تخطیط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
خطوط یعنی لکیریں ، تخطیط (graphics) میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں اور پھر ان بنیادوں پر شمارندی تخطیط (computer graphics) سے بناۓ گئے کمالات تخلیق پاتے ہیں۔

سادہ سے الفاظ میں کہا جاۓ تو خطوط بنانے کو تخطیط (graphics) کہا جاتا ہے یعنی لکیریں ڈالنا۔ اب ظاہر ہے کہ خطوط سے ہی تمام اقسام کی اشکال ہی نہیں بلکہ تحریر بھی وجود میں آتی ہے اس لیۓ یہ لفظ ایک بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔

  • تَخطيط ---- خطوط (graph) بنانا / graphy (مثلا، electroencephalo-graphy)
  • مِخطاط ---- خطوط (graph) بنانے والا آلہ / graph (مثلا، electroencephalo-graph)
  • مُخَطَّط ---- خطوط (graph) / gram) جو بناۓ گئے ہوں (مثلا، electroencephalo-gram)

سائنس میں اس لفظ graph یا graphy سے بہت سے الفاظ بنتے ہیں جن میں ایک graphics خود بھی شامل ہے۔ اردو میں graphy اور graphics کیلیۓ ایک ہی لفظ اکثر قابل استعمال ہوتا ہے کیونکہ عموما یہ الفاظ بطور سابقہ ہی آتے ہی اور ایسی صورت میں اصل لفظ پر اس مرکب لفظ کا مفہوم انحصار کرتا ہے لہذا دونوں الفاظ کیلیۓ ایک ہی لفظ تخطیط کے استعمال سے کوئی ابہام پیدا نہیں ہوتا بلکہ غور کیا جاۓ تو سہولت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات ایسا بھی لازمی ہوجاتا ہے کہ ان دونوں کیلیۓ الگ الگ لفظ کے استعمال کی ضرورت پیش آتی ہے (مگر ایسی صورت میں بھی وہ الفاظ اسی لفظ ، تخطیط سے ماخوذ ہوتے ہیں) ۔ اس دائرہ المعارف پر اگر جہاں کہیں اس قسم کا خصوصی موقع آیا ہے تو وہیں پر اس لفظ کی اور اسکی ماخوذیت کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔

بیان[ترمیم]

تخطیط آج کل سائنس میں جس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے وہ جیسا کہ ابتدائی تعارف میں بھی ذکر آیا کہ اصل میں بصری تجلی یا اظہار ہے جو کہ کسی کرباس (canvas)، کمپیوٹر اسکرین، کاغذ اور یا پھر پتھر وغیرہ جیسی کسی بھی سطح پر کی جاسکتی ہے اور اسکے بنیادی مقاصد تفریح ، تدریس ، فراہمی اطلاعات اور تشہیر وغیرہ ہوسکتے ہیں۔ تخطیط کی عام مثالوں میں تصویر، نقاشی ، فن الخط (line art)، مُخط (diagrams)، اعداد، علامات ہندساتی نمونے (geometric designs) ، نقشہ جات ، ہندسیاتی اشکال اور کمپیوٹر سے بناۓ گئے متحرک تصاویری نمونے بھی شامل ہیں۔

تخطیط میں عام طور پر مختلف ذرائع اظہار (جسے متن ، تفسیرہ (illustration) اور رنگ) ایک ساتھ ہی شامل ہوتے ہیں۔ یعنی اسکا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی ایک تخطیطی نمونے میں (مقاصد کے لحاظ سے) کوئی بھی ایک یا دو زرائع اظہار حاوی ہوسکتے ہیں۔ بعض تخطیط ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں صرف متن کا عنصر زیادہ ہوتا ہے اور بعض ایسی کہ جن میں تصاویر یا یا اشکالی خطوط حاوی ہوتے ہیں جیسے نشرہ (brochure) اور کوئی موقع رابط (website) وغیرہ۔

تاریخ[ترمیم]

نقاشی ایک ایسا شعبۂ تخطیط ہے کہ جس میں تقریباً تمام ہی دیگر شعبے ذیلی شعبہ جات کے طور پر آجاتے ہیں۔

خطوط کھینچے کی اور لکیریں بنانے کی انسانی فطرت زمانۂ قدیم سے سامنے آتی رہی ہے اور اگر اس طرح غور کیا جاۓ تو graphics یا تخطط کوئی نیا فن نہیں ہے بلکہ اس قسم کی تخطیط کے آثار غاروں میں زمانہ قبل از تاریخ سے ملتے ہیں، کچھ آثار 40 ہزار تا 10 ہزار قبل مسیح میں بالائی عہد حجری (upper palaeolithic) یا اس سے بھی قدیم ہیں اور ان میں سے اکثر تخطیط؛ فلکیاتی، موسمیاتی اور ترتیب زمانی تفصیلات کو محفوظ کرتی ہوئی پائی گئی ہیں۔ عصر حاضر میں شمار کی جانے والی تخطیطات یا graphics میں سے چند وہ ہیں جو تقریباً 6 ہزار سال پرانی ہیں اور یہ یا تو حدول حجری (stone tables) کی صورت میں ملتی ہیں یا پھر مہر اسطوانہ (cylinder seals) کی شکل میں اور ان ہی کی وجہ سے زمانۂ تاریخ کی ابتداء ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں نہایت قدیم وہ تخطیط بھی شامل ہیں کہ جو مصر کے فرعونوں نے البَردی (papyrus) کو استعمال کرتے ہوئے اہرام کی تیاری اور انکے نقشہ جات بنانے کیلیۓ تیار کی تھیں، بعض تخطیط کے لیۓ سنگ چونا (limestone) اور لکڑی کو بھی کام میں لایا گیا تھا۔ قدیم یونان میں بھی اس زمانے کے علماء نے اپنے ریاضیاتی اور ہندساتی (geometrical) کام جیسے نظریۂ فیثا غورث وغیرہ کو محفوظ کرنے کیلیۓ تخطیط کا سہارا لیا تھا ، یہ عرصہ قریبا 600 تا 250 قبل مسیح کا بتایا جاتا ہے۔

