نمر باقر النمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نمر باقر النمر
(عربی میں: نمر النمر خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Protest in Tehran against execution of Nimr al-Nimr (1).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 21 جون 1959[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
العوامیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 2 جنوری 2016 (57 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سعودی عرب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سر قلم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات سزائے موت[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
فرقہ اثناعشری[4]
عملی زندگی
مادر علمی یونیورسٹی آف میساچوسٹس ایمہرسٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ کارکن انسانی حقوق،  وشیخ،  وآخوند،  وسیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل آیت اللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

نمر باقر النمر سعودی عرب کے ایک مجتہد اور شیعہ عالم دین تھے۔ 1959ء کو سعودی عرب میں پیدا ہوئے۔ ان کی گرفتاری اور پھر پھانسی کے باعث شیعہ اور سنی حکومتوں میں سفارتی تلخیاں عروج پر پہنچ گئیں۔[5] نمر باقر النمر نواجونوں میں خاصے مقبول[4][6] اور سعودی شاہی خاندان اور حکومت کے نقاد تھے۔[4] اُن کے مطالبات میں سعودی عرب میں شفاف انتخابات کرانا بھی شامل تھا۔[7] انہیں 2006ء میں گرفتار کیا گیا، اپنی گرفتاری کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس وقت انہیں[4] زدوکوب بھی کیا گیا۔ 2009ء میں انہوں نے سعودی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ اگر سعودی عرب میں شیعوں کو حقوق نہیں ملتے تو مشرقی صوبوں کو علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔[8][5][9] اس کے جواب میں سعودی حکومت نے النمر اور 35 دیگر افراد کو گرفتار کر لیا۔[8][10] سنہ 2011ء اور 2012ء میں سعودی عرب میں ہونے والی کشیدگی کے دوران میں نمر نے مظاہرین کو کہا کہ وہ پولیس کی گولیوں کا جواب تشدد کی بجائے الفاظ کی گرج سے دیں۔[11][12] انہوں نے کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تصادم کی پیش گوئی بھی کر دی تھی۔[13]دی گارڈین اخبار نے النمر کو اس شورش کے سربراہ کے طور پر ذکر کیا ہے۔[6]

8 جولائی 2012ء کو پولیس نے ان کی ٹانگ میں گولی ماری اور گرفتار کر لیا۔ پولیس کا دعوی ہے کہ گولیوں کے تبادلے میں گولی نمر کی ٹانگ میں لگی۔[14][15] پولیس نے ہزاروں افراد کے اس ہجوم پر بھی فائر کھول دیا جو نمر کی گرفتاری پر احتجاج کر رہا تھا۔ اس فائرنگ سے دو افراد اکبر الشخوری اور محمد الفلفل، ہلاک ہو گئے۔[15][16][17] النمر نے بھوک ہڑتال کر دی اور کہا کہ ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔[17][18][19] اشرق سنٹر فار ہیومن رائٹس نے نمر کی بھوک ہڑتال پر 21 اگست کو اپنے تحفظات کا اظہار کیا، نیز انہوں نے نمر تک اُن کے خاندان کی رسائی کے لیے عالمی سطح پر کوششیں بھی کیں۔[20]

15 اکتوبر 2014ء کو خصوصی جرائم کی عدالت نے انہیں سعودی عرب میں دوسرے ملک کے اشارہ پر مداخلت کرنے، حکمران کی حکم عدولی اور سیکورٹی افواج کے خلاف ہتھیار اٹھانے کے جرم میں سزائے موت کی سزا سنائی،[21] اسی دن اُن کے بھائی محمد النمر کو سزائے موت کی معلومات ٹویٹ کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔[21][22] بعد ازاں 2 جنوری 2016ء کو النمر کو 46 دیگر افراد کے ساتھ سزائے موت دے دی گئی۔[23] ان کی سزائے موت ایران اور مشرق وسطیٰ کے اہل تشیع نیز مغربی ممالک اور مسلک پرستی پر یقین نہ کرنے والے سنی افراد نے مذمت کی۔ سعودی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ نمر کی نعش ان کے خاندان کے حوالے نہیں کی جائے گی۔[24]

خاندانی پس منظر[ترمیم]

نمر باقر آل نمر 1379ھ بمطابق 1968ء صوبہ قطیف کے شہر العوامیہ میں ایک علمی اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کے چچا آیت اللہ شیخ محمد بن ناصر آل نمر اسی خاندان کے چشم و چراغ تھے اور اس خاندان میں کئی نمایاں علما و ذاکرین ہوگذرے ہیں جن میں ان کے دادا الحاج علی بن ناصر آل نمر قابل ذکر ہیں۔[25]

دینی تعلیم، تدریس و علمی خدمات[ترمیم]

