صادق محمد خان پنجم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صادق محمد خان پنجم
Sadeq Mohammad Khan.jpg 

مناصب
نواب ریاست بہاولپور (12 )   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
15 فروری 1907  – 14 اکتوبر 1955 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمد بہاول خان پنجم 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 29 ستمبر 1904  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہاولپور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 24 مئی 1966 (62 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن قلعہ دراوڑ  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد بہاول خان پنجم  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ایچی سن کالج  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
UK Royal Victorian Order ribbon.svg نائٹ کمانڈر آف دی رائل وکٹورین آرڈر  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

صادق محمد خان پنجم ریاست بہاولپور کے آخری (بارہویں) نواب تھے۔ نواب کی تین سال کی عمر میں دستار بندی کی گئی۔ تقریباً بیس سال کی عمر میں اختیارات حکمرانی تقویض کیے گئے۔ نواب کے دور حکموت میں ریاست صحیح معنوں میں ایک فلاحی ریاست تھی۔ نواب نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔ 3 اکتوبر 1947ء کو ریاست بہاولپور نے پاکستان سے الحاق کیا۔ 1955ء میں ریاست کو مغربی پاکستان میں شامل کر دیا گیا۔ ریاست کے اختتام کے بعد نواب نے لندن میں رہائش اختیار کر لی اور ادھر ہی 24 مئی 1964ء میں وفات پائی۔ نواب کی تدفین فوجی اعزاز کے ساتھ 28 مئی کو دراوڑ کے شاہی قبرستان میں کی گئی۔

پیدائش[ترمیم]

نواب محمد بہاول خان پنجم کے گھر بروز جمعہ 30 ستمبر 1904ء کو ایک بچے کی ولادت ہوئی۔ جس کا نام صادق محمد خان رکھا گیا۔ صاحبزادہ صادق محمد خان کی ولادت دولت خانہ محل بہاولپور میں ہوئی۔[1]

سلسلہ نسب[ترمیم]

نواب آف بہاولپور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ کے خاندان سے ہیں اس لیے عباسی مشہور ہیں۔ ان کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے

دستار بندی[ترمیم]

نواب محمد بہاول خان پنچم فریضہ حج کے لیے تشریف لے گئے جس میں اپنے دو سال کے صاحبزادہ کو بھی لے گئے۔ واپسی پر سفر کے دوران میں نواب محمد بہاول خان پنچم فوت ہو گئے تھے۔ نواب کا ایک ہی فرزند تھا۔ اس لیے ریاست واپس آ جانے کے بعد صاحبزادہ صادق محمد خان کی تین سال کی عمر میں 15 مئی 1907ء کو دستار بندی کی گئی۔ صاحبزادہ نے اپنے لیے نواب صادق محمد خان پنچم کا نام منتخب کیا۔ چونکہ نواب کم سن تھے اس لیے ریاست کے انتظامی نگرانی کے لیے حکومت برطانیہ نے I.C.S سر رحیم بخش کی سربراہی میں کونسل آف ریجنسی (The Council of Regency) قائم کی۔ ریاست 1907ء سے 1924 تک کونسل کے زیرنگین رہی۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

نواب صادق محمد خان پنجم نے ابتدائی فارسی، عربی اور مذہبی تعلیم اپنے اتالیق علامہ مولوی غلام حسین قریشی سے حاصل کی۔ نواب کو 1913ء میں اعلیٰ تعلیم اور امور ریاست کی تربیت کے لیے لندن بھیجا جہاں 1915ء تک تعلیم حاصل کی۔ 1915ء سے 1921 تک نواب نے ایچیسن کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی۔ نواب کو 1921ء میں ہزرائل ہائینس آف ویلز کے ایڈی کانگ مقرر ہوئے۔

تاج پوشی[ترمیم]

نواب صادق محمد خان پنجم کی تقریباً بیس سال کی عمر میں تاج پوشی کی گئی۔ تاج پوشی کی تقرییب 24 مارچ 1924ء کو نور محل بہاولپور میں منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں لارڈ ریڈنگ واسرائے ہند نے نواب صادق محمد خان پنجم کی رسم تاج پوشی ادا کی اور مکمل اختیارات حکمرانی نواب کو تقویض کیے گئے۔ [1]

