بابل صدقے تیرے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بابل صدقے تیرے
BABUL SADQAY TERAY.jpg
Original title Babal Sadqey Terey
ہدایت کار اسلم ڈار
حمید ڈار
مرتضے قریشی
پروڈیوسر اسلم ڈار
اختر ڈار
تحریر عزیز میرٹھی
ماخوذ از بشیرا کی کاميابی کے بعد
ستارے
راوی ایم ایس ڈار
موسیقی کمال احمد
سنیماگرافی سعید ڈار
عبداللہ
ایڈیٹر خورشید احمد
ظہور
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کار ڈار فلمز
تاریخ اشاعت
دورانیہ
135 منٹ
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
زبان پنجابی
بجٹ روپیہ 3 ملین (US$28,000)
باکس آفس روپیہ 5 کروڑ (US$470,000)

بابل صدقے تیرے (انگریزی: Babul Sadqay Teray) پنجابی زبان میں فلم کا آغاز کیا۔ فلم 15 نومبر 1974ء کو پاکستان بھر کے سینماؤں میں ریلیز کیا گیا تھا۔ یہ سماجی اور موسیقی فلموں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ فلم پاکستان کے باکس آفس میں اوسط فلموں میں سے کاميابی پائی۔ جس کی ہدایات اسلم ڈار نے دی ہیں جب کہ اسلم ڈار ہی اس کے تخلیق کار ہیں۔ فلم کی کہانی عزیز میرٹھی نے لکھی ہے۔ اس فلم کی موسیقی کمال احمد نے ترتیب دی جبکہ نغمات وارث لدھیانوی، ریاض الرحمان ساغر، حمید ڈار، بشیر کھوکھر نے لکھے۔ اس فلم میں نورجہاں، مہدی حسن، مجیب عالم اور نیرہ نور نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ فلم کے اداکاروں میں سے منفرد کردار دیکھے سلطان راہی، عالیہ، شاہد، افضال احمد تھے۔ [1]

اسٹوری[ترمیم]

فلم کی کہانی تاج بدمعاش سے شروع ہوئی بدمعاشی کے زور پر کسی نہ کسی کو قتل کر دینا اور جوؤں کے اڈوں سے پیسہ لینا پیشہ بن گیا۔ تاجہ یعنی (سلطان راہی) کی خواہش تھی کے میرے گھر میں دیکھ بیٹا پیدا ہو، جب کے اس کی بیوی کی خواہش تھی کہ میرے گھر میں بیٹی پیدا ہو تاکہ بدمعاشی کے راستے سے ہٹ جائے۔ اللہ تعالی ایک کی سن لیتا ہے اور بیٹی پیدا ہوجاتی ہیں۔ بیٹی کو جنم دیتے ہی موت کی کشمکش میں اپنے آدمی کو ایک سوال کرتی کہ تم بدمعاشی چھوڑ دو تمہارے گھر بیٹی نے جنم لیا ہے جن کے گھر بیٹھیاں ہوں وہ بدمعاشی نہیں کرتے اس بات کی زد میں آکر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدمعاشی چھوڑ دیتا اور نیکی کے راستے پر چلنے لگتا۔ کام کے سلسلے میں شہر کی طرف روانہ ہوتا اور جہاں کام کرتا اس کے ساتھیوں کا ٹکڑوں ہوتا اور دکان دار کے کان میں کہا دینا کہ یہ تو ایک بدمعاش ہے آپ نے اس کو نوکری پہ رکھا ہوا ہے کہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ازلوں سے یہ دستور ہے کے ایک بندہ برائی کے راستہ چھوڑ کر اچھائی کے راستے پر چل رہا ہیں کیوں اسے پھر برے راستے پر ڈالو۔ اور فلمسٹار عالیہ نے بیٹی کا راول ادا کیا اور شاہد حمید نے داماد بننے کا کردار ادا کیا۔ سلطان راہی نے 850 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ان کی 28 فلمیں ڈائمنڈ جوبلی،54 پلاٹینئم جوبلی اور156 سلور جوبلی قرار پائیں۔ اور ان کی فلم بابل صدقے تیرے نے باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑدیئے۔ سلطان راہی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے

اداکار[ترمیم]

گیت البم[ترمیم]

نمبر شمارعنوانگلوکارطوالت
1."تیرا چانن میرے ویہڑ ے تیرا بابل صدقے تیرے"مہدی حسن3:51
2."اللہ میاں کرم فرمائی، جیوے بابل منگاں دویاں"نیرہ نور2:08
3."تیرے مکھڑا وی کی تکیاں سجناں وے سینے وچ ٹھند پے گی"نورجہاں4:12
4."نی کرماں والیاں، نی بھاگاں والیاں"نورجہاں5:20
5."اج نچ جنڈری اے اج نچ اڑیاں"نورجہاں3:39
کل طوالت:19:07

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Ashiq Ali Hujra Shah Muqeem (30 اگست 2018ء)۔ "The posters are old and worn, feel free to enquire about the extent of wear and tear about any specific poster that may interest you."۔ www.desimovies.biz۔ Original Poster of Babul sadqe tere (1974) Sultan Rahi, Shahid, Aliya, Afzaal Ahmad۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 اگست 2019۔

بیرونی روابط[ترمیم]