نقاشی[ترمیم]

نقاشی ، نقش بنانے کو کہا جاتا ہے اور اس عمل میں کسی بھی قسم کی قابل نقش پذیر سطح (جیسے کاغذ ، دیوار ، پتھر اور لکڑی وغیرہ) پر کسی پرزے (tool) مدد سے دباؤ ڈالتے ہوئے خطوط یا لکیریں کھینچی جاتی ہیں جو انسانی ذہن (brain) میں موجود کسی خاکے کا اس سطح پر نقشہ بنا دیتی ہیں۔ جو پرزے اس نقشکاری کیلیۓ استعمال کیے جاتے ہیں ان میں رصاصی مداد (pencil)، قلم، روشنائی، فرشہ (brush)، مومی مداد، کوئلہ، رقیقہ (pastel) اور نشانگر (marker) وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

رنگکاری[ترمیم]

رنگوں کی استرکاری (رنگکاری) سے بنائی گئی ایک رنگکاری (painting) کا نمونہ۔

رنگکاری بنیادی طور پر تخطیط کی ایک ایسی شاخ ہے کہ جس میں رنگوں کی تہـ کسی بھی سطح پر چڑھا کر تصاویر بنائی جاتی ہیں جبکہ رنگائی (Coloring) ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں کسی بھی شۓ پر رنگ کیا جاتا ہے دونوں میں فرق یہ ہے کہ رنگکاری میں محور ایک تصویر ڈھالنے کا ہوتا ہے جبکہ رنگائی میں مقصد اس شۓ پر رنگ کردینے کا ہوتا ہے خواہ اس سے کوئی تصویر یا شکل بنتی ہو یا نا بنتی ہو۔ مزید قابل غور بات یہ ہے کہ ان دونوں اصناف میں جو اصل ذریعہ استعمال ہوتا ہے ، یعنی رنگ اسکا نام بعض اوقات اردو میں paint اور color دونوں کی صورت میں ایک ہی ہوسکتا ہے اور تمیز کا عمل صرف سیاق و سباق پر منحصر ہوجاتا ہے۔ دیگر اصناف تخطیط کی طرح رنگکاری میں بھی دو اہم اصناف دیکھنے میں آتی ہیں ایک تو تخیلاتی (imaginary) ہے جس میں اہمیت تصویر کے تناسب اور منظرت (persepctive) کے بجاۓ اس چیز کو دی جاتی ہے جسکا تخیل دماغ میں حاوی ہو اور دوسری صنف واقعیت (realism) کی ہے جس میں نظر میں آنے والے منظر کی حقیقی تصویر کشی کی کوشش کی جاتی ہے اور تصویر کی منظرت کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے تاکہ وہ حقیقت سے قریب تر لگے۔

طباعتکاری[ترمیم]

فن طباعت کو استعمال کرتے ہوئے تخطیط یا مصوری کا انداز، طباعتکاری کہلاتا ہے۔

تاریخی اعتبار سے طباعتکاری کا آغاز کاغذ کی تیاری کے بعد چین سے ہوا اور اسکا اندازہ لگ بھگ 105ء لگایا جاتا ہے۔ چین کے بعد اس فن و طرز کو مسلمانوں نے ترقی دی اور بالاخر پندرھویں صدی میں یہ طرزیاتِ طباعت ، مسلمانوں سے ہوتی ہوئی یورپ میں پہنچ گئی۔ طباعت اور طباعتکاری میں فرق یہ ہے کہ طباعت میں تو ہر وہ شۓ آجاتی ہے کہ جو چھاپی جارہی ہو یعنی متن ، حروف اور تصاویر وغیرہ جبکہ عام طور پر طباعتکاری سے مراد مصورانہ اور فنکارانہ تصاویر کی چھپائی کی لی جاتی ہے۔

فن الخط[ترمیم]

انسانی کھوپڑی اور دماغ کا سہمی تراشہ دکھانے کیلیۓ فن الخط سے بنایا گیا طبی تفسیرہ (medical illustration) ایک عمدہ نمونہ۔

فن الخط بھی ایک طرح کی تخطیط ہی ہے کہ جس میں ایک سادہ پسمنظر یا صفحے پر صرف لکیریں کھینچ کر تصاویر اجاگر کی جاتی ہیں یہ لکیریں یا خطوط سیدھے اور خمدار ، دائری اور چوکور غرض ہر سمت میں لگاۓ جاتے ہیں تاکہ تخیل کے مطابق ذوالعبادی یا سہ البعادی مناظر کا اظہار کیا جاسکے۔

مزید دیکھیۓ[ترمیم]