انھوں نے ابتدائی تعلیم العوامیہ میں مکمل کرنے کے بعد سنہ 1400ھ (1989ء) کو انقلاب اسلامی کو بہتر سمجھنے اور اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کی غرض سے اسلامی جمہوریہ ایران ہجرت کی اور تہران کے حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) میں حاضر ہوئے جو اسی سال آیت اللہ سید محمد تقی مدرسی نے تاسیس کیا تھا۔

نمر نے حوزہ علمیہ حضرت قائم (عج) میں 10 سال تک تعلیم جاری رکھی اور اس کے بعد شام میں حوزہ علمیہ سیدہ زینب سلام اللہ علیہا پہنچے اور وہاں تعلیم جاری رکھی۔

انھوں نے اصول الفقہ میں اصول المظفر، رسائل شیخ انصاری اور آخوند خراسانی کی کتاب کفایۃ الاصول کے ساتھ ساتھ علم فقہ میں شہید اول کی کتاب اللمعۃ الدمشقیہ، خوانساری کی کتاب جامع المدارک، شیخ انصاری کی کتاب المکاسب اور سید حکیم کی کتاب مستمسک عروۃ الوثقی مکمل کرلی۔

انھوں نے اس عرصے میں کئی نامور ایرانی، عراقی، شامی اور افغانی علما سے فیض حاصل کیا اور مشہد میں بھی کافی عرصے تک آیت اللہ شیرازی کے درس میں حاضر ہوئے جبکہ قم میں بھی درس اخلاق کے مراتب طے کیے جس کے بعد انہیں علمی مراکز میں تدریس کی اجازت مل گئی۔[25]

آیت اللہ نمر باقر النمر حوزات علمیہ کے نمایاں ترین اساتذہ میں شمار ہوتے تھے اور ایران اور شام میں بھی لمعہ، جامع المدارک، مستمسک العروۃ الوثقی اور شہید آیت اللہ محمد باقر الصدر کی کتاب الحلقات کی تدریس کرتے رہے اور کئی سالوں تک تہران اور دمشق میں حوزہ علمیہ حضرت قائم(عج) کے منتظم رہے اور ان مراکز کی ترقی میں شاندار کردار ادا کرتے رہے ہیں۔[25]

انھوں نے سعودی عرب جاکر العوامیہ میں مذہبی مرکز "الامام القائم (عج)" کی بنیاد رکھی اور اس مرکز کا سنگ بنیاد 2001ء میں رکھا گیا۔[25]

اخلاقی حوالے سے نہایت اعلیٰ خصلتوں کے مالک ہیں اور دینی اقدار کے تحفظ کے حوالے سے کسی قسم کی سودے بازی کے قائل نہیں ہیں اور یہ خصلتیں آل سعود کی فاسد اور ظالم ملوکیت کے خلاف ان کی جہادی تحریک میں نمایاں ہیں۔[25]

آیت اللہ نمر سعودی عرب کے اندر اور خطے کی سطح پر گرد و پیش کے حالات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں جس کے باعث ان کا نظریہ علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے حوالے سے مدلل تجزیئے پر مبنی ہے اور وہ خود کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ قرآن اور اہل بیت (ع) کے ساتھ مسلسل تعلق کا نتیجہ ہے۔[25]

مذہبی کیرئیر[ترمیم]

النمر 2008ء یا پہلے سے ہی العوامیہ میں شیعہ شیخ تھے[4]۔ انہوں نے 10 سالتہران اور سوریہ میں تعلیم حاصل کی۔ وہ پہلے آیت اللہ محمد حسین شیرازی اور پھر بمطابق 2008، آیت اللہ Mohammad Taqi al-Modarresi کی تقلید کرتے رہے[4]۔ یہ دونوں شیعہ عالم ایران اور عراق میں چلنے والی شیعہ تحریکوں کے اہم ترین رہنماؤں میں سے تھے اور انہوں نے عراق اور ایران کی شیعی سیاسی نظریات میں اپنا اہم ترین کردار ادا کیا – اور آیت اللہ محمد حسین شیرازی نے ” فقہا اسلامی کی حکومت ” کا نظریہ پیش کیا تھا جو آیت اللہ خمینی کے ” ولایت فقیہ” سے ملتا جلتا تھا لیکن اس میں فقہا ہی پارلیمنٹ تشکیل دیتے ہیں اور ان کا انتخاب عوام کرتے ہیں۔

بمطابق 2008 میں وہ Eastern Province کی شیعہ کمیونٹی کے دونوں سیاسی گروپوں Islahiyyah (شیرازی) اور Hezbollah Al-Hejaz (سعودی حزب اللہ) سے آزاد ہو گئے [4]۔ نمر عوامیہ میں 2009ء یا اس سے بھی پہلے سے نماز جمعہ کی امامت بھی کراتے تھے۔[8]

ان کے وطن کی علاقائی اہمیت[ترمیم]

