جٹ
جٹ زميندار ھے ہندوستان کے بارے میں مسلمان مورخین کی تحریروں مین جٹوں کا ذکر کہیں کہیں ملتا ہے ـ ابن خردازبہ اندازاً نو سو بارہ عیسوی کرمان کی سرحد سے منصورہ تک کا فاصلہ آسی پرسنگ بتاتا ہے ـ اور کہتا ہے یہ راستہ زتوں کے علاقے سے ہو کر گزرتا ہے جو اس پر نظر رکہتے ہیں ـ مجمعالتواریخ اندازاً 1126ء کے مصنف کے مطابق جٹ اور میڈیائی ہیم کی اولادیں ہیں ـ دونوں ہی سندھ کی وادی میں دریائے بہار کے کنارے آباد تھے سندھ کی وادی سے مراد میانوالی سے لے کر نیچے دریا کے دہانوں تک کا علاقہ ہے ـ اور جٹ میڈیاؤں کے مطیع تھے جن کے دباؤ نے ان کو دریائے پاہان کے اُس پار دہکیل دیاـ تاہم جٹ کشتیاں استعمال کرنے کے عادی تھے یوں دریا پار کرکے میڈیاؤں پر حملے کرنے کی قابلیت رکہتے تھے ـ میڈیاؤں کے پاس بہیڑیں کافی تعداد میں تہیں انجام کار جٹوں نے میڈیائی طاقت پر حملہ کیا اور ان کے علاقے کو لوٹا ایک جب سربراہ نے دونوں قبائل کو اپنے اختلافات دور کرنے پر مائل کیا اور سرداروں کا ایک وفد دہرت راشٹر کے بیٹے بادشاہ وجُوشن یا دریودہن کے پاس درخواست کی کہ وہ ایک بادشاہ نامزد کر دے جس کی دونوں قبیلے اطاعت کریں ـ چناچہ شہنشاہ دریودہن نے اپنی بہن اور ایک طاقتور بادشاہ جیہ دہرت کی بیوی دوہسلا کو جٹوں اور میڈیاؤں پر حکومت کرنے کے لئے نامزد کیاـ چونکہ علاقے میں کوئی برہمن نہیں تھا اس لئے دوہسلا نے اپنے بھائی کو مدد کے لئے لکھا اس نے ہندوستان سے تیس ہزار برہمن بھجوادئے ـ دوہسلا کی راجدہانی اسکلند تھا ـ
فہرست |
مزید [ترمیم]
ہندوستان کی ایک قدیم نسل جس کے افراد زیادہ تر پنجاب میں پائے جاتے ہیں۔ اور ان کا پیشہ زراعت ہے۔ ان کے اصل اور نسلی ارتقا کے بارے میں اختلاف ہے۔ امریکی مورخ پروفیسر حتی کا خیال ہے کہ یہ لوگ ابتداً خانہ بدوش تھے۔ فتوح البلدان میں انھیں ’’زط‘‘ لکھا گیا ہے
!جاٹوں کی کئی گوتیں اور قبیلے ہیں وارث شاہ صاحب نے ہیر میں جاٹوں کی تقریبا 50 گوتوں کا ذکر کیا ہے!! گجر اور آرایں لوگوں کو جاٹ خود میں شامل نہیں کرتے! یہ لوگ انتھائی تعصب کرنے والے مغرور ہوتے ہیں!! تعلیم ان کا کچھ بھى نہیں بگاڑ سکتى! ہنر مند لوگوں سے حقارت کا سلوک کرتے ہیں اور ان کو کمى اور کمینہ کہہ کر پکارتے ہیں خود سے طاقتور کو سامنے سے ہٹا ديتے ہے اور کمزور پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں زمانہ جاہلیت کے عربوں کى طرح سالہا سال دشمنیاں پالتے رہتے ہیں! قاتل اور اشتہ دارى رشتہ دار باعث فخر ہوتا ہے پاکستان میں ان کى اکثریت ہونے کى وجہ سےبہت سے ہنر مند لوگ دوسرے ملکوں کو ہجرت کر گیے ہیں بے
