مندرجات کا رخ کریں

حج : مرکز اسلام کا سفر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

17ویں یا 18ویں صدی کا سند تکمیل حج جس میں مسجد الحرام کے احاطہ میں کعبہ مقدسہ کو دکھایا گیا ہے۔
تاریخ26 جنوری – 15 اپریل 2012 (2012-01-26 – 2012-04-15)[1]
میدانبرٹش میوزیم
قسمآرٹ نمائش
موضوعحج

حج: مرکز اسلام کا سفر (انگریزی: Hajj: Journey to the Heart of Islam) کے نام سے برٹش میوزیم لندن میں 15 اپریل 2012ء کو ایک نمائش منعقد ہوئی تھی۔ یہ دنیا میں پہلی ایسی نمائش تھی جس میں سفر حج کو تصویری اور تحریری شکل میں مفصل طور پر دکھایا گیا تھا۔ حج 5 ارکان اسلام میں سے پانچواں رکن ہے اور اس کی ادائیگی ماہ ذوالحجہ میں مکہ شہر میں ہوتی ہے۔ ہر سال مسلمان اس مہینے میں مکہ کی جانب سفر کرتے ہیں جسے سفر حج کہا جاتا ہے۔ اس تقریب میں اسی سفر کی نمائش کی گئی تھی۔ سفر حج کی اس تقریب میں دنیا کے مختلف ممالک اور مختلف زمانوں کے کپڑوں، مخطوطات، تاریخی دستاویز، تصاویر اور آرٹ کی نمائش کی گئی تھی-

اس تقریب میں سفر حج، مکہ، ارکان حج اور خانہ کعبہ کو دکھایا گیا تھا۔ 200 سے زیادہ طرح کی چیزیں اس نمائش میں شامل کی گئی تھیں جنھیں 40 نجی اور سرکاری اداروں سے جمع کیا گیا تھا۔ اس تقریب کے سب سے بڑے شراکت دار ناصر داؤد خلیلی تھے۔ ناصر داوود خلیلی لندن میں مقیم ایک برطانوی-ایرانی اسکالر، کلکٹر اور مخیر ہیں۔ وہ ایران میں پیدا ہوئے اور کوئنز کالج، سٹی یونیورسٹی آف نیو یارک اور اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز، یونیورسٹی آف لندن میں تعلیم حاصل کی، وہ ایک برطانوی شہری ہیں۔ [2] خلیلی نے سب سے پہلے 1970ء کی دہائی کے دوران میں نیو یارک شہر میں آرٹ ورک جمع کرنا شروع کیا، بعد میں 1980ء کی دہائی میں مملکت متحدہ میں جائداد میں سرمایہ کاری کی جس سے ان کی تجارت میں کافی ترقی ہوئی اور ان کی دولت بڑھتی گئی۔انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "آرٹ، کموڈٹیز اور رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ان کے لیے منافع بخش رہا ہے"۔ خلیلی کو لندن میں متعدد بڑی جائیدادوں کی خریداری اور ان کی تزئین و آرائش کے لیے جانا جاتا ہے۔ [3][4]

نمائش کا باقاعدہ افتتاح شاہزادہ ویلز چارلس سوم کے ہاتھوں ہوا۔ اس تقریب میں خادم الحرمین الشریفین شہزادہ عبد العزیز بن عبد اللہ بھی موجود تھے۔ یہ نمائش مسلمانوں اور غیر مسلموں میں یکساں طور پر مقبول ہوئی۔ تقریباً 120,000 زائرین اور صحافیوں نے شرکت کی۔ اس نمائش کی کامیابی سے میوزیم برائے اسلامی آرٹ، دوحہ، عالم عرب انسٹی ٹیوٹ، پیرس اور ٹروپین میوزیم، ایمسٹرڈیم میں بھی سفر حج کی نمائش کا انعقاد ہوا، جس میں داؤد خلیلی کے مجموعات کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ 2012ء میں نمائش کی فہرست مع تحریری تفصیلات کو وینیلا پورٹر کی ادارت میں برٹش میوزیم نے شائع کیا۔ اس میں حج کی تفصیلات بھی موجود تھیں۔

پس منظر: حج

[ترمیم]
refer to caption
مکہ، ت 1845
نیل میکگریگر برٹش میوزیم کے ڈائریکٹر: “داؤد خلیلی کے مجموعے کے بغیر حج کی نمائش نا ممکن تھی۔ اس نمائش کے لوگوں کو حج کی اہمیت سمجھنے میں مدد ملے گی۔"

حج ایک عبادت ہے جو سال میں ایک بار سعودی عرب کے شہر مکہ میں ادا کی جاتی ہے۔ مکہ مکرمہ اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اسی شہر میں مسجد الحرام ہے جس کے احاطہ میں خانہ کعبہ واقع ہے۔ اس چوکور نما کالے گھر کو کعبۃ اللہ اور بیت اللہ یعنی خدا کا گھر کہا جاتا ہے۔اور اسی گھر کو مسلمانوں کا قبلہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اسی خانہ کعبہ کے چاروں طرف طواف کیا جاتا ہے۔[5]