ادائیگی حج[ترمیم]

نواب صادق محمد خان پنجم فریضہ کی ادائیگی کے لیے 1935ء میں تشریف لے گئے جس میں آپ اپنے خرچ پر ایک سو افراد کو بھی ساتھ لے گئے تھے۔ [3] یہ سفر بروز جمعرات 24 جنوری 1935ء کو کراچی کی بندرگاہ سے شروع ہوا اور اس کا اختتام بروز اتوار 5 اپریل 1935ء کو ڈیرہ نواب بہاولپور میں اختتام ہوا۔

روانگی[ترمیم]

نواب صادق محمد خان پنجم فریضہ حج کے لیے 1935ء میں سعودی عرب تشریف لے گئے۔ آپ کا یہ سفر کراچی کی بندرگاہ سے 24 جنوری 1935ء کو شروع ہوا اور 3 فروری کو جدہ بندرگاہ پر اختام ہوا۔ اس سفر میں آپ کے ساتھ مولوی غلام محمد شیخ الجامعہ بہاولپور بھی تشریف فرما تھے۔ نمازیں اور نماز جمعہ آپ کی امامت میں ادا کی جاتی۔ نواب صاحب نے جہاز کے تمام عملہ میں انعامات تقسیم کیے تھے۔

مدینہ منورہ میں قیام[ترمیم]

نواب صادق محمد خان پنجم 10 فروری کو آبیار حصانی سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ نواب نے 11 فروری سے یکم مارچ تک مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا۔ ان دنوں میں نواب نے 11 فروری کو روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری دی۔ 13 فروری کو نواب امیر مدینہ کی ضیافت کے لیے تشریف لے گئے اور 18 فروری کو نواب نے امیر مدینہ کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ نواب نے 22 فروری کو گورنر مدینہ سے ملاقات کی۔ 28 فروری کو مسجد قبلتین اور بیر عثمان کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے۔

مکہ مکرمہ میں قیام[ترمیم]

نواب صادق محمد خان پنجم نے 2 مارچ کو مکہ مکرمہ کی طرف شروع کیا۔ مختلف مقامات کی زیارت کرتے ہوئے 5 مارچ کو مکہ مکرمہ پہنچے۔ 5 مارچ کو بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور عمرہ کی سعادت حاصل کی۔ اسی دن امیر فیصل بن عبد العزیز سے ملاقات کی۔ 11 مارچ کو سلطان عبد العزیز سے ملاقات کے لیے قیصر سلطانی تشریف لے گئے۔ نواب نے 12 مارچ کو سلطان عبد العزیز بن سعود کے ہمراہ غسل بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کی۔ 13 مارچ سے 15 مارچ تک حج کے فرائض ادا کیے۔ 23 مارچ کو طواف وداع کی سعادت حاصل کی۔

واپسی[ترمیم]

نواب صادق محمد پنجم 23 مارچ کو مکہ مکرمہ سے جدہ کے لیے روانہ ہوئے۔ 25 مارچ کو جدہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ جہاز 4 اپریل کو کراچی کی بندرگاہ پر پہنچا اور وہاں سے نواب اسپیشل ٹرین کے ذریعے 5 اپریل کو ڈیرہ نواب صاحب بہاولپور پہنچے۔ [4]

قائد اعظم کے ساتھ تعلقات[ترمیم]