نمر باقر النمر سعودی عرب کے مشرقی صوبے عوامیہ سے تعلق رکھتے تھے، اس صوبے کا دار الخلافہ ” دمام ” ہے اور اس صوبے کا واحد سمندری راستہ خلیج فارس سے ملتا ہے جہاں سے ایران سے اس کی سرحد ملتی ہے جبکہ پانچ ملکوں سے اسی صوبے کی زمینی سرحد ملتی ہے اور وہ ہیں عراق، کویت، اومان، متحدہ عرب امارات اور قطر – یہیں پہ ” جسر فہد الملک ” ہے پلوں کا ایک سلسلہ جس سے بحرین اور عوامیہ کے درمیان میں لنک تعمیر کیا گیا ہے اور یہیں پر کنگ فہد انٹرنیشنل ائرپورٹ بھی ہے، عوامیہ صوبے کی ایک اور انتہائی اہمیت یہ ہے کہ اسی صوبے میں سعودی عرب کے تیل کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں اور یہیں پر سعودی عرب کی کیمیکل انڈسٹری بھی موجود ہے جو دنیا کی چند بڑی انڈسٹریز میں شمار ہوتی ہے۔ تو یہ صوبہ سٹریٹجک اور سعودی عرب کی مالیاتی ریڑھ کی ہڈی کہا جاسکتا ہے۔

شیعہ آبادی اور ان کی محرومیاں[ترمیم]

سعودی عرب کے حاکم اس صوبے میں اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ شیعہ آبادی کو خیال کرتے ہیں جو اس صوبے کی اکثریتی آبادی ہے سعودی عرب کی تشکیل سے پہلے یہ علاقہ ”الاحصاء” کہلاتا تھا اور اس میں بحرین تک کا علاقہ شامل تھا – اور شیعہ آبادی کا مرکز اور ان کی سرگرمیوں کا ہیڈ کوارٹر ” القطیف ” ہے اور یہ سعودی کیمکل انڈسٹری، خلیج فارس اور آئل انڈسٹری کے درمیان میں گھرا ہوا ہے – شیعہ سعودی آبادی کا 15 فیصد ہیں اور ایک اندازے کے مطابق سعودی باشندوں میں 20 ملین باشندے شیعہ مذہب رکھتے ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد مدینہ المنورہ اور مکّہ میں بھی آباد ہے – آل سعود کے جد ابن سعود جس نے سعودی عرب کی بنیاد رکھی نے 1913ء میں الاحصاء پر قبضہ کیا اور اس کا نام ” الشرقیہ عوامیہ ” رکھ دیا –یہ قبضہ حجاز، نجد اور یمن کے کچھ حصّوں پر قبضوں کی طرح ” پرامن قبضہ ” نہیں تھا بلکہ یہاں بھی بڑے پیمانے پر قبل و غارت گری، لوٹ مار ہوئی، عورتوں سے عصمت دری کی گئی، قطیف کو جلادیا گیا، شیعہ اور مذاہب اربعہ (سنّی مسالک اربعہ) کی عبادت گاہوں پر قبضہ کر لیا گيا اور وہاں پر ” وہابی علما ” مسلط کردئے گئے اور سوائے ” وہابیت ” کے باقی سب مسالک پر پابندی لگادی گئی۔[26]

سیاسی تحریکیں[ترمیم]

سعودی عرب کے مشرقی صوبے عوامیہ اور اس کے مرکز ” قطیف ” میں ” سعودی عرب ” کے خلاف ہمیشہ سے مزاحمتی تحریک موجود رہی ہے اور یہاں کے لوگوں میں سعودی حکومت کے ساتھ ٹکراؤ بھی موجود رہا ہے اور یہاں پر ” آل- سعود ” کے خلاف تحریک ایران میں شیعہ اسلامی انقلاب آنے سے بہت پہلے موجود تھی، اس تحریک مزاحمت کا واضح اور مکمل اظہار 1978ء میں ہوا جب قطیف میں 60 ہزار سے زائد شہریوں نے سعودی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے تحریک کا آغاز کر دیا اور اس تحریک کا بنیادی مطالبہ سعودی عرب میں بادشاہت کا خاتمہ، پارلیمانی ڈیموکریسی کا احیاء اور مشرقی صوبے کی شہری آبادی کے حقوق پر لگی پابندیوں کو اٹھانا تھا، یہ احتجاج جب پھیلنے لگا تو شاہ فہد نے مشرقی صوبے کی احتجاجی عوام سے کوئی مذاکرات کرنے کی بجائے وہاں پر سعودی افواج کو بھجوادیا، زبردست کریک ڈاؤن ہوا، بڑے پیمانے پر گرفتایاں ہوئیں، ہلاکتیں بھی ہوئیں اور وقتی طور پر سیاسی مزاحمتی تحریک دب گئی اور اس کی جگہ پرتشدد اور مسلح مزاحمت نے لے لی۔

