میرا جسم میری مرضی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

میرا جسم میری مرضی حقوق نسواں کے علم برداروں کا نعرہ ہے [1] جو پاکستان اور بھارت میں خواتین کے حقوق کے تناظر میں۔ یکساں مقبول ہے۔[2] پاکستان میں 2018ء کے بعد سے خواتین کے عالمی دن پر منائے جانے والے عورت مارچ نے اس نعرے کو بے حد مقبول کیا تھا۔ عام طور پر اس نعرے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ خواتین کے ساتھ زیادتی، ہراسانی یا عصمت دری نہ کی جائے۔[3]

اصل اور پس منظر[ترمیم]

میرا جسم میری مرضی نعرہ پاکستان میں پہلی بار 2018 میں عورت مارچ کے دوران چلایا گیا تھا۔

استعمال[ترمیم]

یہ نعرہ پہلی بار 2018 کے عورت مارچ میں استعمال ہوا تھا۔[4] اس کی مزید پیشرفت 2019 میں عورت مارچ کے دوران کی گئی اور اس کی پیش گوئی عورت مارچ 2020 میں کی جارہی ہے۔ یہ ملک کے میڈیا میں ایک بحث اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں ٹاؤن آف ٹاؤن کی بات بن چکی ہے لیکن زیادہ تر ملک میں معاشرتی اصولوں کے مطابق نہیں ہونے کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے۔

تنازعات[ترمیم]

عورت مارچ کے سلسلے میں نیو نیوز پر مکالمہ ہورہا تھا۔ جس میں مشہور مصنف خلیل الرحمان قمر اور حقوق نسواں کی کارکن ماروی سرمد آپس میں نازیبا کلمات کہنے لگے ۔ جو سوشل میڈیا پر نیا تنازع بن چکا ہے۔ [5][6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Shah، Bina (29 November 2019). "Mera jism meri marzi". The Feministani. اخذ شدہ بتاریخ 06 مارچ 2020. 
  2. "Some of you don't understand what Mera Jism Meri Marzi really stands for, and it shows". Dawn Images. 6 March 2020. 
  3. "Explainer: What does Mera Jism Meri Marzi mean?". Global Village Space. 29 January 2020. اخذ شدہ بتاریخ 06 مارچ 2020. 
  4. Bashir، Siham (9 March 2018). "Aurat March 2018 — the rise of sisterhood". The Express Tribune. اخذ شدہ بتاریخ 06 مارچ 2020. 
  5. "Mahira Khan calls out Khalil Ur Rehman Qamar for his blatant misogyny". Dawn Images. 5 مارچ 2020. اخذ شدہ بتاریخ 6 مارچ 2020. 
  6. Shakeel، Madiha (6 مارچ 2020). "Media production house suspends Khalil ur Rehman Qamar". Business Recorder. اخذ شدہ بتاریخ 6 مارچ 2020.