1928ء سے نواب صادق محمد خان پنجم اور قائد اعظم محمد علی جناح کے درمیان میں لازوال دوستی کا رشتہ قائم ہوا۔ ریاست کے اس وقت کے وزیر اعظم سر سکندر حیات (یونینسٹ رہنما) نے ریاست کے خلاف درپردہ سازش کا آغاز کیا اور ستلج ویلی پراجیکٹ کے بقایا جات کے حوالے سے مرکزی حکومت کو لکھا کہ ریاست قرضہ کی ادائیگی نہیں کر سکتی لہذا صادق آباد اور کوٹ سبزل کے علاقہ جات ریاست سے لے لیے جائیں۔ ریاست کے اس وقت کے ہوم منسٹر اور نواب کے اتالیق مولوی غلام حسین قریشی نے اس سازش کو بے نقاب کیا اور نواب کو اپنے قانونی مشیر سے مشورہ لینے کا کہا۔ اس مقدمہ کی پیروی اس وقت کے ریاست کے قانونی مشیر قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کی اور مقدمہ کا فیصلہ بہاول پور کے حق میں ہوا۔ قائد اعظم کے مشورے پر نواب صاحب نے اس سازش کے سرغنہ سر سکندر حیات کو نہ صرف عہدے سے برطرف کر دیا بلکہ فوراً ریاست بدر کر دیا گیا۔ [1] تحریک پاکستان کے دوران میں کراچی جو اس وقت پاکستان کا دار الحکومت تھا میں موجود اپنی جائداد الشمس محل اور القمر محل قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کی پیاری بہن محترمہ فاطمہ جناح کو نواب نے بطوررہائش دے دیے تھے۔ بانی پاکستان قائد اعظم جب حلف اٹھانے کے لیے چلے تو نواب صاحب نے اپنی شاہی سواری قائد اعظم کو پیش کردی جس میں بیٹھ کر قائد اعظم محمد علی جناح بطور گورنر جنرل پاکستان حلف اٹھانے آئے۔ نواب صاحب نے یہیں بس نہیں کیا انہوں نے گورنر جنرل پاکستان کی سواری کے لیے اپنی مہنگی ترین کار رولزرائس بھی قائد اعظم کو بطور تحفہ پیش کردی تھی اور قائد اعظم کی رہائش کے لیے اپنا ذاتی محل جو کراچی میں واقع ہے وہ بھی پیش کر دیا تھا۔ نواب صادق محمد خان پنجم کی بے لوث خدمات کے صلے میں قائد اعظم نے انہیں ’’محسن پاکستان‘‘ کے خطاب سے نوازا تھا ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بننے سے پہلے بھی پاکستان ریاست بہاولپور کی صورت موجود تھا۔ [5]

ریاست بہاولپور اور پاکستان[ترمیم]

الحاق[ترمیم]

پنڈت جواہر لعل نہرو اور سردار پٹیل نے ریاست بہاولپور کو بھارت میں شامل کروانے کی سر توڑ کوششیں کیں یہاں تک کہ بیکانیر اور اردگرد کے علاقوں کو ریاست میں شامل کرنے کی پیشکش بھی کر ڈالی۔ اس کے جواب میں نواب صادق محمد خان پنجم نے کہا کہ بھارت میرے گھر کے پیچھے ہے جبکہ پاکستان سامنے اور شریف آدمی ہمیشہ سامنے کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ [6] اپریل 1947 میں یونینسٹ وزیر مشتاق احمد گرمانی پنجاب کے وزیراعلیٰ مقرر ہوئے، اختیارات کی منتقلی کے وقت یہ افواہیں عام تھیں کہ بہاولپور کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا جائے گا۔ 15 اگست 1947 کو نواب صادق محمد خان پنجم نے آزاد حکمران کے طور پر رہنے کا اعلان کرتے ہوئے بہاولپور کو پاکستان کے تحت چلانے کی خواہش کا اظہار کیا، جس کے بعد حکومت پاکستان نے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے بہاولپور کو پاکستان کا حصہ بنانے پر کام شروع کر دیا اور نواب کے انگلینڈ سے واپس آنے تک بات چیت کا انتظار کیا جاتا ہے۔ مشتاق احمد گرمانی بہاولپور کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی افواہوں کے باوجود ان پر الحاق کے لیے دباؤ نہیں ڈالتے، اس معاملے کو حل کرنے کے لیے امیر کے دستخط کافی تھے، جو انہوں نے 3 اکتوبر 1947 کو کیے۔[7]

پاکستان کی امداد[ترمیم]

