چاندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(Ag سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

چاندی ایک دھاتی عنصر ہے جس کا ایٹمی نمبر 47 ہے۔

خالص چاندی کا بسکٹ جس کا وزن آدھا کلو ہے۔
47 کیڈمیئم چاندی پالاڈیئم
Cu

Ag

Au
Ag-TableImage.png
عمومی خواص
نام، عدد، علامت Ag ،47 ،چاندی
کیمیائی سلسلے transition metals
گروہ، دور، خانہ 11، 5، d
اظہار تابدار سفید دھات
Ag,47.jpg
جوہری کمیت 107.8682(2)گ / مول
برقیہ ترتیب [Kr] 4d10 5s1
برقیے فی غلاف 2, 8, 18, 18, 1
طبیعیاتی خواص
رنگ silver
حالت ٹھوس
کثافت (نزدیک د۔ ک۔) 10.49 گ / مک سم
مائع کثافت ن۔پ۔ پر 9.320 گ / مک سم
نقطۂ پگھلاؤ 1234.93 ک
(961.78 س، 1763.2 ف)
نقطۂ ابال 2435 ک
(2162 س، 3924 ف)
حرارت ائتلاف 11.28  کلوجول/مول
حرارت تبخیر 258  کلوجول/مول
حرارت گنجائش (25 س) 25.350  جول/مول/کیلون
بخاری دباؤ
P / Pa 1 10 100 1 k 10 k 100 k
T / K پر 1283 1413 1575 1782 2055 2433
جوہری خواص
قلمی ساخت face-centered cubic
تکسیدی حالتیں 1
(amphoteric oxide)
برقی منفیت 1.93 (پالنگ پیمانہ)
آئنسازی توانائیاں اول: 731.0 کلوجول/مول
دوئم: 2070 کلوجول/مول
سوئم: 3361 کلوجول/مول
نصف قطر 160پیکومیٹر
نصف قطر (پیمائش) 165  پیکومیٹر
ہمظرفی 153  پیکومیٹر
وانڈروال نصف قطر 172 پیکومیٹر
متفرقات
مقناطیسی ترتیب diamagnetic
برقی مزاحمیت (20 س) 15.87 n Ω·m
حر ایصالیت (300 ک) 429  و / م / ک
حراری نفوذیت (300 ک) 174 مک مم / سیکنڈ
حرپھیلاؤ (25 س) 18.9  µm / م / ک
رفتار آواز (باریک سلاخ) (د۔ک۔) 2680  م/سیکنڈ
ینگ معامل 83  گیگاپاسکل
معامل قص 30  گیگاپاسکل
معامل حجم 100  گیگاپاسکل
پوئسون نسبت 0.37
موس سختی 2.5
ویکیر سختی 251  میگاپاسکل
برینل سختی 24.5  میگاپاسکل
سی اے ایس عدد 7440-22-4
منتخب ہم جاء
مقالۂ رئیسہ: چاندی کے ہم جاء
ہم جاء کثرت نصف حیات تنزل ا تنزل ت (ب ولٹ) تنزل پ
105Ag syn 41.2 d ε - 105Pd
γ 0.344, 0.280,
0.644, 0.443
-
106mAg syn 8.28 d ε - 106Pd
γ 0.511, 0.717,
1.045, 0.450
-
107Ag 51.839% 60 تعدیلوں کیساتھ Ag مستحکم ہے
108mAg syn 418 y ε - 108Pd
IT 0.109 108Ag
γ 0.433, 0.614,
0.722
-
109Ag 48.161% 62 تعدیلوں کیساتھ Ag مستحکم ہے
111Ag syn 7.45 d β- 1.036, 0.694 111Cd
γ 0.342 -
حوالہ جات


چاندی کی تاریخ[ترمیم]

