"چندرگپت موریا" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
م
خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
م (خودکار درستی+ترتیب+صفائی (9.7))
| Religion = جین مت
| brothers =
|birth_date = 340 ق م<br />
|birth_place = [[پاٹلی پتر]]، [[بہار (بھارت)|بہار]]، [[بھارت]]
|death_date = 298 ق م <br />
|death_place = [[شروبیلگولا]]، [[کرناٹک]]<ref>[http://books.google.com/books?id=i-y6ZUheQH8C&printsec=frontcover#v=onepage&q&f=false Chandragupta Maurya and his times] By Radha Kumud Mookerji, 4th ed. 1966, p.40. ISBN 81-208-0405-8; 81-208-0433-3</ref>
}}
== چندر گپت کے کارنامے ==
چندر گپت جوانی کے عالم میں تخت پر بیٹھا اور اس نے صرف چوبیس سال حکومت کی۔ جس وقت وہ تخت و تاج سے دست بردار ہوا یا مرگیا اس کی عمر زیادہ سے زیادہ پچاس سال کی ہوگی۔ اپنی زندگی کے اس تھوڑے سے عرصہ میں اس نے بڑے بڑے کام کیے مقدونی فوجوں کو ہندوستان سے نکالنا، سلوکس نکوٹار کو کامل شکست دے کر ملک سے نکالنا، کم سے کم ایک طرف سے لے کر دوسری طرف تک تمام شمالی ہند کو زیر کرنا، ایک زبر دست فوج تیار کرنا اور ایک عظیم انشان اور وسیع سلطنت کا کامل نظم و نسق، یہ تمام کارنامے ایسے ہیں جو کسی طرح بھی بے وقعت نہیں ہو سکتے ہیں۔ چندر گپت کی طاقت ایسی مستحکم ہوچکی تھی کہ نہایت امن و امان کے ساتھ اس کے بیٹے اور پوتے تک منتقل ہو گئی اور یونانی بادشاہوں نے اس سے اتحاد و ارتباط کی خواہش کی یونانیوں نے [[سکندر اعظم]] اور سلوکس کے ہندوستانی حملوں کی یاد کو پھر کبھی تازہ نہ کیا اور صرف اسی کفایت کی اس کے باشاہوں کے ساتھ تین پشتوں تک دوستانہ مصلحتی اور تجارتی تعلقات قائم رکھے۔
اٹھارہ برس کے عرصہ میں اس نے مقدونی افواج کو [[خطۂ پنجاب|پنجاب]] و [[سندھ]] سے باہر نکالا، سلوکس نکوٹار کو ذلیل کیا اور اپنے آپ کو بلاشرکت غیر سے کم از کم شمالی ہند اور آریانہ کے ایک بڑے حصہ کا شہنشاہ بنا لیا۔ یہ اس کے ایسے کارنامے ہیں جو اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دنیا کے عظیم انشان بادشاہوں کی صف میں جگہ پائے۔ وہ سلطنت جو چندر گپت کی سلطنت کی طرح وسیع ہو اور جس میں مختلف عناصر جمع ہو گئے ہوں کمزور شخص کے ہاتھ میں رہے نہیں سکتی ہے۔ وہ زبردست ہاتھ جس نے اس سلطنت کو حاصل کیا ہو اس پر حکومت کرنے میں کامیاب بھی ہوا ہو اور تمام نظم و نسق کا کام نہایت درشتی کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ سلوکس کے واپس جانے کے چھ ۶6 سال بعد چندر گپت مرگیا۔
