جمال عبدالناصر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جمال عبدالناصر

جمال عبدالناصر (پیدائش: 15 جنوری 1918ء، وفات: 28 ستمبر 1970ء) 1954ء سے 1970ء میں اپنی وفات تک مصر کے صدر رہے۔ وہ عرب قوم پرستی اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف اپنی پالیسی کے باعث مشہور ہوئے۔ عرب قوم پرستی انہی کے نام پر ناصر ازم کہلاتی ہے۔ ناصر اب بھی عرب دنیا میں عربوں کی عظمت اور آزادی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ 15 جنوری 1918ء کو مصر کے شہر اسکندریہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محکمہ ڈاک خانہ میں کام کرتے تھے۔ وہ بچپن ہی سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے شوقین تھے اور محض 11 سال کی عمر میں ایک سیاسی مظاہرے میں شرکت کی جہاں پولیس کے لاٹھی چارج سے زخمی اور بعد ازاں گرفتار ہوئے۔

سیاسی زندگی کا آغاز[ترمیم]

انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران مصر کو برطانوی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے محوری طاقتوں خصوصاً اطالویوں سے رابطہ کیا تاہم منصوبے میں ناکام رہے۔ انہوں نے فوج میں ہم خیال افراد کا ایک گروہ تشکیل دیا جو حركة الضباط الأحرار کہلایا۔

اسی گروہ نے 23 جولائی 1952ء کو بغاوت کرتے ہوئے حکومتی دفاتر، ریڈیو اسٹیشنوں، تھانوں اور قاہرہ میں فوج کے صدر دفتر پر قبضہ کرلیا۔ اس بغاوت کے نتیجے میں 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ کے ہیرو جنرل محمد نجیب مصر کے صدر بن گئے۔

ناصر 1958ء میں ٹائم میگزین کے سرورق پر

جمال 23 جون 1956ء کو مصر کے صدر بنے۔ ان کے دور صدارت کے کارناموں میں نہر سوئز سے برطانوی افواج کا انخلا اور اسوان ڈیم کی تعمیر ہیں۔

صدر ناصر شروع شروع میں ایک ایسی پالیسی پر عمل پیرا تھے جو مغربی ملکوں کے خلاف نہیں تھی لیکن 1954ء کے بعد وہ روس اور اشتراکی ممالک کی طرف زیادہ جھکنے لگے اور اس طرح مصر اور مغربی ممالک کے درمیان براہ راست کشمکش شروع ہوگئی جس کا پہلا بڑا اظہار اسوان بند کی تعمیر کے سلسلے میں ہوا۔

مصر کی خوشحالی کا تمام تر انحصار دریائے نیل پر ہے، جس کی وجہ سے مصر کو تحفۂ نیل کہا جاتا ہے۔ نیل کی پانی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے ليے مصری حکومت نے اسوان کے مقام پر پرانے بند کی جگہ ایک نیا اور زیادہ بڑا بند تعمیر کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا تاکہ مصر میں مزید زمین زیر کاشت آسکے اور پن بجلی بڑی مقدار میں حاصل ہوسکے۔ امریکہ، برطانیہ اور عالمی بینک نے اس منصوبے کے لیے قرضہ فراہم کرنے کا وعدہ بھی کرلیا تھا لیکن ان ملکوں نے جب دیکھا کہ مصر روس اور اشتراکی ممالک کی طرف مائل ہورہا ہے اور ایک ایسی پالیسی پر چل رہا ہے جو ان کے مفاد کے خلاف ہے تو انہوں نے جولائی 1956ء میں قرضہ دینے کا فیصلہ واپس لے لیا۔

سوئز بحران[ترمیم]

اسوان بند کی تعمیر مصری معیشت کے ليے بنیادی اہمیت رکھتی تھی اس ليے مصر میں امریکہ اور برطانیہ کے فیصلے کے خلاف شدید ردعمل ہوا صدر ناصر نے فرانس اور برطانیہ کی زیر ملکیت نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لے لیا اور اعلان کیا کہ اسوان بند نہر سوئز کی آمدنی سے تعمیر کیا جائے گا۔

