افغانستان کا نام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

افغانستان کے لغوی معنی افغانوں کی سرزمین کے ہیں۔[1] یہ لفظ افغان سے بنا ہے۔ تاریخی طور پر لفظ افغان کا اطلاق پشتون پر ہوتا ہے جو افغانستان کی سب سی بڑی نسلی آبادی ہے۔ [1][2][3] افغانستان نام کا سب سے پہلا حوالہ دسویں صدی کی جغرافیہ کی کتاب حدود العالم میں ملتا ہے۔[4] لفظ افغانستان کا دوسرا حصہ -ستان ایک فارسی لاحقہ ہے جس کے معنی جگہ، زمین یا سرزمین کے ہیں۔

انیسویں صدی کے اوائل میں افغان سیاست دانوں نے درانی سلطنت کے لیے لفظ افغانستان کا انتخاب کیا کیونکہ اس لفظ کا انگریزی ترجمہ پہلے ہی قاجار خان اور برطانوی راج کے ساتھ معاہدوں میں استعمال کیا جا چکا تھا۔ [5] 1857ء میں فریڈرک ک اینگ اپنی کتاب جنگ افغانستان میں افغانستان کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

افغانستان فارس اور ہند کے درمیان میں ایشیا کا ایک وسیع ملک ہے، دوسری جانب سے یہ ہندو کش اور بحر ہند کے درمیان میں پڑتا ہے۔ اس کے صوبہ جات میں فارس کا صوبہ خراسان، کشمیر اور سندھ شامل ہیں، خطہ پنجاب کا ایک حصہ بھی شامل ہے۔ اور اس کے مرکزی شہر کابل، غزنی، پشاور اور قندھار ہیں۔“[6]

اینگلو-افغان معاہدہ 1919ء کے بعد افغانستان کو ایک خود مختار ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔[7][8]

افغان کاری[ترمیم]

یہ بات اب مسلم ہے کہ پشتون اور افغان ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔[2] ایسا ہی کچھ پشتون کے قومی شاعر خوشحال خان خٹک نے لکھا ہے۔

اپنی تلوان میان سے باہر کرو اور مارو ان سب کو

جو کہتے ہیں کہ پشتون اور افغان ایک نہیں ہیں! یہ ایسی بات ہے جس کا اعتراف عرب بھی کرتے ہیں اور رومن بھی۔ افغان ہی پشتون ہیں اور پشتون ہی افغان ہیں۔[9]

افغان کاری یا پشتون کاری کا سلسلہ آٹھویں صدی سے موجودہ افغانستان اور مغربی پاکستان میں چلا۔ یہ ایک ثقافتی اور لسانیاتی عمل ہے جس کے ذریعے غیر پشتون پشتون بن جائیں یا غیر افغان افغان بن جائیں۔

آٹھویں اور نویں صدی میں موجودہ ترک زبانیں بولنے والے افغان کے اجداد سلسلہ کوہ ہندوکش کے علاقے میں آباد ہوئے اور وہاں پر موجود پشتون قبائل سے ان کی زبان اور تہذیب سیکھنی شروع کی۔[10]

افغان خاندان[ترمیم]

محمود غزنوی کے سکریٹری نے ایک کتاب تاریخ یمینی میں لکھا ہے کہ سلطنت غزنویہ کے بادشاہ سبکتگین کے دربار میں دسویں صدی میں افغانیوں کو جگہ ملی[11] جسے بعد میں غوری خاندان کے دور میں بھی جاری رکھا گیا۔ [12] 1290ء میں جب خلجی خاندان کا سورج طلوع ہوا تو افغان کی قسمت بھی چمکنے لگی اور بھارت کی سلطنت دہلی میں ان کو ایک نئی پہچان ملی۔ بعد کی لودھی سلطنت اور سوری سلطنت نے دکھلایا کہ کس طرح افغان ترقی کرتے کرتے حکمران بن گئے جن کی حکومت مشرق میں بنگلہ دیش تک پھیلی ہوئی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب Erinn Banting۔ Afghanistan: The land۔ Crabtree Publishing Company۔ صفحات 4, 32۔ آئی ایس بی این 978-0-7787-9335-9۔ مورخہ 2013-12-31 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. ^ ا ب Ch. M. Kieffer (15 دسمبر 1983)۔ "Afghan"۔ Encyclopædia Iranica (اشاعت online۔)۔ Columbia University۔ مورخہ 2013-11-16 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. "General Information About Afghanistan"۔ Abdullah Qazi۔ Afghanistan Online۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-09-27۔
  4. Willem Vogelsang۔ The Afghans۔ Wiley Blackwell۔ صفحہ 18۔ آئی ایس بی این 0-631-19841-5۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-08-22۔
  5. E. Huntington, "The Anglo-Russian Agreement as to Tibet, Afghanistan, and Persia"، Bulletin of the American Geographical Society, Vol. 39, No. 11 (1907)۔
  6. فریڈرک اینگلز۔ "Afghanistan"۔ Andy Blunden۔ The New American Cyclopaedia, Vol. I۔ مورخہ 2014-04-27 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 اگست 2010۔
  7. M. Ali, "Afghanistan: The War of Independence, 1919"، 1960.
  8. Afghanistan's Constitution of 1923 under امان اللہ خان (English translation)۔ نسخہ محفوظہ اکتوبر 6, 2013, در وے بیک مشین
  9. Extract from "Passion of the Afghan" by خوشحال خان خٹک; translated by C. Biddulph in Afghan Poetry Of The 17th Century: Selections from the Poems of Khushal Khan Khattak، London, 1890.
  10. "Islamic Conquest"۔ Craig Baxter۔ کتب خانہ کانگریس مطالعہ ممالک on افغانستان۔
  11. "Ameer Nasir-ood-Deen Subooktugeen"۔ محمد قاسم فرشتہ، History of the Rise of Mohammedan Power in India, Volume 1: Section 15۔ Packard Humanities Institute۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-12-31۔ The پشتون and Khaljies who resided among the mountains having taken the oath of allegiance to سبکتگین، many of them were enlisted in his army, after which he returned in triumph to غزنی
  12. M. Th. Houtsma۔ E.J. Brill's first encyclopaedia of Islam 1913–1936۔ BRILL۔ صفحات 150–51۔ آئی ایس بی این 90-04-09796-1۔ مورخہ 24 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-08-23۔