ہمدانی یہود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہمدان کے یہودیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ ؁ ۵۸۶ قبل مسیح میں بیت المقدس کے بخت نصر سے واگزار ہونے کے بعد اس شہر میں وارد ہوئے اور انہی زمانوں سے یہاں رہائش پزیر ہیں۔ کثرت آبادی کی بنا پر ہمدان کے یہودیوں کے اپنے کنائس ، مذہبی مدارس ، رسم و رواج اور بازار ان کے اپنے فرامین کے مطابق تھے۔[1][2]

گزرتے وقت کے ساتھ یہودی ہمدان شہر کے مضافاتی علاقوں ، شہروں میں جا کر بستے رہے جس کی وجہ سے ہمدان شہر میں ان کی آبادی خاصی کم ہو گئی اس کے باوجود ہمدان شہر میں ان کے ایک مقدس مقام اور جائے عبادت جسے آرامگاه استر و مردخای کہا جاتا ہے اور جو ہمدان شہر کے چنیدہ تاریخی مقامات میں سے ہے کی اہمیت کم نہ ہوئی اور اب بھی سال میں سینکڑوں زائرین یہاں حاضری دیتے ہیں۔[1]


ہمدان کی طرف یہودیوں کی ہجرت[ترمیم]

کچھ تذکروں میں یہودیوں کی ایران میں آمد کے بارے میں ؁ ۵۳۹ قبل مسیح کا ذکر ملتا ہے، لیکن یہودی اس وقت کتنی تعداد میں ایران پہنچے اس ضمن میں مصدقہ حقائق دستیاب نہیں۔ ہمدان کے یہودیوں میں سے کچھ خود کو اولاد شمعون (نسل یعقوب) اور بعض اپنے آپ کو نسل داؤد میں سے کہتے ہیں۔ ہخامنشی اور پارسی بادشاہوں کے عہد میں ہمدان ایک گنجان آباد شہر تھا اور اسی وجہ سے یہاں ایران کے یہویوں کی بھی کثیر تعداد آباد تھی۔ ایران آنے والے یہودی شروع میں زراعت اور گلہ بانی کے پیشوں سے وابستہ تھے۔ لیکن بعد میں ایران کی سماجی تبدیلیوں کے زیر اثر انہوں نے مختلف پیشے اپنا لیے جیسے لباس اور عطر بیچنے کے کام وغیرہ۔ بعد کی صدیوں میں وہ علمی سرگرمیوں اور پیشوں جیسے دفاتر کا کام، تعلیم ، طبی ،سائنسی اور تکنیکی کاموں کی جانب بھی آگئے۔[3]


ہمدان میں آستر و مردکی کی آرام گاہ[ترمیم]

ہمدان میں ایرانی اور عالمی یہودیوں کے مقدس اور اہم ترین مقامات ہیں۔ جن میں سے ایک مقبرہ آستر و مردکی ہے جو ہمدان میں یہودیوں کی آبادی و قیام کی اہم وجہ بھی ہے۔ اسے ایران کے محکمہ آثار قدیمہ نے بہت اہمیت کا حامل قرار دیا ہوا ہے۔ یہودیوں کے علاوہ بے شمار ایرانی اور بین الاقوامی سیاح بھی اسے دیکھنے آتے ہیں۔[3]

ہمدان کے یہودیوں کی زبان[ترمیم]

ہمدان کی یہودیوں کی زبان پہلوی (دری) تھی۔ یہ زبان بولنے میں الفاظ قدرے اختصار سے ادا کیے جاتے تھے اور یہودی اپنے طور پر اسے راجی زبان کہتے تھے۔ یہ زبان آج بھی کچھ یہودی خاندانوں میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کے وجود میں آنے کے تاریخی شواہد دستیاب نہیں لیکن گمان یہی کیا جاتا ہے کہ یہ زبان منگولوں کے عہد میں وجود میں آئی۔ لیکن اس زبان کی زرتشتی زبان سے شباہت سے اس کی تاریخ کو یہودیوں کے ایران آنے کے دور پر گمان کیا جاتا ہے۔[3]