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ اور ہر اس عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہے جو جسمانی اور مالی اعتبار سے اس کی استطاعت رکھتا ہو اور اپنی غیر موجودگی میں اپنے اہل و عیال کی کفالت کا انتظام بھی کرسکے۔[6][7] ہر سال لاکھوں مسلمان اس مقدس گھر کا سفر کرتے ہیں۔ اور جس سال یہ نمائش ہوئی تھی اس وقت سالانہ تقریباً 30 لاکھ حاجی وہاں جاتے تھے۔[8] ارکان اسلام 5 ہیں جن میں شہادت، نماز، زکات، روزہ اور حج شامل ہیں۔ حج اللہ کی طرف مکمل سپردگی اور یگانگت کا مظہر ہے۔[7][9] حج کے لغوی معنی ‘‘سفر کرنے‘‘ کے ہیں اور اصطلاح میں حج کی نیت سے خانہ کعبہ کا سفر کرنا حج کہلاتا ہے۔[10] حج میں متعدد ارکان ہیں بشمول طواف، جبل رحمت جہاں رسول اللہ نے خطبہ حجۃ الوداع دیا تھا اور رمی جمار۔ [6][11] اسلام کے پانچوں ارکان میں سے صرف حج وہ رکن جسے صرف مسلمان ہی ادا کرسکتے ہیں[12] کیونکہ مکہ میں غیر مسلمانوں کا قیام ممنوع ہے۔[13] صدیوں سے سفر حج اور اس کی منزل خانہ کعبہ دنیا بھر کے لوگوں کی دلچسپی کا سامان رہے ہیں اور کئی آرٹسٹوں کے لوک فن، موسیقی، ادب، تصویر کشی اور متعدد فنون میں جگہ پائی ہے۔[5]

نمائش کی تیاری اور افتتاح

[ترمیم]

اس سے قبل حج کے موضوع پر ایسی کوئی بڑی نمائش منعقد نہیں ہوئی تھی۔[14][13][15][12] یہاں تک کہ برٹش میوزیم نے صرف اس کے ارادہ اور اس کی تکمیل کی تگ و دو میں دو سال صرف کر دیے۔[12] ان دو برسوں میں آرٹس اینڈ ہیومانٹیز ریسرچ کونسل کے تعاون سے ایک تحقیقی پروجیکٹ کیا گیا۔[16][17] برٹش میوزیم کے ملازمین میں سے وینیتیا پورٹر ریسرچ کی لیڈ پروجیکٹ کیوریٹر تھیں اور قیصرہ خان پروجیکٹ کیوریٹر۔[13][18][14] کیوریٹر نے نجی اور سرکاری اداروں سے رابطہ کر کے نمائش کے لیے ادوات نمائش کو رہن پر لینا شروع کیا۔ چالیس ممالک سے چالیس مجموعوں میں تقریباً 200 اشیاء دستیاب ہوئیں۔[19] ان میں سب سے بڑی شراکت داری داوود خلیلی کے ٹرسٹ کی تھی۔[20] مسلمانوں کو اس نمائش کے بارے میں بتانا اور انھیں اس کی طرف راغب کرنا بھی نمائش کی تیاریوں میں شامل تھا۔[12] قیصرہ خان نے اپنے 2020ء کے سفر حج کے دوران میں تصاویر، ریکارڈنگ اور تحائف جمع کیے۔[14][21][22] انھوں نے مسلمانوں کے درمیان میں اس کی تشہیر میں بھی اہم کردار کیا۔[12] یہ نمائش شاہ عبد العزیز کتب خانہ کی شراکت داری میں منعقد ہوئی اور ایچ ایس بی سی امانہ نے بھی اپنا تعاون دیا۔[17][13] نمائش کا آغاز 26 جنوری 2012ء کو پرنس چارلس کے افتتاحی خطبہ سے ہوا۔ عبد العزیز بن عبد اللہ السعود خادم الحرمین الشریفین کے نمائندہ کے طور پر شریک بزم تھے۔[23] وہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے چوتھے بیٹے ہیں۔[24]

نمائش

[ترمیم]
rectangular textile embroidered with many pieces of Arabic text
خانہ کعبہ کے دروازہ پر ستارہ, 1263 ہجری (1846–1847 AD)