بھرت بور کے جٹ [ترمیم]
پنجاب میں جٹوں کے حوالے سے مندرجہ ذیل بیان سر ڈینزل ابٹسن کی کتاب پنجاب کی ذاتیں سے نقل کیا ـ جٹوں راجپوتوں اور مخصوص دیگر قبائل کے درمیان خط امتیاز گہیچنا ناممکن ہے ـ یہ بات خاص طور پر سارے مغربی پنجاب پر صادق آتی ہے ـجہاں زمیندار اور کاشتکار طبقات قبائیلی بنیادوں پر منظم ہیں ـ چناچہ اصل زور ذات یا رتبے کی بجائے قبیلے یا قبیلچے پر ہی دیا جاتا ہے ـ مشرق کی طرف جانے پر لوگ ذات کی اصطلاحات جٹ اور راجپوت استعمال کرتے ہیں ـ لیکن بہت مبہم انداز میں ـ چناچہ گوجرانوالہ یا گجراتمیں کوئی مسلمان قبیلہ کبہی جٹ کبہی راجپوت یا بہر آدہا راجپوت آدہا جٹ نظر آتا ہے ـ وسیع تر مفہوم میں بات کی جائے تو جٹ مغربی اضلاع میں مسلمان ،مرکز میں سکھ ،اور جنوب مغرب میں ہندو ہیں ـ لیکن اس اصول سے متعدد مستثنیات بھی ہیں ـ سکھ اضلاح میں آپنی بیوہ بہابہی سے شادی کرنا لازمی ہے ـ جنوب مشرق میں بیوہ کی شادی کا دستور ہندو جٹ کو راجپوت سے ممیّز کرتا ہے ـ لیکن یہ جٹوں کے درمیان بھی ہمہ گیر اصول نہیں کیونکہ گڑگاؤں میں جٹ خاندان اسے نامنظور کرتے ہیں ـ بہ الفاظ دیگر مشرق کی سمت آگے بڑہنے پر برہمنی تصّورات کام دیکہانے لگتے ہیں ـ
جٹوں کا ماخذ [ترمیم]
پنجاب کے لوگوں کی نسلیات سے متعلق شائد ہی کوئی سوال ایسا ہو گا جس پر اتنی بحث ہوئی ہو جتنی کہ جٹ نسل کے ماخذ پر ہوئی ـ میں یہاں پہلے اخذ کئے گئے کسی بھی نتیجے پر دوبارہ بحث نہیں کرنا چاہتا ـ وہ آپ کو آرکیالوجیکل سروے رپورٹس کے صفحات ٥١ سے ٦١ جلد دوم ٹاڈ صاحب کی راجستہان کے صفحات ٥٢ سے٧٥ جلد اوّل اور ١٠ سے ٩٢ مدراس بار دوم ـ ایلفنسٹون کی ہسٹری آف انڈیا کے صفحات ٥٣ سے ٢٥٠ اورایلین کی ریسیز آف این ڈبلیو ایف کے صفحات ٣٧ سے ١٣٠ جلد اوّل پر ملیں گے ـ یہاں یہ کہنا کافی ہو گا کہ جرنل کتگہم اور جرنل ٹاڈ دونوں جٹوں کو اندو سیتہئی ماخذ سے سمجہتے ہیں ـ جنرل کتگہم انہیں سٹرابو کے zanthi اور پلائنی وبولمی بطلیموس کے جاتو سے شناخت کرتے ہیں ـ اور ان کا کہنا ہے وہ غالباً مینڈں یا مندروں کے کچھ ہی عرصہ بعد آکسس یا جیحون کے مقام آپنے گہروں سے نکل کر پنجاب آئے وہ بھی اندو سیتہیی تھے اور ایک سو سال قبل مسیح میں پنجاب کی طرف آئے ـ لگتا ہے کہ جٹوں نے پہلے زیریں وادی سندھ پر قبضہ کیا ـ جہاں عیسوي دور آغاز میڈی ان کے پیچہے