خواجہ محمد زبیر سرہندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شمس الدین قیوم چہارم(رابع) خواجہ محمد زبیر سرہندی جو قیوم سوم خواجہ محمد نقشبند ثانی کے پوتے اور جانشین تھے۔

نام و نسب[ترمیم]

آپ کی ولادت 5 ذیقعد 1093ھ بروز پیر سرہند شریف میں ہوئی۔ ہدایت نبی علیٰ صاحبہا الصلوٰت کے مطابق آپ کا ا سم گرامی محمد زبیر کنیت ابوالبرکات اور لقب شمس الدین رکھا گیا۔ آپ کا سلسلہ نسب مجدد الف ثانی تک یوں پہنچتا ہے:

خواجہ محمد زبیر بن خواجہ ابوالعلی فاروقی بن خواجہ محمد نقشبند ثانی بن خواجہ محمد معصوم بن مجدد الف ثانی ۔

بچپن[ترمیم]

آپ نے عام بچوں کی طرح کبھی ستر یا بدن مبارک بول و براز سے ملوث نہ کیا، برہنہ رہنے سے طبعاً متنفر تھے۔ آپ نے کبھی دایہ سے خود بخود دودھ نہ مانگا اور نہ ہی بچوں کی طرح روتے۔ آپ کھیل کود میں مصروف نہ ہوئے۔ اگر ہم عمر بچے آپ کو کھیل کود کی طرف رغبت دلاتے تو آپ ہرگز کھیل کی طرف مائل نہ ہوتے اور نہ ہی خواہش کرتے بلکہ زبان مبارک سے فرماتے کہ اپنے اوقات پیری مریدی میں صرف کرنا خوش وقتی ہے۔ اپنے دادا محترم قیوم ثالث کی طرح لوگوں کو توجہات قدسیہ سے نوازتے اور بشارات سے مشرف فرمایا کرتے تھے۔

دورانِ بچپن آپ پر بعض اوقات ایسے قوی احوال و واردات طار ی ہوتے جو طبع مبارک کو اتنا متغیر کرتے کہ آپ بے خود ہو جاتے۔ اگر کوئی ان کیفیات کی بابت دریافت کرتا تو آپ مطلع نہ فرماتے۔ اِ ن احوال و معارف کے متعلق آپ کے جد کریم قدس سرہُ العزیز فرمایا کرتے تھے کہ یہ مناصب احمدیہ کے دفینہ اور کمالات معصومیہ کے خزینہ کے خفیہ اسرار ہیں جو مبارک وقت میں جلوہ گر ہوتے رہتے ہیں۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

جب آپ کی عمر مبارک چار برس چار ماہ ہوئی تو آپ کو ایک سعادت مند ادیب اور طالع مند اتالیق کے سپرد کیا گیا۔ سات برس کی عمر میں ہی شائستگی حال، آراستگی مقال، اوضاع کریمانہ اور اطوار بزرگانہ آپ کی جبین سعادت سے ہویدا ہو گئے تھے۔ ابھی آپ کی عمر تیرہ برس ہوئی کہ والد گرامی کا سایہ عاطفت سر سے اُٹھ گیا اس لیے آپ کی ظاہری و باطنی پرورش آپ کے جد امجد قدس سرہُ العزیز نے ہی فرمائی۔ یہی وجہ ہے کہ کم سنی میں ہی آپ پر استغراق کا غلبہ رہتا تھا۔

زیارت حرمین طیبین[ترمیم]

قیوم ثالث اپنے پوتے قیوم چہارم خواجہ محمد زبیر کو ہمراہ لے کر حجاز مقدس روانہ ہوئے جہاں خواجہ محمد معصوم کے خلیفہ اجل شیخ محمد مراد شامی نے اپنے صاحبزادے شیخ محمد دمشقی مرادی کو خواجہ محمد زبیر کا مرید کروا دیا قیوم ثالث نے ان کی باطنی تربیت فرما کر خلافت عنایت فرمائی تو آپ بے شمار لوگوں کی رشد و ہدایت کا باعث ہوئے۔ آپ کی خانقاہ کا سالانہ خرچہ تین لاکھ دینار ہوتا، سلطان روم بھی انہیں کا مرید تھا ۔

خلعت قیومیت[ترمیم]

قیوم اول سیدنا مجدد الف ثانی کو جس برس تجدید الف ثانی کا منصب عظیم عطا ہوا تھا اس کے پورے سو برس بعد 1111ھ میں قیوم ثالث نے جہاں دیدہ سلطان اورنگزیب عالمگیر کے لشکر شاہی میں آپ کو اپنا نائب مناب بنا کر قطب الاقطابی اور خلعت قیومیت پہنا کر اپنا جانشین مقرر فرما دیا اور اپنے تمام خلفاء اور مریدوں کی تربیت آپ کے سپرد فرما دی۔ سلطان آپ کی حیرت انگیز ذکاوت طبع اور فہم و فراست دیکھ کر کہتا تھا کہ جو بزرگی و فراست اس خورد سال بچے میں ہے کسی سال خوردہ میں بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔

جب 1114ھ کو قیوم ثالث کا وصال ہو گیا تو یکم صفر المظفر 1114ھ بروز ہفتہ آپ مسند قیومیت پر جلوہ افروز ہوئے۔

معمولاتِ مبارکہ[ترمیم]

آپ متبع سنت اور کثیر العبادت تھے، نماز تہجد میں ساٹھ مرتبہ سورہ یٰس پڑھا کرتے اور نماز ظہر سے قبل ختم خواجگان نقشبندیہ اور ختم مجددیہ اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر پڑھتے۔ نماز عصر کے بعد مشکوٰۃ شریف یا مکتوبات امام ربانی کا درس ارشاد فرماتے۔ 24 ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ، 15 ہزار مرتبہ ذکر اسم ذات دن کو اور 5 ہزار مرتبہ کلمہ طیبہ اور ایک ہزار مرتبہ درود شریف رات کو آپ کا دائمی وظیفہ تھا۔ نماز مغرب کے بعد صلوٰۃ اوابین میں دس پارے قرآن مجید کی تلاوت فرماتے۔

آپ کا حلقہ مریدین بہت وسیع تھا۔ زمانے کے بڑے بڑے علما و امرا آپ کے معتقد تھے جنہیں آپ توجہات قدسیہ سے نوازتے اور ان کی روحانی تربیت فرماتے تھے۔ آپ جب کبھی عیادت مریض یا مجلس وعظ میں شمولیت کے لیے دولت کدہ سے باہر تشریف لاتے تو شاہی امرا اپنے دوشالے اور پگڑیاں متبرک بنانے کے لیے فرش راہ کرتے تاکہ آپ کے قدم مبارک زمین پر نہ پڑیں۔

علو مرتبت[ترمیم]

آپ ایک مرتبہ کسی تقریب میں شرکت کے لیے جامع مسجد کے قریب سے گزرے اور سواری کے ساتھ بے شمار ارادت مندوں کا جم غفیر تھا۔ شاہ گلشن نے مسجد سے آپ کی سواری کی رونق دیکھ کر اپنی کملی اتار کر پھینکتے ہوئے فرمایا ’’اسے جلادو‘‘ خدام نے جب سبب دریافت کیا تو فرمایا:

اس بزرگ کی سواری میں اس قدر نور ہے کہ اس کا ایک شمہ بھی میں نے اپنی کملی میں نہیں دیکھا حالانکہ تیس برس سے اس کملی میں ریاضت کر رہا ہوں۔ کسی نے عرض کیا کہ یہ خواجہ محمد زبیر ہیں تو فرمایا الحمد للہ! یہ تو ہمارے پیر زادہ ہیں، ہماری آبرو رہ گئی۔

(واضح رہے کہ شاہ گلشن خواجہ محمد سعید بن امام ربانی کے صاحبزادے خواجہ عبدالاحد وحدت کے مرید تھے۔ آپ کا سن وصال 1152ھ ہے مرقد انور دہلی میں ہے)۔

القائے نسبت[ترمیم]

ایک شخص آپ کی خدمت بابرکت میں عرض گزار ہوا کہ خاندان مجددیہ رضی اللہ عنہم کی نسبت (تصوف) مجھے ایک توجہ (تصوف) میں عنایت فرما دیں تو آپ نے ارشاد فرمایا یہ معمول نہیں ہے۔ اگر نسبت (تصوف) ایک ہی توجہ (تصوف) میں دی جائے تو اس کا تحمل اور حوصلہ بشریت سے باہر ہے مگر وہ شخص اپنے سوال پر مصر رہا اور مزید الحاح و زاری سے عرض کرنے لگا۔ ناچار آپ نے تمام نسبت (تصوف) ایک ہی توجہ (تصوف) میں یکبارگی القاء فرما دی مگر وہ شخص تاب نہ لاسکا اور شہید عشق ہو گیا۔

وفات حسرت آیات[ترمیم]

آپ 38 برس مسند قیومیت پر رونق افروز رہ کر 4 ذیقعدہ 1152ھ / 1740ء بعمر 59 برس بروز بدھ بوقت اشراق دہلی میں دارفانی سے رخصت ہو گئے ۔

آپ کی مرقد انور سرہند شریف میں ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]

[1] شمس الدین، قیومِ چہارم، خواجہ محمد زبیر سرہندی از افادات ابو البیان محمد سعید احمد مجددی

حوالہ جات[ترمیم]