نمائش کا انعقاد مدور برٹش میوزیم ریڈنگ روم میں ہوا تھا۔[25] نمائش کے ماحول کو بنانے کے لیے زائرین کا داخلہ ایک طویل اور تنگ دہلیز سے ہوتا تھا جہاں اذان کی ریکارڈنگ چلائی جا رہی تھی۔[26] تمام اشیائے نمائش کو مدور حالت میں سجایا گیا تاکہ زائرین جب انھیں دیکھتے ہوئے آگے بڑھیں تو طواف کا سا سماں بندھ جائے۔ کیونکہ طواف حج کا سب سے اہم اور کلیدی رکن ہے۔[27] سب سے پہلا حصہ سفر حج کی تیاری پر مبنی تھا جس میں قرض چکانا اور نیت کرنا جیسے اعمال کو دکھایا گیا تھا۔ ریل گاڑی اور ہوائی جہاز کی ایجاد سے قبل سفر حج کئی مہینوں ہر مشتمل ہوتا تھا اور اس میں ممکنہ بیماریاں، موت اور رہزنوں کا خطرہ ہمیشہ لگا رہتا تھا۔[27] اسی حصہ میں احرام کی نمائش کی گئی تھی۔ احرام اتحاد، سادگی اور روحانیت کا مظہر ہے۔[28] زیادہ تر اشیاء کو تین حصوں میں منقسم کیا گیا تھا؛ سفر کے راستے، ارکان حج اور مکہ۔[25] پہلے حصہ میں مکہ کی طرف جانے 5 اہم راستوں کے نمائش کی گئی تھی جن میں عرب ممالک کا سب سے مشہور راستہ، شمالی افریقا، سلطنت عثمانیہ، ایشیا اور برطانیہ سے بذریعہ ہوائی جہاز۔ اس طرح اس نمائش میں سفر کے مختلف پہلوؤں، تکلیف دہ راستوں، سمندر، ریگستان کے مختلف راستوں اور نئے زمانے کے آسان سفر کو بخوبی دکھایا گیا۔[28][13] قدیم صدیوں کے سفر کو ادبیات کے ذریعے دکھایا گیا جیسے انیس الحجاج، دلائل الخیرات، شاہنامہ، فتوح الحرمین اور جامع التواریخ وغیرہ۔[29] سلطنت مالی کے بادشاہ منسا موسی کا سفر ادبیات اور تاریخ میں بہت شہرت کا حامل ہے جنھوں نے 1324ء میں اپنے 60,000 درباریوں کے ساتھ مکہ کا سفر کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی والدہ کے غیر ارادتا قتل کے کفارہ کے لیے انھوں نے یہ سفر کیا تھا۔ ان کے اس سفر کی مکمل نمائش 14ویں صدی کتالان اطلس کے ایک پینل کے ذریعے کی گئی تھی۔[30][8] سفر مکہ کی اہمیت انہی نقشہ جاتوں اور قطب نماؤں کے ذریعے کی گئی۔ قطب نما کے ذریعے مسافر دوران میں سفر قبلہ رخ کا اندازہ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے۔[27][31]

مسافرین کی ذاتی داستانوں اور سفرناموں کو ڈائریوں، خود نوشت سفرناموں اور تصاویر کے ذریعے دکھایا گیا۔ ان سفرناموں اور تصاویروں میں کئی مغربی شخصیات کا بھی اہم کردار تھا جن میں رچرڈ فرانسس برٹن بھی شامل ہیں۔ وہ ایک غیر مسلم تھے جنھوں نے 1853ء میں بھیس بدل کر یہ سفر کیا تھا، [8]، انہی میں ایک انٹیلیجینس افسر ہیری سین جان فلبی اور ایک اشرافیہ افسر زینب کوبولڈ بھی شامل ہیں۔[14] فلبی نے کعبہ کی صفائی میں بھی حصہ لیا تھا اور ان کا استعمال کیا ہوا برش اور کپڑے نمائش میں رکھے گئے تھے۔[32] موجودہ انڈونیشیا سے اس زمانہ میں بھی کئی لوگوں نے سفر کیا تھا۔ انہی حجاج میں سے ایک سلطنت بونی کے بادشاہ بھی تھے جن کی ذاتی ڈائری اس نمائش کا حصہ تھی۔ یہ ڈائری بوقسی زبان میں تھی۔[33][13] دیگر ادبیات میں 19ویں صدی کے چینی اسکالر یوسف ما دیکشین کا سفرنامہ، 13ویں صدی کے ابو محمد حریری کا مخطوطہ (کہانیوں کا مجموعہ) وغیرہ شامل نمائش تھے۔[29] دنیا کا قدیم ترین نسخہ قران بھی نمائش کی زینت میں اضافہ کررہا تھا، یہ 8ویں صدی کا ایک مخطوطہ تھا جس میں بعد کے نسخوں کی طرح خوبصورت خطاطی کوئی نقش و نگار نہیں تھے۔[15] سات منٹ کی ایک ویڈیو میں مناسک حج کو دکھایا گیا تھا۔[28] مناسک حج کے شعبہ میں حرم مقدس کے کپڑوں کو بھی رکھا گیا تھا جس میں غلاف کعبہ بھی شامل ہے۔[28][29] اور ایک محمل رکھا گیا تھا۔ محمل اونٹ پر رکھا جاتا تھا اور عموما قاہرہ سے حجاج کرام اس میں سفر کرتے تھے۔[33] اشیائے نمائش میں کچھ ذاتی چیزیں بھی تھیں جیسے جائے نماز، سفر کا ٹکٹ اور زمزم کے برتن وغیرہ۔ تکمیل حج کی سند بھی شامل نمائش تھی۔