پیچھےآگئے ـ لیکن مسلمانوں کے اوّلیں حملے سے قبل جب خاص پنجاب میں پہیل گئے اور گیارویں صدی کے شروع تک انہوں نے استحکام حاصل کر لیا ـ بابر کے دور تک خطہ کوہستان نمک کے جٹ گکھڑوں اعوانوں اور جنجوعوں کے ماتحت تھے جبکہ ساتويں صدی کے اوائل میں سندھ کے جٹوں اور میڈیوں پر برہمن کی حاکمیت تہی میجر ٹاڈ جٹوں کو راجپوت قبائل میں سے ایک بہت بڑا قبیلہ شمار کرتے ہیں اور دونوں نسلوں کو گیتے کے ساتھ مشابہ کہتے ہیں لیکن جنرل کیتگھم اس سے متفق ہے ان کا خیال ہے کہ راجپوت اور جٹ اصل آریائی نسل ہیں
ہو سکتا ہے کہ اصلی راجپوت اور اصلی جٹ انڈین تاریخ کے مختلف ادوار میں یہاں وارد ہوئے ہوں ـ تاہم میرے ذہن میں راجپوت کا تاثر نسلیاتی سے زیادہ پیشہ ورانہ حووالے سے ابہرتا ہے ـ لیکن آکر وہ دو الگ الگ ہجرتوں کی لہر کے نمائندے ہیں (کماز کم یہ امکان کافی غالب ہے ) تو دونوں کا تعلق بھی تقریباً ایک ہی نسلی ماخذ سے ہے ـ تاہم چاہے ایسا ہو یا نہ ہو لیکن یہ بات قطعی ہے کہ وہ کئی سو سال پہلے سے لے کر اب تک اس قدر باہم مدغم ہیں اور ایک ہی جیسے لوگوں کا مرکز ہیں کہ عملی طور پر دونوں فرق قائم کرنا ممکن نہیں جٹ ـ راچبوت ماخذ میں چند یاک قدیمی نسل کے باشندے بھی شامل ہیں ـ مان ، ہیر اور بُہلر جپ اصل یا حقیقی سمجہے جاتے ہیں کیونکہ وہ کسی راجپوت نسب کا دعوی نہیں کرتے ـ لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی نسل قدیم دیو مالائی ہندو دیوتا شیوّ کے بالوں (جت)سے نکلی ـ جنوب مشرقی اضلاح کے جب خود کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ـ شیو گوتری یعنی شیو کے خاندان سے اور کسب گوتری جو اپنا تعلق راجپوت کے ساتھ جوڑتے ہیں شیو گوتریوں کے مورث اعلی بر اور اس کے بیٹے بربرا کے نام عین وہی الفاظ ہیں جو قدیم برہمن ہمیں قدیم بربیوں کے لئے بتاتے ہیں ـ پنجاب کے متعدد جٹ قبیلوں کی ایسی روایات ہیں جو بدیہی طور پر کسو غیر آریائی ماخذ کی غماز ہیں یہان تحقیق اور تفکر کے لئے
جٹ عناصر [ترمیم]
جٹ قبائل کے عقائد [ترمیم]
جٹھیڑا [ترمیم]
جنڈی کاٹنا یا جنڈیان [ترمیم]
چھترا [ترمیم]
پرانى معاشرتى پوزیشن [ترمیم]
جاٹ کے ہاتھ میں ہر وقت دوسروں کو کچھ دینے کى پوزیشن میں جاٹ بڑے بھائى کى حثیت رکھتا تھا ـ معاشرے میں جاٹ بڑا بھائى ہوتا تھا۔
اور جاٹ کو بڑے بھائی کى طرح ہى عرت دى جاتى تھى ـ
جٹ سندھو..چیمہ، وڑائچ، رندھاوا، بھلر، کوٹلہ، گل، باجوہ
| ویکیمیڈیا العام میں جٹ سے متعلق وسیط موجود ہے۔ |