میاں میر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میاں میر
Dara Shikoh With Mian Mir And Mulla Shah.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 11 اگست 1550  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 11 اگست 1635 (85 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ صوفی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی،  عربی،  ہندی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

میر محمد المعروف میاں میر پیر لاہوری ایک مسلم صوفی جو لاہور (موجودہ پاکستان) کے علاقے دھرم پورہ میں مقیم رہے۔

ولادت و سکونت[ترمیم]

شیخ میر محمدالمعروف میاں میر صاحب کی 1550ء بمطابق 957ھ سندھ کے شہر سیوستان میں پیدائش ہوئی آپ کے والد محترم قاضی سائیں دتہ فاروقی تمام سندھ میں نہایت معزز و ممتاز بزرگ شمار کیے جاتے تھے۔ قاضی سائیں دتہ حضرت عمر فاروق کی اولاد سے تھے۔ آپ کی والدہ ایک صاحب علم و عمل خاتون تھیں۔ آپ نے انہیں سلسلہ قادریہ کے سلوک سے روشناس کرایا اور تعلیم دی اس کے بعد آپ قادری سلسلے کے ایک نامور بزرگ جناب شیخ سیوستانی کے مرید ہو گئے۔ آپ ایک طویل عرصے تک جناب شیخ کی خدمت میں حاضر رہے۔ جب آپ کی عمر پچیس برس کی ہوئی تو آپ جناب شیخ کی اجازت سے لاہور آ گئے۔

لاہور میں قیام[ترمیم]

لاہورمیں جہاں آپ نے قیام کیا اسے محلہ باغبان کہتے ہیں جسے ان دنوں خانپورہ بھی کہتے ہیں۔ آپ اپنے مریدوں اور شاگردوں پر خاص توجہ فرماتے۔ ان کی اصلاح فکر اور تہذیب نفس کو مقدم جانتے تھے۔ اور یہ کام چونکہ بڑا سخت ہے۔ اس لیے آپ کسی کو اپنا مرید نہیں بناتے تھے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ جو شخص آپ کو ملنے کے لیے حاضر ہوتا۔ آپ اس سے بڑی خوش خلقی اور خنداں پیشانی سے پیش آتے۔ اور ان کے حال پر اتنی شفقت فرماتے کہ اسے اس کا سو فیصدی پورا یقین ہو جاتا۔ کہ آپ صرف میرے حال پر ہی کرم فرماتے ہیں۔ لیکن اپنے مریدوں کے احوال پر خاص کر کڑی نظر رکھتے۔ ان سے اگر کوئی خلاف شریعت کام ہو جاتا تو انہیں سختی سے منع کرتے۔ اور آئندہ کے لیے تنبیہ فرما دیتے۔

مریدین کو نصیحت[ترمیم]

آپ کے مریدوں کی تعداد بے شمار ہے۔ آپ قادری سلسلے کے بزرگ ہیں۔ ایک مرتبہ آپ نے اپنے خلفا سے فرمایا کہ دیکھو تم دوسروں کی دیکھا دیکھی کہیں میری ہڈیاں نہ بیچنے لگنا۔ اور میری قبر پر دوسروں کی طرح دکان نہ کھول لینا۔

وصال[ترمیم]

آپ آخر عمر میں اسہال کی بیماری میں مبتلا ہوئے۔ پانچ دن تک بیمار پڑے رہے۔ 7 ربیع الاول، 1045ھ میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ آپ نے وفات اسی محلہ خان پور میں اپنے حجرے میں پائی۔ جس میں آخر تک آپ بیٹھے رہے۔ اور وہیں مدفون ہوئے۔ آپ کا مزار اورنگزیب عالمگیر نے تیار کروایا تھا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرہ معارف اسلامیہ جلد21 صفحہ 907 جامعہ پنجاب لاہور

بیرونی روابط[ترمیم]