چاندی کی کان کنی کوئی 5000 سال قبل اناطولیہ (موجودہ ترکی) میں شروع ہوئی اور جلد ہی یہ آس پاس کے علاقوں (یونان، کریٹ، مشرق قریب) میں تجارت کے لیئے بطور کرنسی استعمال ہونے لگی۔ شروع شروع میں چاندی کے خام ڈلے استعمال ہوئے جن پر بعد میں مہر لگا کر سکے بنائے گئے۔
3200 سال قبل یونان کی Laurium کی کانوں سے چاندی کی کثیر مقدار برامد ہونے لگی جس سے یونان کے اقتدار میں بڑا اضافہ ہوا اور سکندر اعظم ایک عظیم فوج تشکیل دے سکا۔ سکندر اعظم کو روزانہ 500 کلو گرام چاندی فوج پر خرچ کرنی پڑتی تھی۔[1]
1900 سال قبل ہسپانیہ (اسپین) چاندی کی پیداوار کا بڑا مرکز بن گیا۔ یہاں کی چاندی استعمال کرتے ہوئے رومیوں نے اپنا اقتدار وسیع کیا۔ ایشیا سے تجارت اور مصالحوں کی درامد کے لیئے چاندی ہی استعمال کی جاتی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق دوسری صدی عیسوی میں روم کی معیشت میں دس ہزار ٹن یعنی 86 کروڑ تولے چاندی موجود تھی۔ رومی حکومت کے مالیاتی اہلکار اس بات سے پریشان ہوتے تھے کہ چین سے ریشمی کپڑے کی درآمد کی وجہ سے ان کے ملک کی چاندی کم ہوتی جا رہی ہے۔
سن 750 سے 1200 تک چاندی کی کان کنی وسطی یورپ تک پھیل گئی اور جرمنی اور مشرقی یورپ میں چاندی کی کئی کانیں دریافت ہوئیں۔ سن 1500 تک کانکنی اور کچ دھات سے خالص چاندی حاصل کرنے کی ٹیکنولوجی میں خاصہ اضافہ ہوا۔
1492 میں کولمبس نے امریکہ دریافت کیا اور اسکے بعد وہاں چاندی کی بے شمار کانیں دریافت ہوئیں۔ 1500 سے 1800 تک بولیویا، پیرو اور میکسیکو دنیا بھر کی چاندی کی پیداوار کا 85 فی صد مہیا کرتے تھے۔
اسکے بعد دوسرے ممالک میں بھی چاندی کی پیداوار بڑھتی چلی گئی۔ شمالی امریکہ کی نیویڈا کی کان Comstock Lode ایک بڑی دریافت تھی۔ 1870 تک چاندی کی سالانہ پیداوار 40 میلین سے بڑھ کر 80 میلین اونس تک جا پہنچی تھی۔
1876 سے 1920 تک کا عرصہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس دوران ٹیکنولوجی میں بے شمار ایجادیں ہویئں اور نئے علاقوں کی چھان پھٹک کی گئی۔ سن 1800 سے 1875 تک اوسط سالانہ پیداوار 30 میلین اونس تھی لیکن 1900 تک یہ چار گنا بڑھ کر 120 میلین اونس سالانہ تک پہنچ چکی تھی۔

1900 سے 1920 کے درمیان آسٹریلیا سنٹرل امریکہ، کینیڈا، افریقہ، جاپان، چلی اور یورپ میں مزید کانیں دریافت ہویئں اور اس طرح اسکی پیداوار 190 میلین اونس سالانہ تک جا پہنچی۔

آج چاندی کی سالانہ پیداوار 671 میلین اونس ہے یعنی 20.8 ہزار ٹن سالانہ ہے۔ اس طرح چاندی سونے سے لگ بھگ سات گنا زیادہ فراواں ہے لیکن قیمت میں سونے سے لگ بھگ 55 گنا سستی ہے۔

چونکہ ہندوستان میں چاندی کی پیداوار بہت کم تھی اور ہندوستان تجارت کے لیئے چاندی پر بہت زیادہ انحصار رکھتا تھا اس لیئے انیسویں صدی میں دوسرے ممالک میں چاندی کی پیداوار بڑھنے پر ہندوستان نسبتاً نقصان میں رہا۔ اس کے برعکس انگلستان بہت فائیدے میں رہا کیونکہ چاندی کی نئی کانوں والے بیشتر علاقے اس کے زیر اثر تھے۔

