میرون لیزلی مڈلکوٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میرون لیزلی مڈلکوٹ
معلومات شخصیت
پیدائش 6 جولا‎ئی 1931  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لدھیانہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 دسمبر 1971 (40 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اوخا، بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی سینٹ انتھونی ہائی اسکول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلائیٹ پائلٹ،  پاک فضائیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں پاک بھارت جنگ 1965ء،  پاک بھارت جنگ 1971ء،  جنگ استنزاف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل میرون لیزلی مڈلکوٹ (پیدائش: 6 جولائی 1931ء— وفات: 12 دسمبر 1971ء) پاک فضائیہ کے جنگجو پائلٹ تھے۔

 ابتدائی حالات[ترمیم]

یہ جولائی 1940ء میں لدھیانہ کے ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام پرسی مڈلکوٹ اور والدہ کا نام ڈیزی مڈلکوٹ تھا۔ جب پاکستان بنا تو انکا گھرانہ بھی ہجرت کر کے لاہور میں بس گیا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ اینتھونی ہائی اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں لارنس کالج گھوڑا گلی مری سے استفادہ حاصل کیا۔ انہوں نے 1954ء میں پاکستان ایئر فورس شمولیت اختیار کی۔

کا رہائے نمایاں[ترمیم]

1965 کی پاک بھارت جنگ میں یہ کراچی کے PAF بیس مسرور میں F86 جہازوں کا ایک سکواڈرن کمانڈ کر رہے تھے۔ اسی جنگ کی ایک رات بھارتی جہازوں نے کراچی پر بھرپور حملہ کیا۔ سکواڈرن لیڈر مڈلکوٹ نے ایک F86 طیارے میں take off کیا اور آناً فاناً میں دشمن کے دو طیارے مار گرائے۔ ان طیاروں کے دونوں بھارتی پائلٹ بھی مارے گئے۔ پوری جنگ کے دوران مڈلکوٹ نے ایسی بہادری کا مظاہرہ کیا کہ ان کے زیر کمان افسر اور جوان بھی انکی دیکھا دیکھی شیروں کی طرح لڑے۔ جنگ کے اختتام پر انکی بہادری کے صلے میں انہیں ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔

شہادت[ترمیم]

1971 کی پاک بھارت جنگ میں مڈلکوٹ اردن کے دورے پر تھے کہ جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ انہوں نے حکومت سے اپنی فوراً واپسی کی درخواست کی جو مان لی گئی۔ انکی واپسی کے دوسرے ہی دن انکو امرتسر ریڈار کو تباہ کرنے کا مشن دیا گیا جس کو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ناکارہ بنا دیا۔ اسی جنگ کے ایک مشن میں ونگ کمانڈر میرون لیزلی مڈلکوٹ کو دشمن کے ایک جنوبی ہوئی اڈے پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ انہوں نے دشمن کے کئی جہاز زمین پر ہی تباہ کر دیے۔ مگر جب واپس آ رہے تھے تو دو بھارتی MIG21 طیاروں نے انکا پیچھا کیا۔ ان کے اپنی گولیاں ختم ہو چکی تھیں۔ دشمن کے دو میزائلوں سے تو انہوں اپنا دفاع کر لیا مگر ایک تیسرے مزائل کا، جو بھارتی پائلٹ فلائٹ لیفٹننٹ بھارت بھوشن سونی نے مارا تھا، شکار ہو گئے۔ بھارتی پائلٹ نے انھیں بحیرہ عرب کے سمندر میں اس علاقے میں چھتری سے چھلانگ لگاتے دیکھا جو شارک مچھلیوں سے بھرا پڑا تھا۔ انکی لاش کبھی نہیں ملی۔ وہ اکتیس سال کی بھرپور جوانی میں ہی شہید ہو گئے۔ جنگ کے بعد اس شہید ملت کی اس بے مثال بہادری پر انکو ایک دوسرے ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ مڈلکوٹ کی شہادت پر اردن کے شاہ حسین نے نہ صرف ان کے اہل خانہ کے ساتھ ذاتی طور پر تعزیت کی بلکہ یہ درخواست بھی کی کہ اگر شہید کو پاکستان کے قومی پرچم کے ساتھ دفنایا جائے تو اس کے ساتھ اردن کے پرچم کو ان کے سر کے نیچے رکھا جائے۔ اس اعزاز کی وجہ 1967ء کے دوران میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں شہید کی خدمات تھیں

دیگر حالات[ترمیم]

ایک دن انکی آٹھ سالہ بچی کواسکول کے ایک بچے نے کہا "تمہارا نام عجیب ہے آپ پاکستانی نہیں ہو آپ اس ملک کو چھوڑ دو"۔ یہ روداد سن کر بچی کے والد نے کہا کہ پاکستانی جھنڈے میں سبز حصہ مسلمانوں کی علامت ہے اور سفید حصہ لیزلی کے لیے ہے“۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

مزیر مطالعہ[ترمیم]