ایک تنظیم ” الثورۃ االسلامیہ ” سامنے آئی اور ایک ” حزب الحجاز ” سامنے آئی، ان کا مرکز کربلا عراق تھا اور عراقی شیعہ مراجع المدرسی شیرازی اس کے دماغ سمجھے جا رہے تھے لیکن 80ء کی دہائی میں 86ء کے قریب کنگ فہد نے ریفارمسٹ شیعہ لیڈروں سے مذاکرات شروع کیے اور شیخ سافر کی قیادت میں ایک گروہ سامنے آیا جس نے سعودی حکمرانون اور شیعہ آبادی کے درمیان میں تعلقات کو بہتر بنانے کے راستے پر سفر شروع کیا لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر قائم نہیں رہا، اس دوران مشرقی صوبے کے اندر ” بادشاہت کے خلاف، انسانی حقوق کی بازیابی اور جمہوریت کے لیے تحریک میں شدت آگئی اور اس مرتبہ مشرقی صوبے عوامیہ کے اندر اس تحریک کی قیادت ایک اور شیعہ عالم نمر باقر النمر کے ہاتھ میں تھی ۔

سیاسی جد وجہد[ترمیم]

شیخ باقر النمر 2000ء میں ” بہار عرب ” تحریک کے تناظر میں سعودی مشرقی صوبے میں جاری ہونے والے ” انتفاضہ ” کے سب سے مقبول لیڈرتھے۔

شیخ باقر النمر سعودی عرب میں پارلیمانی جمہوریت اور فقہا کی سینٹ سے مل کر بننے والے ایک مخلوط سیاسی نظام کی حمایت کرتے تھے، وہ سعودی بادشاہت کے خاتمے، اسلامی جمہوریہ حجاز کی تشکیل کے قائل تھے اور مشرقی صوبے کے عوام کی سیاسی، مذہبی، ثقافتی، معاشی آزادی کے علمبردار تھے وہ سعودی عرب کو امریکی سامراجی بلاک سے واپس لانے کے خواہش مند تھے شیخ باقر النمر عراق، ایران، شام اور ترکی میں شامل ” کرد” علاقوں کو ملا کر ” آزاد خود مختار کرد ریاست ” کے قیام کی حمایت کرتے تھے۔ اپنے نظریات کے اعتبار سے ان کو ” یوٹوپیائی اسلامی سوشلسٹ ” کہا جا سکتا ہے۔ وہ ” تعلیم، صحت، روزگار، رہائش سمیت سماجی سروسز کی فراہمی کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیتے تھے۔

شیخ باقر النمر ان شیعہ عرب میں شامل تھے جنھوں نے ” انقلاب ایران ” کو آزادی کی راہ میں ایک مثبت تبدیلی کے طور پر دیکھا تھا اور وہ اس سے متاثر ہوئے تھے۔

گرفتاری سے پہلے کی تقریر[ترمیم]

اپنی گرفتاری سے پہلے انھوں نے قطیف کی مسجد میں ایک تقریرکی تھی جس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔ ان کی سزائے موت کی وجہ بھی یہی تقریر قرار دی جا رہی ہے۔

الحمد للہ رب العالمین والصلوات والسلام علی سید المرسلین و علی عترتہ اہل بیتہ وسلم

اما بعدہ!

گزشتہ سو سالوں سے ہمیں ظلم، جور، ناانصافی، ڈرائے دھمکائے جانے کا سامنا ہے ۔

آپ جیسے ہی اس دنیا میں آتے ہیں اسی وقت سے اس ظلم، جور، تعدی، ناانصافی اور ڈرائے دھمکائے جانے کے ساتھ بدسلوکی آپ کا مقدر بنادی جاتی ہے ۔

ہم ڈر اور خوف کے ماحول میں آنکھیں کھولتے ہیں اور یہ خوف اتنا ہوتا ہے کہ ہم دیواروں سے بھی خوف کھاتے ہیں۔

ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو اس ظلم، جور، تعدی، ناانصافی اور خوف سے آشنا نہ ہو جس کا ہمیں اس ملک میں سامنا ہے۔

میری عمر 55 سال ہوچکی یعنی میں عمر رواں کی نصف صدی سے زیادہ سفر کرچکا لیکن میں اپنی پیدائش سے لے کر آج تک اس ملک میں کبھی خود کو محفوظ و مامون خیال نہیں کرسکا۔

آپ پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی الزام، دشنام، تہمت دھر دی جاتی ہے۔

آپ یہاں ہمیشہ خطرات میں گھرے ہوئے رہتے ہیں۔

جب مجھے گرفتار کر لیا گیا تو اس صوبے (عوامیہ ) کے سٹیٹ سیکورٹی افسر نے میرے سامنے برملا کہا۔

