"چندرگپت موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
درستی املا
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر)
(درستی املا)
چندر گپت جوانی کے عالم میں تخت پر بیٹھا اور اس نے صرف چوبیس سال حکومت کی۔ جس وقت وہ تخت و تاج سے دست بردار ہوا یا مرگیا اس کی عمر زیادہ سے زیادہ پچاس سال کی ہوگی۔ اپنی زندگی کے اس تھوڑے سے عرصہ میں اس نے بڑے بڑے کام کئے مقدونی فوجوں کو ہندوستان سے نکالنا، سلوکس نکوٹار کو کامل شکست دے کر ملک سے نکالنا، کم سے کم ایک طرف سے لے کر دوسری طرف تک تمام شمالی ہند کو زیر کرنا، ایک زبر دست فوج تیار کرنا اور ایک عظیم انشان اور وسیع سلطنت کا کامل نظم و نسق، یہ تمام کارنامے ایسے ہیں جو کسی طرح بھی بے وقعت نہیں ہو سکتے ہیں۔ چندر گپت کی طاقت ایسی مستحکم ہوچکی تھی کہ نہایت امن و امان کے ساتھ اس کے بیٹے اور پوتے تک منتقل ہوگئی اور یونانی بادشاہوں نے اس سے اتحاد و ارتباط کی خواہش کی یونانیوں نے [[سکندر اعظم]] اور سلوکس کے ہندوستانی حملوں کی یاد کو پھر کبھی تازہ نہ کیا اور صرف اسی کفایت کی اس کے باشاہوں کے ساتھ تین پشتوں تک دوستانہ مصلحتی اور تجارتی تعلقات قائم رکھے۔
اٹھارہ برس کے عرصہ میں اس نے مقدونی افواج کو [[خطۂ پنجاب|پنجاب]] و [[سندھ]] سے باہر نکالا، سلوکس نکوٹار کو ذلیل کیا اور اپنے آپ کو بلاشرکت غیر سے کم از کم شمالی ہند اور آریانہ کے ایک بڑے حصہ کا شہنشاہ بنا لیا۔ یہ اس کے ایسے کارنامے ہیں جو اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دنیا کے عظیم انشان بادشاہوں کی صف میں جگہ پائے۔ وہ سلطنت جو چندر گپت کی سلطنت کی طرح وسیع ہو اور جس میں مختلف عناصر جمع ہوگئے ہوں کمزور شخص کے ہاتھ میں رہے نہیں سکتی ہے۔ وہ زبردست ہاتھ جس نے اس سلطنت کو حاصل کیا ہو اس پر حکومت کرنے میں کامیاب بھی ہوا ہو اور تمام نظم و نسق کا کام نہایت درشتی کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ سلوکس کے واپس جانے کے چھ ۶ سال بعد چندر گپت مرگیا۔
جین روایات بیان کرتی ہیں کہ چندر گپت موریا مذہباً جین تھا اور اس موقع پر جب بارہ سال علی التصال قحط پڑا تو وہ تخت و تاج سے دست بردار ہوگیاہو گیا اور جین کے ایک بزرگ بھدراہاہو کے ہمراہ ہند کی طرف چلا گیا اور سنیاسی کی حثیت سے موجودہ ریاست [[میسور]] کے سراون بلگول کے مقام پر رہتا رہا۔ بالآخر اسی جگہ جہاں اب بھی اس کا نام یادگار ہے فاقہ کرکے جان دے دی۔ غالباً اس روایت میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہے۔
 
