بابری مسجد کا انہدام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بابری مسجد کا انہدام
ایودھیا is located in بھارت
ایودھیا
ایودھیا
ایودھیا (بھارت)
مقام لوا خطا package.lua میں 80 سطر پر: module 'Module:Complex date' not found۔
تاریخ لوا خطا package.lua میں 80 سطر پر: module 'Module:Complex date' not found۔
نشانہ بابری مسجد
حملے کی قسم فتنہ و فساد
ہلاکتیں 2،000 (فسادات میں)[1]
مرتکبین وشو ہندو پریشد کے کار سیوک

بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر ایودھیا میں 6 دسمبر 1992ء کو ہندو کار سیوکوں کے ایک گروہ نے سولہویں صدی میں تعمیر شدہ بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔ یہ سانحہ ایودھیا میں منعقد سیاسی جلسے کے بعد پیش آیا جب جلسے نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا۔

ہندو دیومالا میں ایودھیا شہر کو رام کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے۔ سولہویں صدی میں مغل سالار میر باقی نے یہاں ایک مسجد تعمیر کرائی تھی جسے بابری مسجد کہا جاتا تھا۔ تاہم مسجد کے مقام کو بعض ہندو رام جنم بھومی مانتے ہیں یعنی ان کے بھگوان رام کی پیدائش اس جگہ پر ہوئی تھی۔ 1980ء کی دہائی میں وشو ہندو پریشد نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے ایک مہم چلائی جس کا مقصد یہ تھا کہ اس جگہ رام کے نام پر مندر تعمیر کرائی جائے۔ اس سلسلے میں کئی ریلیاں اور جلسے ہوئے جن میں رام رتھ یاترا اہمیت کی حامل ہے جس کی سربراہی ایل کے ایڈوانی نے کی تھی۔

6 دسمبر 1992ء کو وشو ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے ڈیڑھ لاکھ کار سیوکوں یعنی رضاکاروں کو ریلی کی خاطر جمع کیا۔ ریلی نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا اور حفاظتی حصار کو توڑ کر مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔ بعد کی تفتیش سے پتہ چلا کہ اس انہدام کی ذمہ داری 68 افراد پر عائد ہوتی ہے جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشو ہندو پریشد کے بہت سارے رہنما شامل تھے۔ تفتیش کے دوران میں کئی ماہ تک ہندو مسلم فسادات ہوتے رہے جن میں کم از کم 2،000 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔[1]

پس منظر[ترمیم]

ہندو عقائد کے مطابق رام جنم بھومی ایودھیا شہر میں واقع ہے لہذا اسے رام کی جائے پیدائش مانا جاتا ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر یہ مقام ہندو مذہب کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔[2] 1528ء میں جب شمالی ہندوستان پر مغلوں نے حملہ کیا تو اس جگہ مغل سالار میر باقی نے مسجد بنوائی جس کا نام مغل شہنشاہ بابر کے نام پر رکھا گیا۔[3] بعض مصادر میں درج ہے کہ میر باقی نے یہاں پہلے سے موجود رام مندر کو توڑ کر مسجد بنائی تھی۔ [حوالہ درکار] پچھلی چار صدیوں سے اس جگہ پر مسلمان اور ہندو دونوں عبادت کرتے آئے ہیں۔[4] 1859ء میں اس مقام پر پہلی بار ہندو مسلم فساد کا ذکر ملتا ہے۔ برطانوی حکومت نے مسجد کے بیرونی احاطے پر جنگلہ لگا کر اسے الگ کر دیا۔ یہ حالت 1949ء تک برقرار رہی اور اس کے بعد کسی نے چپکے سے مسجد کے اندر رام کے بت رکھ دیے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندو مہاسبھا کے رضاکاروں نے رکھے تھے۔ اس پر بہت لے دے ہوئی اور فریقین نے مقدمات دائر کر دیے۔ مسجد کے لوگوں نے بتوں کو مسجد کی بے حرمتی سے منسوب کیا۔ چنانچہ اس جگہ کو متنازع قرار دے کر مسجد کو مقفل کر دیا گیا۔[5]