برطانیہ اور فرانس نے مصر کے اس فیصلے کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر سازش کے تحت 29 اکتوبر 1956ء کو اسرائیل کے ذریعے مصر پر حملہ کرادیا جس کے دوران اسرائیل نے جزیرہ نمائے سینا پر قبضہ کرلیا۔ اگلے ہفتے برطانیہ اور فرانس نے بھی نہر سوئز کے علاقے میں اپنی فوجیں اتار دیں۔ برطانیہ اور فرانس کی اس جارحانہ کارورائی کا دنیا بھر میں شدید رد عمل ہوا، امریکہ نے بھی پرزور مذمت کی اور روس نے مصر کو کھل کر امداد دینے کا اعلان کیا۔ رائے عامہ کے اس دباؤ کے تحت برطانیہ اور فرانس کو اپنی فوجیں واپس بلانا پڑیں اور اسرائیل نے بھی جزیرہ نمائے سینا خالی کردیا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کے دستے مصر اور اسرائیل کی سرحد پر متعین کردیئے گئے تاکہ طرفین ایک دوسرے کے خلاف جنگی کارروائی نہ کرسکیں۔

یہ واقعہ "سوئز بحران" کہلاتا ہے۔ غیر ملکی افواج کے کامیاب انخلا سے ناصر عرب دنیا میں ہیرو اور فاتح کی حیثیت سے ابھرے۔

روس کی مدد سے اسوان بند کی تعمیر یکم جنوری 1960ء کو شروع اور 1970ء میں مکمل ہوئی۔ بند کی تعمیر کے نتیجے میں جو جھیل وجود میں آئی اسے جھیل ناصر کا نام دیا گیا۔

روسی اثر کا بڑھنا[ترمیم]

ناصر اور خروشیف

9 سے 26 مئی 1964ء تک مصر کے دورے کے دوران سوویت وزیراعظم نکیتا خروشیف نے ناصر کو "ہیرو آف سوویت یونین"، آرڈر آف لینن" اور "سوویت گولڈن اسٹار" کے اعزازات سے نوازا۔

اسوان بند کی تعمیر کی ذمہ داری بھی روس نے قبول کرلی اور وسیع پیمانے پر اسلحہ بھی مصر کو فراہم کرنا شروع کردیا۔ مصر نے یہ پالیسی اگرچہ مغربی اثرات سے آزاد رہ کر قومی مقاصد کو اپنی مرضی کے مطابق پورے کرنے کے لیے اختیار کی تھی لیکن مغرب سے پوری طرح کٹ جانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ مصر کی غیر جانبدارانہ پالیسی ختم ہوگئی اور مصر نہ صرف اپنی ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل بلکہ اپنی بقا کے ليے بھی روس کا محتاج ہوگیا۔ مصر کی حالت تقریباً اس قسم کی ہوگئی تھی جو سوئیکارنو کے آخری دور میں انڈونیشیا کی تھی۔ ناصر نے اگرچہ انقلاب کے آغاز میں ہی کمیونسٹ پارٹی کو خلاف قانون قرار دے دیا تھا لیکن اس کے باوجود اشتراکی نظریات پہلے سے زیادہ شدت سے مصر میں عام ہونا شروع ہوگئے اور صدر ناصر کے دور میں مصر میں جن سماجی اور اقتصادی نظریات کا غلبہ ہوا وہ روس کے اشتراکی نظریات سے زیادہ مختلف نہیں تھے۔

نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لے کر برطانیہ اور فرانس کے حملوں کا جرات کے ساتھ مقابلہ کرکے ناصر نے جس ہمت کا ثبوت دیا اس کی وجہ سے وہ عربوں میں بالخصوص اور دنیا میں بالعموم مصر کا وقار بڑھ گیا لیکن مصر کے وقار میں اس اضافے کے ساتھ ساتھ مصر پر روس کے اثرات میں اضافہ ہوگیا۔ اب تک مصر کے بیشتر ترقیاتی منصوبے امریکہ اور مغربی ممالک کی امداد سے مکمل کئے جاتے تھے لیکن ہر سوئز کو قومی ملکیت میں لینے کے بعد مغربی ممالک سے مصر کے تعلقات ختم ہوگئے۔ اس طرح بیرونی امداد کے معاملے میں جو خلا پیدا ہوا اسے روس اور دیگر اشتراکی ممالک نے پر کرنے کی کوشش کی۔

صدر ناصر چونکہ عرب دنیا کی مقبول ترین شخصیت بن چکے تھے اس ليے انہوں نے اپنی اس حیثیت سے فائدہ اٹھاکر عرب اتحاد کے ليے اپنی سرگرمیاں تیز کردیں۔ اس مقصد کی تکمیل میں عرب ملکوں کے بادشاہی نظام اور غیر اشتراکی نظام سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ ناصر نے ان کو ختم کرنے کے ليے جمہوری طریقوں کے بجائے سازشوں کا طریقہ اختیار کیا اور عرب ملکوں میں براہ راست مداخلت شروع کردی۔ اس طریقہ کار نے عرب ممالک کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ ناصر عرب اتحاد نہیں بلکہ اپنا اقتدار چاہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عرب ممالک کے اختلافات پہلے سے زیادہ بڑھ گئے۔

عرب اتحاد کا نعرہ[ترمیم]

عرب اتحاد کے نقطۂ نظر سے 1958ء سے 1960ء تک کا زمانہ سب سے کامیاب زمانہ کہا جاسکتا ہے۔ فروری 1958ء میں شام میں اشتراکیوں کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے شام نے مصر سے الحاق کرلیا اور اس طرح دونوں ملکوں پر مشتمل متحدہ عرب جمہوریہ وجود میں آئی۔ بعد میں یمن اس جمہوریہ کا تیسرا رکن بن گیا لیکن صدر ناصر کی آمرانہ پالیسی کی وجہ سے متحدہ عرب جمہوریہ کی گاڑی زیادہ دن نہ چل سکی۔ سب سے پہلے شام نے بغاوت کی اور وہ 30 ستمبر 1961ء کو مصر سے علیحدہ ہوگیا۔ اس کے بعد یمن کو خود مصر نے متحدہ عرب جمہوریہ سے خارج کردیا۔ اس کے باوجود مصر اپنے ليے 10 سال یعنی ستمبر 1971ء تک متحدہ عرب جمہوریہ کی اصطلاح استعمال کرتا رہا۔

عرب ممالک میں مداخلت[ترمیم]

صدر ناصر اگرچہ اپنے حامیوں کی مدد سے عراق، شام اور اردن میں مداخلت کررہے تھے اور سعودی عرب کے خلاف انہوں نے مسلسل مہم چلائی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان تمام ممالک میں مغربی کٹھ پتلی حکومتیں بادشاہت کی صورت میں قائم تھیں اور ھر فیصلے کے لیے مغرب کی محتاج تھیں۔ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی سب سے نمایاں مثال یمن کی ہے۔ یہاں انہوں نے پہلے تو یمنی حریت پسندوں کے ایک گروہ سے سازش کرکے ستمبر 1965ء میں امام یمن کا تختہ الٹ دیا اور جب اس کے نتیجے میں شاہ پسندوں اور جمہوریت پسندوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو صدر ناصر نے اپنے حامیوں کی مدد کے لیے وسیع پیمانے پر فوج اور اسلحہ یمن بھیجنا شرع کردیا اور چند ماہ کے اندر یمن میں مصری فوجوں کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی۔ بلاشبہ صدر ناصر کے اس جرات مندانہ اقدام کی وجہ سے عرب کے ایک انتہائی پسماندہ ملک یمن میں بادشاہت کا قدیم اور فرسودہ نظام ختم ہوگیا اور جمہوریت کی داغ بیل ڈال دی گئی لیکن یہ اقدام خود مصر کے ليے تباہ کن ثابت ہوا۔