تیسرا شعبہ مکہ مکرمہ پر مشتمل تھا جس میں مکہ کی ماضی و حال کی تصویریں اور پینٹنگ نمائش پر رکھی گئی تھیں جس سے عیاں ہوتا ہے کہ کس طرح مکہ اور اطراف حرام ماضی تا حال ترقی کرتا رہا ہے اور حجاج کے لیے مزید جگہ بنانے کے لیے پرانی عمارتیں منہدم ہو کر نئی عمارتیں بنتی گئی ہیں۔[28] کچھ تصویریں 19ویں صدی کی تھیں جنہیں محمد صادق (عکاس) نے لی تھیں اور کرسچیان سنوک ہرگرونیے کی پینٹنگ بھی نمائش میں شامل تھیں۔[29] نمائش کے آخر میں عصر حاضر کے فنون کی نمائش کی گئی تھی جن میں احمد ماطر، ادریس خان، ولید سیتی، قادر عطیہ، ایمن یسری اور عبد النصر غارم کے فن پاروں کو رکھا گیا تھا۔[34][27][29][35] نمائش کے سب سے آخری حصہ میں برطانوی حجاج کرام کی صوتی شہادتیں سنائی جارہی تھیں اور زائرین نمائش سے تحریری رائے بھی لی جاری تھی۔ حج سے متاثر فن اکیسویں صدی میں جاری ہے۔ ایسا ہی ایک کام فنکار احمد ماطر کی تصویر کشی کا سلسلہ ہے جس کا عنوان مقناطیسیت 1-4 ہے۔ لوہے کی فائلنگ اور مقناطیس کا استعمال کرتے ہوئے، احمد ماطر نے ایک سیاہ مکعب پر مرکوز ایک منظر تخلیق کیا جو کعبہ کے گرد چہل قدمی کرنے والے زائرین کو بصری طور پر ابھارتا ہے۔[36][37]

1845ء کے ارد گرد مکہ کا ایک خوبصورت منظر مسجد الحرام کے ارد گرد کے علاقے کی قدیم ترین درست تصویر کشی ہے۔ [8] مصور، محمد عبد اللہ دہلی، آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کے درباری فنکار مزار علی خان کا پوتا تھا۔ [38][8] آسٹریا کے معمار جوہان برن ہارڈ فشر وان ایرلاچ کے 1727ء کے آرکیٹیکچرل ڈرائنگ کے البم میں مکہ اور مدینہ کی اس سے پہلے کی بڑی حد تک غلط نمائندگی دی گئی ہے۔[39]

جارج سیل کے انگریزی ترجمہ قرآن کے 1825ء کے ایڈیشن سے احتیاط سے ہاتھ کے رنگ کی ایک علاحدہ پلیٹ، مکہ میں مقدس مقدس مقام کا منصوبہ اور منظر پیش کرتی ہے۔[40]

استقبال اور وراثت

[ترمیم]