جین روایات بیان کرتی ہیں کہ چندر گپت موریا مذہباً جین تھا اور اس موقع پر جب بارہ سال علی التصال قحط پڑا تو وہ تخت و تاج سے دست بردار ہو گیا اور جین کے ایک بزرگ بھدراہاہو کے ہمراہ ہند کی طرف چلا گیا اور سنیاسی کی حثیت سے موجودہ ریاست [[میسور]] کے سراون بلگول کے مقام پر رہتا رہا۔ بالآخر اسی جگہ جہاں اب بھی اس کا نام یادگار ہے فاقہ کرکے جان دے دی۔ غالباً اس روایت میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہے۔
 
 
== پاٹلی پتر ==
سلوکس نے اپنے ایک سفیر میگھستینز Maghasthenes کو اس کے دربار میں بھیجا، جس نے اس عہد کے حالات تفصیل سے قلمبند کیے ہیں۔ میگھستینز پاٹلی پتر کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ شہر نو ۹9 میل چوڑا اور ڈیرھ میل لمبا تھا۔ اس کے گرد لکڑی کی مظبوط فصیل تھی جس میں چونستھ ۴۶46 دروازے تھے اور اس کے اوپر پانچ سو500 برج تھے۔ فصیل کے باہر ایک وسیع اور عمیق قندق تھی جس میں دریائے سون کا پانی بھرا ہوا تھا۔ شہر کے اندر چندر گپت موریا کا محل تھا جو لکڑیوں کا بنا ہوا تھا اور بہت عالی شان تھا۔ اس کے ستونوں اور دیواروں پر سونے کا پانی پھرا ہوا تھا اور ان پر سونے کی بیلیں اور چاندی کے پرندے منقوش تھے۔ تمام عمارتیں ایک وسیع میدان میں تھیں۔ جس میں مچھلی کے تلاب اور انواع قسم کے نمائشی درخت اور بیلیں پائی جاتی تھیں۔
ہم تک صرف پاٹلی پتر دارلسلطنت کے انتظام کی تفصیل پہنچی ہے۔ مگر ہم اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ سلطنت کے اور بڑے شہروں یعنی ٹیکسلا، اجین وغیرہ کا بھی اسی اصول سے انتظام ہوتا ہوگا۔ راجہ اشوک کے صوبوں کے نام سے فرمان میں کلنگ کے شہر ٹوسل کے ان افسروں کو مخاطب کیا گیا ہے جو اس کے انتظام کے مجاز تھے۔
 
== بادشاہ اور دربار ==
یہاں شاہی دربار وحشیانہ اور عیش و عشرت کی شان سے نمودار تھا۔ سونے کے آّفتابے اور پیالے جن میں بعض چھ چھ فٹ ہوتے تھے۔ نہایت عمدہ مرصع اور شاہانی کرسیاں۔ تانبے کے برتن جو جوہرات سے ہوتے تھے اور زر بفت کے زرق برق لباس ہر طرف نظر آتے تھے اور ان کی وجہ سے عام درباروں کے مواقع کی چہل پہل اور شان و شوکت زیادہ ہو جاتی تھی۔ جب کبھی بادشاہ مہربانی کرکے شاہی جشنوں کے کے موقع پر رعایا کے سامنے ظاہر ہوتا تو وہ سونے کی ایک پالکی میں سوار ہوتا تھا۔ جس میں موتیوں کی جھالر ٹکی ہوتی تھی اور خود بادشاہ کا ملبوس خاص نہایت باریک ململ ہوتی تھی، جس پر قرمز اور سونے کا کام ہوتا تھا۔ جب کبھی چھوٹے سفر پر کہیں جاتا تھا تو گھوڑے پر سوار ہوتا تھا۔ لیکن مسافت اگر ذرا طولانی ہوتی تھی ہاتھی پر سوار ہوتا تھا۔ جس کا ساز و سامان سونے کا ہوتا تھا۔ راجہ ہمیشہ سانڈوں، مینڈھوں، ہاتھیوں، گینڈوں اور دوسرے جانوروں لڑائیاں دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ دو آدمیوں کی لڑائیاں بھی اس کے لیے تفریح و طبع کا باعث ہوتی تھی۔ ایک عجیب و غریب سامان تفریح بیلوں کی ڈور تھی۔ اس میں شرطیں لگائی جاتی تھیں۔ بادشاہ نہایت دلچسپی سے اس کا تماشاہ دیکھا کرتا تھا۔ اور بیلوں کو گاڑیوں میں جوت کر ڈوراتے تھے اور ان کے علاوہ گھوڑے بھی گاڑیوں میں جوت کر انہیں بھی ڈوراتے تھے۔
