اعوان
اعوان قوم جنوبی ایشیا میں، پاکستان کے پنجاب کے مغربی حصوں میں ایک قبیلہ ہے. اعوان قوم عربی النسل ہونے کا دعویٰ کرتی ہے کہ وہ چوتھے خلیفہ حضرت علی کرم اللہ کی اولاد ہیں. اعوان قوم کا سلسلہ نصب حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے. ۔اعوان قوم کوہ نمک کے علاقے وادی سون سکیسر وغیرہ میںساتویں صدی عیسوی میں عرب حملہ آوروں کے دور میں یہاں آ ئی تھی. اعوانوں کو کم از کم پاکستان میں سب سے بڑا قبیلہ مانا جاتا ہے جو خیبر سے کراچی و بلوچستان پنجاب تک میں آباد ہے۔ سندھی‘ بلوچی‘ ہندکو اور پشتو بولنے والے اعوان بھی جگہ جگہ مل جاتے ہیں۔[1]
فہرست |
[ترمیم] حضرت عون قطب شاہ
اعوان قوم کے جد امجد حضرت عون قطب شاہ ایک نہایت درویش، صوفی، دلیر مجاھد انسان تھے۔ آپ کی تاریخ پیدائش کے متعلق وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے، البتہ آپ ۵۲۵ھ میں تبلیغ اسلام بسلسلہ قادریہ بحکم جناب شیخ عبدالقادر جیلانی ہندوستان وارد ہوئے۔
عون قطب شاہ کی ہندوستان آمد کے ساتھ ہی پہلا معرکہ دھن کوٹ کمیلا بھنگ خیل نزد کالا باغ سے ہوا۔عون قطب شاہ کامیاب ہوئے مخالف نے اسلام قبول کیا بعد میں سکیسر راجگان کو زیر کیا اور گجرات تک چلے گئے۔واپسی پر تلہ گنگ کے مقام پراعوان محل تیار کیا اس کا تذکرہ آئینہ اکبری میں موجود ہے۔ علاقہ پکھڑدھن پنڈی وغیرہ سے کافی راجگان بھگوڑے ہو کر سکیسر آئے عون قطب شاہ ان کی سر کوبی کے لئے وارد ہوئے علاقہ کو مطیع کیا جنوب میں خانقاہ ڈوگراں تک چلے گئے، اس کے بعد خاندان کے ہمراہ بغداد عازم سفر ہوئے ۔عون قطب شاہ نے۵۵۶ھ میں وفات پائی آپ کا مزار کاظمین شریف کے قبرستان میں غوث پاک کے پاؤں کی جانب ہے۔[2]
[ترمیم] حضرت گوہر شاہ عرف گورڑا
اعوان خاندان کے پہلے بزرگ وادی سون سکیسر میں داخل ہوئے ان کا نام گرامی گوہر شاہ عرف گورڑا تھا‘ خوشاب سے آنے والی سڑک جب نورے والے کے مقام سے سون کے پہاڑ پر تین میل اوپر چڑھتی ہوئی پہاڑ کے اوپر وادی سون سکیسر کے منہ پر پہنچتی ہے وہاں ایک مقام ہے جسے دادا گورڑا کہتے ہیں کیونکہ وہاں پر دادا گورڑا (گوہر شاہ) نے قیام کیا تھا.[3] رفتہ رفتہ اعوان ساری وادی پر قابض ہو گئے اور آج تک وادی سون سکیسر کو اعوانوں کے گڑھ کی حیثیت حاصل ہے۔ اسکے علاوہ چکوال میں بلخصوص ڈھڈیال میں اعوان خاندان موجود ہیں۔ اعوان پابندیٔ شریعت اور حفظ قرآن حکیم کے لئے مشہور رہے ہیں‘ اعوان قبیلہ نے بے شمار اور بہترین حافظ قرآن پیدا کئے‘ بعض لوگ تصور کرتے ہیں کہ اعوانوں کے علاقہ کو اعوان کاری اسی لئے کہتے ہیں کہ وہاں کے قاری اچھے ہیں.[4]
[ترمیم] شجرہ نسب حضرت عون قطب شاہ
علامہ جمال الدین حسن بن یوسف بن المتاهر الحیلی (١٢٥٠- ١٣٢٥) نے اپنی تصنیف "خلاصتہ الانصاب" میں حضرت عبد اللہ ، عون قطب شاہ اعوان کا حسب ذیل شجرہ نسب درج کیا ہے .
حضرت علی ابن ابی طالب
حضرت امام عباس بن علی
حضرت عبید اللہ بن عباس
حضرت حسن بن عبید اللہ
حضرت حمزہ بن حسن
حضرت جعفر بن حمزہ
حضرت علی بن جعفر
حضرت قاسم بن علی
حضرت امام طیار بن علی
حضرت حمزہ بن امام طیار
- حضرت یعلی بن حمزہ
حضرت عبد اللہ ، عون قطب شاہ اعوان
یہ ابھی نامکمل مضمون ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ اعوانوں کی تاریخ و اصلیت. ڈاکٹر ظہور احمد اعوان
- ^ وا دی سو ن, شاہ دل اعوان
- ^ اعوانوں کی تاریخ. علامہ یوسف جبرئیل
- ^ اعوانوں کی تاریخ. علامہ یوسف جبرئیل