میوزم نے 80,000 زائرین کا تخمینہ لگایا تھا مگر یہ ہدف بہت جلد پورا ہو گیا۔ نمائش کے اختتام تک کل 119,948 بالغ زائرین کے ٹکٹ خریدے۔ بچوں کو کی تعداد اس میں شامل نہیں ہے کیونکہ بچوں کا داخلہ مفت تھا۔[12] برٹش میوزیم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس نمائش سے متعلق تعلیمی تقاریب میں تقریباً 32,000 مشارکین نے شرکت کی۔[41] کل 47 فیصد مسلم زائرین تھے۔[42] کچھ غیر مسلم زائرین نے بتایا کہ انھوں نے نمائش کے بارے میں اپنے مسلمان دوستوں سے سنا اور ان سے حج کی روحانی اہمیت کا اندازہ ہوا۔[28] ایک سروے کے مطابق 9 فیصد زائرین حج کے تئیں اپنی عقیدگی کے باعث روحانی یا جذباتی رد عمل کا اظہار کیا۔[43] یونیورسٹی آف کینٹ کے ریسرچ اسکالر سٹیف برنز نے کچھ زائرین کا انٹرویو کیا اور انھوں نے پایا کہ ایک قلیل تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جنھوں نے تو نوادرات اور ذاتی شہادات پر غور کر کے خود کو خدا سے قریب تر پایا۔[44] زائرین نے نمائش کے جو پہلو اور نوادرات زیادہ قابل توجہ رہے ان میں تصاویر، ویڈیو اور ذاتی ڈائریاں شامل ہیں۔[28] اور جن نوادرات پر زیادہ تبصرہ ہوا وہ کپڑے اور عبوری فنون لطیفہ رہے۔[45] گرچہ زائرین کو نوادرات اور مشاہدات بہت پسند آئے برنز نے یہ بھی پایا کہ مکہ جا کر اصل حج کو دیکھنے اور تجربہ کرنے کا مشاہدہ اس نمائش سے حاصل نہ ہو سکا اور اس کی وجہ مکہ اور جائے حج سے خصوصی تعلق ہے۔[28] دی گارڈین کے جوناتھان جونز لکھتے ہیں “ یہ نمائش برٹش میوزیم کی اب تک کی بہترین نمائشوں میں سے ایک ہے۔“ انھوں نے اس نمائش کو 5 میں 5 ستارے سے نوازا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو غیر مسلم اسلام کی منفی تصویر کشی کرتے ہیں ان کے لیے یہ نمائش بہت بڑا چیلینج ثابت ہو گا کیونکہ اس نمائش نے اسلام کی بہت خوبصورت تصویر کشی کی ہے۔[34] دی لنڈونسٹ نے نمائش کی بہت تعریف کی اور لکھا “ یہ نمائش آنکھیں کھول دینے والی اور انتہائی دلکش ہے۔“ نمائش نے اسلام کو بہت آسان انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کر دیا جس کو زیادہ تر لوگ کم ہی سمجھ پاتے ہیں۔[26] ایوننگ سٹینڈرڈ نے نمائش کی جم کر تعریف کی اور اسے “عمیق ثقافتی اہمیت“ کا حامل بتایا۔ مزید کہا کہ یہ نمائش “کثیر ثقافت کی اعلیٰ مثال ہے۔ اس میں معلومات، ہدایات، تفہیم اعلیٰ درجہ پر ہے۔ تعلیمی لحاظ سے مکمل اور درست ہے اور دونوں ثقافتوں (افہام و تفہیم) کو برقرار رکھا گیا ہے۔“[46] دی ڈپلومیٹ کی ایمی فیلوڈز نے لکھا کہ نمائش کا پہلا حصہ دلچسپ ہے مگر مکہ والا شعبہ مزید بہتر ہو سکتا تھا۔ حالانکہ عصری فنون لطیفہ نے اس کی کمی کچھ حد تک پوری کردی۔[13] دی آرٹس ڈیسک میں فیسون گونار نے 5 میں سے 4 ستارے دیتے ہوئے لکھا کہ “ اس نمائش میں عقیدگی کی ایسی تصویر کشی کی گئی ہے کہ ایک دقیانوس دہریہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ دوسرے مذہب کے متبعین نے اس نمائش کے ذریعے نہ صرف خدا کو قریب تر پایا بلکہ مسلمانوں سے قلبی تعلق کو محسوس بھی کیا۔“[27] عریفہ اکبر ک2 2006ء میں حج کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ انھوں نے دی انڈیپنڈنٹ کے لیے لکھا کہ اسلامی سیاست اور حج کے تئیں غیر مسلموں کے نظریہ کی بجائے حج کے ذاتی تجربوں پر نمائش کو مرکوز کرنا“حج کی یادوں کو تر و تازہ کر دینے والا ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ حالانکہ نمائش محض ایک خشک تجربہ ہے اور ذاتی طور پر کعبہ کا چکر لگانا کے تجربہ الگ ہی احساس رکھتا ہے مگر انھوں نے میوزیم کی تعریف کی کہ کس طرح انھوں نے اس موضوع کر حق ادا کر دیا۔ اکبر نے 8ویں کا قرآن اور ستارہ کو نمائش کا حاصل قرار دیا۔[15]

صحافی اور براڈکاسٹر سرفراز منظور کی 78 سالہ والدہ حج کی خواہش رکھتی تھیں مگر اپنی ضعیفی کی وجہ سے فریضہ حج ادا کرنے سے قاصر تھیں۔ سرفراز نے والدہ کو نمائش کی زیارت کرائی اور ان کے ساتھ انھوں نے بھی دل میں خوشی اور بحیثیت برٹش مسلم اور ماہر موضوع اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔ انھوں نے لکھا “یہ جانتے ہوئے کہ لاکھوں کروڑوں سعادت مندوں نے خانہ کعبہ کی زیارت کی ہے اور یکساں ارکان حج کو مکمل کیا ہے، یہ نمائش زائرین کے دل میں حج کا قصد کرنے کے لیے مقناطیسی کشش رکھتی ہے۔“[47] ماہر مذہبیات کیرن آرم سٹرانگ نے مغربی دقیانوسوں مسلمانوں کے تئیں تشدد کا نظریہ رکھنے والوں کے نمائش کو تریاق قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نمایش یہ بتاتی ہے کہ اکثر مسلمان کیسے اور کس طرح اپنے مذہب پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔[48] سنڈے ٹائمز کے لیے مبصر ولادیمیر جانوسزیک کے نزدیک یقینا قابل ستائش ہے کہ کس طرح اس نمائش کے ذریعے زائرین کو ایسی دنیا کو سمجھنے کا موقع ملا جس کے متعلق بصری مواد خال خال ہی موجود ہے۔ اس نمائش میں متن سے زیادہ بصری اشیاء کو پیش کیا گیا اس کی اہمیت بڑھ گئی۔ انھوں نے لکھا “غیر معمولی کہانیاں اور متعلقہ مواد نے ذہن و دماغ کو گہرا اثر چھوڑا ہے۔“[32] نیوزویک میں جیسن گوڈون نے تبصرہ کیا کہ اس نمائش کے ذریعے برٹش میوزیم نے “دنیا کو دنیا سے متعارف کرایا ہے۔“ حالانکہ انھوں نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ “سعودی عرب نے واضح طور پر خود ستائشی سے کام لیا ہے اور سلطنت عثمانیہ کے حج کے تئیں جدوجہد اور انتظامات کو یکسر ہلکا کر کے پیش کیا گیا ہے۔ عثمانیوں نے 16ویں یا 20ویں صدی اپنی پوری مملکت میں حج کے قابل ستائش خدمات انجام دی ہیں۔[33] نک کوہین نے برطانوی ثقافتی اداروں پر آمریت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنی روح بیچ دی ہے۔ وہ مسلم مؤرخین کے تیار کردہ حج کے دستاویز کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ برٹش میوزیم نے آل سعود کے خوش کرنے کے لیے کچھ دستاویز اور مواد کو شامل ہی نہیں کیا گیا جیسے حج کے دوران میں بھگدڑ اور تشدد سے اموات اور مکہ میں محمد بن عبد اللہ اور آپ کے خاندان کے گھر کو مسمار کرنا وغیرہ[49] جوابا برٹش میوزیم نے کہا کہ آل سعود نے نمائش میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی ہے اور نہ ہی اس میں ان کا کوئی عمل دخل ہے۔[12] جوناتھن جونز نے کوہین کے جواب میں جان کے پانچ ستارہ تبصرہ کی تائید کرتے ہوئے لکھا کہ جان کے نزدیک یہ نمائش کسی سیاسی یا مذہبی مقاصد کے لیے نہیں تھی بلکہ یہ نمائش اسلامی وراثت و ثقافت کی خوبصورتی اور اہمیت کے تئیں ان کے جوش اور اخلاص کا نتیجہ تھی۔ یہ اہمیت ہی نہیں رکھتا کہ سعودی کے کچھ زائرین نمائش کا حصہ بن گئے۔[50]