6 روزہ جنگ[ترمیم]

مکمل مضمون کے ليے دیکھئے 6 روزہ جنگ

صدر ناصر یمن کی فوجی امداد کے بعد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ اب مصر دنیائے عرب کا سب سے طاقتور ملک بن گیا ہے وہ اسرائیل کے مقابلے میں روس پر مکمل بھروسہ کر سکتا ہے چنانچہ ایک طرف تو انہوں نے طاقت کے مظاہرے کے لیے ہزاروں فوجی یمن بھیج دیئے اور دوسری طرف اسرائیل کو دھمکیاں دینا اور مشتعل کرنا شروع کردیا۔ اقوام متحدہ کی جو فوج 1956ء سے اسرائیل اور مصر کی سرحد پر تعینات تھی صدر ناصر نے اس کی واپسی کا مطالبہ کردیا اور آبنائے عقبہ کو جہاز رانی کے لیے بند کرکے اسرائیل کی ناکہ بندی کردی۔ اسرائیل نے جو جنگ کے لیے پوری طرح تیار تھا اور جس کو امریکہ کی امداد پر بجا طور پر بھروسہ تھا مصر کی کمزوری کا اندازہ کرکے جون 1967ء کے پہلے ہفتے میں بغیر کسی اعلان جنگ کے اچانک مصر پر حملہ کردیا اور مصر کا بیشتر فضائی بیڑہ ایک ہی حملے میں تباہ کردیا۔ مصر کی فوج کا بڑا حصہ یمن میں تھا جسے بروقت بلانا نا ممکن تھا نتیجہ یہ ہوا کہ 6 دن کی مختصر مدت میں اسرائیل نے نہ صرف باقی فلسطین سے مصر اور اردن کو نکال باہر کیا بلکہ شام میں جولان کے پہاڑی علاقے اور مصر کے پورے جزیرہ نمائے سینا پر بھی قبضہ کرلیا۔ ہزاروں مصری فوجی قیدی بنالئے گئے اور روسی اسلحہ اور ٹینک یا تو جنگ میں برباد ہوگئے یا اسرائیلیوں کے قبضے میں چلے گئے۔ عربوں نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنی ذلت آمیز شکست نہیں کھائی ہوگی اور اس کے اثرات سے ابھی تک عربوں کو نجات نہیں ملی۔ اسرائیل کے مقابلے میں اس ذلت آمیز شکست کے بعد صدر ناصر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ سعودی عرب اور اردن سے مفاہمت پیدا کی اور شاہ فیصل سے تصفیہ کے بعد جس کے تحت مصر نے یمن میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا، مصری فوجیں یمن سے واپس بلالی گئیں۔ مصر کی شکست کی سب سے بڑی وجہ مصری فوج کی نااہلی اور مصری فوجی نظام کے نقائص تھے لیکن مصری فوج اور اسلحہ کی بڑی تعداد کو یمن بھیجنا بھی شکست کی ایک بڑی وجہ تھی۔

جون 1967ء کی جنگ کے نتیجے میں غزہ (فلسطین)، اور جزیرہ نمائے سینا کا 24 ہزار مربع میل (ایک لاکھ 8 ہزار مربع کلومیٹر) کا علاقہ اسرائیل کے قبضے میں آگیا، نہر سوئز بند ہوگئی اور مصر جزیرہ نمائے سینا کے تیل کے چشموں سے محروم ہوگیا۔ صدر ناصر نے شکست کی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے فورا استعفی دے دیا لیکن ایک آمرانہ نظام میں مشکل یہ ہوتی ہے کہ آمر کی جگہ لینے والا آسانی سے نہیں ملتا۔ مصر میں بھی یہی ہوا چونکہ کوئی متبادل رہنما سامنے نہیں آیا اس ليے 9 جون کو استعفی واپس لینے کے ليے قاہرہ میں مظاہرے کئے گئے اور صدر ناصر نے استعفی واپس لے لیا۔ اس طرح صدر ناصر کا اقتدار تو قائم رہا لیکن 1967ء کی شکست کی وجہ سے مصری فوج کی عزت خاک میں مل گئی۔ لوگ فوجیوں کو دیکھ کر فقرے چست کرنے لگے جس کی وجہ سے فوجیوں کو عام اوقات میں وردی پہن کر سڑکوں پر نکلنے سے روک دیا گیا۔