تم جتنے بھی شیعہ ہو لازم ہے کہ تمہیں قتل کر دیا جائے۔

یہ ہے ان کا فلسفہ زندگی، یہ ہے ان کی منطق۔

یہ بات کوئی اور نہیں کہہ رہا بلکہ ہمارے صوبے کا سٹیٹ سیکورٹی افسر کہہ رہا ہے۔

وہ ہر وقت بڑے قتل عام کا منصوبہ بناتے رہتے ہیں۔

ہم یہاں موجود ہیں، مرحبا! آئیں بڑے شوق سے ہمیں قتل کیجئے۔

اپنے اقدار کے دفاع کے لیے ہمارے خون کا ں ذرانہ تو بہت ہی ہلکی قیمت ہے جو ہم چکانے کے لیے تیار ہیں۔

ہم موت سے ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں، ہم تو ” شہادت ” کی آرزو رکھنے والے لوگ ہیں۔

کچھ ماہ پہلے اس صوبے کے نوجوانوں کے دلوں میں ” عزت و تکریم ” کی شمع روشن ہو گئی – انہوں نے مشعل حریت فروزاں کی – لوگ گلیوں میں نکل آئے اور انہوں نے اصلاحات، عزت نفس کی بحالی اور آزادی کا مطالبہ کیا۔

ان میں وہ لوگ بھی جنھوں نے 16 سال قید کاٹی تھی۔

جب گلف کونسل کی افواج نے سعودی افواج کی قیادت میں بحرین پر دھاوا بولا تو اس وقت یہاں پر جو احتجاج شروع ہوا تھا تو زیادہ سے زیادہ گرفتاریاں اور تشدد ہوا تھا، تو کس نے اس کشیدگی اور تناؤ کو جنم دیا تھا؟

عوامیہ میں کشیدگی و تناؤ سعودی حکومت نے پیدا کیا نہ کہ عوام نے۔

ہم پرانے اور نئے قیدیوں کا دفاع جاری رکھیں گے۔

ہم ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

چاہے ہمارا خون بہا دیا جائے، ہم پروا نہیں کریں گے۔

ہم بحرین کے ساتھ یک جہتی جاری رکھیں گے۔

بحرین کی عوام ہماری اپنی ہے، ہم ان کے اہل ہیں۔ اگر بحرین کے اندر سعودی قیادت میں فوجی مداخلت نہ بھی ہوتی تب بھی ہم بحرین کی عوامی جدوجہد سے اظہار یک جہتی جاری رکھتے اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا فرض تھا۔

ہم ان کو کیسے تنہا چھوڑ دیں جبکہ ان پر سعودی افواج ظلم کر رہی ہوں، ان کا قتل کر رہی ہوں، ان کی عورتوں سے بدسلوکی کی جاتی ہو اور ان کی دولت کی لوٹ مار کی جا رہی ہو۔

سعودی حکومت کہتی ہے کہ ہم ایک غیر ملک کے اشارے پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں ،وہ ہم پر تشدد کے جواز کے لیے یہ غلط الزام تراشتی ہے اور غیر ملک سے اکثر ان کی مراد ایران ہوتا ہے۔

میں اس الزام کا جواب تاریخ سے دوں گا۔

1978ء کا سال تھا جب عوامیہ صوبے کے لوگ اپنی عزت نفس کی بحالی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھا اور اس وقت سعودی فوج قطیف پر ٹوٹ پڑی تھی۔

یہ انتفاضہ، آزادی کی تحریک دسمبر 1978ء میں شروع ہوئی تھی جب شاہ ایران کی حکومت ابھی قائم تھی، ایران میں انقلاب نہیں آیا تھا اور یہ اس انقلاب کے آنے سے چار ماہ پہلے کا قصّہ تھا۔

کیا ہوا تھا، لوگ امام حسین کا تعزیہ کا جلوس لیکر جا رہے تھے، یہ کوئی سیاسی یا دفاعی معاملہ نہ تھا لیکن سیکورٹی فورسز نے ان پر حملہ کر دیا اور اس طرح سے ایک ” محاذ آرائی ” شروع کردی گئی –لوگ اپنی حرمت، عقیدے اور عزت کا دفاع کر رہے تھے، اس رات انہوں نے 100 افراد پکڑے اور یہ سب ” انقلاب ایران ” سے بہت پہلے، شاہ ایران کی حکومت کے گرنے سے چار ماہ پہلے ہوا تھا تو وہ کیسے ” بیرونی مداخلت کا الزام دے سکتے ہیں؟“

آپ کو اپنے اوپر خود شرم آنی چاہئیے۔

سعودی حکومت کہتی ہے:-

اگر احتجاج ختم نہ ہوا تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

آپ 40 / 50 سالوں سے کمزور و ضعیف لوگوں کے ساتھ انہی آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہے ہیں۔

ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی بیرونی ملک آپ کے یہاں مداخلت کر رہا ہے تو اس سانپ کا سر آپ اٹھنے سے پہلے کچل کیوں نہیں دیتے؟ اگر یہ سب ایران کر رہا ہے تو جائیں، اس پر حملہ کر دیں۔