نشریات

[ترمیم]
2022ء کی کتاب کا سرورق

وینیتیا پورٹر نمائش کے بعد دو کتابیں تصنیف کیں۔ ان میں سے ایک Hajj: Journey to the Heart of Islam (حج : مرکز اسلام کا سفر) ہے جس میں مصنف نے حج کی تاریخ، ثقافت اور مذہبی اہمیت پر مبنی فہرست مع بین الخابطہ مضامین درج کیے ہیں۔ مصنف نے کیرن آرم اسٹرانگ، محمد عبد الحلیم سعید، ہاگ این کینیڈی، روبرٹ ایرون اور ضیاءالدین سردار نے مضامین شامل کیے ہیں۔ ان کی دوسری کتاب Art of Hajj ایک کتابچہ ہے جس میں مصنف نے مکہ، مدینہ اور ارکان حج کو تصویری انداز میں پیش کیا ہے۔ [1] ایشین آرٹ میوزیم، سین فرانسسکو کے کیوریٹر قمر امجدی کا کہنا ہے کہ دونوں کتابیں قارئین کے لیے مہیا ہیں اور اپنے موضوع کا حق ادا کرتی ہے۔[1]

اس کے علاوہ 22 تا 24 مارچ نمائش کے تعلق سے ایک تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔[17] بعد میں وینیتا پورٹر اور لیانا سیف نے نمائش کی روداد کو ایک مجموعہ میں پیش کیا جس میں 30 مضامین میں حج کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی تھی۔[51]

دیگر متعلقہ نمائشیں

[ترمیم]

حج: مرکز اسلام کا سفر کی کامیابی نے نے مختلف ممالک میں متعدد عجائب گھروں اور فنون کی درسگاہوں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور وہ سب حج سے متعلق نمائش بابت تفتیش کرنے لگے۔ لندن نمائش کے لیے دیگر ممالک میں جانا اور وہاں نمائش لگانا ممکن نہ تھا کیونکہ انھوں نے 40 مختلف ذرائع سے اشیاء کو مستعار لیا تھا جنہیں برسوں کی محنت اور مذاکرات کے بعد جمع کیا جا سکا تھا۔ البتہ ان اداروں نے خلیلی اور دیگر کچھ ذرائع سے اشیاء مستعار لے کر نمائش کا انعقاد کیا۔[52][53] جن تنظیموں سے ان اداروں نے اشیاء نمائش مستعار لیں ان میں میوزیم برائے اسلامی آرٹ، دوحہ اور پیرس کا عالم عرب انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔ دوحہ کی نمائش کا عنوان حج: سفر در فنون لطیفہ تھا اور اس میں زیادہ تر اشیاء بیرون قطر سے جمع کی گئی تھیں۔ چونکہ فرانس میں شمالی افریقی ممالک کے بہت سارے مہاجرین بستے ہیں لہذا پیرس کی نمائش میں شمالی افریقہ کے حج کے راستوں کو نمائش میں نمایاں طور پر دکھایا گیا۔[52] اسی طرح ایک نمائش نیدرلینڈز میں 2013ء میں نیشنل میوزیم آف ایتھنولوجی میں منعقد ہوئی جس کا عنوان عزم مکہ، مقدس سفر تھا اس سے معا بعد اس کی تکمیل کے لیے جنوری 2019ء تا فروری 2020ء امیسٹرڈیم میں بھی ایک نمائش منعقد کی گئی۔ اس نمائش میں لندن اور نیدرلینڈز دونوں جگہوں سے خلیلی اور دیگر ذرائع سے جمع شدہ اشیاء نمائش کو دکھایا گیا۔[54]

