میری کوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میری کوم
(انگریزی میں: Mary Kom ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل= Mary Kom at the British High Commission

Member of Parliament, راجیہ سبھا
آغاز منصب
25 April 2016
نامزد کنندہ پرنب مکھرجی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 1983 (37 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
منی پور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قد 158 سنٹی میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2048) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وزن 51 کلو گرام  ویکی ڈیٹا پر (P2067) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مکے باز،  سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل مکے بازی  ویکی ڈیٹا پر (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل کا ملک Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P1532) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IND Padma Vibhushan BAR.png پدم وبھوشن  (2020)[1]
IND Padma Shri BAR.png پدم شری اعزاز برائے کھیل
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن [2]
ارجن ایوارڈ   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

میری کوم (انگریزی: Mary Kom) (ولادت: 1 مارچ 1983ء[3]) بھارت کی مکے باز ہیں جنہوں نے اولمپکس میں خطاب جیتا ہے۔ وہ راجیہ سبھا کی موجودہ رکن بھی ہیں۔[4][5][6] وہ دنیا کی اکلوتی خاتون شوقیہ مکے باز ہیں جنہوں نے لگاتار 6 مرتبہ عالمی خطاب جیتا ہے۔ وہ 8 مرتبہ خطاب جیتنے والی دنیا کی واحد مکے باز ہیں۔ اب تک یہ کارنامہ کوئی بھی مرد یا خاتون نہیں کرسکی ہیں۔[7][8][9][10] ان کا دوسرا ام میگنیفیشینے میری ہے۔ وہ بھارت کی اکلوتی مکے باز ہیں جنہوں نے 2012ء گرمائی اولمپکس میں یہ صرف شامل ہونے کی اہل ہوئیں بلکہ 51 کلو کے زمرے میں کانسہ کا تمغا بھی جیتا۔[11] وہ کئی دنوں تک نمبر ایک مکے باز رہی ہیں۔[12][13] 2014ء میں انچون، جنوبی کوریا میں انہیں طلائی تمغا ملا اور 2018ء دولت مشترکہ کھیل میں بھی انہوں نے طلائی تمغا اپنے نام کیا۔

25 اپریل 2016ء کو صدر بھارت نے انہیں راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا اور وہ رکن بھارتی پارلیمان بن گئیں۔[14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://pib.gov.in/newsite/PrintRelease.aspx?relid=197647 — اخذ شدہ بتاریخ: 30 جنوری 2020
  2. https://timesofindia.indiatimes.com/city/guwahati/Mary-Kom-gets-Padma-Bhushan/articleshow/18189452.cms
  3. ^ ا ب Kom، Mary (2013). Unbreakable. 
  4. "Mary Kom Review". mid-day.com. 5 ستمبر 2014. اخذ شدہ بتاریخ 5 ستمبر 2014. 
  5. "London Olympics – Womens fly 51 kg, Semi-finals – India vs Great Britain". www.olympic.org. World Olympics Committee. 5 جولائی 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 دسمبر 2016. 
  6. "AIBA Legends – Mary Kom – AIBA". AIBA (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2018. 
  7. "Magnificent Mary". iseeindia.com. 13 اگست 2011. اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2012. 
  8. "Mary Kom wins record sixth World Championships gold". The Indian Express (بزبان انگریزی). 25 نومبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2018. 
  9. "World Boxing Championships: Mary Kom wins record sixth gold medal, Sonia Chahal takes silver". The Times of India. 24 نومبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2018. 
  10. Ude، Ulan (12 اکتوبر 2019). "MC Mary Kom crashes out but bags historic bronze in World Boxing Championships". India Today. اخذ شدہ بتاریخ 18 اکتوبر 2019. 
  11. "Olympics: Mary Kom loses SF 6–11, wins bronze". IBN Live. اخذ شدہ بتاریخ 8 اگست 2012. 
  12. "AIBA World Women's Ranking". AIBA. اخذ شدہ بتاریخ 5 جون 2012. 
  13. Women's Light Fly (45 – 48 kg) Rankings (نومبر 2018)۔ International Boxing Association
  14. Bhandaram، Vishnupriya (26 اپریل 2016). "Parliament Live: Mary Kom and Subramanian Swamy take oath in Rajya Sabha". Firstpost. اخذ شدہ بتاریخ 26 اپریل 2016. 

[[en:Mary Kom]