوتیات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ شمالی علاقہ میں بسنے والوں کی زبان اشکینازی کہلائی اور جنوب میں بسنے والوں کی سفرڈی۔

عربی کے اثرات[ترمیم]

ایک اہم بات عرض کرتے چلیں کہ سفرڈی عبرانی اندلس اور شمالی افریقہ میں عربیت کے زیر سایہ پروان چڑھی، ابن جنی وغیرہ کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ عربی نحو و بلاغت کی زبرست چھاپ اس پر موجود ہے۔ اور موجودہ اسرائیلی دنیا میں باوجودیکہ اشکینازیم برسراقتدار ہیں، لیکن انہوں نے سفرڈی عبرانی کو ہی فصیح زبان قرار دیا اور عبرانی زبان کا ادارہ اسی زبان کا پابند ہے، تمام شعبہ جات میں یہی عبرانی قابل قبول ہے۔

صوتیات[ترمیم]

عبرانی زبان کے قواعد انتہائی آسان ہے۔ اس لیے کہ اس زبان میں ’’اعراب‘‘ موجود نہیں ہے، غیر معرب زبان۔ چنانچہ رفع، نصب، جر اور جزم سے یہ زبان خالی ہے (سوائے ایک حالت کے وہ بھی قدیم عبرانی میں پائی جاتی ہے)۔ جو زبان اعراب کی بنیاد پر تشکیل نہیں پاتی اس میں لامحالہ جملوں کا نظام برتنا ہوتا ہے۔ جبکہ عربی زبان اعراب پر تشکیل کی گئی ہے، اور عربی کی اس خصوصیت میں سوائے عکادی زبان (اور اس کی شاخیں بابلی، اشوری اور کلدانی) کے کوئی بھی سامی زبان شریک نہیں ہے۔
دیگر سامی زبانوں کی طرح عبرانی میں بھی حروف لین موجود ہیں۔ یہ 4 حروف ہیں:
א ה ן י
یہ چاروں حروف زبر، زیر اور پیش کی جگہ استعمال ہوتے ہیں:

  • الف اور ہیہ زبر (פַּתַח) کی جگہ۔
  • پیش (קֻבּוּץ‎‎) کی جگہ واو۔
  • اور زیر (חִירִיק‎‎) کی جگہ یود۔

ساتویں صدی عیسوی تک یہ حرکات کا نظام عبرانی میں رائج نہیں تھا، اسے بعد میں عربی وسریانی نظام حرکات سے مدد لے کر اختیار کیا گیا۔ اور مدرسہ طبریہ کے جانب منسوب کرکے اسے نظام طبری کہا جاتا ہے۔ اس سے قبل نقطوں کا بابلی نظام رائج تھا جسے آرامی سے اخذ کیا گیا تھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]