حکومت پاکستان کو قیام کے بعد خزانہ خالی ہونے پر نواب سر صادق محمد خان عباسی نے ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 7 کروڑروپے اور بعد ازاں 2 کروڑ روپے ، پھر 22 ہزار ٹن گندم اور مہاجرین کے لیے 5 لاکھ روپے دیے۔ بہاول پور میں مہاجرین کی آبادکاری کے لیے نئی وزارت بحالی مہاجرین بنائی گئی جس کے ذریعے مہاجرین کو ریاست بہاول پور میں باعزت طریقہ سے آباد کیا گیا۔ اور مخدوم الملک غلام میراں شاہ کو وزیر مہاجرین بنایا گیا۔ [1] 4 اگست 1947ء کو برٹش ائرویز کے کارگو جہاز سے ملتان ایئر پورٹ پر اترا تو نواب بہاولپور کے نمائندے ہر آنے والے کا نا صرف استقبال کر رہے تھے انہیں ساتھ لائی ہوئی سواریوں میں بٹھا کر بہاولنگر اور اس کے قرب و جوار میں خالی پڑے مکانات اور حویلیوں میں ٹھہرا رہے تھے ان کے لیے وافر مقدار میں کھانے پینے کا سامان مہیا کر رہے تھے۔

  • جب ایران کے بادشاہ پہلی بار پاکستان کے دورے پر آئے تو حکومت پاکستان کے پاس ایسے برتن موجود نہیں تھے جو شہنشاہ ایران کے شایان شان ہوتے اس موقع پر بھی نواب صاحب بہاولپور صادق محمد خان پنجم نے اپنے شاہی محل کے سونے چاندی کے برتن ایک ٹرین میں بھر کر بھیج دیے تھے وہ برتن بھی نواب صاحب نے کبھی واپس نہ لیے۔ [5]

تعمیر و ترقی[ترمیم]

نواب صادق محمد خان پنجم نے 1928ء میں ستلج ویلی پراجیکٹ کا افتتاح جس کے تحت دریائے ستلج پر تین ہیڈ ورکس سلیمانکی، ہیڈ اسلام اور ہیڈ پنجند تعمیر کیے گئے اور پوری ریاست میں نہروں کا جال بچھا دیا گیا اور غیر آباد زمینوں کی آباد کاری کے لیے مختلف علاقوں سے آبادکاروں کو ریاست میں آباد ہونے کی ترغیب دی گئی۔ نئی منڈیاں اور شہر ہارون آباد، فورٹ عباس، حاصل پور، چشتیاں ، یزمان، لیاقت پور اور صادق آباد بسائے گئے۔ [1] 1942ء میں بہاولپور میں ایک بڑا چڑیا گھر اپنے عوام کی سیر و تفریح کے لیے بنوایا اور ڈرنگ اسٹیڈیم بھی بنوایا جس میں پہلی بار پاکستان اور بھارت کا پہلا کرکٹ میچ کھیلا گیا تھا۔ [5]

علمی، ادبی، طبی اور مذہبی خدمات[ترمیم]

علمی خدمات[ترمیم]

نواب صادق محمد خان نے 1925ء میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دینی تعلیم کے لیے مدرسہ صدر دینیات کو ترقی دے کر جامعتہ الازہر کی طرز پر جامعہ عباسیہ قائم کیا گیا۔ 1926ء میں جامعہ عباسیہ کا ایک ذیلی ادارہ طبیہ کالج قائم کیا گیا جو اس وقت واحد پنجاب کا سرکاری کالج تھا۔ یہ ادارہ ترقی کرتے ہوئے آج دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کے نام سے ایک نامور ادارہ ہے۔ 3 دسمبر 1930ء کو سر راس مسعود (وائس چانسلر) کی دعوت پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سالانہ کانووکیشن کی صدارت کی اور اس وقت ایک لاکھ روپے کی خطیر رقم بطور عطیہ دی۔ 28 دسمبر 1930ء کو انجمن حمایت اسلام لاہورکے سالانہ جلسہ کی صدارت کی اور گرانقدر مالی امداد کی۔ اپریل 1931ء میں طبیہ کالج دہلی کے کانووکیشن کی صدارت کی اور گرانقدر مالی امداد کا اعلان کیا۔ 27 فروری 1934ء کو نواب صاحب کی تعلیمی خدمات کے اعتراف کے طور پر رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر وُلز نے بہاول پور آ کر صادق گڑھ پیلس میں منعقدہ تقریب میں نواب کو L.L.D کی اعزازی ڈگری دی۔ 1952ء میں پیرا میڈیکلاسکول، نرسنگاسکول اور ایل ایس ایم ایف کلاسز کا اجرا کیا گیا۔ اس سال علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کی سربراہی میں ریاست میں تعلیمی اصلاحات اور نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کمیشن قائم کیا گیا۔ 1954ء میں صادق محمد پنجم نے ایچیسن کالج کی طرز پر صادق پبلکاسکول قیام کیا جس کی تعمیر کے لیے نواب نے اپنی ذاتی زمین سے 450 ایکڑ زمین عطا کی۔ اس کے علاوہ اس کی تعمیر و ترقی کے لیے فنڈز فراہم کیے۔ نواب نے ایچیسن کے معروف استاد اور ماہر تعلیم خان انور مسعود سکندر خان کو اساسکول کا پرنسپل مقرر کیا۔