ہمارا ایران یا کسی اور ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہم اپنی لڑائی خود لڑ رہے ہیں، ہم اپنی اقدار سے جڑے ہیں (جو کسی سے مستعار نہیں لی ہوئیں ) ہم ان کا دفاع کریں گے – اگر چہ سرکاری میڈیا ہمارے موقف کو کتنا ہی مسخ کیوں نہ کرے۔

یہ دفاع ہم تشدد سے نہیں بلکہ اپنے عزم، عقیدے، صبر و تحمل سے کریں گے اور انہی سے آپ کو شکست دیں گے، ناانصافی کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور ہم سرنڈر نہیں کریں گے۔

زیادہ سے زیادہ آپ ہمیں ماردیں گے۔

ہم اللہ کی راہ میں شہادت پانے کو خوش آمدید کہیں گے۔

ایک آدمی جب مرجاتا ہے تو زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ حقیقی زندگی کا آغاز تو تب ہی ہوتا ہے یا تو ہم اس دھرتی پر ” فرد آزاد ” کی طرح رہیں گے یا ایک مرد پاکباز کی طرح مرجائیں گے اور اس دھرتی میں ہی ایک پاکباز کی طرح دفن ہوں گے، ہمارے پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

سعودی ویکی لیکس کی ایک امریکی سفارٹی کیبل کے مطابق شیخ باقر نمر النمر کو ” ایرانی ایجنٹ ” کہلوانے یا ” ایران نواز ملّا ” کہلانے پر سخت اعتراض تھا۔[27]

عالمی رد عمل[ترمیم]

بیانات[ترمیم]

عباس شمائل زیدی نے شیخ باقر النمر کی موت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

A Man with Courage, who spat on the faces of Al Saud and left this world with pride and honour!

ایک بہادر شخص جس نے آل سعود کے چہروں پر تھوک دیا اور اس دنیا سے عزت و وقار کے ساتھ رخصت ہوا۔ اور پھر نمر باقر کی تقریر سے ایک جملہ لیکر درج کیا

“We either live in this land as free men, or be killed and be buried in this land as pious men”

اور واقعی ایسا ہی ہوا وہ آزادی کے ساتھ جینے کی جدوجہد کرتا ہوا ایک پاکباز آدمی کی طرح اپنی دھرتی میں دفن ہو گیا۔

احتجاج[ترمیم]

نمر کے عدالتی قتل کے خلاف دنیا کے کئی ممالک میں احتجاج کیے گئے ایران کی سیاسی اور دینی حلقوں نے شدید مذمت کی (اور ایران نے سعودیہ سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر دیا)، [28][29][30][31][32][33][34][35] عراق (کی متعدد شخصیات من جملہ مذہبی شخصیات جیسے مقتدا صدر اور سیاسی اور عوامی شخصیات جیسے عوامی رضا کار عراق[31][35][36][37][38] فلسطین،[32] حزب اللہ[39] اور لبنان کی دیگر شیعہ تنظیموں،[31][37] بحرین[38] اور سعودی عرب کے شیعہ رہنماہان،[30] یمن کے انصار اللہ یمن،[31][40] پاکستان کے اہل تشیع،[40] بھارت کے اہل تشیع[37] جرمنی کے بعض حکومتی عہدیداران،[37][41] برطانیہ[37] اور متحدہ یورپ[42] نیز انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں[31][37] کچھ بین الاقوامی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے کو دھوکا اور سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔[43][44]

البتہ عرب امارات اور بحرین کی حکومتوں اور الازہر کے سنی علما کی انجمن نے اس سزا کی حمایت کی ہے۔[37]

مقبولیت[ترمیم]

امریکی سفارت کار نے 2008ء میں نمر کے مقامی طور پر مشہور ہونے سے متعلق بیان دیا۔[4] دی گارڈین نے اپنے تجزیہ میں لکھا کہ [بظاہر]2011ء اور 2012ء میں نمر، شیعہ نوجوانوں میں سب سے مشہور شیعہ عالم بن گئے تھے۔ 2012ء قطیف احتجاج میں ہزاروں افراد نے نمر کا ساتھ دیا، جس وجہ سے جولائی 2012ء میں ان کو گرفتار کیا گیا۔[15]

2004ء اور 2006ء کی گرفتاریاں[ترمیم]

2004ء کو نمر کو کئی دنوں تک حراست میں رکھا گیا۔[17] 2006ء میں النمر کو گرفتار کیا گيا اور دوران میں حراست ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ال عوامیہ کے رہائشیوں نے اس کی رہائی کے لیے مہم چلائی،[4] جس کے چند دن بعد، انہیں رہا کر دیا گیا۔[17]

احتجاج، گرفتاری اور تعزیر[ترمیم]