== یونانی اثرات کی عدم موجودگی ==
== بادشاہ اور دربار ==
یہاں شاہی دربار وحشیانہ اور عیش و عشرت کی شان سے نمودار تھا۔ سونے کے آّفتابے اور پیالے جن میں بعض چھ چھ فٹ ہوتے تھے۔ نہایت عمدہ مرصع اور شاہانی کرسیاں۔ تانبے کے برتن جو جوہرات سے ہوتے تھے اور زر بفت کے زرق برق لباس ہر طرف نظر آتے تھے اور ان کی وجہ سے عام درباروں کے مواقع کی چہل پہل اور شان و شوکت زیادہ ہو جاتی تھی۔ جب کبھی بادشاہ مہربانی کرکے شاہی جشنوں کے کے موقع پر رعایا کے سامنے ظاہر ہوتا تو وہ سونے کی ایک پالکی میں سوار ہوتا تھا۔ جس میں موتیوں کی جھالر ٹکی ہوتی تھی اور خود بادشاہ کا ملبوس خاص نہایت باریک ململ ہوتی تھی، جس پر قرمز اور سونے کا کام ہوتا تھا۔ جب کبھی چھوٹے سفر پر کہیں جاتا تھا تو گھوڑے پر سوار ہوتا تھا۔ لیکن مسافت اگر ذرا طولانی ہوتی تھی ہاتھی پر سوار ہوتا تھا۔ جس کا ساز و سامان سونے کا ہوتا تھا۔ راجہ ہمیشہ سانڈوں، مینڈھوں، ہاتھیوں، گینڈوں اور دوسرے جانوروں لڑائیاں دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ دو آدمیوں کی لڑائیاں بھی اس کے لیے تفریح و طبع کا باعث ہوتی تھی۔ ایک عجیب و غریب سامان تفریح بیلوں کی ڈور تھی۔ اس میں شرطیں لگائی جاتی تھیں۔ بادشاہ نہایت دلچسپی سے اس کا تماشاہ دیکھا کرتا تھا۔ اور بیلوں کو گاڑیوں میں جوت کر ڈوراتے تھے اور ان کے علاوہ گھوڑے بھی گاڑیوں میں جوت کر انہیں بھی ڈوراتے تھے۔
راجہ کا سب سے بڑا سامان تفریح شکار تھا۔ یہ نہایت تکلف اور نمود سے کیا جاتا تھا۔ ایک گھرے ہوئے میدان میں جانور چبوترے تک جانور لائے جاتے تھے، جہاں راجہ بیٹھتا تھا اور وہیں بیٹھے بیٹھے ان کا شکار کرتا تھا۔ لیکن اگر شکار کھلے میدان ہوتا تھا راجہ ہاتھی پر سوار ہوتا تھا۔ جب وہ شکار کے لیے شکار پر جاتا تھا تو اس کے ہم رکاب عورتوں کی فوج کا ایک دستہ ہوتا تھا۔ جن کو دوسرے ملکوں سے خرید کر لائے تھے اور یہ تمام ہندی راجاؤں کے دربار کا ایک ضروری جزو ہوا کرتی تھیں۔ شاہی گزر کی سرکوں کو دونوں جانب رسی بنی ہوتی تھی اور اس کے پار جانے کی سزا موت تھی شاہی شکار کے دستور کو چندرا گپتا کے پووتے اشوک نے ۹۵۲ ق م میں موقوف کردیاکر دیا تھا۔
عام طور پر راجہ محل میں زیادہ رہتا تھا اور عورتوں کی فوج اس کو گھیرے رہتی تھی۔ محل سے باہر صرف بھینٹ چرھانے یا فوج کشی یا شکار کے موقعوں پر نکلا کرتا تھا۔ غالباً توقع کی جاتی تھی کہ کم از کم ہر روز ایک مرتبہ رعایا کے سامنے آئے، جو عرائض پیش کریں وہ سنے اور بذات خود ان کے مقدمات کا تصفیہ کرے۔ راجہ کو چمپی کرانے میں خاص لطف آتا تھا اور دستور یہ تھا کہ جب وہ رعایا کے سامنے ظاہر ہو تو ساتھ چمپی کرتا جاتا تھا۔جب وہ لوگوں کے مقدمے سنتا تو چار نوکر آبنوس کے تکیوں سے اس کو چمپی کرتے جاتے تھے۔ ایرانی دستور کے مطابق جس کا اثر ہندی درباروں اور نظم و نسق پر بھی پڑا تھا۔ راجہ اپنی سالگرہ میں نہایت تزک و احتشام سے اپنے سر کے بال دھوتا تھا۔ سالگرہ کے موقع پر بڑی عید منائی جاتی تھی اور اس موقع بڑے بڑے امراء سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بیش بہا نذرانے راجہ کی خدمت میں پیش کریں۔
