ایم ایم عالم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایم ایم عالم
Muhammad Mahmood Alam in 2010.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 جولا‎ئی 1935  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کولکتہ نائٹ رائیڈرز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 18 مارچ 2013 (78 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ پائلٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
شاخ پاک فضائیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں عسکری شاخ (P241) ویکی ڈیٹا پر
لڑائیاں اور جنگیں پاک بھارت جنگ 1965ء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
محمد محمودعالم

محمد محمودعالم (جنہیں ایم ایم عالم بھی کہا جاتا ہے) پاکستان کے جنگی ہواباز تھے۔ جن کی وجہ شہرت گنیز بک ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایک منٹ میں سب سے زیادہ طیارے مار گرانے کا ریکارڈ ہے ۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

6 جولائی 1935 کو کلکتہ کے ایک خوشحال اور تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ثانوی تعلیم 1951 میں سندھ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈھاکہ (سابقہ مشرقی پاکستان )سے مکمل کی۔ 1952 میں فضائیہ میں آئے اور 2 اکتوبر 1953 کو کمیشنڈ عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کے بھائی ایم شاہد عالم ایک معاشیات کے پروفیسر تھے نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں اور ایک اور بھائی ایم سجاد عالم SUNY البانی میں طبعیات دان تھے۔1965 کی جنگ میں پاکستان کے لیے نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ان کی فیملی پاکستان میں قیام پزیر رہی ۔

کا رہائے نمایاں[ترمیم]

محمد محمودعالم

پاک فضائیہ میں خدمات[ترمیم]

1965ء کی جنگ کے بعد 1967ء میں آپ کا تبادلہ بہ طور اسکواڈرن کمانڈر برائے اسکواڈرن اول کے طور پر ڈسالٹ میراج سوم لڑاکا طیارہ کے لیے ہوا جو پاکستان ایئر فورس نے بنایا تھا۔ 1969ء میں ان کو اسٹاف کالج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 1972ء میں انہوں نے 26ویں اسکواڈرن کی قیادت دو مہینے کے لیے کی۔ بنگالی ہونے کی وجہ سے 71 کی جنگ میں آپ کو ہوائی جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی گئی[حوالہ درکار] 1982ء میں ریٹائر ہو کر کراچی میں قیام پزیر ہوئے ۔

وجہ شہرت[ترمیم]

سکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم کو یہ اعزاز جاصل ہے کے انھوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پر پانچ انڈین ہنٹر جنگی طیاروں کو ایک منٹ کے اندر اندر مار گرایا جن میں سے چار 30 سیکنڈ کے اندر مار گرائے تھے۔ یہ ایک عالمی ریکارڈ تھا۔ اس مہم میں عالم صاحب ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے جو اس زمانے میں ہنٹر طیارے سے تین درجے فرو تر تھا۔ مجموعی طور پر آپ نے 9 طیارے مار گرا‎ئے اور دو کو نقصان پہنچایا تھا۔ جن میں چھ ہاک ہنٹر طیارے تھے ۔[2][3][4][5][6][7]

اس کارنامے میں درج ذیل نقصانات دشمن کے ہوئے :

بھارتی فضائیہ کی طرف سے ایم ایم عالم کے اس کارنامے کے تصدیق کے طور پر چار طیاروں کے مارے جانے کی اطلاع ملی پانچویں طیارے اسکواڈرن لیڈر اونکار ناتھ کیکر کسی زمینی حملے کا شکار ہوئے تھے ۔[9]

دیگر کارنامے[ترمیم]

بنگالی ہونے کی وجہ سے 71 کی جنگ میں آپ کو ہوائی جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی گئی، مگر آپ نے جنگ سے بعد پاکستان میں ہی قیام کیا۔ ۔ جمعہ کے خطبہ میں فضائیہ کے بدنام سربراہ انور شمیم پر تنقید کرنے پر آپ کو ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا۔

اعزازات[ترمیم]

1965ء کی جنگ کے مذکورہ بے مثال جرات اور بہادری سے بھرپور کارنامے پر ایم ایم عالم کو ستارہ جرات سے نوازا گیا ۔[10]

یادگار[ترمیم]

لاہور میں گلبرگ کے علاقے میں ایک اہم سڑک کا نام فخر پاک فضائیہ ایئر کموڈور محمد محمود عالم کے نام پر ایم ایم عالم روڈ رکھا گیا ۔ اسکواڈرن لیڈر زاہد یعقوب عامر نے ان کی سوانح حیات پر مشتمل کتاب لکھی ہے،

آخری ایام[ترمیم]

طویل عرصے تک علیل رہنے کے بعد 18 مارچ 2013ء کو پھیپھڑے کے مرض سے کراچی میں ان انتقال ہوا۔[11] نماز جنازہ پی اے ایف بیس مسرور میں ادا کی گئی۔ مرحوم نے سوگواران میں تین بھائی اورایک بہن چھوڑے ۔

مزیددیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. War hero MM Alam passes away
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ PAF نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. ^ ا ب پ Citation of PAF Heros, PakDef.info
  4. Air Cdre M Kaiser Tufail۔ "Alam's Speed-shooting Classic"۔ Defencejournal.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-11-15۔
  5. John Fricker۔ Battle for Pakistan: the air war of 1965۔ صفحات 15–17۔ before we had completed more than of about 270 degree of the turn, at around 12 degree per second, all four hunters had been shot down ... My fifth victim of this sortie started spewing smoke and then rolled on to his back at about 1000 feet.
  6. Norman Polmar؛ Dana Bell۔ One hundred years of world military aircraft۔ Naval Institute Press۔ صفحہ 354۔ آئی ایس بی این 978-1-59114-686-5۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Mohammed Mahmood Alam claimed five victories against Indian Air Force Hawker Hunters, four of them in less than one minute! Alam, who ended the conflict with 11 kills, became history's only jet "ace-in-a-day."
  7. Lon O' Nordeen۔ Air Warfare in the Missile Age۔ Washington, D.C.: Smithsonian Institution Press۔ صفحات 84–87۔ آئی ایس بی این 978-0-87474-680-8۔
  8. Citation for Sqn Ldr Devaiyya۔ |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت) [1]
  9. Pushpindar Singh۔ Fiza ya, Psyche of the Pakistan Air Force۔ Himalayan Books۔ آئی ایس بی این 81-7002-038-7۔
  10. خصوصی رپورٹس۔ "M.M Alam's Death – ایم ایم عالم انتقال کر گئے"۔ Pakistan Radio News Network۔ Unknown parameter |seperator= ignored (معاونت); Missing |last1= in Authors list (معاونت)
  11. "1965 war hero M.M. Alam passes away"۔ ڈان۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

مزید پڑھیے[ترمیم]

  • کتاب پاک فضائیہ کی داستان شجاعت مصنف عنایت اللہ صاحب