راجہ کا سب سے بڑا سامان تفریح شکار تھا۔ یہ نہایت تکلف اور نمود سے کیا جاتا تھا۔ ایک گھرے ہوئے میدان میں جانور چبوترے تک جانور لائے جاتے تھے، جہاں راجہ بیٹھتا تھا اور وہیں بیٹھے بیٹھے ان کا شکار کرتا تھا۔ لیکن اگر شکار کھلے میدان ہوتا تھا راجہ ہاتھی پر سوار ہوتا تھا۔ جب وہ شکار کے لیے شکار پر جاتا تھا تو اس کے ہم رکاب عورتوں کی فوج کا ایک دستہ ہوتا تھا۔ جن کو دوسرے ملکوں سے خرید کر لائے تھے اور یہ تمام ہندی راجاؤں کے دربار کا ایک ضروری جزو ہوا کرتی تھیں۔ شاہی گزر کی سرکوں کو دونوں جانب رسی بنی ہوتی تھی اور اس کے پار جانے کی سزا موت تھی شاہی شکار کے دستور کو چندرا گپتا کے پووتے اشوک نے ۹۵۲952 ق م میں موقوف کر دیا تھا۔
عام طور پر راجہ محل میں زیادہ رہتا تھا اور عورتوں کی فوج اس کو گھیرے رہتی تھی۔ محل سے باہر صرف بھینٹ چرھانے یا فوج کشی یا شکار کے موقعوں پر نکلا کرتا تھا۔ غالباً توقع کی جاتی تھی کہ کم از کم ہر روز ایک مرتبہ رعایا کے سامنے آئے، جو عرائض پیش کریں وہ سنے اور بذات خود ان کے مقدمات کا تصفیہ کرے۔ راجہ کو چمپی کرانے میں خاص لطف آتا تھا اور دستور یہ تھا کہ جب وہ رعایا کے سامنے ظاہر ہو تو ساتھ چمپی کرتا جاتا تھا۔ جب وہ لوگوں کے مقدمے سنتا تو چار نوکر آبنوس کے تکیوں سے اس کو چمپی کرتے جاتے تھے۔ ایرانی دستور کے مطابق جس کا اثر ہندی درباروں اور نظم و نسق پر بھی پڑا تھا۔ راجہ اپنی سالگرہ میں نہایت تزک و احتشام سے اپنے سر کے بال دھوتا تھا۔ سالگرہ کے موقع پر بڑی عید منائی جاتی تھی اور اس موقع بڑے بڑے امرا سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بیش بہا نذرانے راجہ کی خدمت میں پیش کریں۔
اس تزک و احتشام اور شان اور شوکت اور ہر قسم کی حفاظت کے باوجود راجہ کبھی بھی سازشوں اور بغاوتوں سے بے خوف نہ ہوتا تھا۔ راجہ کی زندگی سازشوں کی وجہ سے اس طرح متواتر خطرے میں رہتی تھی کہ وہ دن کے وقت سونے یا دو راتوں کو لگاتار ایک ہی کمرے میں سونے کو خطرناک سمجھتا تھا۔ (ناٹک نویس نے ہمارے سامنے نہایت بین طور پر وہ سین کھنچ دیا ہے کہ کس طرح زیرک اور تیز فہم برہم مشیر ساشوں اور زہر خوانی کا سوراخ لگایا کرتا تھا اور کس طرح ان بہادر لوگوں کا کھوج لگایا کرتا تھا جو زیر زمین راستوں میں چھپے رہتے تھے)۔ جو چندرا گپت کے سونے کمرے میں جاتے تھے تاکہ رات کے وقت اس میں داخل ہو ہوں اور سوتے ہوئے اسے قتل کر دیں۔
 
== آبپاشی ==