1980ء میں وشو ہندو پریشد نے اس مقام پر رام مندر کی تعمیر کے لیے مہم چلائی اور بھارتیہ جنتا پارٹی اس کا سیاسی مہرہ بنی۔[6] اس فیصلے کو 1986ء میں ایک ڈسٹرکٹ جج کے اس فیصلے سے طاقت ملی جس میں کہا گیا تھا کہ مسجد کے دروازے کھول کر اس میں ہندوؤں کو عبادت کی اجازت دی گئی ہے۔[5]

ستمبر 1990ء کو بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے ایودھیا کی جانب رتھ یاترا شروع کی جس کا مقصد ہندو قوم پرستی کی تحریک کی حمایت تھا۔ ایڈوانی کو ایودھیا پہنچنے سے پہلے ہی بہار کی حکومت نے گرفتار کر لیا۔ اس کے باوجود کارسیوکوں یا سنگھ پریوار کے مظاہرین کی بڑی تعداد ایودھیا پہنچ گئی اور مسجد پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران میں ان کی نیم فوجی دستوں سے جھڑپ بھی ہوئی اور کئی کارسیوک مارے گئے۔ بی جے پی نے وی پی سنگھ کی حکومت کی حمایت ترک کر دی جس کے بعد نئے انتخابات لازمی ہو گئے۔ پارلیمان میں بی جے پی کی حیثیت مستحکم ہو گئی اور اترپردیش کی صوبائی اسمبلی میں اکثریت بھی ملی۔[7]

انہدام[ترمیم]

6 دسمبر 1992ء کو آر ایس ایس اور اس کے اتحادیوں نے لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ افراد مسجد کے پاس جمع کر لیے۔ اس دوران میں بی جے پی کے رہنماؤں نے تقریریں بھی کیں جن میں ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی قابل ذکر ہیں۔[8] چند ہی گھنٹوں میں مجمع میں ہیجان پھیلنے لگا اور نعرے بلند ہونے لگے۔ مسجد پر حملے کے پیشِ نظر پولیس کا پہرا لگا دیا گیا۔ تاہم دوپہر کے وقت ایک نوجوان پولیس کو چکمہ دے کر مسجد پر چڑھ گیا اور زعفرانی جھنڈا لہرا دیا۔ ہجوم نے اسے حملے کی نشانی سمجھا اور مسجد پر چڑھ دوڑے۔ پولیس کی تعداد انتہائی کم اور غیر مسلح تھی، سو وہ اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے۔ ہجوم نے کلہاڑیوں، ہتھوڑوں اور دیگر اوزاروں سے حملہ کر کے مسجد کو چند ہی گھنٹوں میں منہدم کر دیا۔[9][10] اس کے علاوہ ہندوؤں نے شہر کی کئی دیگر مساجد بھی توڑ ڈالیں۔[11]

2009ء میں جسٹس منموہن سنگھ لبرہان نے ایک رپورٹ مرتب کی جس میں 68 افراد کو بابری مسجد کے انہدام کا مرتکب قرار دیا گیا، ان میں زیادہ تر بی جے پی کے رہنما تھے۔ ان میں واجپائی، ایڈوانی، جوشی وغیرہ شامل تھے۔ اُس وقت کے اترپردیش کے وزیرِ اعلیٰ کلیان سنگھ پر بھی تنقید کی گئی کہ انہوں نے ایسے سرکاری افسران اور پولیس اہلکاروں کو وہاں تعینات کیا جن کے متعلق یقین تھا کہ مسجد کے انہدام کے وقت وہ خاموش رہیں گے۔[12] انجو گپتا اُس روز ایڈوانی کی سکیورٹی کے سربراہ تھے، انہوں نے بتایا کہ ایڈوانی اور جوشی کی تقریروں نے مجمع کو مشتعل کیا۔[13] رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ اُس وقت بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے انتہائی ہلکے انداز سے کارسیوکوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جو محض میڈیا کے سامنے اپنی شبیہ بہتر کرنے کی کوشش تھی۔ کسی نے کارسیوکوں کو مسجد کے محفوظ علاقے میں گھسنے سے روکنے یا اسے منہدم کرنے سے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ رپورٹ میں درج ہے:

رہنماؤں کا یہ رویہ واضح طور پر بتا رہا ہے کہ وہ سب اس عمارت کی تباہی کے لیے ایک تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ اگر یہ رہنما چاہتے تو مسجد کے انہدام کو بہ آسانی روک سکتے تھے۔[14]

سازشی الزامات[ترمیم]

2005ء کی مارچ بک میں انٹیلی جینس بیورو کے جائنٹ ڈائریکٹر مالوے کرشنا ڈھار نے دعویٰ کیا کہ بابری مسجد کے انہدام کی منصوبہ بندی دس ماہ قبل راشٹریہ سویم سنگھ، بی جے پی اور وی ایچ پی کے رہنماؤں نے کر لی تھی اور انہوں نے اس وقت کے وزیرِ اعظم نرسمہا راؤ کی طرف سے اس معاملے کو نمٹانے کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی۔ یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے بی جے پی/سنگھ پریوار کی ایک میٹنگ کو دیکھا جس میں بالکل واضح طور پر آنے والے مہینوں میں ہندوتو کے پرتشدد رخ اور مسجد کے انہدام پر کیے جانے والے تباہی کے رقص کی بھی مشق کی گئی تھی۔ آر ایس ایس، وی ایچ پی اور بجرنگ دل رہنما جو اس میٹنگ میں موجود تھے، مل کر نظم و ضبط سے کام کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس کی ٹیپیں انہوں نے اپنے افسرِ اعلیٰ کو دیں جن کے بارے میں یقین ہے کہ وہ وزیرِ اعظم نرسمہا راؤ اور وزیرِ داخلہ چاون کو بھی دکھائی گئی ہوں گی۔ مصنف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہر طرف ایک خفیہ معاہدہ تھا کہ ایودھیا سے ہندوتو کو بہترین سیاسی فائدہ حاصل ہوگا۔[15]

اپریل 2014ء کو کوبرا پوسٹ کے ایک اسٹنگ آپریشن میں دعویٰ کیا گیا کہ مسجد کا انہدام مشتعل ہجوم کی کارروائی نہیں تھی بلکہ سبوتاژ کی ایسی منصوبہ بندی تھی جس کے بارے میں کسی حکومتی ادارے کو خبر نہ ہو سکی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اس کی تیاری کئی ماہ قبل وشو ہندو پریشد اور شیو سینا نے الگ الگ کر رکھی تھی۔[16] آنند پٹوردھن کی ڈاکومنٹری "رام کے نام" [17] میں بھی انہدام سے پہلے کے واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

نتائج[ترمیم]

معاشرتی تشدد[ترمیم]

بابری مسجد اور اُس روز بہت سی دیگر مساجد کے انہدام سے مسلم طبقے میں اشتعال پھیل گیا اور کئی ماہ تک ہندو مسلم فسادات جاری رہے۔ اس دوران میں دونوں مذاہب کے پیروکاروں نے ایک دوسرے پر حملوں کے علاوہ گھروں اور دکانوں کی لوٹ مار اور عبادت گاہوں کا انہدام جاری رکھا۔ بی جے پی کے کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا اور حکومت کی جانب سے وی ایچ پی پر مختصر عرصے کے لیے پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے باوجود ممبئی، سورت، احمد آباد، کانپور، دہلی اور بھوپال سمیت بہت سے شہروں میں فسادات ہوتے رہے اور ان میں 2٫000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن کی اکثریت مسلمانوں کی تھی۔[9] دسمبر 1992ء اور جنوری 1993ء میں محض ممبئی کے فسادات میں 900 افراد کی ہلاکت اور 90 ارب روپے (3.6 ملین) کا مالی نقصان ہوا۔[18][19][20] مسجد کا انہدام اور اس کے بعد کے ہنگاموں نے 1993ء میں ممبئی حملوں کو تحریک دی۔ اس کے علاوہ آنے والی دہائی تک فسادات جاری رہے۔[21] جہادی گروہ بشمول انڈین مجاہدین نے بابری مسجد کے انہدام کو اپنی کارروائیوں کی وجہ قرار دیا۔[22][23]