1967ء کی جنگ نے مصر کی معیشت کو بھی سخت نقصان پہنچایا۔ مصر کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ نہر سوئز تھی جس کی وجہ سے مصر کو ہر سال ساڑھے 9 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ نہر کے مشرقی کنارے پر اسرائیل کا قبضہ ہوجانے کے بعد نہر سوئز میں جہاز رانی بند ہوگئی۔ ایک ایسے موقع پر جبکہ مصر کو اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے ليے اور اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے سرمائے کی ضرورت تھی نہر سوئز کی آمدنی کا بند ہونا بڑا تباہ کن ثابت ہوتا لیکن سعودی عرب، کویت اور لیبیا آڑے آئے اور تینوں نے مل کر ساڑھے 9 کروڑ ڈالر سالانہ کی امداد فراہم کرکے نہر سوئز کی بندش سے ہونے والے نقصان کی تلافی کردی۔

جولائی 1968ء میں صدر ناصر نے روس کا دورہ کیا جس کے بعد روس نے مصر کو از سر نو مسلح کرنا شروع کیا۔ روس نے پہلی مرتبہ زمین سے ہوا میں چلائے جانے والے کم فاصلے کے میزائل مصر کو دیئے۔ آواز کی رفتار سے ڈیڑھ گنا تیز چلنے والے جیٹ طیارے اور 500 ٹینک دینے کا وعدہ کیا۔ تین ہزار فوجی مشیر اور فنی ماہر بھی فراہم کئے۔ عرب ملکوں میں سعودی عرب، کویت اور لیبیا نے وسیع پیمانے پر مالی امداد فراہم کی۔ روس اور عرب ملکوں کی اس امداد سے مصر کے فوجی نقصانات کی ایک حد تک تلافی بھی ہوگئی اور اقتصادی حالت بھی سنبھل گئی۔ 1968ء کے آخر میں اسوان بند نے بھی کام شروع کردیا۔

صدر نے اگرچہ 1968ء میں ایک استصواب رائے کے ذریعے عوام کا اعتماد بھی حاصل کرلیا تھا لیکن ان کی پالیسی کے خلاف اندرونی بے چینی میں برابر اضافہ ہورہا تھا لیکن اس کا اظہار استبدادی نظام کی وجہ سے کھل کر نہیں ہوسکتا تھا لیکن جنوری 1968ء میں طلبہ نے پولیس راج کے خلاف جو مظاہرہ کیا اس سے اس بے چینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ روس کی پالیسی سے عوام غیر مطمئن تھے لیکن اب صدر ناصر کو بھی شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ روس صرف دفاع کی حد تک اسلحہ دینا چاہتا تھا اور وہ مصر کو اتنا مضبوط نہیں بنانا چاہتا تھا کہ اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ جائے۔ اس کے بر خلاف امریکہ نے اسرائیل کو اتنا مسلح کردیا تھا کہ وہ اپنے پڑوس کے تمام عرب ملکوں کے خلاف بیک وقت جارحانہ کارروائی کر سکتا تھا۔ صدر ناصر کو پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ روس فوجی اور اقتصادی امداد کے ذریعے مصر میں کمیونزم کا فروغ چاہتا ہے اور فلسطین سے متعلق عربوں کی پالیسی کو اپنے مفاد کے تحت تشکیل دینا چاہتا ہے۔ آخر کار صدر ناصر نے طے کیا کہ اسلحہ اور اقتصادیات کے معاملے میں صرف ایک ملک پر انحصار مصر کے لیے مفید نہیں ہوسکتا اور 1969ء میں انہوں نے اس مقصد کے لیے مغرب خصوصاً فرانس کی طرف رخ کیا لیکن صدر ناصر کی یہ پالیسی ابھی واضح شکل بھی اختیار نہ کر پائی کہ 28 ستمبر 1970ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث ان کا اچانک انتقال ہوگیا۔

