ذاکر نائیک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ذاکر نائیک
Dr Zakir Naik.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 18 اکتوبر 1965 (54 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب (مئی 2017–)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
زوجہ فرحت نائيک[2]
اولاد فاروق نائیک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی کشن چند چیلارام کالج
ٹوپی والا نیشنل کالج میڈیکل کالج اینڈ نائر ہاسپٹل
ممبئی یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ طبیب،  مصنف،  دانشور،  واعظ،  جراح،  تشویقی خطیب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
دور فعالیت 1991ء – تاحال
شعبۂ عمل دعوہ،  تقابل ادیان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
بین الاقوامی شاہ فیصل اعزاز برائے خدمات اسلام  (2015)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ،  باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

ذاکر عبد الکریم نائیک ایک بھارتی مقرر ہیں، جو تقابل ادیان اور مناظروں کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ پیشہ کے لحاظ سے ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں، تاہم 1991ء سے اسلام کی تبلیغ کی جانب اپنی مکمل توجہ دینی شروع کردی۔[5] آپ مسیحیت اور ہندومت کے مذہبی رہنماؤں سے مناظروں کے لیے مشہور ہیں۔ بہت سے لوگوں نے آپ کے ہاتھ اسلام قبول کیا۔ آپ ممبئی میں اسلامی تحقیق سنٹر کے صدر ہیں اور اسلامی چینل "پیس ٹی وی" کے نام سے چلا رہے ہیں ۔

ذاکر نائیک حاضر جوابی اور مناظرہ میں دسترس رکھتے ہیں، ان کو عالمگیر شہرت مسیحی مناظر ولیم کیمپبل کے ساتھ مناظرہ سے حاصل ہوئی۔ ذاکر نائیک احمد دیدات کے شاگرد بھی رہے ہیں۔

بھارت کی حکومت کی جانب سے ان پر کڑی نظر

ذاکر نائیک کے ادارہ اسلامک ریسرچ اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو گزشتہ 6 سالوں میں برطانیہ، سعودی عرب اور مشرق وسطٰی سے تقریباً 15 کروڑ روپیے حاصل ہوئے۔ اس لیے 2016ء میں بھارت کی حکومت نے ان کی تحقیقات کا حکم دیا تاکہ پتہ چلے کہ ان عطایا کو کن مصرف میں خرچ کیا گیا تھا۔[6]

موت کا فتوٰی

حسینی ٹائیگرز نامی ایک شیعہ گروپ نے فیس بک کے ذریعے ذاکر نائیک کے سر پر پندرہ لاکھ روپیے کا اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کے صدر کلب حسین نقوی ہیں جو مشہور شیعہ عالم کلب صادق کے فرزند ہیں۔ ان کی خفگی کا ایک پہلو یہ بتایا گیا کہ ذاکر نائیک نے شیعہ علما کی توہین کی تھی۔[7]

پیس ٹی وی پر بنگلہ دیش میں امتناع

بنگلہ دیش میں 2016ء ڈھاکہ حملہ کے رد عمل کے طور پر ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی پر امتناع عائد کر دیا گیا ہے۔[8]

کیرلا میں 21 نومسلموں کی گمشدگی اور ذاکر نائیک پر الزام

2016ء میں یہ کہا گیا ہے کہ ذاکر نائیک کی تبلیغی کوششوں سے متاثر ہو کر مشرف بہ اسلام ہونے والوں میں کیرلا کے 21 شہری بھی ہیں جن کے حالات ہنوز نامعلوم ہیں۔ کیرلا کی حکومت کو یہ اندیشہ ہے کہ یہ لوگ عراق اور الشام میں اسلامی ریاست میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے عالمی دہشت گردی کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہی رائے کیرلا کی انڈین نیشنل کانگریس شاخ کی بھی رہی ہے۔ تاہم انڈین یونین مسلم لیگ نے اس بات کے امکانات سے انکار کیا ہے اور ذاکر نائیک کی حمایت کی ہے۔[9][10]

تصانیف

  • اسلام پر چاليس(40) اعتراضات کے عقلی و نقلی جواب
  • مذاہب عالم ميں تصور خدا اور اسلام کے بارے میں غیر مسلموں کے بیس سوال
  • بائبل اور قرآن جدید سائنس کی روشنی میں
  • اسلام اور ہندومت (ایک تقابلی مطالعہ)
  • اسلام میں خواتین کے حقوق ... جدید یا فرسودہ؟

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. https://www.middleeastmonitor.com/20170519-indian-terror-suspect-granted-saudi-citizenship/
  2. Aishath Aniya۔ "Comment: An evening with Mrs Naik"۔ en:Minivan News – Archive۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. Sam Westrop, Charles Jacobs۔ "The Salafist Connections To The WhyIslam Billboard Campaign"۔ The Daily Caller۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔
  4. "'Anti-Semitic' charity under investigation"۔ روزنامہ ٹیلی گراف۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اپریل 2017۔
  5. "ڈاکٹر ذاکر عبدالکریم نائیک - صدر اسلامک ریسرچ فاونڈیشن"۔ Unknown parameter |separator= ignored (معاونت)
  6. ذاکر نائیک کے ادارہ آئی آر ایف کو بیرونی فنڈز کی تحقیقات، روزنامہ سیاست، حیدرآباد، جولائی 13، 2016ء
  7. ذاکر نائیک کے سر پر شیعہ تنظیم کا 15 لاکھ کا انعام، روزنامہ سیاست، حیدرآباد، جولائی 13، 2016ء
  8. بنگلہ دیش میں ذاکر نائیک کے پیس ٹی وی پر امتناع، روزنامہ سیاست، حیدرآباد، جولائی 11، 2016ء
  9. Will the Malayali split the Islamic State? Kerala has fun with the ISIS story | The News Minute
  10. http://www.thenewsminute.com/article/kerala-congress-slams-iuml-backing-islamic-preacher-zakir-naik-46414 Radicalisation