تکاکی کاجیتا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تکاکی کاجیتا
مقامی نام 梶田 隆章
پیدائش (1959-30-09) 9 مارچ 1959 (عمر 58 سال)
ادارے انسٹیٹیوٹ فار کازمک رے ریسرچ، یونیورسٹی آف ٹوکیو
مادر علمی سیٹاما یونیورسٹی (B.S.)
ٹوکیو یونیورسٹی (M.S., Ph.D.)
تعلیمی مشیر مساٹوشی کوشیبا
اہم انعامات اشائی پرائز (1988ء)
برونو روسی پرائز (1989ء)
نشینا میموریل پرائز (1999ء)
پنوفسکی پرائز (2002ء)
جاپان اکیڈمی پرائز (2012ء)
نوبل طبیعیات کا انعام (2015ء)
شریک حیات میچیکو

تکاکی کاجیتا (تاریخ پیدائش 9 مارچ 1959ء) ایک جاپانی طبیعیات دان  ہیں جن کو کمیوکنڈ  اور اس  کے جانشین سپر کمیوکنڈ میں  نیوٹرینو پر کئے جانے والے تجربات سے جانا جاتا ہے۔ 2015ء میں ان کو طبیعیات کا نوبل انعام  کینیڈا کے رہائشی طبیعیات دان آرتھر بی مکڈونلڈ  کے ساتھ اشتراک میں دیا گیا۔  

ابتدائی اور ذاتی زندگی [ترمیم]

کاجیتا  1959ء میں ہیگاشیماٹسو یاما سیٹا ما، جاپان  میں پیدا ہوئے۔ [1] ان کی بیوی میچیکو، ٹویاما میں رہتی ہیں۔ [2]

سوانح حیات [ترمیم]

کاجیتا نے سیٹاما یونیورسٹی سے پڑھا اور 1981ء میں سند فضیلت حاصل کی۔ ٹوکیو یونیورسٹی سے انہوں نے 1986ء میں اپنی ڈاکٹریٹ  کی سند حاصل کی۔ 1988ء سے وہ ٹوکیو یونیورسٹی کے شعبہ انسٹیٹوٹ فار کازمک ریڈیشن ریسرچ  میں کام کرتے رہے جہاں وہ 1992ء میں  معاون پروفیسر جب کہ 1999ء میں پروفیسر  بنے۔[3]

1999ء میں وہ انسٹیٹیوٹ فار کازمک رے ریسرچ کے شعبہ سینٹر فار کازمک نیوٹرینو کے ڈائریکٹر بن گئے۔ اس وقت 2015ء میں وہ ٹوکیو یونیورسٹی کے شعبے انسٹیٹیوٹ فار دی فزکس اینڈ میتھمیٹکس آف دی یونیورس سے وابستہ ہیں اور انسٹیٹیوٹ فار کازمک رے ریسرچ کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔ [4] 

1998ء میں سپر کمیوکنڈ میں کاجیتا کی ٹیم کو معلوم ہوا کہ جب کائناتی اشعاع زمین کے کرۂ فضائی سے ٹکراتی ہیں، تو بننے والے نیوٹرینو ماؤنٹ کمیوکا  کے نیچے موجود سراغ رساں تک پہنچنے سے پہلےدو ذائقوں میں  بدل جاتے ہیں۔[5] اس دریافت نے نہ صرف نیوٹرینو کے جھولنے کو ثابت کرنے میں مدد کی بلکہ اس بات کو بھی ثابت کیا کہ نیوٹرینو کمیت رکھتے ہیں۔ 2015ء میں کاجیتا نے طبیعیات کا نوبل انعام کینیڈا کے رہائشی طبیعیات دان آرتھر بی مکڈونلڈ  کے ساتھ حاصل کیا جن کی سڈبری نیوٹرینوآبزرویٹری نے بھی ایسے ہی نتائج کو دریافت کیا تھا۔ کاجیتا اور مکڈونلڈ کے کام نے شمسی نیوٹرینو کے عرصے دراز کے مسئلہ کو حل کردیا۔ یہ مسئلہ شمسی نیوٹرینو کے مشاہدے اور پیش گوئی کے درمیان واضح فرق کی وجہ سے آرہا تھا۔ اس دریافت نے معیاری نمونہ کو کمزور کیا جو نیوٹرینو کو بغیر کمیت کے قیاس کرتا تھا۔ نوبل انعام کے اعلان کے فوراً بعد ٹوکیو یونیورسٹی کی نیوز کانفرنس میں کاجیتا نے کہا، "بلاشبہ میں نیوٹرینو کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اور کیونکہ نیوٹرینو کائناتی اشعاع سے بنتے ہیں لہٰذا میں ان کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔"[6]   

نوبل انعام حاصل کرنے کے بعد جس شخص کو کاجیتا نے سب سے پہلے بلایا وہ 2002ء کے طبیعیات  کے نوبل انعام یافتہ مساٹوشی کوشیبا، اس کے سابق مربی اور  نیوٹرینو محققی رفیق تھے ۔

اعزازات [ترمیم]

  • 1989ءکمیوکنڈ اشتراک کے دوسرے اراکین کے ساتھ برونو روسی پرائز 
  • 2002ءپنوفسکی  پرائز 
  • 1987ء میں کمیوکنڈ  کا حصّہ رہتے ہوئے  اور 1999ء میں سپر کمیوکنڈ کا حصّہ رہتے ہوئے  اشائی پرائز 
  • 1999ءنشینا میموریل پرائز 
  • 2013ءجولیس  ویس  ایوارڈ 
  • 2015ء میں نوبل انعام آرتھر بی مکڈونلڈکے ساتھ اشتراک میں نیوٹرینو کے جھولنے کو دریافت کرنے کے سلسلے میں ملا جس میں یہ ثابت ہوا کہ نیوٹرینو اصل میں کمیت رکھتے ہیں۔[7]

مزید دیکھئے [ترمیم]

حوالہ جات [ترمیم]

  1. "Takaaki Kajita - Facts". Nobel Foundation. 6 October 2015. Retrieved 6 October 2015.
  2. "Japan’s Takaaki Kajita shares Nobel in physics". Japan Times. 6 October 2015. Retrieved 7 October 2015.
  3. "2015 Nobel Prize in Physics: Canadian Arthur B. McDonald shares win with Japan's Takaaki Kajita". CBC News. 6 October 2015. Retrieved 6 October 2015.
  4. "About ICRR". Institute for Cosmic Ray Research, University of Tokyo.
  5. Randerson, James and Ian Sample (6 October 2015). "Kajita and McDonald win Nobel physics prize for work on neutrinos". The Guardian. Retrieved 6 October 2015.
  6. Overbye, Dennis (6 October 2015). "Takaaki Kajita and Arthur McDonald Share Nobel in Physics for Work on Neutrinos". New York Times. Retrieved 6 October 2015.
  7. "The Nobel Prize in Physics 2015".. Nobelprize.org. Nobel Media AB 2014. Web. 6 October 2015.

بیرونی روابط [ترمیم]

== حوالہ جات ==