2011ء تا 2013ء سعودی عرب میں احتجاج، عرب بہار کا حصہ تھا، عرب بہار کا آغاز 2011ء میں تونس انقلاب سے ہوا۔ یہ احتجاج 2011ء میں جدہ اور صاطمہ کی سڑکوں پر خودسوزی کے ساتھ شروع ہوا۔[45][46][47] شیعیت کے خلاف تعصب برتنے پر یہ احتجاج قطیف، ریاض اور عوامیہ نامی شہروں میں ہوا۔[48][49] جس کی نمائندگی نمر باقر النمر کر رہا تھے۔

سزائے موت[ترمیم]

سعودی حکومت نے بروز ہفتہ 2 جنوری 2016ء کو ان کا سر قلم کیا۔[23][50][51]

سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز سرکاری ٹیلی ویژن پر نمودار ہوئے اور انہوں نے 47 افراد کے سر قلم کیے جانے کی خبر سعودی عرب کی عوام کو دی اور یہ بھی بتایا کہ اس میں نمر باقر النمر بھی شامل ہیں۔ ان 47 افراد پر دہشت گردی، غداری اور دیگر قسم کے الزامات تھے اور مفتی اعظم سعودی عرب کے بقول ان افراد کے ساتھ سعودی عرب نے یہ بھلائی کی کہ ان کا سر قلم کر دیا تاکہ یہ مزید گناہ نہ کرسکیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://pantheon.world/profile/person/Nimr_al-Nimr — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. http://www.aljazeera.com/news/2016/01/saudi-announces-execution-47-terrorists-160102072458873.html — اخذ شدہ بتاریخ: 7 جنوری 2016
  3. http://www.theguardian.com/world/live/2016/jan/02/middle-east-condemns-saudi-execution-of-shia-cleric-live
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح Gfoeller، Michael (2008-08-23). Meeting with controversial Shi'a sheikh Nimr. ویکی لیکس. ویکی لیکس کیبل: 08RIYADH1283. http://wikileaks.org/cable/2008/08/08RIYADH1283.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-01-23. 
  5. ^ ا ب Ulf Laessing؛ Reed Stevenson؛ Michael Roddy (2011-02-22)۔ "Watching Bahrain, Saudi Shi'ites demand reforms"۔ Thomson Reuters۔ مورخہ 2012-02-21 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-21۔
  6. ^ ا ب Toby Matthiesen (2012-01-23)۔ "Saudi Arabia: the Middle East's most under-reported conflict"۔ London: دی گارڈین۔ مورخہ 2012-01-23 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-01-23۔
  7. "Saudi execution of Shia cleric sparks outrage in Middle East"۔ دی گارڈین۔ 2 جنوری 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  8. ^ ا ب پ Donna Abu-Nasr (2009-04-01)۔ "Saudi government cracks down on Shiite dissidents"۔ The San Diego Union-Tribune/AP۔ مورخہ 2012-02-21 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-21۔
  9. Salah Hemeid (2009-05-07)۔ "Bomb-for-peace"۔ Al-Ahram Weekly۔ مورخہ 2012-02-22 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-22۔
  10. "Shi'a men and teenagers held incommunicado by Saudi Arabian authorities"۔ تنظیم برائے بین الاقوامی عفو عام۔ 2009-03-23۔ مورخہ 2012-02-21 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-21۔
  11. "Sheikh Nemr Refuses Use of Violence against Security Forces"۔ Rasid News Network۔ 2011-10-06۔ مورخہ 2012-02-17 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-17۔
  12. Rashid Abul-Samh (2011-10-13)۔ "Saudi Shias riot yet again for better conditions"۔ Al-Ahram Weekly۔ مورخہ 2012-02-22 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-22۔
  13. AGB/HGH (21 جنوری 2012)۔ "Saudi cleric warns Al Saud regime"۔ Press TV۔ مورخہ 24 جنوری 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2012۔
  14. "Al-Awamiyah instigator arrested"۔ سعودی گزٹ/Saudi Press Agency۔ 2012-07-09۔ مورخہ 2012-02-22 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-22۔
  15. ^ ا ب پ Asma Al Sharif؛ Angus McDowall؛ Sami Aboudi؛ Christopher Wilson (2012-07-08)۔ "Saudi police arrest prominent Shi'ite Muslim cleric"۔ Thomson Reuters۔ مورخہ 2012-07-10 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-07-10۔
  16. (Arabic زبان میں)۔ Awamia.net۔ 2012-08-01 http://awamia.net/index.php/permalink/4764.html۔ مورخہ 2012-08-01 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-08-01۔ |title= غیر موجود یا خالی ہے (معاونت)
  17. ^ ا ب پ ت "Saudi protest crackdown leaves two dead"۔ Al Jazeera English۔ 2012-07-09۔ مورخہ 2012-07-10 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-07-10۔
  18. "'Sheikh Nimr Tortured by Saudi Authorities'"۔ Al-Manar۔ 2012-07-17۔ مورخہ 2012-07-18 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-07-18۔
  19. "Saudi Arabia's jailed Sheikh Nemr goes on hunger strike"۔ Press TV۔ 2012-07-19۔ مورخہ 2012-07-19 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-07-19۔
  20. "Asharq Center expresses concern for the safety of the health and humanitarian situation of Sheikh Nimr Baqr al-Nimr" (Arabic زبان میں)۔ Asharq Center for Human Rights۔ 2012-08-21۔ مورخہ 2012-08-23 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-08-23۔