[[ہندوستان]] میں آبپاشی کا مناسب انتظام ایک نہایت ہی اہم امر ہے اور اس بات سے چندر گپت کی سلطنت کی خوبی معلوم ہوتی ہے کہ اس نے ایک خاص محکمہ آبپاشی قائم کیا تھا، جس کا یہ فرض تھا کہ زمینوں کی پیمائش کرے اور پانی نالیوں کا ایسا انتظام کرے کہ ہر ایک شخص کو حصہ رسدی معتدبہ مقدار میں پانی مل سکے۔ اراضی کی پیمائش کی طرف سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ پانی کا محصول ضرور لگایا جاتا ہوگا اور نالیوں کے ذکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آبپاشی کا نظام باکل باقیدہ تھا۔ پشی گپتا جو چندر گپتا کا کی حکومت کی طرف سے مغربی صوبوں کا عامل تھا دیکھا کہ ایک چھوٹی سی ندی کو روکنے سے آبپاشی کے لیے ایک نہایت عمدہ تالاب بن سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک جھیل سندر سن (یعنی خوبصورت) نامی قلعے کی مشرقی جانب ایک پہاڑی اور اس کے آگے کتبے کی چٹان تک مشرقی زمین کو لے کر تیار کی۔ مگر اس سے سوا اور ضروری نالیاں بنانے میں کامیاب نہ ہوا۔ چندر گپتا کے پوتے اشوک کے زمانے میں اس کے نائب راجہ تشاسف ایرانی کی زیر نگرانی جو اس وقت کا گورنر تھا تیار ہوئیں۔ یہ سود مند تعمیر جو موریاؤں کے عہد حکومت میں تیار ہوئی تھی چار سو سال تک کام دیتی رہیں۔ لیکن ۰۵۱ء؁051ء؁ کے ایک طوفان نے جو غیر معمولی طور پر شدید تھا اس کے بند کو توڑ دیا اور اس کے ساتھ ہی اس جھیل کو فنا کر دیا۔ یہ امر کہ سلطنت کے ایک ایسے دور دراز صوبے میں آبپاشی کے کام پر اتنا روپیہ اور محنت صرف کی گئی صٓف ظاہر کرتا ہے کہ موریا خاندان کے راجہ کھیتوں کے لیے پانی بہم پہنچانا اپنا ایک اہم فرض تصور کرتے تھے۔
[[ہندوستان]] کے دیسی قانون کی رو سے ہمیشہ تمام مزروغہ زمین بادشاہی ملک قرار دی گئی ہے اور بادشاہ کا یہ حق تسلیم کر لیا گیا ہے کہ لگان یا محصول وصول کرے جو یا تو اس کی پیداوار یا اس پیداوار کی قیمت کا ایک معتدبہ حصہ ہوتا تھا۔ اس زمانے میں بندوبست اراضی کی تفصیل ہم تک نہیں پہنچی اور ہم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا ہر سال نیا بندوبست ہوا کرتا تھا یا اس سے زیادہ مدت میں برائے نام تمام پیدا وار کا چوتھائی حصہ سرکار محصول کے طور پر جمع کیا کرتی تھی۔ جیسے کہ اس زمانے میں بھی ہوتی ہے اور یہ ناممکن تھا کہ تمام صوبوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ اس کے علاوہ چند اور غیر مصرحہ ابواب میں بھی وصول کیے جاتے تھے۔ چونکہ فوج میں سپاہی پیشہ نوکر رکھے جاتے تھے اور ان کے لیے جنگجو اقوام سے منتخب کیا جاتا تھا اس لیے کاشکار فوجی خدمت سے مستثنیٰ تھے اور مگھیشنز نہایت تعجب اور حیرت سے بیان کرتا ہے کہ عین اس وقت جب دو حریف بادشاہوں کی فوجوں میں مقابلہ ہو رہا اور کاشکار نہایت اطمینان سے امن کے ساتھ کام کرتا تھا۔
 
== وقائع نویس اور نگرانی ==
