قاری عبد الباسط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قاری عبدالباسط

قاری عبد الباسط (1927ء- 1988ء) یا قاری عبد الباسط بن عبد الصمد (عربی میں مکمل نام: الشیخ عبد الباسط بن محمد بن عبد الصمد بن سليم ) قرآن کے مشہور ترین قاریوں میں سے تھے۔ ان کا تعلق مصر سے تھا۔ وہ 1927ء میں مصر کے ایک چھوٹے شہر المراعزۃ میں پیدا ہوئے۔ شیخ محمد الامیر کی شاگردی میں قرآن حفظ کیا۔ قرأت محمد سلیم حمادۃ سے سیکھی۔ ان کی پہلی مشہور قرأت یا تلاوت 1951ء میں مصر کے ریڈیو قاہرہ پر تھی جس میں انہوں نے سورۃ فاطر کی قرأت کی جو بہت مشہور ہوئی۔ 1952ء میں انہوں نے مسجد شافعی اور مسجد امام حسین علیہ السلام قاہرہ میں بہت بڑے مجمعوں کے سامنے قرأت کی جو بین الاقوامی شہرت کا سبب بنی۔ مصر کی حکومت نے انہیں کتاب اللہ کے سفیر کا خطاب دیا۔ ان کی وجہ سے مصر اور باقی دنیا کے جوانوں میں تجوید کا شوق پروان چڑھا۔ 1961ء میں وہ پاکستان بھی تشریف لے گئے جہاں بادشاہی مسجد لاہور میں انہوں نے سورۃ الرحمٰن کی تلاوت کی جو پاکستان میں بہت مقبول ہوئی۔ ان کا سانس بہت لمبا تھا اور انہیں سانس لیے بغیر بڑی لمبی آیات تلاوت کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے بےشمار ممالک میں قرآن کی قرأت کا شرف حاصل کیا۔

ملکہ الزبتھ دوم[ترمیم]

ملکہ الزبتھ دوم قاری عبدالباسط کی تلاوت بہت پسند تھی۔وہ جب بھیترکی کا دورہ کرتیں تو قاری صاحبؒ سے سورۃ الرحمٰن کی تلاوت فرمائش کرکے سنتیں۔

وفات[ترمیم]

جنرل ضیاء الحق کی وفات پر قاری عبدالباسط پاکستان دوبارہ تشریف لے گئے اور بیماری و ضعف عمری کے باوجود سورۃ شمس کی تلاوت کی۔ مصر واپس لوٹے تو بیماری شدت اختیار کر گئی۔ قاہرہ کے ایک ہسپتال میں چند دن زیر علاج رہے اور 30 نومبر 1988ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

ویڈیو اور یہاں قاری عبدالباسط کی آڈیو تلاوت

120 تلاوت عبدالباسط محمد عبدالصمد