خلیلی مجموعہ حج اور فنونِ حج

[ترمیم]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]

مصادر

[ترمیم]
  • Steph Berns (2015)۔ "Hajj: Journey to the Heart of Islam" (PDF)۔ Sacred Entanglements: studying interactions between visitors, objects and religion in the museum (PhD)۔ University of Kent۔ صفحہ: 136–175۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 ستمبر 2022 
  • Morris Hargreaves McIntyre (2012)۔ "Bridging cultures, sharing experiences: An evaluation of Hajj: journey to the heart of Islam at the British Museum" (PDF)۔ British Museum۔ اخذ شدہ بتاریخ 07 دسمبر 2022 
  • Venetia Porter، مدیر (2012)۔ Hajj: Journey to the Heart of Islam۔ London: British Museum Press۔ ISBN 978-0-7141-1176-6۔ OCLC 745332856 


حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب پ Qamar Adamjee (16 مئی 2013)۔ "Review of "Hajj: Journey to the Heart of Islam" by Venetia Porter and "The Art of Hajj" by Venetia Porter."۔ Caa.reviews۔ College Art Association۔ ISSN 1543-950X۔ doi:10.3202/caa.reviews.2013.51Freely accessible 
  2. "Biographical Notes" in Earle, Joe (ed.) Shibata Zeshin: Masterpieces of Japanese Lacquer from the Khalili Collection. London: Kibo Foundation, 1997. p. 80.
  3. "The Khalili Collections major contributor to "Longing for Mecca" exhibition at the Tropenmuseum in Amsterdam"۔ UNESCO۔ United Nations Educational, Scientific and Cultural Organization۔ 07 اپریل 2022 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اکتوبر 2020 
  4. "Around the world in 35,000 objects—and a handful of clicks"۔ Apollo Magazine۔ 11 October 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اکتوبر 2020 
  5. ^ ا ب James Piscatori (19 جنوری 2012)۔ "Hajj: Journey to the Heart of Islam"۔ Times Higher Education (THE)۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 ستمبر 2022 
  6. ^ ا ب Matthew Long (2011)۔ Islamic Beliefs, Practices, and Cultures۔ Tarrytown, N.Y.: Marshall Cavendish Corporation۔ صفحہ: 86–87۔ ISBN 978-0-7614-7926-0۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 مارچ 2021 
  7. ^ ا ب S. A. Nigosian (2004)۔ Islam: Its History, Teaching, and Practices۔ Bloomington, Indiana: Indiana University Press۔ صفحہ: 110–111۔ ISBN 0-253-21627-3 
  8. ^ ا ب پ ت ٹ Jenny Gilbert (29 جنوری 2012)۔ "Hajj: Journey to the heart of Islam, British Museum, London"۔ The Independent۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 ستمبر 2022 
  9. M. B. Hooker (2008)۔ Indonesian Syariah: Defining a National School of Islamic Law۔ Singapore: Institute of Southeast Asian Studies۔ صفحہ: 228۔ ISBN 978-981-230-802-3 
  10. E. Dada Adelowo، مدیر (2014)۔ Perspectives in Religious Studies: Volume III۔ Ibadan, Nigeria: HEBN Publishers Plc۔ صفحہ: 395۔ ISBN 978-978-081-447-2 
  11. Yousra Zaki (7 اگست 2019)۔ "What is Hajj? A simple guide to Islams annual pilgrimage"۔ Gulf News۔ GN Media۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 مارچ 2021 
  12. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج "The Hajj – Journey to the Heart of Islam"۔ Kashmir Observer۔ 27 ستمبر 2012۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 ستمبر 2022 
  13. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج Amy Foulds (27 فروری 2012)۔ "Journey to the Heart of Islam"۔ The Diplomat۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 ستمبر 2022 
  14. ^ ا ب پ ت Maev Kennedy (25 جنوری 2012)۔ "Hajj exhibition at British Museum"۔ The Guardian۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 ستمبر 2022 
  15. ^ ا ب پ Arifa Akbar (20 جنوری 2012)۔ "Pilgrim's progress: Journey to the Heart of Islam"۔ The Independent۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 ستمبر 2022 
  16. Porter 2012, p. 9.
  17. ^ ا ب پ Venetia Porter (Winter 2011)۔ "Spiritual Journey"۔ British Museum Magazine۔ British Museum Friends (71): 22–25۔ ISSN 0965-8297 
  18. Porter 2012, p. 11.
  19. Porter 2012, pp. 7, 275.
  20. Susan Moore (12 مئی 2012)۔ "A leap of faith"۔ Financial Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 ستمبر 2022 
  21. Qaisra Khan (Winter 2011)۔ "Journey of a Lifetime"۔ British Museum Magazine۔ British Museum Friends (71): 26–27۔ ISSN 0965-8297 
  22. Qaisra M. Khan (2013)۔ "Souvenirs and Gifts: Collecting Modern Hajj"۔ $1 میں Venetia Porter، Liana Saif۔ The Hajj: collected essays۔ London۔ صفحہ: 228–240۔ ISBN 978-0-86159-193-0۔ OCLC 857109543 