ادبی خدمات[ترمیم]

24 مارچ 1925ء کو نواب کی تاج پوشی کے بعد صادق ریڈنگ لائبریری کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا جو اب سنٹرل لائبریری کے نام سے منصوب ہے۔ یہ پنچاب کی دوسری بڑی لائبریری ہے۔ نواب سر صادق کی سرپرستی میں عزیز الرحمٰن عزیز نے پہلی بار سرائیکی کے قادر الکلام صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا کلام ’’دیوانِ فرید‘‘ ترجمہ اور تشریح کے ساتھ 1942 میں عزیز المطابع پریس سے شائع کیا

طبی خدمات[ترمیم]

1930ء میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں توسیع کی گئی، نیا ٹی بی وارڈ، نیا آپریشن تھیٹر اور بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ 1938ء میں سرجن ڈاکٹر جمیل الرحمٰن کی سربراہی میں ایکسرے کا شعبہ قائم کیا گیا۔ پوری ریاست میں ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا جال بچھا دیا گیا جہاں علاج کی مفت سہولیات کے علاوہ مریضوں کو خوراک بھی مہیا کی جاتی تھی۔ صادق گڑھ پیلس میں کیمپ ہسپتال اور سٹاف ڈسپنسری کے علاوہ فوج کی ضروریات کے لیے 1911ء میں بہاول پور میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال اور ڈیرہ نواب صاحب میں کیولری ہسپتال قائم کیے گئے۔ جیلوں میں قیدیوں کے علاج معالجے کے لیے ڈسپنسری اورمیونسپل کمیٹیوں کے زیرِ انتظام شہروں میں سٹی ڈسپنسریاں قائم کی گئیں۔ ڈاکٹرز، نرسوں، ڈسپنسرز اور حکیموں کو ملک کے دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ تنخواہیں اور مراعات دی جاتی تھیں۔1953ء میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں بڑے پیمانے پر توسیع کی گئی۔

مذہبی خدمات[ترمیم]

1930ء میں سر صادق محمد خان پنجم نے ریاست کپور تھلہ میں جامع مسجد کپور تھلہ تعمیر کرائی۔ مہاراجا کپور تھلہ کی فرمائش پر خود نواب نے افتتاح کیا۔ 1935ء میں نواب فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے تھے اور مدینہ منورہ میں قیام کے دوران میں مسجد نبوی میں قیمتی فانوس لگوائے۔ جولائی 1935ء میں جامع مسجد دہلی کی طرز پر ’’جامع مسجد الصادق‘‘ کی ازسرِ نو تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا جو اس وقت پاکستان کی چوتھی بڑی مسجد ہے۔ جامع مسجد کے اخراجات کے لیے کثیر زرعی رقبہ وقف کیا۔ اس کی تعمیر میں سنگِ سرخ اور سنگِ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے۔ جمعۃ المبارک کا سب سے بڑا اجتماع جامع مسجد الصادق میں منعقد ہوتا اور بلا تخصیص مسلک سب لوگ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹویؒ تمام عمر جمعہ کی نماز جامع مسجد اور عیدین کی نماز مرکزی عید گاہ میں (باوجود مسلکی فرق کے) آخری شاہی خطیب حضرت مولانا قاضی عظیم الدین علویؒ کی امامت میں ادا کرتے رہے۔ اسی سال شہر سے باہر عید گاہ کی تعمیر کی گئی۔ ریاست بہاولپور میں حج کے موقع پر تین ماہ کی چھٹی مع ایڈوانس تنخواہ دی جاتی تھی۔ بہاول پور حکومت کی طرف سے مکہ اور مدینہ میں سرائے موجود تھیں جہاں بہاولپور کے حجاج کے لیے مفت رہائش اور خوراک کا انتظام ہوتا تھا۔ آخری عشرہ رمضان میں تمام مساجد میں حکومت کی طرف سے مرمت اور سفیدی کی جاتی تھی۔ [1]