اس تزک و احتشام اور شان اور شوکت اور ہر قسم کی حفاظت کے باوجود راجہ کبھی بھی سازشوں اور بغاوتوں سے بے خوف نہ ہوتا تھا۔ راجہ کی زندگی سازشوں کی وجہ سے اس طرح متواتر خطرے میں رہتی تھی کہ وہ دن کے وقت سونے یا دو راتوں کو لگاتار ایک ہی کمرے میں سونے کو خطرناک سمجھتا تھا۔ (ناٹک نویس نے ہمارے سامنے نہایت بین طور پر وہ سین کھنچ دیا ہے کہ کس طرح زیرک اور تیز فہم برہم مشیر ساشوں اور زہر خوانی کا سوراخ لگایا کرتا تھا اور کس طرح ان بہادر لوگوں کا کھوج لگایا کرتا تھا جو زیر زمین راستوں میں چھپے رہتے تھے)۔ جو چندرا گپت کے سونے کمرے میں جاتے تھے تاکہ رات کے وقت اس میں داخل ہو ہوں اور سوتے ہوئے اسے قتل کردیں۔
نیایت قدیم زمانے میں ہندی فوج عام طور پر چار حصوں یعنی سواروں، پیادے، ہاتھی اور رتھوں میں تقسیم کیا جاتا تھا اور طبعی طور پر فوج کے ہر حصہ ایک جدا گانہ افسر کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔ مگر اس نظام میں رسد اور امیر بحر کا کے محکمے کا اضافہ چندر گپت کی جدت طبع معلوم ہوتی ہے۔ اس کا یہ فوجی نظام بظاہر مکمل تھا۔
چندر گپت کے فوجی نظام میں بھی کوئی یونانی اثر نہیں پایا جاتا ہے اور یہ مبنی ہے اس قدیم ہندی نمونے پر۔ یہ اس کی عظیم انشان فوج محض ایک ترقی یافتہ صورت اس عظیم فوج کی تھی جو کسی زمانے میں مگدھ میں موجود تھی۔ ہندی بادشاہ عموماً فتح کے لیے زیادہ تر ہاتھیوں پر اعتماد کرتے تھے۔ ان سے اتر کر جنگی رتھوں اور پیادہ فوج کی کثرت پر سوار فوج نسبتاً کم اور بیکار ہوتی تھی۔ اس کے برخلاف [[سکندر اعظم|سکندر]] نے نہ ہاتھیوں سے کام لیا اور نہ رتھوں سے بلکہ اس نے تمام انحصار نہایت اعلیٰ درجے کے قواعدداں رسالے پر کیا۔ جس کو وہ نہایات ہنر مندی اور جلاوت سے کام لاتا تھا۔ خاندان سلوکس کے بادشاہ بھی ایشائی طریقہ پر کار بند ہوئے اور اسی پر قناعت کی اور ہاتھیوں پر بھروسا کرنے لگے۔
مگھیشنز کے بیان کی تصدیق کسی اورذرائع سے نہیں ہوتی ہے پھر بھی اس سے اتنا اندازہ ہوجاتا ہے کہ [[موریا|موریا عہد]] میں فوج کا محکمہ منظم اور مستحکم تھا۔ اشوک نے عدم تشدد کے اصول کو اپنایا اور اس محکمہ کی طرف سے غفلت برتی۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ملک فوجی لحاظ سے کمزور ہوگیاہو گیا اور داخلی انتشار کے ساتھ عرصہ تک بیرونی حملوں کا شکار ہوتا رہا۔
 