ناصر اور اخوان[ترمیم]

ناصر نے اپنے دور اقتدار میں 13 جنوری 1954ء کو اخوان المسلمون پر پابندی عائد کرکے اسے خلاف قانون قرار دے دیا اور حسن الہضیبی سمیت بہت سے اخوانی گرفتار کرلئے گئے۔ اخوان کی سرگرمیاں پابندی کے بعد بھی ختم نہیں ہوئیں۔ 7 جولائی 1954ء کو مصری حکومت نے جب انگریزوں سے معاہدہ کیا تو اخوان نے اس کی شدت سے مخالفت کی اور اس معاہدے کو مصر کو برطانیہ کے ہاتھوں فروخت کر دینے کے مترادف قرار دیا۔ اس معاہدے کی مخالفت کی وجہ سے حکومت نے روزنامہ اخوان المسلمون کو 10 ستمبر 1954ء کو بند کردیا۔ 26 اکتوبر کو ناصر پر قاتلانہ حملہ ہوا جس نے ناصر کو اخوان کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع فراہم کردیا اور اخوان کی تردید کے باوجود کارکنوں کی گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ مصر کے مشہور اخبار "المصری" کے ایڈیٹر احمد ابو الفتح کے مطابق چند ہفتوں کے اندر گرفتار ہونے والوں کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ گئی جن میں سید قطب اور عبدالقادر عودہ جیسے مفکر اور ادیب بھی شامل تھے۔ 7 نومبر 1954ء کو فوجی عدالت نے 6 ممتاز رہنماؤں کو صفائی کی سہولتیں فراہم کئے بغیر سزائے موت سنادی۔ حسن ہضیبی کی سزائے موت بڑھاپے کی وجہ سے عمر قید میں تبدیل کردی گئی۔

مارچ 1964ء میں جب مصر میں ہنگامی حالت کا خاتمہ ہوا تو تمام سیاسی قیدی رہا کردیئے گئے جن میں اخوان بھی تھے لیکن ایک سال بعد ہی اخوان ابتلا اور آزمائش میں مبتلا ہوگئے۔ جولائی 1965ء میں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں پکڑ دھکڑ کی نئی مہم شروع ہوگئی جس میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 6 ہزار اخوان کر لئے گئے جبکہ غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق یہ تعداد 20 سے 50 ہزار تک بیان کی گئی ہے جن میں تقریبا 800 خواتین بھی شامل تھیں۔ حسن ہضیبی بھی دوبارہ گرفتار کر لئے گئے اور ان کو تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی جس کی تاب نہ لاکر وہ 8 نومبر 1965ءکو شہید ہوگئے۔

اس مرتبہ کو جو لوگ گرفتار ہوئے ان میں سب سے ممتاز شخصیت سید قطب (1906ء تا 1966ء) کی تھی جو نہ صرف اخوان کے حلقے بلکہ اپنے زمانے میں مصر کے سب سے بڑے مفکر اور ادیب تھے۔ انہیں 13 جولائی 1955ء کو عوامی عدالت کی طرف سے 15 سید قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ تاہم ان کی علمی عظمت سے واقفیت کے بعد ناصر نے انہیں ایک سال بعد معافی کی شرط پر رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی لیکن سید قطب نے معافی مانگنے سے انکار کردیا۔ انہیں وزارت تعلیم کی بھی پیشکش کی گئی جو انہوں نے ٹھکرادی۔ حکومتی پیشکشیں قبول نہ کرنے پر سید قطب کی رہائی عمل میں نہ آسکی۔ مارچ 1964ء میں ہنگامی حالت کے خاتمے کے بعد رہا ہونے والے سیاسی قیدیوں میں وہ بھی شامل تھے لیکن ایک سال بعد اخوان کے تیسرے دور ابتلاء و آزمائش میں وہ پھر گرفتار کرلئے گئے۔ اس مرتبہ ان کے بھائی محمد قطب اور دو بہنیں حمیدہ قطب اور امینہ قطب بھی گرفتار ہوئیں۔ 25 اگست 1966ء کو حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں سید قطب اور ان کے ساتھیوں پر بند کمرے میں مقدمہ چلایا گیا۔ ملزمان کی طرف سے پیروی کرنے والا کوئی وکیل نہ تھا، باہر کے لوگوں نے پیروی کرنا چاہی لیکن انہیں اس کی اجازت نہ دی گئی۔ بالآخر 25 اگست 1966ء کو سید قطب کو پھانسی دے دی گئی۔ اس طرح وہ حق کی خاطر جان لٹانے والے شہداء کے قافلے کے ہم سفر بن گئے۔