نواب اور رولز رائس کا مالک[ترمیم]

نواب آ ف بہاولپور صادق محمد خان پنجم سادہ لیکن خوددار شخصیت کے مالک تھے۔ اپنے لندن میں قیام کے دوران میں ایک روز سادہ لباس میں عام شہری کے لباس میں ٹہلنے نکلے۔ اسی دوران میں ان کی نظر معروف ترین کار ساز کمپنی رولزرائس کے شوروم پر پڑی۔ ان کو شو روم میں کھڑی گاڑیاں بے حد پسند آئیں۔ وہ جب ان کی قیمت معلوم کرنے کے لیے اندر داخل ہونے لگے تو دروازے پر موجود گارڈ نے ان کو غریب ایشیائی باشندہ سمجھ کر ان کی بے عزتی کردی۔ گارڈ نے معمولی لباس دیکھ کر کہا یہ گاڑیاں تمہاری پہنچ سے بہت دور ہیں۔ گارڈ کی اس بدتمیزی کے بعد نواب واپس ہوٹل چلے گئے۔ اگلے روز نواب صادق محمد خان پنجم پورے شاہی لوازمات کے ساتھ ملازموں کی فوج لے کر شوروم پہنچے اور وہاں موجود چھ کی چھ گاڑیاں خرید لیں۔ گاڑیاں خریدنے کے بعد ملازموں کو حکم دیا کہ فوراً یہ گاڑیاں بہاولپور بھجوا کر میونسپلٹی کے حوالے کر دی جائیں۔ میونسپلٹی کو حکم سنایا جائے کہ ان گاڑیوں سے شہر کو صاف کرنے اور کوڑا اٹھانے کا کام لیا جائے۔ جب بہاولپور میں رولز رائس گاڑیاں کوڑا اٹھانے لگیں تو یہ بات پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس وجہ سے مارکیٹ میں رولز رائس کی قیمت تیزی سے گرنے لگی۔ دنیا میں رولزرائس کمپنی کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا۔ جب کہیں بھی رولز رائس کا نام لیا جاتا تو لوگ ہنسنے لگتے اور کہتے کہ’’وہی رولزرائس جس سے پاکستان کے شہر بہاولپور میں کوڑا اٹھایا جاتاہے‘‘۔ اس صورت حال سے پریشان ہو کر رولز رائس کمپنی کے مالک نواب صاحب سے معافی مانگنے خود بہاولپور گئے۔ رولز رائس کمپنی کے مالک نے نواب کو تحریری معافی نامہ پیش کیا جس میں درخواست کی گئی کہ گاڑیوں کو کوڑا اکٹھا کرنے اور صفائی کے کام سے ہٹا دیا جائے۔ نواب صادق محمد خان نے ان کی معافی قبول کرتے ہوئے تمام گاڑیوں کو کوڑے اور صفائی کے کام سے ہٹا دیا۔ رولز رائس کمپنی کے مالک نے نواب آف بہاولپور کو بطور تحفہ چھ نئی گاڑیاں بھی پیش کیں۔ نواب صادق محمد خان نے ان گاڑیوں میں سے ایک گاڑی سعودی عرب کے شاہ کو تحفے میں پیش کی جو اس وقت پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ یہ سعودی عرب کی سرزمین پر چلنے والی پہلی رولزرائس گاڑی تھی۔ رولز رائس اس وقت دنیا کی 10 مہنگی ترین گاڑیوں میں شامل ہوتی ہے۔ [8] یہ مضمون بغیر کسی حوالہ کے صرف کہانی ہے اس کا اصل سے کوئی تعلق نہ ہے ـ

