غیاث الدین تغلق شاہ دوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دہلی کا سلطان
غیاث الدین تغلق شاہ دوم
غیاث الدین تغلق شاہ دوم

دہلی کا سلطان
دور حکومت 20 ستمبر 1388– 14 مارچ 1389
تاج پوشی 21 ستمبر 1388
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 14  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 14 مارچ 1389  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Delhi Sultanate Flag (catalan atlas).png سلطنت دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
خاندان تغلق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
خاندان تغلق خاندان
دیگر معلومات
پیشہ مقتدر اعلیٰ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

تغلق خان یا غیاث الدین تغلق شاہ دؤم (وفات: 14 مارچ 1389ء) فیروز شاہ تغلق کا پوتا اور فتح خان کا بیٹا تھا۔ فیروز شاہ تغلق کے بعد 1388ء میں تخت نشین ہوا۔ [1] تخت نشین ہونے کے بعد اس کے چچا محمد شاہ ابن فیروز شاہ جس کو فتح خان کے بھائی ظفرخان کے بیٹے ابوبکر شاہ کی مدد حاصل تھی، نے تخت نشینی پر بحران پیدا کر دیا، تغلق خان نے ایک فوج اپنے چچا محمد شاہ کے خلاف بھیجی، ایک مختصر لڑائی کے چچا نے شکست کھائی اور بھاگ کر ریاست سرمور، کانگڑہ کی طرف چلا گیا، اس خطے کے دشوار گزار راستوں کی وجہ سے تعاقب کرنے کی بجائے تغلق خان کی فوج واپس دہلی آ گئی۔ تغلق کو اپنے چچا کے خلاف تو فتح حاصل ہو گی، لیکن اس نے عیش پسندی، کاہلی اور لاپروائی کی وجہ سے امرا کو اپنا مخالف بنا لیا، چنانچہ اسی خاندان کے ایک دوسرے شہزادہ ابوبکر شاہ نے کچھ امرا سے مل کر تغلق خان کو تقل کرنے کی منصوبہ بندی کی اور اس کو قتل کر کے خود تخت پر بیٹھ گیا۔

تخت نشین[ترمیم]

18 رمضان 890ھ کو تغلق خان چند شہزادوں کی مدد سے تخت نشین ہوا اور غیاث الدین تغلق دوم کا لقب اپنایا، غیاث الدین تغلق، تغلق خاندان کا بانی تھا۔ اس نے ملک فیروز بن تاج الدین کو اپنا وزیر بنایا جس کو بخان جهان کا لقب دیا، غیاث الدین ترمذی کو سلاحدار کا منصب سونپا۔ تخت نیش ہوتے ہی اس نے محمٹ شاہ کی طرف اپنے سپائی بھیجے لیکن وہ بھاگ گیا۔[2]

حکومت اور وفات[ترمیم]

ذرائع و مصادر سے پتہ چلتا ہے کہ تخت نشینی کے بعد تغلق خان نے معاملات حکومت چلانے کی بجائے عیاشی شروع کر دی،[3] اس کا بھائی خرم سالارسہ، وزا، امرا اور ریاستی حکام اس کے ساتھ تھے۔[4] ابو بکر بن ظفر خان بن فیروز شاہ، نائب وزیر مالک رکن الدین، امرا اور دیگر شہزادے اس کے ہمراہ تھے۔ انھوں نے تغلق خان کے محل فیروز آباد میں ملک مبارک کبیر کو قتل کر دیا، تغلق خان اپنے وزیر کی مدد سے محل کے پچھلے دروازے سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا، لیکن انھیں پکڑ لیا گیا اور 21 صفر 891ھ کو ان کو قتل کر کے ان کی لاشوں کو ایک ہی دروازے پر لٹکا دیا گیا۔[5]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sailendra Sen۔ A Textbook of Medieval Indian History۔ Primus Books۔ صفحہ 100۔ آئی ایس بی این 978-9-38060-734-4۔
  2. المسلمون في الهند من الفتح العربي إلى الاستعمار البريطاني، الجزء الأول۔ الهيئة المصرية العامة للكتاب۔ صفحہ 199۔
  3. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ ReferenceA نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ ReferenceB نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. المسلمون في الهند من الفتح العربي إلى الاستعمار البريطاني، الجزء الأول۔ الهيئة المصرية العامة للكتاب۔ صفحہ 199-200۔ Unknown parameter |السنة= ignored (معاونت)

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • انسائیکلوپیڈیا مسلم اںدیا، سلاطین دہلی، جلد 6، شاہکار بک فاؤنڈیشن، لاہور، 2006ء


ماقبل 
فیروز شاہ تغلق
سلطنت دہلی
1388–1389
مابعد 
ابو بکر شاہ