تفتیش[ترمیم]

16 دسمبر 1992ء کو یونین ہوم منسٹری نے لب رہان کمیشن بنایا تاکہ مسجد کی تباہی کی تفتیش کی جا سکے۔ اس کی سربراہی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایم ایس لب رہان کو سونپی گئی۔ اگلے 16 برس میں 399 نشستوں کے بعد کمیشن نے 1٫029 صفحات پر مشتمل طویل رپورٹ وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کو 30 جون 2009ء کو پیش کی۔[24] اس رپورٹ کے مطابق 6 دسمبر 1992ء کو ایودھیا کے واقعات "نہ تو اچانک اور نہ ہی منصوبہ بندی کے بغیر ہوئے۔"[25] مارچ 2015ء میں بھارت کی عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائر کی گئی کہ چونکہ بی جے پی کی حکومت ہے، اس لیے سی بی آئی اس حکومت کے رہنماؤں بشمول ایل کے ایڈوانی اور راج ناتھ سنگھ کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں کر سکتی۔[26] عدالت نے سی بی آئی سے اپیل دائر کرنے میں تاخیر کی وجہ بیان کرنے کا حکم دیا۔[27][28]

اپریل 2017ء کا سپریم کورٹ کا حکم نامہ[ترمیم]

اپریل 2017ء کو عدالت عظمیٰ نے ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور ونے کٹیار کے علاوہ دیگر افراد پر سازش کے الزامات بحال کر دیے۔[29][30]

بین الاقوامی ردِ عمل[ترمیم]

شہر ایودھیا

بہت سے ہمسایہ ممالک نے بھارتی حکومت پر نکتہ چینی کی کہ وہ مسجد کے انہدام اور اس کے بعد ہونے والے مذہبی فسادات کو روکنے میں ناکام رہی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں مسلمانوں کی جانب سے ہندوؤں پر بھی حملے کیے گئے۔[31]

پاکستان[ترمیم]

پاکستان نے 7 دسمبر کو مسجد کے انہدام کے خلاف ہونے والے احتجاج کے پیشِ نظر اسکول اور دفاتر بند کر دیے۔[32] پاکستانی دفترِ خارجہ نے ہندوستانی سفیر کو طلب کر کے باقاعدہ شکایت درج کرائی اور وعدہ کیا کہ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کی جانب سے دباؤ ڈال کر ہندوستان میں مسلمانوں کے حقوق کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔[32] ملک بھر میں احتجاج جاری رہا اور مسلم ہجوم نے ایک ہی روز میں 30 مندروں کو آگ لگا کر اور بل ڈوزر کے ذریعے تباہ کر دیا۔ اس کے علاوہ لاہور میں ایئر انڈیا کے دفتر پر حملہ ہوا۔[32] مشتعل ہجوم نے ہندوستان اور ہندومت کی تباہی کے مطالبے کیے۔[32] اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی کے طلبہ نے تب کے ہندوستانی وزیرِ اعظم نرسمہا راؤ کے پتلے جلائے اور ہندوؤں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔[32] بعد کے برسوں میں ہزاروں پاکستانی ہندو جو انڈیا سیاحت کی غرض سے گئے تھے، انہوں نے طویل مدتی ویزے کی درخواستیں دیں اور کئی ہندوؤں نے شہریت کی درخواست جمع کرائی اور وجہ بتائی کہ پاکستان میں ان کے خلاف امتیازی سلوک اور نفرت میں اضافہ ہو گیا ہے۔[31]

بنگلہ دیش[ترمیم]

