رچرڈ ڈاکنز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

رچرڈ ڈاکنز (انگریزی:Richard Dawkins)؛ (پیدائش: مارچ 26، 1941ء) برطانیہ کے نامور ماہر ارتقائی حیاتیات اور مصنف ہیں۔ وہ 1995ء سے 2008ء تک آکسفورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر برائے عوامی تفہیم سائنسی علوم رہے ہیں۔ 1976ء میں اپنی کتاب "دی سیلفش جین" سے شہرت پانے والے رچرڈ ڈاکنز نے اپنی کتاب "ایکسٹنڈڈ فینو ٹائپ" (1982ء) میں ارتقائی حیاتیات سے وابستہ انقلابی نظریات پیش کیے۔ ڈاکنز ایک انسانیت پسند اور ملحد دانشور ہیں۔ 1986ء میں اپنی کتاب "دی بلائنڈ واچ میکر" میں گھڑی ساز والے نظریے کی مخالفت میں دلائل دیے اور اسی کے تسلسل میں انہوں نے اپنی مشہور متنازع کتاب "دی گاڈ ڈیلیوژن" لکھی جس میں انہوں نے کائنات کے ایک ماورائے طبعی خالق کے روایتی نظریے کے خلاف اپنا موقف پیش کیا۔ اس کتاب کا دنیا بھر میں 30 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور انگریزی متن کے دو ملین سے زائد نسخے فروخت ہو چکے ہیں۔ تاہم ڈارون کے نظریات کی شدید حمایت اور الوہی وجود کے ببانگ دہل انکار پر مذہبی حلقوں کی طرف سے انہیں شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ رجعت پسند حلقوں کی طرف سے انہیں 'ڈارون کا کتا' (Darwin's Rottweiler) اور اس جیسے القاب سے نوازا جاتا رہا ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ڈاکنز کینیا کے شہر نیروبی میں 1941ء میں پیدا ہوئے۔ باپ وہاں کی برطانوی نوآبادیاتی سول سروس کا ملازم تھا۔ ڈاکنز کو بچپن میں عیسائی روایات کے تحت بپتسمہ دیا گیا یہاں تک کہ لڑکپنے کی عمر میں انہوں نے ڈارون کے نظریہ ارتقاء کا مطالعہ کیا جس سے زمین پر آغاز و تکوین حیات سے متعلق کئی سوالات کو نسبتا بہتر سمجھنے کا موقع ملا۔ ابتدائی تعلیم چرچ سکول میں حاصل کرنے کے بعد 1959ء بالائل سکول، آکسفورڈ میں علم حیوانات کو باقاعدہ پڑھنا شروع کیا۔ یہاں انہیں نوبل انعام یافتہ سائنسدان نکولاس تمبرجین سے تلمذ کا موقع ملا۔ 1967ء تا 1969ء وہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، بارکلے میں علم حیوانات کے اسسٹنٹ پروفیسر رہے اس دوران ویتنام کی جنگ کا آغاز ہوا اور وہ جنگ مخالف تحریک کے سرگرم ترین ارکان میں شامل تھے۔ 1995ء میں آکسفورڈ میں سمونیی پروفیسر برائے عوامی تفہیم سائنس کی کرسی کا اجراء ہوا اور اس کے بانی چارلس سیونیی نے اس امید کے ساتھ انہیں اس کا پہلا کرسی نشین منتخب کیا کہ وہ عوام میں سائنسی طرز فکر کے فروغ میں نہایت نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ 1970ء سے اب تک مختلف مواقع پر متعدد تاریخ ساز علمی اور فکری خطبات بھی دے چکے ہیں۔ انہوں نے 2008ء میں اپنی تدریسی مصروفیات سے سبکدوشی کا اعلان کیا ہے اور ایک کتاب لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس میں وہ نوجوان نسل کو سائنس و خرد دشمن فرسودہ دیو مالاؤں سے ہوشیار رہنے کی نصیحت کریں گے۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

انہوں نے اگست 1967ء میں آئرلینڈ میں اپنی ایک ساتھی معلمہ ماریان ستامپ سے شادی کی جو 1984ء میں طلاق کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ اسی سال جون میں انہوں نے آکسفورڈ میں ایو براہم سے شادی کی۔ ایو کے بطن سے ایما جیولیٹ ڈاکنز نام کی بیٹی پیدا ہوئی، جبکہ ایو براہم 1994ء میں سرطان کے مرض کا شکار ہو گئی۔

مبنی بر جین ارتقاء کا نظریہ[ترمیم]

