راجہ محمد سرور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شہیدراجہ محمد سرور خاننشان حیدر
Raja Muhammad Sarwar Khan
A drawing from Pakistan Army museum
پیدائش 1910گوجرخان، ضلع راولپنڈی، برطانوی ہند
وفات 27 جولائی 1948 (عمر 38 سال)اوڑی، جموں و کشمیر، بھارت
وابستگی British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان
نوکری/شاخ  برطانوی ہندی فوج
 پاکستان فوج
سالہائے کار 1929–1948
عہدہ کپتان
یونٹ 2/1st Punjab Regiment
جنگیں/محارب دوسری جنگ عظیم
پاک بھارت جنگ 1947
اعزازات نشان حیدر


راجہ محمد سرور (Raja Muhammad Sarwar) پاک فوج میں کپتان تھے۔ یہ تحصیل گوجرخان ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں سنگھوڑی میں 1910 میں ایک راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے۔ [1][2] پہلا نشان حیدر پانے والےکیپٹن راجہ محمد سرور شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم فیصل آباد کے گورنمنٹ مسلم ہائی اسکول طارق آبادسے حاصل کی۔ 1929ء میں انہوں نے فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی۔ 1944ء میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا، جس کے بعد انہوں نے برطانیہ کی جانب سے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا، شاندار فوجی خدمات کے پیشِ نظر 1946ء میں انہیں مستقل طور پر کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

قیام پاکستان کے بعد سرور شہید نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔ 1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کی سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے ، انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا۔27 جولائی 1948ء کو انہوں نے کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا۔ اس حملے میں مجاہدین کی ایک بڑی تعداد شہید اور زخمی ہوئی لیکن کیپٹن سرور نے پیش قدمی جاری رکھی۔دشمن کے مورچے کے قریب پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خاردار تاروں سے محفوظ کرلیا ہے، اس کے باوجود کیپٹن سرور مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔

کارروائی کے دوران دشمن کی کئی گولیاں ان کے جسم میں پیوست ہوچکی تھیں لیکن انہوں نے بے مثال جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسی گن کا چارج لیا جس کا جوان شہید ہوچکا تھا، اپنے زخموں کی پروا کئے بغیر 6 ساتھیوں کے ہمراہ انہوں نے خاردار تاروں کو عبور کرکے دشمن کے مورچے پرآخری حملہ کیا۔

دشمن نے اس اچانک حملے کے بعد اپنی توپوں کارخ کپٹن سرور کی جانب کردیا، یوں ایک گولی کپٹن سرور کے سینے میں لگی اور انہوں نے وہاں شہادت پائی، مجاہدین نے جب انہیں شہید ہوتے دیکھا تو انہوں نے دشمن پر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ وہ مورچے چھوڑ کربھاگ گئے۔

ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں جہاں انہیں مختلف اعزازات سے نوازا گیا، وہیں 27اکتوبر 1959ء کو انہیں نشانِ حیدر کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا، انہیں پہلا نشانِ حیدرپانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ اعزاز ان کی بیوہ محترمہ کرم جان نے 3 جنوری 1961ء کو صدرپاکستان محمد ایوب خان کے ہاتھوں وصول کیا تھا۔[3]

Captain Raja Muhammad Sarwar Bhatti Shaheed, Nishan e Haider (5997143543)

اعزازات[ترمیم]

Nishan-i-Haider-PAK.jpg

Nishan Haider Ribbon.gif نشان حیدر (NH)


بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Aye rahe-haq ke shaheedo". Unique Pakistan. اخذ کردہ بتاریخ 12 September 2014. 
  2. "Captain Raja Muhammad Sarwar Khan (Nishan e Haider)". Pakistan 360 degrees. اخذ کردہ بتاریخ 12 September 2014. 
  3. http://www.arynews.tv/ud/captain-raja-sarwar-shaheed-is-being-remembered/