دسمبر 1992ء میں مسجد کے انہدام کے بعد بنگلہ دیشی مسلمانوں نے ہجوم کی شکل میں ملک بھر میں ہندو مندروں، دکانوں اور گھروں پر حملہ کر کے آگ لگا دی۔[33] دار الحکومت ڈھاکہ میں ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان میں ہونے والے میچ پر 5٫000 کے قریب افراد نے دھاوا بولنے کی کوشش کی اور میچ روک دیا گیا۔[33] ڈھاکہ میں ایئر انڈیا کے دفتر پر حملہ کر کے تباہ کر دیا گیا۔[32] دس افراد ہلاک بھی ہوئے اور گیارہ ہندو مندر اور بے شمار دکانیں بھی تباہ ہوئیں۔[33][34][35] نتیجتاً بنگلہ دیشی ہندوؤں نے 1993ء میں درگا پوجا کی تقریبات کو مختصر کر دیا اور مطالہ کیا کہ تباہ شدہ مندروں کی بحالی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔[33]

ایران[ترمیم]

آیت اللہ خمینی نے انہدام کی مذمت کی مگر پاکستان اور بنگلہ دیش کی نسبت نرم الفاظ استعمال کیے۔[32] انہوں نے ہندوستان سے مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔[32]

مشرقِ وسطیٰ[ترمیم]

خلیجی تعاون کونسل نے ابو ظبی کے اجلاس کے بعد بابری مسجد کے انہدام کی سختی سے مذمت کی۔ اس اجلاس میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں اس انہدام کو مسلم مقدس مقامات کے خلاف جرم قرار دیا گیا۔ رکن ممالک میں سے سعودی عرب نے اس کی سختی سے مذمت کی۔ متحدہ عرب امارات جن میں پاکستان اور بھارت کے باشندوں کی بہت بڑی تعداد رہتی ہے، نے اس پر زیادہ معتدل ردِ عمل ظاہر کیا۔ اس ردِ عمل میں بھارتی حکومت نے خلیج تعاون کونسل کے بیان کو اپنے اندرونی معاملات میں دخل اندازی قرار دیا۔ [حوالہ درکار]

متحدہ عرب امارات[ترمیم]

اگرچہ حکومت نے ان واقعات کی نرم الفاظ میں مذمت کی، متحدہ عرب امارات میں عوام میں کہیں زیادہ شدت سے ردِ عمل ظاہر کیا۔[36] سڑکوں پر احتجاج شروع ہو گیا اور مظاہرین نے ہندو مندروں اور دبئی میں ہندوستانی قونصل خانے پر پتھراؤ بھی کیا۔[36] ابو ظبی سے 250 کلومیٹر دور العین میں مظاہرین نے ہندوستانی اسکول کے زنانہ حصے کو آگ لگا دی۔[36] اس کے نتیجے میں اماراتی پولیس نے اس میں ملوث بہت سارے پاکستانی اور ہندوستانی تارکینِ وطن کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا۔ دبئی پولیس کے سربراہ ضحی خلفان نے اپنے ملک میں غیر ملکیوں کی جانب سے تشدد کی مذمت کی۔[36]

عوامی ثقافت میں[ترمیم]

1993ء میں بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے لجا نامی ایک ناول لکھا جو بنگلہ دیش میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہندوؤں کو دبائے جانے کے بارے تھا۔ ناول کی اشاعت کے بعد مصنفہ کو موت کی دھمکیاں دی گئیں اور تب سے مصنفہ ملک سے باہر مقیم ہے۔[37] ملیالم مصنف این ایس مدھون کی کہانی تھیراتھو بابری مسجد کے انہدام پر لکھی گئی ہے۔ انتارا گنگولی کا 2016 کا ناول تانییہ تانیہ ایودھیہ واقعات اور مسجد کی تباہی کے بعد کے ہنگاموں کے بارے ہے۔

