دیپیکا پلیکل کارتیک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
دیپیکا پلیکل کارتیک
دیپیکا ایک مقابلے کے دوران
مکمل نام دیپیکا ریبیکا پلیکل
کارتیک[1]
ملک Flag of India.svg بھارت
پیدائش 21 ستمبر 1991ء (عمر 28 سال)[2]چینائی، بھارت
قد 171 سینٹی میٹر (5 فٹ 7 12 انچ)
وزن 69 کلوگرام (152 پونڈ؛ 10.9 سنگ)
پیشہ ور بنا 2006ء
کھیل دائیں ہاتھ
کوچ سارہ فٹز کیرالڈ
ریکیٹ استعمال ٹیکنی فائبر
خواتین کے علاحدہ
اعلی ترین درجہ بندی سب سے بڑی پہنچ 10 (دسمبر 2012ء)
موجودہ درجہ بندی نومبر 19 (اگست 2016ء)
ٹائٹل 11
ورلڈ اوپن کیو ایف (2011ء)
آخری ترمیم: 13 اگست 2016ء۔

دیپیکا پلیکل کارتیک (قبل از شادی: پلیکل؛ پیدائش: 21 ستمبر، 1991ء) ایک بھارتی اسکواش کھلاڑی ہے۔ وہ پہلی بھارتی ہے جس کو پی ایس اے ویمنز رینکنگ کی سب سے اعلٰی دس مقامات میں جگہ ملی۔

دیپیکا کو شہرت اس وقت ملی جب وہ تین وِیسپا دورے کے چار خطابات جیت کر کریئر میں اونچائی پاتے ہوئے 13 ویں مقام پر پہنچی۔ وہ اعلٰی ترین دس مقامات میں اپنی جگہ دسمبر 2012ء میں بنا پائی ہے۔[3]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

دیپیکا پلیکل چینائی میں ایک ملیالی خاندان میں پیدا ہوئی۔[4] وہ سنجیو اور سوسن اتی چیریا کی بیٹی ہے، جو دونوں سیرین کرسچن ہیں اور اصالتًا کیرلا کے رہنے والے ہیں۔[5][6] اس کی ماں بھارتی خواتین کی کرکٹ ٹیم کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کھیل چکی ہے۔ [7][8] وہ اپنا پہلا بین الاقوامی مقابلہ لندن میں کھیل چکی ہے جب وہ چھٹی جماعت میں تھی۔ اس کے علاوہ وہ یورپی جونیر اسکواش کرکٹ کے کئی ٹورنمنٹ جیت چکی ہے۔[حوالہ درکار]

پیشہ ورانہ کریئر[ترمیم]

دیپیکا پلیکل ایک پیشہ ور 2006ء میں بن گئی،[9] مگر اس کا کریئر شروع شروع میں اتار چڑاؤ سے بھرا تھا۔ وہ زیادہ مستحکم اور جیت کی جانب زیادہ مائل 2011ء میں ہوئی اپنی مصر کی مختصر تربیت کے بعد ہوئی۔[9]

اہم مقابلے سے لاعلمی کی بنا پر عدم شرکت[ترمیم]

ہندوستانی ویمن اسکوائش کھلاڑی دیپیکا پلیکل 2014ء میں کینیڈا میں ہونے والی ورلڈ ٹیم چمپین شپ میں حصہ نہیں لیے سکی کیونکہ وہ اس ٹورنمنٹ کے بارے میں لاعلم تھی۔ کامن ویلتھ گیمس میں گولڈ میڈل جیتنے والی ڈبلز جوڑی جوشنا چنپا اور دیپیکا پر مشتمل تھی۔ دیپیکا کی غیرموجودگی سے ٹیم کمزور ہوپڑ گئی۔ تاہم دونوں سرکردہ اتھیلیٹس ورلڈ چمپین شپ میں شامل رہیں جو 12 تا 20 دسمبر 2014ء کے درمیان قاہرہ (مصر) میں منعقد ہوا۔[10]