چین میں بھی تجارت کے لیئے چاندی کا صدیوں سے استعمال ہوتا رہا تھا۔ لیکن چین سے تجارت کرنے والے ممالک کا مسلہ یہ ہوتا تھا کہ چین اپنی ضرورت کی ہر چیز خود بنا لیتا تھا اور اسے چاندی کے علاوہ کسی چیز کی درآمد کی ضرورت نہیں تھی۔ تجارت کو متوازن رکھنے کے لیئے (یعنی چین سے اپنی چاندی واپس لینے کے لیئے) انہیں چین کو کچھ نہ کچھ بیچنا ضروری تھا۔ انیسویں صدی میں مملیکت برطانیہ نے جو چین سے چائے، ریشم اور پورسلین کے برتن امپورٹ کرتی تھی چاندی میں ادائیگی کرنے سے انکار کر دیا اور 1839 اور 1856 میں چین پر جنگ افیون مسلط کر دی۔ چین کی اس جنگ میں شکست کے بعد جنگ بندی کے معاہدے میں یہ شرط شامل تھی کہ برطانوی تاجروں کو چین میں افیم بیچ کر چاندی کمانے کی اجازت ہو گی۔ یہ افیم برطانوی ہندوستان میں کاشت کی جاتی تھی۔ 1858 میں ان برطانوی تاجروں نے چین میں 4500 ٹن افیم بیچی۔[2]

چاندی کی قیمتیں[ترمیم]

سال چاندی کی سالانہ اوسط قیمت[3])
US$/ozt
سونے کی سالانہ اوسط قیمت[4])
US$/ozt
چاندی کے مقابلے سونے کی قیمت
ratio
بازیاب شدہ چاندی کے عالمی ذخائر۔ ٹن میں[5]
1840 1.29 20 15.5 N/A
1900 0.64 20 31.9 N/A
1920 0.65 20 31.6 N/A
1940 0.34 33 97.3 N/A
1960 0.91 35 38.6 N/A
1970 1.63 35 22.0 N/A
1980 16.39 612 37.4 N/A
1990 4.06 383 94.3 N/A
2000 4.95 279 56.4 420,000
2005 7.31 444 60.8 570,000
2009 14.67 972 66.3 400,000
2010 20.19 1,225 60.7 510,000
2011 35.12 1,572 44.7 530,000
2012 31.15 1,669 53.6 540,000


چاندی کی چند مشہور اقسام[ترمیم]

  • الٹرا فائن %99.99 خالص۔ چاندی کے بسکٹ (پاسہ) اور سکے جیسے کینیڈین میپل لیف (Canadian Maple Leaf)
  • خالص چاندی یا فائن سلور %99.9 خالص۔ بسکٹ بنانے اور چاندی کی ملمع کاری میں استعمال ہوتی ہے۔
  • بریٹانیہ سلور (Britannia Silver) ۔ %95.8 خالص
  • اسٹرلنگ سلور %92.5 خالص (یعنی 22.2 قیراط)۔ پاونڈ اسٹرلنگ سے مراد اسی چاندی کی ایک پاونڈ مقدار ہے۔
  • میکسیکن سلور %92.5 خالص
  • چاندی کے امریکی سکے %90 خالص
  • چاندی کے اسکینڈے نیویا کے سکے %83 خالص
  • جرمن سلور %80 خالص
  • مصر کی چاندی %80 خالص


ہوا کا اثر[ترمیم]

چاندی ہوا کی آکسیجن سے عمل نہیں کرتی یعنی اسے زنگ نہیں لگتا۔ نمی اور اوزون کی موجودگی میں چاندی کو ہلکا سا زنگ لگ سکتا ہے۔ چاندی گندھک (سلفر) سے بڑی جلدی عمل کرتی ہے جس کی وجہ سے اس پر کالے دھبے پڑ جاتے ہیں۔ ہوا میں موجود ہائیڈروجن سلفائیڈ کی وجہ سے چاندی کے برتن اور زیورات آہستہ آہستہ کالے پڑ جاتے ہیں۔ اگر چاندی کے چمچ سے انڈا پھینٹا جائے تو چمچ کالا ہو جاتا ہے کیونکہ انڈے میں بھی گندھک موجود ہوتی ہے۔
پگھلی ہوئی حالت میں چاندی اپنے حجم کا 22 گنا آکسیجن جذب کر لیتی ہے جو ٹھنڈا ہونے پر خارج ہو جاتی ہے۔ اس عمل کو spitting of silver کہتے ہیں۔[6]

مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالے[ترمیم]

  1. ^ [1]
  2. ^ [2]
  3. ^ "London Fix Historical Silver". http://www.kitco.com/charts/historicalsilver.html. 
  4. ^ "London Fix Historical Gold". http://www.kitco.com/charts/historicalgold.html. 
  5. ^ "Silver Statistics and Information". USGS. http://minerals.usgs.gov/minerals/pubs/commodity/silver/. 
  6. ^ Britannica