بالی ووڈ کی فلم موسم بھی انہدام سے متعلق واقعات کے بارے ہے۔[38] یہ واقعات کئی دیگر فلموں جیسا کہ بامبے (1995) میں بھی دکھائے گئے ہیں۔[39] دیوانامتھی (2005) میں کیرالہ کے مسلمانوں کے بارے بتایا گیا ہے کہ انہدام سے ان پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔[40] بامبے اور دیوانامتھی نے نیشنل فلم ایوارڈ میں نرگس دت ایوارڈ برائے بہترین فیچر فلم جیتے۔[41][42] بلیک فرائی ڈے فلم 1993 میں ممبئی حملوں کو بنیاد بنایا گیا ہے جو بابری مسجد کے انہدام سے متعلق تھے۔ انہدام کے بارے نسیم (1995)، اسٹرائیکر (2010)، سلم ڈاگ ملینئر (2008) اور 7 خون معاف (2011) میں بھی ان واقعات کو دکھایا گیا ہے۔[43]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "خط زمانی: ایودھیا کے مقدس مقام کا بحران"۔ بی بی سی نیوز۔ 17 اکتوبر 2003ء۔ 
  2. رشیدہ بھگت (28 ستمبر 2010ء)۔ "ایودھیا کا چیستاں"۔ دی ہندو بزنس لائن۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 ستمبر 2010ء۔ 
  3. نارائن 1993.
  4. جین 2013، صفحہ۔ 9, 120, 164.
  5. ^ ا ب "خط زمانی: ایودھیا کے مقدس مقام کا بحران"۔ بی بی سی نیوز۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 مارچ 2014ء۔ 
  6. "بابری مسجد معاملہ: بی جے پی کے رکن پارلیمان نے وقتی قرار دیا - دی ٹائمز آف انڈیا"۔ Timesofindia.indiatimes.com۔ 2014-07-22۔ اخذ کردہ بتاریخ 2014-08-18۔ 
  7. رام چندر گوہا (2007)۔ انڈیا آفٹر گاندھی۔ مک ملن۔ صفحات 633–659۔ 
  8. مارک تولی (5 دسمبر 2002ء)۔ "Tearing down the Babri Masjid"۔ بی بی سی نیوز۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 ستمبر 2010۔ 
  9. ^ ا ب رام چندر گوہا (2007)۔ انڈیا گاندھی کے بعد۔ مک ملن۔ صفحات 582–598۔ 
  10. "Report: Sequence of events on December 6"۔ Ndtv.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 جون 2012ء۔ 
  11. Symbolism in Terrorism: Motivation, Communication, and Behavior - Jonathan Matusitz - Google Books۔ Books.google.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2016-05-18۔ 
  12. "Uproar over India mosque report: Inquiry into Babri mosque's demolition in 1992 indicts opposition BJP leaders"۔ الجزیرہ۔ 24 نومبر 2009ء۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جولائی 2014۔ 
  13. ونکاتیسان، وی۔ (16 جولائی 2005). "In the dock, again". فرنٹ لائن 22 (15). http://www.frontline.in/static/html/fl2215/stories/20050729006101200.htm. 
  14. "Report: Sequence of events on December 6"۔ این ڈی ٹی وی۔ 23 نومبر 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-12-05۔ 
  15. "Babri Masjid demolition was planned 10 months in advance: Book"۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا۔ 30 جنوری 2005۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 دسمبر 2011۔ 
  16. "Babri Masjid demolition was well-planned in ahead: Cobrapost sting"۔ IANS۔ news.biharprabha.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 اپریل 2014۔ 
  17. "RAM KE NAAM": FILM about Babri Masjid and Ram Janm-Bhoomi (With ENGLISH Subtitles) - YouTube
  18. جرالڈ ڈی۔ گورٹ (2002)۔ Religion, conflict and reconciliation: multifaith ideals and realities۔ رودوپی۔ صفحہ 248۔ آئی ایس بی این 90-420-1460-1۔ 
  19. ERCES Online Quarterly Review وثق شدہ بتاریخ 10 جولائی 2011 در وے بیک مشین Religious Identity of the Perpetrators and Victims of Communal Violence in Post-Independence India
  20. Votes and Violence: Electoral Competition and Ethnic Riots in India۔ کیمبرج یونیورسٹی Press۔ 2006۔ صفحہ 14۔ آئی ایس بی این 0-521-53605-7۔ 