  21. ^ ا ب "Saudi Shia cleric Nimr al-Nimr 'sentenced to death'"۔ بی بی سی نیوز۔ 2014-10-15۔ مورخہ 2014-10-15 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-15۔
  22. "Saudi Arabia: Appalling death sentence against Shi'a cleric must be quashed"۔ تنظیم برائے بین الاقوامی عفو عام۔ 2014-10-15۔ مورخہ 2014-10-15 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-10-15۔
  23. ^ ا ب "Saudi announces execution of 47 'terrorists'"۔ الجزیرہ۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 جنوری 2016۔
  24. "Saudi govt. secretly buries Sheikh Nimr's body"۔ Mehr News Agency۔ 3 جنوری 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  25. ^ ا ب پ ت ٹ ث "Aalmi Akhbar"۔
  26. en:Shia Islam in Saudi Arabia
  27. Full-text search
  28. Nicola Slawson؛ Nicola Slawson (2 جنوری، 2016)۔ "Execution of Shia cleric sparks international outrage – as it happened"۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  29. "Iran warns Saudi Arabia it faces being 'wiped from the pages of history'"۔ The Independent۔ 2 جنوری، 2016۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  30. ^ ا ب "PressTV-Qatif protesters slam Nimr execution"۔ www.presstv.com۔
  31. ^ ا ب پ ت ٹ "MidEast leaders lash out at Saudi Arabia over Shiite cleric's execution, protests erupt"۔ RT International۔
  32. ^ ا ب "Farsnews"۔ en.farsnews.com۔
  33. "Nimr's execution sparks angry reactions among Shia, Sunni senior clerics"۔ The Iran Project۔ 2 جنوری، 2016۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  34. "PressTV-'Saudis seek to trigger sectarian strife'"۔ www.presstv.com۔
  35. ^ ا ب "Shi'ite cleric among 47 executed in Saudi Arabia, stirring anger in..."۔ 2 جنوری، 2016۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  36. AhlulBayt News Agency – ABNA – Shia News
  37. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج Louisa Loveluck in Dubai 9:31AM GMT 03 Jan 2016 (3 جنوری، 2016)۔ "Iran supreme leader says Saudi faces 'divine revenge'"۔ www.telegraph.co.uk۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  38. ^ ا ب "Former Iraq PM al-Maliki says cleric's execution will 'topple Saudi regime'"۔ The Independent۔ 2 جنوری، 2016۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  39. http://english.irib.ir/news/item/220883-lebanon-s-hezbollah-slams-nimr-execution-as-assassination
  40. ^ ا ب "PressTV-Nimr killing draws global condemnation"۔ www.presstv.com۔
  41. "PressTV-Germany concerned over Nimr execution"۔ www.presstv.com۔
  42. "Statement of the HR/VP Federica Mogherini on the executions in Saudi Arabia"۔ EEAS - European External Action Service - European Commission۔
  43. "Sheikh Nimr al-Nimr: Anger at execution of top Shia cleric"۔ BBC World News۔ جنوری 3, 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جنوری 3, 2016۔
  44. "Saudi execution of Shiite sheikh political-Amnesty"۔ The Daily Star Lebanon۔ جنوری 2, 2016۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جنوری 3, 2016۔
  45. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ saudi_selfimmo65yr نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  46. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Montreal نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  47. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Reuters_Dozens_detained نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  48. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ PressTV_PreRage نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  49. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ ThReut_demosillegal نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  50. Associated Press (2 جنوری 2016)۔ "Saudi Arabia says Sheikh Nimr al-Nimr, leading Shiite Muslim cleric, among 47 executed"۔ واشنگٹن پوسٹ۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 جنوری 2016۔
  51. رویترز: سعودی عرب نے نمر کو سزائے موت دے دی۔ [خبرگزاری جمهوری اسلامی(ایرنا) http://www.irna.ir]

نقص حوالہ: <ref> tag with name "ANHRI_Nimr_tracked" defined in <references> is not used in prior text.
نقص حوالہ: <ref> tag with name "presstv_alnimr_tortured22jul2012" defined in <references> is not used in prior text.
نقص حوالہ: <ref> tag with name "ESSHR_fivecourtappearances" defined in <references> is not used in prior text.
نقص حوالہ: <ref> tag with name "AI_AliNimr_exec_risk_2015" defined in <references> is not used in prior text.
نقص حوالہ: <ref> tag with name "Huff_ArabSpring_activist" defined in <references> is not used in prior text.