== ملکی نظام ==
 
== آبپاشی ==
[[ہندوستان]] میں آبپاشی کا مناسب انتظام ایک نہایت ہی اہم امر ہے اور اس بات سے چندر گپت کی سلطنت کی خوبی معلوم ہوتی ہے کہ اس نے ایک خاص محکمہ آبپاشی قائم کیا تھا، جس کا یہ فرض تھا کہ زمینوں کی پیمائش کرے اور پانی نالیوں کا ایسا انتظام کرے کہ ہر ایک شخص کو حصہ رسدی معتدبہ مقدار میں پانی مل سکے۔ اراضی کی پیمائش کی طرف سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ پانی کا محصول ضرور لگایا جاتا ہوگا اور نالیوں کے ذکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آبپاشی کا نظام باکل باقیدہ تھا۔ پشی گپتا جو چندر گپتا کا کی حکومت کی طرف سے مغربی صوبوں کا عامل تھا دیکھا کہ ایک چھوٹی سی ندی کو روکنے سے آبپاشی کے لیے ایک نہایت عمدہ تالاب بن سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک جھیل سندر سن (یعنی خوبصورت) نامی قلعے کی مشرقی جانب ایک پہاڑی اور اس کے آگے کتبے کی چٹان تک مشرقی زمین کو لے کر تیار کی۔ مگر اس سے سوا اور ضروری نالیاں بنانے میں کامیاب نہ ہوا۔ چندر گپتا کے پوتے اشوک کے زمانے میں اس کے نائب راجہ تشاسف ایرانی کی زیر نگرانی جو اس وقت کا گورنر تھا تیار ہوئیں۔ یہ سود مند تعمیر جو موریاؤں کے عہد حکومت میں تیار ہوئی تھی چار سو سال تک کام دیتی رہیں۔ لیکن ۰۵۱ء؁ کے ایک طوفان نے جو غیر معمولی طور پر شدید تھا اس کے بند کو توڑ دیا اور اس کے ساتھ ہی اس جھیل کو فنا کردیا۔کر دیا۔ یہ امر کہ سلطنت کے ایک ایسے دور دراز صوبے میں آبپاشی کے کام پر اتنا روپیہ اور محنت صرف کی گئی صٓف ظاہر کرتا ہے کہ موریا خاندان کے راجہ کھیتوں کے لیے پانی بہم پہنچانا اپنا ایک اہم فرض تصور کرتے تھے۔
[[ہندوستان]] کے دیسی قانون کی رو سے ہمیشہ تمام مزروغہ زمین بادشاہی ملک قرار دی گئی ہے اور بادشاہ کا یہ حق تسلیم کر لیا گیا ہے کہ لگان یا محصول وصول کرے جو یا تو اس کی پیداوار یا اس پیداوار کی قیمت کا ایک معتدبہ حصہ ہوتا تھا۔ اس زمانے میں بندوبست اراضی کی تفصیل ہم تک نہیں پہنچی اور ہم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا ہر سال نیا بندوبست ہوا کرتا تھا یا اس سے زیادہ مدت میں برائے نام تمام پیدا وار کا چوتھائی حصہ سرکار محصول کے طور پر جمع کیا کرتی تھی۔ جیسے کہ اس زمانے میں بھی ہوتی ہے اور یہ ناممکن تھا کہ تمام صوبوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ اس کے علاوہ چند اور غیر مصرحہ ابواب میں بھی وصول کئے جاتے تھے۔ چونکہ فوج میں سپاہی پیشہ نوکر رکھے جاتے تھے اور ان کے لیے جنگجو اقوام سے منتخب کیا جاتا تھا اس لیے کاشکار فوجی خدمت سے مستثنیٰ تھے اور مگھیشنز نہایت تعجب اور حیرت سے بیان کرتا ہے کہ عین اس وقت جب دو حریف بادشاہوں کی فوجوں میں مقابلہ ہورہا اور کاشکار نہایت اطمینان سے امن کے ساتھ کام کرتا تھا۔
 
 
{{بہار (بھارت)}}
 
[[زمرہ:چوتھی صدی قبل مسیح کے ہندوستانی بادشاہ]]
[[زمرہ:290 ق م کی دہائی کی وفیات]]
43,445

ترامیم

فہرست رہنمائی