علمی ادبی آگہی[ترمیم]

ہمدان کے یہود، سال ۱۹۱۷ء میں

اکثر یہودی فارسی میں لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، لہذا وہ صرف عبرانی تک ہی محدود تھے۔ اس لیے جب وہ کچھ ذاتی مدعا لکھنا چاہتے تو عبرانی فارسی میں لکھتے یعنی حروف عبرانی سے عبارت فارسی لکھتے تھے۔ اسی طرح کنیساؤں میں کچھ مذہبی کتب مثلاً تراجم صحف مقدس بھی خط عبرانی اور فارسی (فارسیهود) میں لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ ہمدان کے یہودی عبرانی پڑھنے (لکھنا پڑھنا) عموماً کنیساؤں یا ان اسکولوں میں میں جایا کرتے تھے جہاں عبرانی پڑھائی جاتی تھی۔ ایک عرصے تک بچوں اور نوجوانوں کو ایک مقامی اسکول میں عبرانی کی تعلیم دی جاتی رہی جو «گَن یلادیم» کہلاتا تھا جسے آج کل کنڈر گارٹن کہا جاتا ہے۔

کافی عرصے بعد الائنس اسکول تہران کے بعد ہمدان میں بھی قائم ہوا۔ الائنس اسکول کے قیام سے پہلے ہمدان کے یہودیوں کی زندگی میں مادی، روحانی ،سماجی آگہی اور معاشرتی احتیاط کی حالت چنداں بہتر نہ تھی۔ . علی‌خان ظهیرالدوله حاکم همدان (داماد ناصرالدین شاه) اپنی یادداشتوں میں تأسیس الائنس اسکول همدان کے بارے میں لکھتا ہے :

«جمعہ کے دن ظہر سے دو گھنٹے قبل الائنس اسکول میں دعوت تھی، میں وہاں پہنچا۔ جس مکان میں اسکول قائم کیا گیا ہے وہ جگہ اس کے لیے قطعی مناسب نہیں، دو تین کمروں کا ایک مکان جس میں دروازے بھی پورے نہیں، کرایہ پر لیا گیا ہے۔ ۴۰۰ لڑکے اور ۸۰ لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔ اکثر طلبہ یہودی ہیں (کیونکہ الائنس خود ایک یہودی ادارہ ہے) تین اساتذہ برطانوی اور فرانسیسی ہیں جو مذہبا یہودی ہیں۔ پانچ چھ سال کے بچوں کو فرانسیسی سکھانا شروع کرتے ہیں اپنے کام کے ماہر اور مخلص ہیں۔ اسی وجہ سے چھوٹے سے لے کر بڑے طلبہ تک سب فرانسیسی خوب بول لیتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو فارسی کم اور فرانسیسی زیادہ جانتے ہیں۔ گویا الائنس کے اساتذہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں ایسے پڑھائیں کہ بچے اپنے دیس اور ماں باپ کی زبان بھول کر فرانسیسی سیکھ جائیں۔ اساتذہ نے بتایا کہ ان کے اسکول دنیا کے بیشتر ممالک ما سوائے ترقی یافتہ ممالک کے قائم ہیں اور مجھے ان کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ ہیڈ ماسٹر نے بتایا کہ پوری دنیا میں ہمارے پینتالیس ہزار طلبہ ہیں …»۔

آگے چل کر ایک اور جگہ ظہیر الدولہ لکھتا ہے:

بدھ کی صبح جب میں گیا تو وہ لوگ تعمیر و مرمت کے کام میں مصروف تھے کچھ اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے کچھ پلستر وغیرہ کر رہے تھے۔ الائنس اسکول کے شاگرد جو اسرائیلی (یہودی) ہیں ،اپنے فرنگی اساتذہ کی زیر نگرانی بڑے منظم ہیں۔ چار سو کی تعداد ہے، جس میں ایک لڑکیوں کا بھی اسکول ہے، لڑکیوں کی بھی زیادہ تعداد اسرائیلی (مراد اس کی یہودی) ہے۔ یعنی ۷۰،۸۰ طالبات یہودی ۱۰ سے ۱۵ مسلمان ہیں۔ اینٹیں لگانے کے بعد انہوں نے ایک نظم پڑھی اور شکر ادا کیا کہ یہودی پہلے تمام زمانوں کی نسبت زیادہ آرام و آسائش اور آزادی سے زندگی گزار رہے ہیں۔

الائنس اسکول ہمدان کے اساتذہ و تربیت کار انتہائی ماہر تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر سال ہمدان کے اسکولوں کےامتحانات اور تعلیمی مقابلوں میں اوّل دوم اور سوم آنے والے الائنس اسکول کے طلبہ و طالبات میں سے ہوتے تھے اس کے علاوہ کھیلوں میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انقلاب اسلامی کے ایک سال بعد تک الائنس اسکول چلتا رہا اس کے بعد یہودیوں جے زیادہ تعداد میں نقل مکانی کر جانے پر یہاں ایک اور اسکول بنا دیا گیا۔[3]

ہمدان کے یہودیوں کی تعداد[ترمیم]

فرانسیسی سیاح ہنری بائندرجس نے انیسویں صدی کے اواخر میں ہمدان کا دورہ کیا تھا ، اپنے سفرنامے «کردستان، بین‌النهرین اور پرشیا کا سفر» مطبوعہ ۱۸۸۷، میں لکھتا ہے؛

....حقیقت میں همدان شہر جو کہ دور صفوی میں دوبارہ آباد ہوا،‌ ایک دوسرے درجے کی حیثیت و اہمیت کا شہر ہے.اس کی آبادی تیس ہزار ہے جس میں زیادہ تعداد یہودیوں کی ہے۔[4]

درج ذیل جدول ہمدان شہر میں یہودیوں کی تعداد میں تغیر و تبدیل کو ظاہر کرتی ہے۔

مصنف ماخذ دور ہمدان میں مقیم یہودیوں کی تعداد
بنیامین تودولایی چھٹی صدی ہجری کا وسط (مصدقہ ہونے کی صورت میں)
۵۰٫۰۰۰ افراد
لوئیس دبو ۱۸۱۸ عیسوی ۶۰۰ گھرانے
بنیامین دوم ۱۸۵۰ عیسوی ۵۰۰ گھرانے
تامسون ۱۸۶۸ عیسوی ۲۰۰۰ افراد
اقریم نیومارک ۱۸۸۵ عیسوی ۵۰۰ گھرانے
۵۰۰۰ افراد
ویلیامز جکسن ۱۹۰۳ عیسوی ۵۰۰۰ افراد
ہایده سہیم ۱۳۵۳ ہجری شمسی ۳۵۰ افراد
مہرداد نغزگوی کہن ۱۳۸۷ ہجری شمسی (اندازہً)
۱۰ افراد[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ غزگوی کهن، مهرداد. نگاهی به فرهنگ و زبان یهودیان همدان. . فرهنگ مردم، ش. ۲۶ (تابستان ۱۳۸۷): ۱۳۸.
  2. همدان دروازهٔ تاریخ، ص ۱۰۶
  3. ^ ا ب پ ت "انجمن کلیمیان تهران" (بزبان فارسی). 7 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ ۱ مهر ۱۳۹۰. 
  4. بایندر،‌هنری. سفرنامۀ‌ هنری بایندر: کردستان، بین‌النهرین و ایران، ترجمۀ‌ کرامت‌الله افسر، تهران: انتشارات فرهنگسرا (یساولی)، چاپ اول: ۱۳۷۰؛ ص ۴۳۲.