ڈاکنز نے اپنی کتاب "دی سیلفش جین" میں اس بحث کا آغاز کیا کہ ارتقائی عمل میں جس فطری چناؤ سے اشیاء روبہ ارتقاء ہوتی ہیں، خواص اور ساخت کے اس چناؤ میں فیصلہ کن کردار جین کا ہوتا ہے۔ مبنی بر جین ارتقاء یا Gene-centred view of evolution کے مطابق ارتقاء میں جین 'چناؤ کی بنیادی اکائی' ہے۔ کئی ایک سائنسی قضیوں کے حل طلب رہنے کے باوجود ڈاکنز کا یہ خیال اب بھی ارتقائی سائنس کے حلقوں میں ایک گرم مباحثہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

خلاقیت پر تنقید[ترمیم]

رچرڈ ڈاکنز عقیدہء خلاقیت کے شدید مخالف کے طور پر تب مشہور ہوئے جب ان کی کتاب "دی بلائنڈ واچ میکر" منظر عام پر آئی۔ خلاقیت سے مراد یہ عقیدہ ہے کہ کائنات، انسان اور تمام فطری مظاہر ایک مشیت کے تخلیق کردہ ہیں۔ مذکورہ کتاب میں انہوں نے گھڑی ساز کے نظریے کو نشانہ تنقید بنایا جو اٹھارہویں صدی کے مشہور ماہر الہیات ولیم پیلے نے پیش کیا تھا۔ اس نے اپنی کتاب "فطری الہیات" میں استدلال کیا تھا کہ ایک چابی کی گھڑی جو کہ ظاہر ہے کہ اس قدر پیچیدہ اور ساخت میں اس قدر پیچیدہ ہے کہ یہ قیاس ناممکن ہے کہ یہ کسی حادثے کی شکل میں خود بخود وجود میں آگئی ہو، پیلے کے خیال میں کائنات کے منظم وجود پر بھی یہ دلیل صادق آتی ہے۔ ڈاکنز کے خیال میں حیاتیاتی دنیا میں نظر آنے والی کٹواں پیچیدگی اسی فطری چناؤ کی وضع کردہ ہیں جو کہ ایک "اندھا گھڑی ساز" ہے اور اسے خود اپنے فعل کو روک لینے، تیز کرنے یا سست کرنے پر کوئی قدرت حاصل نہیں۔ ڈاکنز اس موضوع پر رجعت پسند حلقوں سے متعدد ٹی۔وی مذاکروں میں حصہ لے چکے ہیں۔

2004ء میں امریکی صحافی بل موئرز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا؛ "سائنس جتنا کچھ بھی جانتی ہے، ارتقاء کا نظریہ تمام تر سائنسی معلومات میں سب سے زیادہ یقینی اور مصدقہ ہے"۔ ان کا ادارہ موسسہ رچرڈ ڈاکنز برائے عقل و سائنس طلبہ میں عقلی علوم کے فروغ اور خرد افروزی کے احیاء کے لیے کام کر رہا ہے۔

ڈاکنز اور مذہب[ترمیم]

روایتی مذہبی رجحانات کی مخالفت کی وجہ سے برطانیہ اور دیگر ممالک میں انہیں شدید تنقید اور تشنیع کا سامنا ہے۔ 1994ء میں تھامس باس نے ایک انٹرویو میں ڈاکنز کے لیے 'عسکریت پسند دہریہ' کا لقب اختیار کیا اور ڈاکنز نے بجائے مذمت کے جواب دیا: برٹرنڈ رسل نے اپنے آپ کو ایک پرجوش متشکک کہا ہے، میرا نشانہ بلند ہے اور میں اس کے لیے لبلبی بھی دبا سکتا ہوں۔ ڈاکنز کلیسائی حلقوں میں شدید مطعون ہونے کے باوصف اپنے آپ کو "ثقافتاً عیسائی" کہتا ہے۔ ڈاکنز نے 2010ء میں پاپائے روم پوپ بینیڈکٹ XVI کے دورہء انگلستان کی مخالفت میں 54 ہم خیال شخصیات کے ہمراہ "دی گارڈین" میں مفصل خط لکھا، اس کے بقول پوپ کو چاہیے کہ وہ کلیسا کے ہاتھوں ہونے والی انسانیت کی بدترین بے حرمتیوں پر معافی مانگے۔

ڈاکنز خدا پر یقین نہیں رکھتا مگر ساتھ ہی یہ کہتا ہے کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ "خدا کا وجود نہیں"۔[1]

دیگر کام[ترمیم]