دوحہ میں کھیل[ترمیم]

اسی سال دوحہ میں دیپیکا کو اس کے مصری حریف یثرب عادل نے کھیل کے 26 ویں منٹ میں 7-11، 7-11، 5-11 سے شکست دے دی۔[11]

2014ء میں دیپیکا کا مجموعی موقف[ترمیم]

  • 15 اپریل کو مصر کے نورالشربنی نے دیپیکا پلیکل کو ہرا کر ٹیکساس اوپن اسکواش فائنل جیت لیا۔
  • 6 مئی کو اسکواش میں عالمی نمبر 6 کا مقام حاصل ہوا۔[12]
  • اس کی اہم وجہ یہ کہ سال منعقدہ انچیان ایشیائی کھیلوں میں اس نے کانسی کا تمغا حاصل کیا۔[13]

کھیل کو بدعنوانوں سے پاک رکھنے کے بارے میں خیالات[ترمیم]

دیپیکا پلیکل نے مطالبہ کیا ہیکہ اس سے پہلے کہ بھارت کھیل کا ایک طاقتور ملک بن جائے، کھیلوں کو بدعنوانیوں سے پاک کیا جانا چاہیے۔ بحیثیت کھلاڑی وہ سمجھتی ہے کہ یہ ضروری ہیکہ ملک میں اسپورٹس کو بدعنوانیوں سے پاک کیا جائے اور اسپورٹس فیڈریشن میں کھلاڑیوں کی موجودگی ضروری ہے جس کے ذریعے ہی وہ کھلاڑیوں کے ذہن کو پڑھ سکے گا۔ دفترشاہی سے پریشانی کے بارے میں اس کی رائے یہ تھی کہ حکومت کے مالی تعاون کو حاصل کرنے کا آسان طریقہ کار ہونا چاہیے۔[14]

سماجی سرگرمیوں سے وابستگی[ترمیم]

دیپیکا سوچھ بھارت ابھیان اور اسی طرح کئی سماجی کاموں سے جڑی ہے۔ [15]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. SquashHub on Twitter: "@SquashHub wish Indian team all the best for #AsianTeamChampionship #Squash @indiasquash @DipikaPallikal @kushsquash… "
  2. "Dipika Pallikal (India) Profile"۔ squashinfo.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 اگست 2015۔
  3. "Dipika Pallikal is first Indian to break into top 10"۔ The Indian Express۔ 1 جنوری 2012۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "Local Sports News – Malayalee Dipika Pallikal wins in straight games to net sixth WSA title (Picture Album)"۔ Ukmalayalee.com۔ 21 ستمبر 1991۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2013۔
  5. "Manorama Online – Home"۔ ManoramaOnline۔
  6. "Dipika Pallikal, the hot girl of Indian squash"۔ Indiatvnews.com۔ 21 ستمبر 1991۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2013۔
  7. India / Players / Susan Itticheria – ESPNcricinfo. Retrieved 2 November 2015.
  8. Abishek Mukherjee (20 August 2015). "Susan Itticheria-Dinesh Karthik and other cricket in-laws" – Cricket Country. Retrieved 2 November 2015.
  9. ^ ا ب "Pallikal wins three WISPA titles"۔ jagran.com۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. اسکوائش کی سرکردہ کھلاڑی دیپیکا مجوزہ چمپین شپ سے لاعلم
  11. جوشنا کے ہاتھوں عالمی نمبر ایک مصری حریف کو شکست قطر کلاسک اسکوائش
  12. 2014ء میں کھیل کا میدان کون جیتا، کون ہارا؟
  13. اسکواش میں ہندوستان کی تاریخ ساز کامیابی، دیپیکا کو برونز میڈل
  14. اسپورٹس کو بدعنوانیوں سے پاک کیا جائے : دیپیکا
  15. ثانیہ مرزا نے سوچھ بھارت ابھیان میں حصہ لیا