شخصیت[ترمیم]

اس میں کوئی شک نہیں کہ نہر سوئز کو قومی ملکیت میں لینا، زرعی و صنعتی اصلاحات اور مغرب کی سامراجی قوتوں کے مقابلے میں جرات مندانہ اقدامات صدر ناصر کے ایسے کارنامے ہیں جن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کے روشن کارناموں کو ان کے استبدادی مزاج اور مخالف عناصر پر ہولناک مظالم نے داغدار کردیا اور سب سے بڑی بات یہ کہ تاریخ میں صدر ناصر کا نام اسلامی تحریک کو کچلنے، اسلامی اقدار اور پیغام کو دبانے اور غیر اسلامی اقدار کو فروغ دینے والوں میں سر فہرست ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایسے شخص کے دور میں ہوا جس نے مصر سے باہر افریقہ میں اسلام کی تبلیغ کے ليے قابل قدر کوششیں کیں۔ ناصر کی طبیعت کا یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ اسلام سے زیادہ ان کو اپنا اقتدار عزیز تھا۔ تاریخ میں ایسی ہی ایک مثال ہمیں حجاج بن یوسف کی ملتی ہے جس کے اسلامی کارناموں سے انکار نہیں کیا جاسکتا جن کی وجہ سے بہت سے سادہ لوح عوام اس کے گرویدہ ہوگئے تھے لیکن دنیا اس کو ہمیشہ ایک بد ترین جابر اور ظالم کے نام سے یاد رکھے گی

انتقال[ترمیم]

ناصر کا جنازہ

ناصر 28 ستمبر 1970ء کو قاہرہ میں عرب ممالک کے رہنماؤں کے اجلاس کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

ناصر نے زندگی میں ایک شادی کی جن سے ان کے تین بیٹے خالد، عبدالحکیم اور عبدالحمید اور دو بیٹیاں ہدی اور مونا پیدا ہوئیں۔

کتب[ترمیم]

جمال عبدالناصر نے مندرجہ ذیل کتب لکھیں:

  • 1948ء جنگ فلسطین پر جمال عبدالناصر کی یادیں (1955ء)
  • آزادی کی جانب (1959ء)
  • مصر کی آزادی، فلسفۂ انقلاب (1955ء)

جمال ناصر کے عہد کے مظالم پر مندرجہ ذیل کتب لکھی گئیں:

  • سیاہ دروازہ، احمد رائف
  • قیدی کا روزنامچہ، کمال فرماوی
  • جیل کے چند سال، علی جرشہ، مصری ریاستی کونسل کے رکن، 1965ء تا 1971ء قید رہے
  • خاموش رہنے والے مہرت سکوت توڑتے ہیں، اس کتاب میں ناصر کے دور کے دو وزراء سمیت مختلف افراد نے مظالم کی داستانیں بیان کی ہیں
  • مصیبت کے سال: سابق مصری اٹارنی جنرل عبدالسلام

متعلقہ مضامین[ترمیم]

انور سادات

6 روزہ جنگ

اخوان المسلمون

بیرونی روابط[ترمیم]

باضابطہ ویب سائٹ