ڈاکنز کی دیگر علمی کاوشوں میں قدیم طریقہ علاج پر کڑی تنقید اور سیارہ زمین کی بڑھتی ہوئی آبادی پر اظہار تشویش پر متعدد مقالات شامل ہیں۔ اس کے بقول لاطینی امریکہ کی آبادی ہر چالیس سال بعد دوگنی ہو رہی ہے۔ اس نے رومن کیتھولک کی افزائش آبادی کے بارے میں تعلیمات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ رویہ بھوک قحط اور فاقوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف اخبارات و رسائل میں سیاسی و سماجی موضوعات پر تجزیوں کے کئی مقبول سلسلوں کے مصنف ہیں۔ انہوں نے 2003ء میں امریکہ کے عراق پر حملے کی مخالفت میں حزب اختلاف کا پرزور ساتھ دیا اور اسی طرح وہ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے جوہری توسیع کے منصوبوں کے بھی پرزور مخالف کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں۔ 2011ء میں انہوں نے لندن میں ایک نوزائیدہ نجی یونیورسٹی "نیو کالج آف ہیومینیٹیز" بطور استاد ملازمت اختیار کر لی ہے۔

اعزازات[ترمیم]

  • ڈاکٹر آف سائنس، آکسفورڈ یونیورسٹی، 1989ء
  • یونیورسٹی آف ہڈرسفیلڈ، یونیورسٹی آف ویسٹمنسٹر، درہم یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ہل، یونیورسٹی آف آنتورپ، یونیورسٹی آف اوسلو، یونیورسٹی آف ابردین، وریجی یونیورستیت برسل اور یونیورسٹی آف ویلنشیا سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں
  • رائل سوسائٹی آف لٹریچر اور لاس اینجلس ٹائمز کی طرف سے بہترین تصنیف کے ادبی انعامات
  • سائنس ٹیکنالوجی انعام، بی بی سی۔
  • زوالوجیکل سوسائٹی آف لندن، چاندی کا تمغا
  • فائنلی انوویشن ایوارڈ 1990ء
  • مائیکل فیراڈے ایوارڈ 1990ء
  • نکایاما انعام 1994ء
  • ہیومنسٹ آف دی ایئر، امیرکن ہیومنسٹ ایسوسی ایشن، 1996ء
  • انٹرنیشنل کاسمس پرائز 1997ء
  • کسلر پرائز 2001ء
  • تمغہء صدارت جمہوریہ اطالیہ 2001ء
  • بسنتینیال کیلون ایوارڈ، رائل فلاسفیکل سوسائٹی آف گلاسگو، 2002ء
  • نیرنبرگ پرائز فار سائنس ان پبلک انٹرسٹ، 2009ء
  • برطانوی جریدہ "پراسپکٹ" 2004ء میں کی گئی رائے شماری میں برطانیہ کے 100 بڑے دانشوروں میں بہترین دانشور
  • شیکسپیئر انعام، الفریڈ توپفئر فاؤنڈیشن، 2005ء
  • لیوس تھامس انعام برائے سائنسی تصانیف 2006ء
  • آتھر آف دی ایئر، گلیکسی برٹش بک ایوارڈ 2007ء
  • ٹائم میگزین کے مطابق دنیا کی سو اثرانداز ترین شخصیات میں سے ایک، 2007ء
  • ڈیلی ٹیلیگراف کے 100 لونگ جینئس کی درجہ بندی میں 20 ویں جگہ، 2007ء
  • دیشنر ایوارڈ، جرمنی
  • دنیا کے بہترین سائنسی کاموں کے اعزاز میں ڈاکنز کے نام پر "رچرڈ ڈاکنز ایوارڈ" کا اہتمام

تصانیف[ترمیم]

  • دی سیلفش جین، آکسفورڈ، 1976ء
  • دی ایکسٹنڈڈ فینوٹائپ، آکسفورڈ، 1982ء
  • دی بلائنڈ واچ میکر، نیو یارک 1986ء
  • ریور آؤٹ آف ایڈن، بوسٹن، 1995ء
  • کلائمنگ ماؤنٹ امپروبیبل، نیو یارک، 1996ء
  • انویونگ دی رین بو، بوسٹن، 1998ء
  • اے ڈیولز چیپلین، بوسٹن، 2003ء
  • دی انسیسٹرز ٹیل، بوسٹن، 2004ء
  • دی گاڈ ڈیلیوژن، بوسٹن، 2006ء
  • دی گریٹسٹ شو آن ارتھ، 2009ء
  • دی میجک رئیلٹی، 2011ء



بیرونی روابط[ترمیم]