فضل الرحمٰن (سیاست دان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(مولانا فضل الرحمٰن سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search


فضل الرحمٰن (سیاست دان)
(پشتو میں: فضل الرحمٰن ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Fazl-ur-Rehman (30287690872) (cropped).jpg
 

مناصب
رکن چودہویں قومی اسمبلی پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن مدت
5 جون 2013  – 31 مئی 2018 
حلقہ انتخاب حلقہ این اے۔24 
پارلیمانی مدت چودہویں قومی اسمبلی 
معلومات شخصیت
پیدائش 19 جون 1953 (67 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عبدول خیل  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت جمعیت علمائے اسلام
جمیعت علمائے اسلام  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد اسد محمود  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد مفتی محمود  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عطاالرحمان،  لطیف الرحمان،  ضیاءالرحمن  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعۂ پشاور
جامعہ الازہر  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ مولانا حسن جان،  سيّد شير على شاه  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان پشتو،  اردو،  عربی،  انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

فضل الرحمٰن پاکستان کے مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) گروپ کے مرکزی امیر اور اسی جماعت کے سابق سربراہ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے ہیں۔ آج کل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اتحادی ہیں جبکہ اسی حکومت میں بطور رکن قومی اسمبلی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ اہل سنت کے مدرسہ دیوبند کے پیروکار ہونے کے باعث وہ دیوبندی حنفی کہلاتے ہیں۔ فضل الرحمان کی جما عت جمعیت علما اسلام (ف) پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بہت اثر ورسوخ رکھتی ہے۔ بلوچستان میں ہمیشہ ان کی جماعت کے بغیر کوئی پارٹی حکومت نہیں بنا سکی ہے۔[حوالہ درکار] اور خیبرپختونخوامیں بھی اس وقت اپوزیشن لیڈر جمعیت علما اسلام (ف) کے لطف الرحمن ہیں جو فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی ہیں جبکہ سینٹ میں ڈپٹی چیئرمین عبد الغفور حیدری بھی جمعیت علمائے اسلام ہی کے ہیں جو جماعت کے مرکزی جنرل سیکرٹری بھی ہیں[حوالہ درکار]

انہوں نے مشہور تحریک ایم آر ڈی میں قائدانہ کردار ادا کیا جو جنرل ضیاءالحق کے خلاف تھی جن میں ان کے ساتھ پیپلزپارٹی شریک تھی جس کی پاداش وہ 2 سال تک جیل میں بھی رہے ان کا کردار حکومت کی بائیں بازو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی میں 1992ء میں بڑھ گیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر اور افغانستان کے متعلق علاقائی پالیسی میں اپنا کردار موؑثر طور پر ادا کیا۔ وہ 1988ء میں قومی سطح کی سیاست میں آئے اور پہلی بار رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ فضل الرحمٰن 19 جون، 1953ء کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے عبدالخیل میں پیدا ہوئے۔ صاحب نے اپنی ابتدائی تعلیم ایک مقامی دینی مدرسے میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے جامعہ پشاور سے 1983ء میں اسلامک اسٹڈیز میں بی۔ اے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اس کے بعد وہ مصر کے جامعہ الاظہرمیں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گئے اور وہاں سے ایم۔ اے کا امتحان پاس کیا۔ وہاں انہوں نے مذہبی علم ذات میں تعلیم حاصل کی اور اسی صنف میں تحقیق کی -انہوں نے الاظہر یونیورسٹی سی ایم۔ اے کی سند حاصل کی۔ پاکستان واپسی پر انہوں نے 1988ء کے عام انتخابات میں حصہ لیا۔ انہوں نے 1988ء کے انتخابات جمعیت علما اسلام (ف) کے پلیٹ فارم سے لڑے تھے جو ایک اسلامی بنیاد رکھنے والی پارٹی ہے۔ بےنظیر بھٹو کے دور میں فضل الرحمن خارجہ کمیٹی کی سربراہ رہے۔ 2013ء کے انتخابات میں بھی اپنے حلقہ سے کامیابی ہوئ نواز شریف کی درخواست پر وفاقی حکومت میں شریک جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حزب اختلاف میں ہیں۔

ہندوستان کا سرکاری دورہ[ترمیم]

سال 2003ء میں صاحب نے ہندوستان کا ایک انتہائی اہم دورہ کیا جو سال 2002ء کے انتخابات بعد کسی سیاست دان کا ہندوستان کا پہلا دورہ تھا۔ اس وقت وہ ایم ایم اے کے قائد تھے جو دائیں بازو کی جماعتوں کا ایک بڑا اتحاد تھا۔ فضل الرحمٰن کے بارے میں نئی دہلی، ہندوستان میں پہلے سے یہ تأثر موجود تھا کہ وہ افغانستان میں طالبان کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان میں خارجہ تعلقات کو درست کرنے کے لیے فضل الرحمٰن نے جموں و کشمیر کے متعلق کئی عوامی بیانات دیے۔[حوالہ درکار] ہندوستان کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی صاحب ان سے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ملے اور ان کے لیے ایک سرکاری ریاستی کھانے کا اہتمام کیا۔ ہندوستانی میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمٰن نے کشمیر کو ایک علاقائی مسئلہ قرار دیا اور ان سے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین تجارت اور معاشی تعلقات بحال ہونے چاہئیں اور اس سے دونوں ملکوں کے درمیان میں اعتماد میں اضافہ ہو گا۔[حوالہ درکار]