وفات[ترمیم]

نواب صادق محمد خان پنجم کی وفات 24 مئی 1966ء کو لندن میں ہوئی۔ نواب جسد خاکی کو لندن سے کراچی لایا گیا، ادھر سے لاہور اور لاہور بہاولپور اسٹیشن پہنچایا گیا۔ ریلوے اسٹیشن سے میت کو چار گھوڑوں کی بگھی میں صادق گڑھ پیلس لائی گئی۔ ریلوے سٹیشن سے پیلس تک تین میل کا فاصلہ ہے لیکن عوام کی بہت زیادہ تعداد کی وجہ سے یہ فاصلہ گھنٹوں میں طے ہوا۔ نواب کی نماز جنازہ پلٹن میدان میں قاضی عظیم الدین کی امامت میں ادا کی گئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد یہ پاکستان کا تیسرا بڑا جنازہ تھا جس میں آٹھ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ [9] نماز جنازہ کے بعد میت کو پاکستان آرمی کی توپ گاڑی میں پورے فوجی اور سرکاری اعزاز کے ساتھ قلعہ دراوڑ لے جایا گیا جہاں نوابوں کے شاہی قبرستان میں تدفین کی گئی۔ نواب کی میت کو پاک آرمی کی طرف سے 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ [1]

اولاد[ترمیم]

نواب صادق محمد خان پنجم کی اولاد دس صاحبزادے اور دس صاحبزادیوں پر مشتمل تھی۔

بیٹے[ترمیم]

  1. صاحبزادہ محمد عباس خان
  2. صاحبزادہ محمد ہارون الرشید
  3. صاحبزادہ محمد مامون الرشید
  4. صاحبزادہ محمد مبارک علی
  5. صاحبزادہ محمد عبد اللہ خان
  6. صاحبزادہ محمد صادق الرشید
  7. صاحبزادہ محمد داؤد خان
  8. صاحبزادہ محمد امین الرشید
  9. صاحبزادہ محمد قاسم خان
  10. صاحبزادہ سید الرشید

بیٹیاں[ترمیم]

  1. صاحبزادی صادیقہ بیگم،
  2. صاحبزادی سوفیہ بیگم،
  3. صاحبزادی رقیہ بیگم،
  4. صاحبزادی عائشہ بیگم،
  5. صاحبزادی خدیجہ بیگم،
  6. صاحبزادی زہرہ بیگم،
  7. صاحبزادی رفیقہ بیگم،
  8. صاحبزادی شفیقہ بیگم،
  9. صاحبزادی خالیقہ بیگم
  10. صاحبزادی عتیقہ بیگم [10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج "بہاولپور؛ برصغیر کی دوسری سب سے بڑی اسلامی ریاست - ایکسپریس اردو"۔ www.express.pk۔
  2. گزیٹر آف ریاست بہاولپور 1904ء مولف محمد دین اردو مترجم یاسر جواد صفحہ 231
  3. "بہاول پور... تاریخ کے آئینے میں - Voice of Press"۔ voiceofpress.pk۔
  4. "Bio-bibliography.com - Authors"۔ www.bio-bibliography.com۔
  5. ^ ا ب پ https://www.urduweb.org/mehfil/threads/نواب-بہاولپور-کون-تھے؟۔102009/
  6. "پنجاب کاگیٹ وے ،رحیم یارخان"۔ اردو صفحہ۔ 30 اپریل، 2018۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  7. ڈان میڈیا گروپ | یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (12 اگست، 2017)۔ "1906 سے 1948: طلوعِ پاکستان"۔ Dawn News Television۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  8. http://m.dunya.com.pk/index.php/special-feature/2017-07-17/19092
  9. "محسن پاکستان امیر آف بہاولپور کو سلام"۔ www.nawaiwaqt.com.pk۔ 24 مئی، 2018۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  10. "bahawal5"۔ www.royalark.net۔