راگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

راگ دراصل آواز اور خاموشی کا وہ نشاط انگیز اور پیچیدہ تاثر ہے جس میں کسی بھی انسانی کیفیت کا اظہار ہو، موسیقی کا تعلق چونکہ قوتِ سماعت سے ہے اس لیے کچھ راگ اپنے اندر خوشی اور سرشاری جبکہ کچھ حسرت اور اُداسی کا تاثر لیے ہوتے ہیں چنانچہ جو راگ عموماً اُداسی کی کیفیت پیدا کرتے ہیں ویسٹرن میوزک میں اُنہیں مائنر سکیل کے نام سے پکارا جاتا ہے اور جو راگ خوشی اور مستی کا تاثر پیدا کرتے ہیں اُنہیں میجر سکیل کہا جاتا ہے ہماری ہندوستانی موسیقی کا ٹھاٹھ آساوری ویسٹرن موسیقی میں مائنر سکیل جبکہ ٹھاٹھ بلاول میجر سکیل بنتا ہے، بالکل سادہ الفاظ میں سُروں سے مختلف کیفیات پیدا کرنے کا نام راگ ہے جیسے راگ بھیروں سنجیدہ اور مراقباتی کیفیت پیدا کر دیتا ہے اس کے برعکس راگ پہاڑی ہلکی پھلکی اور نٹ کھٹ کیفیت پیدا کرتا ہے، راگ کے ضمن میں ہماری ہندوستانی اور جنوبی ہند کی کرناٹک موسیقی میں تذکیر و تانیث کی تعیین میری سمجھ سے ہمیشہ بالاتر رہی اساتذہ نے راگوں کی اس جنسی تشکیل کو من و عن قبول کیا اور شاید اِس کی وجہ اساتذہ کے نزدیک تقلید کے علاوہ کچھ ہو مگر میرے نزدیک یہ تقلیدِ محض ہی ہے ورنہ یہ غیر منطقی تفریق فی نفسہٖ کوئی معنی نہیں رکھتی، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض راگ اپنے اندر نسوانی دلکشی رکھتے ہیں جیسے راگ پیلو اور بھوپالی بعینہٖ بعض راگوں میں مردانہ وجاہت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے جیسے راگ بھیروں اور مالکونس مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ راگوں کو مذکر اور مؤنث کی تعیین میں جکڑ لیا جائے، البتہ راگوں کے اوقات کے متعلق میرا یہ ماننا ہے کہ انسانی گلا چونکہ اُتار چڑھاؤ ہی کے سبب موسیقی پیدا کرتا ہے اِس لیے راگوں کے اوقات کا تعیّن قدرے معقول ہے جیسا کہ صبح سویرے انسانی گلا عموماً بھاری اور خشک ہوتا ہے اِس لیے یہ وقت راگ بھیروں کے لیے بالکل موزوں ہے اِسی طرح شام کے اوقات میں انسانی گلا حرکت و سکون سے گزر کر نرم ہو جاتا ہے تو یہ وقت راگ ایمن کلیان کے لیے مناسب ہے، ہمارے ہاں سُر گمک، مُرکی، مِینڈ، کَنڑ اور کھٹکوں سے پیش کیے جاتے ہیں اور اِنہی صوتی حرکات کے سبب راگ وقوع پزیر ہوتی ہے اِس کے برعکس اگر سُروں کو اِن مخصوص قسم کی حرکات سے نہ پیش کیا جائے تو پھر ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے جسے ویسٹرن موسیقی میں ہارمنی کہا جاتا ہے.

حوالہ جات[ترمیم]

مقالات یکے از نعمان نیئر کلاچوی