چندر گپتا دور دراز مقامات کے حکام پر خاص لوگوں یعنی وقائع نویسوں کے ذریعے اپنی نگرانی قائم رکھتا تھا۔ جن کو یونانی مصنفین نے منتظم اور مہتم لکھا ہے اور ان کا ذکر اشوک کے فرامین میں شاہی ملازمین (پلسانی کا ستون کا فرمان نمبر ۶6) یا اخبار نویس کے نام سے کیا گیا ہے (پٹنی وید کا سنگی فرمان نمبر ۶6) ان افسروں کا یہ کام تھا کے واقعات پر نظر رکھیں اور خفیہ طور پر ان کی خبر صدر حکومت کو دیتے رہیں۔ ایرین کا بیان ہے کہ ایسے افسر ہندوستان میں خود مختیار اقوام کی حکومتیں اور شاہی حکومتیں دونوں مقرر کرتی تھیں۔ یہ حکومتیں اس بات کی کسر نہ کرتی تھیں کہ چھاؤنی یا بازار کی فاحشہ عورتوں کو ان وقائع نویسوں کے شریک کے طور پر استعمال کریں اور یقناً یہ عورتیں اکثر اپنے افسران بالا دست کے پاس بہت سے خفیہ بازاری چہ می گوئیوں کے حالات پہنچاتی ہوں گی۔ ایرین کے خبر رساں نے اس کو یقین دلایا تھا کہ یہ خبریں جو بھیجی جاتی تھیں ہر حال میں درست ہوتی تھیں۔ مگر اس بیان کی صحت کے متعلق بیان کی صحت کے متعلق شک و شبہ کی گنجائش ہے۔ باوجود اس امر کے قدیم ہندوستان کی اقوام اپنی ریاست گوئی اور دیانت داری میں دور دراز ممالک میں شہرت رکھتی تھی۔
مرکزی حکومت مقامی عمال کے ذریعے تمام چیزوں کی نہایت سخت نگرانی کرتی تھی اور اس کی ایسی ہی نگرانی آبادی کی تمام جماعتوں اور ذاتوں پر قائم تھی۔ یہاں تک کہ برہمن منجم اور جوتشی اور قربان گاہ کے مذہبی پیشوا جن کو مگھیشنز غلطی سے ایک علاحدہ جماعت قرار دیتا ہے اس سرکاری نگاہداشت سے نہ بچ سکتے تھے اور ان کو ان کی پیشن گوئیوں سے صحیح یا غلط ہونے کے مطابق یا تو انعام و اکرام تقسیم ہوتا تھا اور یا ان کو سزا دی جاتی تھی۔ کاریگروں اور صناعوں کے طبقہ میں اسلحہ سازوں اور جہاز سازوں کو سرکار کی طرف سے تنخواہ ملتی تھی اور یہ کہا جاتا تھا کہ ان کو سوائے سرکار کے اور کسی کے کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ لکڑی کاٹنے والے، نجار، لوہار اور کان کن بعض خاص قواعد کے پابند تھے۔ مگر ان قواعد کا ذکر ہم تک نہیں پہنچا۔
 
 
== سڑکیں اور سواریاں ==
سڑکوں کا انتظام ایک خاص محکمے کے افسران کے ہاتھ میں تھا اور ہر آدھا کوس کے فاصلے پر ستون تعمیر کیے گئے تھے تاکہ وہ فاصلے کی علامت اور نشان کا کام دے سکیں۔ ایک شاہراہ جو جو مسافت میں ۰۰۰۰ا0000ا سٹیڈیا تھی جو شمال مغربی سرحد کو دارالسلطنت سے ملاتی تھی۔
سٹرپیو کے بیان کے مطابق ہر کس وا ناکس مجاز نہ تھا کہ گھوڑا یا ہاتھی رکھے۔ ان کا رکھنا صرف بادشاہوں کا منصف سمجھا جاتا تھا۔ مگر اس کا اطلاق تمام ملک پر کیا جائے تو بلاشبہ یہ غلط ہے اور ایرین کے تفصیلی اور قابل فہم بیان سے اس کی صحت ہوتی ہے کہ عام طور پر سواری کے لیے گھوڑے، اونٹ گدھے اور ہاتھی استعمال ہوتے تھے۔ ان میں سے ہاتھی صرف امیر اور دولت مند لوگ کام میں لاتے تھے اور وہ خاص طور پر بادشاہوں کی خدمت کے شایاں سمجھے جاتے تھے۔ گدھوں کے سوا جن کو کہ آج کل نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مزید اسٹرپیو مزید بیان کرتا ہے کہ ہاتھی یا اونٹ پر سوار ہونا یا چار گھوڑوں والی رتھ استعمال کرنا اعلیٰ رتبہ کا نشان تھا۔ لیکن ہر شخص مجاز تھا کہ وہ گھوڑے پر سوار ہو یا رتھ میں جوتے۔
 
یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ [[سکندر اعظم]] کے زمانے میں شمالی ہند تہذیب کے بلند مرتبے پر پہنچ چکا تھا اور یہ تہذیب یقناً چند گزشتہ صدیوں کے ارتقا کے بعد ہی پیدا ہوئی ہوگی۔ بدقسمتی سے اب تک ایسی کوئی یاد گار دریافت نہیں ہوئی جو کامل یقین کے ساتھ چندر گپت یا اس کے بیٹے کے زمانے کی کہی جاسکے اور اس وجہ سے آثار قدیمہ کے ماہر اب تک کوئی بین شہادت پیش نہ کرسکے جو یونانی مصنفین کے بیان کو ثابت کرتی ہو ہندوستانی عمارتیں اور فنون لطیفہ کی سب سے قدیم مثالیں سوائے چند مثالیں سوائے چند غیر ضروری مستثنیٰ اشیاء کے اشوک ہی کے زمانے کی ہیں۔ لیکن پاٹلی پتر، وسالی [[ٹیکسلا]] اور دوسرے قدیم اور مشہور مقامات کھودے گئے اور ان جؤکی تفتیش و تحقیق کماحقہ کی کئی تو یہ ممکن ہے کہ موریا خاندان کے اوائل اور اس سے بھی قدیم زمانے کے آثار طاہر ہوجائیں اور محققین کی سعی اور مشکور ہو۔ یہ بات ممکن نہیں کہ کسی عمارت کے ایسے کھنڈر پائے جائیں جسے پہنچان سکیں۔ کیوں کہ قدیم ہند کی بڑی بڑی عمارتیں عام طور پر لکڑی کی بنائی جاتی تھیں اور اینٹ کو صرف بنیاد رکھنے اور ستون کے نیچے کے حصوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اشوک کے زمانے سے پہلے کی کسی پتھر کی بنی ہوئی عمارت کے نشانات اب تک دریافت نہیں ہوئے ہیں۔ چندر گپت کے زمانے سے بہت پہلے فن تحریر آبادی کی بعض جماعتوں میں عام طور پر رائج ہوچکا تھا۔ اس زمانے میں یونانی مصنفین کی تحریروں کے مطابق درختوں کی چھال اور روئی کے کپڑے کو بطور کاغذ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن یہ تعجب کی بات ہے کہ اس زمانے کا کوئی کتبہ اس وقت تک ایسا دستیاب نہیں ہوا جو زیادہ پائیدار چیز پر کندہ کیا گیا ہو۔ مگر غالباً پتھر یا دھات پر کندہ کیے ہوئے کتبے موجود ہیں اور ممکن ہے کہ جب کبھی اصلی قدیم جگہوں پر کھودا جائے اور ان کی تحقیق کی گئی تو وہ دریافت ہوں۔
 
== حوالہ جات ==
* ماخذ ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم
* وسینٹ اے سمتھ۔ قدیم تاریخ ہند
{{بہار (بھارت)}}
 
[[زمرہ:چوتھی صدی قبل مسیح کے ہندوستانی بادشاہ]]
[[زمرہ:290 ق م کی دہائی کی وفیات]]
[[زمرہ:298 ق م]]
[[زمرہ:340 ق م]]
[[زمرہ:340 ق م کی دہائی کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:تاریخ ہندوستان]]
[[زمرہ:تیسری صدی قبل مسیح کے ہندوستانی بادشاہ]]
[[زمرہ:چوتھی صدی قبل مسیح کے ہندوستانی بادشاہ]]
[[زمرہ:شہنشاہان موریہ]]
[[زمرہ:298 ق م]]
[[زمرہ:340 ق م]]
[[زمرہ:موریہ سلطنت]]
[[زمرہ:ہندوستانی بادشاہ]]
[[زمرہ:تاریخ ہندوستان]]

فہرست رہنمائی