  23. "A speech by HRH The Prince of Wales at the opening of the "HAJJ: Journey to the heart of Islam" exhibition at the British Museum"۔ Prince of Wales۔ 26 جنوری 2012۔ 05 اپریل 2023 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 ستمبر 2022 
  24. "تعرّف على أبناء وبنات الملك عبد اللہ الـ36"۔ Al Sharq (بزبان عربی)۔ 23 جنوری 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 ستمبر 2020 
  25. ^ ا ب "Hajj: Journey to the Heart of Islam"۔ Time Out London۔ 11 اکتوبر 2012۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 ستمبر 2022 
  26. ^ ا ب Tabish Khan (28 جنوری 2012)۔ "Exhibition Review: Hajj: Journey To The Heart Of Islam @ The British Museum"۔ Londonist۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 ستمبر 2022 
  27. ^ ا ب پ ت ٹ Fisun Guner (21 فروری 2012)۔ "Hajj: Journey to the Heart of Islam, British Museum"۔ The Arts Desk۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 ستمبر 2022 
  28. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ Steph Berns (2012)۔ "Hajj Journey to the heart of Islam"۔ Material Religion۔ 8 (4): 543–544۔ ISSN 1743-2200۔ doi:10.2752/175183412X13522006995213 
  29. ^ ا ب پ ت ٹ Porter 2012, pp. 272–275.
  30. Porter 2012, p. 154.
  31. John L. Esposito (2003)۔ "Salat"۔ The Oxford Dictionary of Islam۔ Oxford: Oxford University Press۔ ISBN 978-0-19-512558-0۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 مارچ 2023 
  32. ^ ا ب Waldemar Januszczak (29 جنوری 2012)۔ "The stuff that dreams are made of"۔ The Sunday Times۔ ISSN 0140-0460۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 ستمبر 2022 
  33. ^ ا ب پ Jason Goodwin (20 فروری 2012)۔ "The British Museum's 'Hajj: Journey to the Heart of Islam'"۔ Newsweek۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 ستمبر 2022 
  34. ^ ا ب Jonathan Jones (25 جنوری 2012)۔ "Hajj: Journey to the Heart of Islam – review"۔ The Guardian۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 ستمبر 2022 
  35. "Magnetism I – IV"۔ Khalili Collections۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2020 
  36. Qaisra Khan (2020)۔ "Magnetism I - IV (Photogravure), 2012"۔ Explore Islamic Art Collections۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 دسمبر 2020 
  37. Qaisra Khan (2020)۔ "An illustrated album of architecture, including views of Mecca and Medina"۔ Explore Islamic Art Collections۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2020 
  38. Qaisra Khan (2020)۔ "Plan and view of the Holy Sanctuary at Mecca, published by Thomas Tegg, London 1825"۔ Explore Islamic Art Collections۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2020 
  39. British Museum (2012)۔ The British Museum report and accounts for the year ended 31 مارچ 2012 (PDF)۔ London: The Stationery Office۔ صفحہ: 3۔ ISBN 978-0-10-297619-9۔ OCLC 1117090767 
  40. Morris Hargreaves McIntyre & جولائی 2012, p. 5.
  41. Morris Hargreaves McIntyre & جولائی 2012, p. 9.
  42. Berns 2015, p. 174.
  43. Berns 2015, p. 151.
  44. Brian Sewell (16 جون 2015)۔ "Hajj – journey to the heart of Islam, British Museum – review"۔ Evening Standard۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 دسمبر 2022 
  45. Sarfraz Manzoor (9 مارچ 2012)۔ "How the British Museum brought the hajj to my mum"۔ The Guardian۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 ستمبر 2022 
  46. Karen Armstrong (22 جنوری 2012)۔ "Prejudices about Islam will be shaken by this show"۔ The Guardian۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 ستمبر 2022 
  47. Nick Cohen (18 مارچ 2012)۔ "Keep corrupt regimes out of British culture"۔ The Guardian۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 ستمبر 2022 
  48. Jonathan Jones (19 مارچ 2012)۔ "The British Museum's Hajj takes us on a pilgrimage, not a propaganda journey"۔ The Guardian۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 ستمبر 2022 
  49. "The Hajj: collected essays"۔ WorldCat۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 دسمبر 2022 
  50. ^ ا ب Abeer Mishkhas (26 جولائی 2013)۔ "The British Museum's Hajj exhibition inspires Paris, Leiden and Doha"۔ Asharq Al-Awsat۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 ستمبر 2022 
  51. "The Eight Collections"۔ Nasser David Khalili۔ 8 فروری 2022۔ 04 جولا‎ئی 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 دسمبر 2022 
  52. Pooyan Tamimi Arab (26 مئی 2020)۔ "Longing for Mecca (Verlangen naar Mekka): Tropenmuseum, Amsterdam (فروری 2019 – جنوری 2020)"۔ Material Religion۔ 16 (3): 394–396۔ ISSN 1743-2200۔ doi:10.1080/17432200.2020.1775420Freely accessible