ایم ایم عالم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد محمود عالم
Mmalamgaw.jpg
محمد محمود عالم
عرفی نام لٹل ڈریگن
پیدائش 06 جولائی 1935کولکاتہ, برطانوی ہند
وفات 18 مارچ 2013ءکراچی
وابستگی Flag of Pakistan.svg پاکستان
نوکری/شاخ  پاکستان فضائیہ
سالہائے کار 1960-1982
عہدہ US-O7 insignia.svg ایئر کموڈور (بریگیڈیئر جنرل)
یونٹ نمبر 11 سکواڈرن ایروز (1965)[1]
نمبر 5 سکواڈرن فیلکنز
جنگیں/محارب پاک بھارت جنگ 1965ء
افغانستان میں سوویت جنگ
اعزازات ستارہ جرات اور میڈل بار
محمد محمودعالم

محمد محمودعالم (جنہیں ایم ایم عالم بھی کہا جاتا ہے) پاکستان کے جنگی ہواباز تھے۔ جن کی وجہ شہرت گنیز بک ورلڈ ریکارڈ کے مطابق ایک منٹ میں سب سے زیادہ طیارے مار گرانے کا ریکارڈ ہے ۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

6 جولائی 1935 کو کلکتہ کے ایک خوشحال اور تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ثانوی تعلیم 1951 میں سندھ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈھاکہ (سابقہ مشرقی پاکستان )سے مکمل کی ۔ 1952 میں فضائیہ میں آئے اور 2 اکتوبر 1953 کو کمیشنڈ عہدے پر فائز ہوئے ۔ ان کے بھائی ایم شاہد عالم ایک معاشیات کے پروفیسر تھے نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں اور ایک اور بھائی ایم سجاد عالم SUNY البانی میں طبعیات دان تھے ۔1965 کی جنگ میں پاکستان کے لیے نمایاں کارنامہ انجام دیا ۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ان کی فیملی پاکستان میں قیام پزیر رہی ۔

کارہائے نمایاں[ترمیم]

محمد محمودعالم

پاک فضائیہ میں خدمات[ترمیم]

1965 کی جنگ کے بعد 1967 میں آپ کا تبادلہ بہ طور اسکواڈرن کمانڈر برائے اسکواڈرن اول کے طور پر ڈسالٹ میراج سوم لڑاکا طیارہ کے لیے ہوا جو پاکستان ایئر فورس نے بنایا تھا ۔ 1969 میں ان کو اسٹاف کالج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ 1972 میں انہوں نے 26ویں اسکواڈرن کی قیادت دو مہینے کے لیے کی ۔ بنگالی ہونے کی وجہ سے 71 کی جنگ میں آپ کو ہوائی جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی گئی [حوالہ درکار] 1982 میں ریٹائر ہو کر کراچی میں قیام پزیر ہوئے ۔

وجۂ شہرت[ترمیم]

سکواڈرن لیڈر محمد محمودعالم کو یہ عزاز جاصل ہے کے انھوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پر پانچ انڈین ہنٹر جنگی طیاروں ایک منٹ کے اندر اندر مار گرایا جن میں سے چار تیس سیکنڈ کے اندر مار گرائے گئے تھے ۔ یہ ایک عالمی ریکارڈ تھا۔اس مہم میں عالم صاحب ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے جو اس زمانے میں ہنٹر طیارے سے تینکی اعتبار فرو تر تھا۔ مجموعی طور پر آپ نے نو طیارے مار گرا‎ئے اور دو کو نعقصان پہنچایا ہے۔ جن میں چھ ہاک ہنٹر طیارے تھے ۔ [1][2][3][4][5][6]

اس کارنامے میں درج ذیل نقصانات دشمن کے ہوئے :

بھارتی فضائیہ کی طرف سے ایم ایم عالم کے اس کارنامے کے تصدیق کے طور پر چار طیاروں کے مارے جانے کی اطلاع ملی پانچویں طیارے اسکواڈرن لیڈر اونکار ناتھ کیکر کسی زمینی حملے کا شکار ہوئے تھے ۔ [8]