سیاسی کیریئر[ترمیم]

فضل الرحمٰن نے اپنے والد مفتی محمود کی وفات کے بعد 27 سال کی عمر میں 1980 میں جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل کے طور پر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا جو اپنی موت سے قبل جمعیت علمائے اسلام کے رہنما تھے۔ جمعیت علمائے اسلام بعد میں سن 1980 کی دہائی کے وسط میں فاضل کے زیرقیادت مرکزی دھڑا جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ فضل الرحمٰن 1988 میں ہونے والے پاکستانی عمومی انتخابات میں پہلی بار ڈی آئی خان کی نشست سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد اس نے افغان طالبان سے رابطے کیے۔ فضل الرحمٰن ڈی آئی خان کے سیٹ سے دوسری مرتبہ 1990 میں پاکستانی عام انتخابات میں پاکستان کی قومی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب لڑے تھے لیکن وہ انتخاب میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔فضل الرحمٰن 1993 میں پاکستانی جماعتی انتخابات میں دوسری مرتبہ ڈی آئی خان نشست سے اسلامی جہموری محاذ کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ فضل الرحمٰن کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ فضل الرحمٰن نے چوتھی بار پاکستانی عام انتخابات میں 1997 میں قومی اسمبلی پاکستان کی نشست کے لیے انتخاب لڑا تھا لیکن وہ انتخاب میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ 2001 میں افغانستان میں جنگ کے بعد فضل الرحمٰن نے پاکستان کے بڑے شہروں میں کئی امریکی مخالف مظاہروں اور طالبان نواز ریلیوں کی قیادت کی۔ انہوں نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دھمکی دی کہ اگر یہ بمباری جاری رہی تو امریکا کے خلاف جہاد کرنے کی دھمکی دی جائے گی۔ . انہوں نے صدر پاکستان پرویز مشرف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور متنبہ کیا کہ اگر وہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کی حمایت کرتے رہے تو ان کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔ اکتوبر 2001 میں ، پرویز مشرف نے پاکستان کے شہریوں کو افواج پاکستان کے خلاف اکسانے اور حکومت پاکستان کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے پر اپنے آبائی گاؤں عبد الخیل میں فاضل کو نظربند رکھا۔ بعد ازاں مارچ 2002 میں ، فضل الرحمٰن کو رہا کر دیا گیا اور ان کے خلاف مقدمات واپس لے لیے گئے۔ فضل الرحمٰن 2002 میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر تیسری مرتبہ پاکستانی عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے دو نشستوں ، این اے 24 اور این اے 25 پر کامیابی حاصل کی ، بعد میں اسے خالی کر دیا گیا۔ الیکشن جیتنے پر ، فضل الرحمٰن پاکستان کے وزیر اعظم کے عہدے کے ممکنہ امیدوار بن گئے لیکن ان کی تقرری نہیں ہوئی۔ انہوں نے 2004 سے 2007 تک حزب اختلاف کے رہنما کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 2007 میں ، فضل الرحمٰن نے پاکستان میں اس وقت کے امریکی سفیر ، این پیٹرسن کو عشائیہ کے موقع پر مدعو کیا ، جس میں انہوں نے وزیر اعظم پاکستان بننے میں ان کی حمایت مانگی اور امریکا کے دورے کی خواہش کا اظہار کیا۔ رحمان نے 2008 میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیے چھٹی بار متحدہ مجلس عمل کے دو حلقوں ، این اے 24 ، ڈی آئی سے متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر انتخاب کیا تھا۔ خان جو ان کا روایتی حلقہ ہے اور این اے 26 ، بنوں ستمبر 2008 میں ، وہ پاکستان کی قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ فضل الرحمٰن بنوں کے حلقہ انتخاب سے متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر چوتھی بار پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ، لیکن وہ ڈی آئی میں الیکشن ہار گئے۔ خان حلقہ۔ 2008 تک ، فضل نے خود کو طالبان سے دور کر دیا اور خود کو اعتدال پسند قرار دیا۔ مئی 2014 میں ، وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں کشمیر سے متعلق قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کے چیئرمین ہونے کے لیے وفاقی وزیر کا درجہ دے دیا۔ اگست 2017 میں ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے انہیں دوبارہ ایک ہی درجہ دیا۔ 31 مئی 2018 کو قومی اسمبلی کی مدت ملازمت ختم ہونے پر تحلیل ہونے پر ، انہوں نے وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز ہونا چھوڑ دیا۔ مارچ 2018 میں ، وہ متحدہ مجلس عمل کے سربراہ بن گئے۔ فضل الرحمٰن نے ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقوں ، این اے 38 اور این اے 39 سے 2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی پاکستان کی نشست پر انتخاب کیا لیکن وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ 27 اگست 2018 کو ، پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں نے انہیں 2018 کے صدارتی انتخابات میں امیدوار نامزد کیا۔ 4 ستمبر 2018 کو ، اس نے انتخاب میں عارف علوی (352) اور اعتزاز احسن (124) سے آگے انتخابی ووٹ حاصل کیے۔

حوالہ جات[ترمیم]