  21. تھامس البرٹ گِلی (2009)۔ The Ethics of Terrorism: Innovative Approaches from an International Perspective۔ چارلس سی تھامس۔ صفحہ 27۔ آئی ایس بی این 0-398-07867-X۔ 
  22. بی۔ رمن (9 دسمبر 2010)۔ "The Latest 'Indian Mujahideen Mail'"۔ Outlook India۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-12-05۔ 
  23. امیتابھ سنہا (2008-09-14)۔ "Blast a revenge for Babri"۔ انڈین ایکسپریس۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-12-05۔ 
  24. "What is the Liberhan Commission?"۔ NDTV انڈیا۔ 23 نومبر 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 ستمبر 2010۔ 
  25. "India Babri Masjid demolition neither spontaneous nor unplanned: Liberhan"۔ Hindustan Times۔ 24 نومبر 2009۔ اصل سے جمع شدہ # جنوری 2013 کو۔ 
  26. "In the times of Yakub Memon, remembering the Babri Masjid demolition cases"۔ 
  27. Babri Masjid demolition: Supreme Court to hear plea claiming CBI may go soft on L K Advani, Indian Express, 31 March 2015.
  28. Babri Masjid case: SC issues notices to L K Advani, others over conspiracy charges, Indian Express, 31 March 2015ء
  29. کے آر Web ڈیسک (2017-04-19)۔ "Advani, Bharti, Joshi to stand trial in Babri Masjid case"۔ کشمیر ریڈر۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-04-19۔ 
  30. "Babri Masjid Demolition: SC reinstated criminal conspiracy against LK Advani, Murli Manohar Joshi and Uma Bharti"۔ مک نوڈ نیوز (امریکی انگریزی زبان میں)۔ 2017-04-19۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-04-19۔ 
  31. ^ ا ب "Pakistani Hindus in India unwilling to return"۔ ڈیکن ہیرالڈ۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-04-15۔ 
  32. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ "PAKISTANIS ATTACK 30 HINDU TEMPLES"۔ نیو یارک ٹائمز۔ 1992-12-07۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-04-15۔ 
  33. ^ ا ب پ ت "Chronology for Hindus in Bangladesh"۔ UNHCR۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-04-15۔ 
  34. "Chronology for Hindus in Bangladesh"۔ United Nations High Commissioner for Refugees۔ 2004۔ اصل سے جمع شدہ 18 اکتوبر 2012 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-12-05۔ 
  35. "World Directory of Minorities and Indigenous Peoples - Bangladesh : Hindus"۔ United Nations High Commissioner for Refugees۔ 2008۔ اصل سے جمع شدہ 18 اکتوبر 2012 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-12-05۔ 
  36. ^ ا ب پ ت India's foreign policy۔ Pearson Education India۔ 2009۔ صفحات 310–11۔ آئی ایس بی این 978-81-317-1025-8۔ 
  37. Deborah Baker Stockholm, Exiled Feminist Writer tells Her Own Story، New York Times, 28 Aguast 1994.
  38. Gaurav Malani (23 ستمبر 2011)۔ "Mausam: Movie Review"۔ The Times of India۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2017۔ 
  39. "Mani Ratnam"۔ Encyclopædia Britannica۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2017۔ 
  40. سنگیت کریان (19 اپریل 2005)۔ "`Daivanamathil'"۔ دی ہندو۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2017۔ 
  41. "43rd National Film Awards" (PDF)۔ Directorate of Film Festivals۔ اخذ کردہ بتاریخ March 6, 2012۔ 
  42. "53rd National Film Awards" (PDF)۔ Directorate of Film Festivals۔ اخذ کردہ بتاریخ March 19, 2012۔ 
  43. "8 times we saw the Babri Masjid debacle recalled on the big screen"۔ Catch News۔ 8 دسمبر 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 دسمبر 2017۔ 
ماخذ

مزید پڑھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

ویڈیو[ترمیم]