دیگر کارنامے[ترمیم]

بنگالی ہونے کی وجہ سے 71 کی جنگ میں آپ کو ہوائی جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی گئی، مگر آپ نے جنگ سے بعد پاکستان میں ہی قیام کیا۔۔ جمعہ کے خطبہ میں فضائیہ کے بدنام سربراہ انور شمیم پر تنقید کرنے پر آپ کو ملازمت سے سبکدوش کر دیا گیا۔

اعزازات[ترمیم]

1965 کی جنگ کے مذکورہ بے مثال جرات اور بہادری سے بھرپور کارنامے پر ایم ایم عالم کو ستارہ جرات سے نوازا گیا ۔ [9]

یادگار[ترمیم]

لاہور میں گلبرگ کے علاقے میں ایک اہم سڑک کا نام فخر پاک فضائیہ ایئر کموڈور محمد محمود عالم کے نام پر ایم ایم عالم روڈ رکھا گیا ۔

آخری ایام[ترمیم]

طویل عرصے تک علیل رہنے کے بعد 18 مارچ 2013ء کو پھیپھڑے کے مرض سے کراچی میں ان انتقال ہوا۔ [10] نماز جنازہ پی اے ایف بیس مسرور میں ادا کی گئی ۔ مرحوم نے سوگواران میں تین بھائی اورایک بہن چھوڑے ۔

مزیددیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 "EVENTS - M M ALAM'S F-86"۔ Pakistan: Pakistan Air Force (official website)۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 March 2010۔ 
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 Citation of PAF Heros, PakDef.info
  3. Air Cdre M Kaiser Tufail۔ "Alam’s Speed-shooting Classic"۔ Defencejournal.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-11-15۔ 
  4. Fricker، John۔ Battle for Pakistan: the air war of 1965۔ صفحات 15–17۔ "before we had completed more than of about 270 degree of the turn, at around 12 degree per second, all four hunters had been shot down ... My fifth victim of this sortie started spewing smoke and then rolled on to his back at about 1000 feet." 
  5. Polmar، Norman؛ Bell، Dana (2003)۔ One hundred years of world military aircraft۔ Naval Institute Press۔ صفحہ 354۔ آئی ایس بی این 978-1-59114-686-5۔ "Mohammed Mahmood Alam claimed five victories against Indian Air Force Hawker Hunters, four of them in less than one minute! Alam, who ended the conflict with 11 kills, became history's only jet "ace-in-a-day."" 
  6. O' Nordeen، Lon (1985)۔ Air Warfare in the Missile Age۔ Washington, D.C.: Smithsonian Institution Press۔ صفحات 84–87۔ آئی ایس بی این 978-0-87474-680-8۔ 
  7. Citation for Sqn Ldr Devaiyya۔ ۔  |title= غائب یا خالی (معاونت) [1]
  8. Singh، Pushpindar (1991)۔ Fiza ya, Psyche of the Pakistan Air Force۔ Himalayan Books۔ آئی ایس بی این 81-7002-038-7۔ 
  9. "M.M Alam’s Death – ایم ایم عالم انتقال کر گئےPakistan Radio News Network، MARCH 18, 2013، http://pakistanradionewsnetwork.com/2013/03/18/20076/m-m-alams-death-y-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%D8%B9%D8%A7%D9%84%D9%85-%D8%A7%D9%86%D8%AA%D9%82%D8%A7%D9%84-%DA%A9%D8%B1-%DA%AF%D8%A6%DB%92۔ 
  10. "1965 war hero M.M. Alam passes awayڈان۔ 18 مارچ 2013ء۔ http://dawn.com/2013/03/19/1965-war-hero-m-m-alam-passes-away/۔ 

مزید مطالعہ[ترمیم]

  • کتاب پاک فضائیہ کی داستان شجاعت مصنف عنایت اللہ صاحب