خواجہ شمس الدین عظیمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
خواجہ شمس الدین عظیمی
پیدائش شمس الدین انصاری
17 اکتوبر ، 1927ء
انبیٹھ، سہارنپور، یوپی، بھارت
وفات
شہریت پاکستانی
لکھائی دور 1950ءتاحال
صِنف اسلام ، روحانیت ، تصوف
موضوعات تصوف ، بین المذاہب رواداری ، خدمت خلق ، روحانی علوم کا فروغ ، اللہ کی نشانیوں میں غوروفکر
ادبی تحریک سلسلۂ عظیمیہ - صوفی سلاسل طریقت
نمایاں کام روحانی نماز ، روحانی علاج ، مراقبہ ، ٹیلی پیتھی سیکھیے ، پیراسائیکلوجی، خواب اور تعبیر، صدائے جرس، قلندر شعور، کلر تھراپی، آوازِ دوست، کشکول، نظریہ رنگ و نور، شرح لوح و قلم، جنت کی سیر، توجیہات، تجلیات، روحانی حج و عمرہ، رنگ و روشنی سے علاج، احسان و تصوف، روحانی ڈاک، معمولاتِ مطب، 101 اولیاء اللہ خواتین، تذکرہ قلندر بابا اولیاء، ہمارے بچے، بڑے بچوں کے لیے، اسم اعظم، محبوب بغل میں، محمد رسول اللہﷺ، اللہ کے محبوبﷺ، بارانِ رحمتﷺ، وقت
نمایاں اعزاز(ات) بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر
زوج(ین) سیدہ راشدہ عفت
اولاد ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی، فرخ اعظم، حکیم سلام عارف، حکیم نور عجم، حکیم شاہ عالم


خواجہ شمس الدین عظیمی، پاکستان کے ممتاز روحانی اسکالر اور سلسلہ عالیہ عظیمیہ کے خانوادہ ہیں۔ آپ 17اکتوبر 1927ء بروز پیر بمقام قصبہ انبیٹھہ پیرزادگان ضلع سہارنپور (یوپی) بھارت میں پیدا ہوئے۔ آپ روحانی ڈائجسٹ کراچی اور روحانی ڈائجسٹ انٹرنیشنل (برطانیہ) کے چیف ایڈیٹر ہیں اور پاکستان کے مختلف اخبارات اور میگزین میں روحانی ڈاک ، خواب کی تعبیر ، قارئین کے مسائل اور پیراسائیکالوجی کے عنوان سے لاتعداد کالم لکھے ۔ سیرت طیبہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم، روحانیت، پیراسائیکالوجی اور دیگر موضوعات پر61 کتابیں تصنیف کیں اور60کتابچے تحریر کئے ہیں۔ اب تک انگریزی میں زبان14،روسی زبان میں5،عربی زبان میں2، فارسی زبان میں1،تھائی زبان میں3 ،پنجابی زبان میں 1 اورسندھی زبان میں4 کتب کا ترجمہ ہوچکا ہے۔

آپ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میںوزیٹنگ پروفیسر کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ آپ کی تصنیف احسان و تصوف اس یونیورسٹی میں ایم اے اسلامیات کے نصاب میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ’’سالفورڈیونیورسٹی(U.K)‘‘ کے ڈیپارٹمنٹ آف Rehabilitation میں تین کتابیں شامل نصاب رہی ہیں۔ پہلی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک کے لئے آپ کی تحریر کردہ ’’اسلامیات‘‘ کی کتب پاکستان کے مختلف اسکولوںمیں پڑھائی جارہی ہیں۔ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے پاکستان اور بیرون پاکستان کی یونیورسٹیز ، تعلیمی اور دیگر اداروں میں طالب علموں اور پروفیسرحضرات کولیکچرز دیئے ۔ پیراسائیکالوجی پر سیمینارز ، ورکشاپس اور بین الاقوامی روحانی کانفرنسوں کاانعقاد کیا۔

سلاسل طریقت کے تحت صوفیائے کرام کے پیغامات اور ان کی تعلیمات کے فروغ کے لئے خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے قلندر شعور فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام خانقاہی نظام کی طرز پر مراقبہ ہال کے نام سے سینٹرز قائم کئے جن کی تعداد پاکستان میں 61 اور بیرون پاکستان23 مراقبہ ہال قائم ہیں جن میں امریکہ، کینیڈا برطانیہ ، ہالینڈ، ڈنمارک ، روس، آسٹریلیا، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک شامل ہیں۔ روحانی علوم کے فروغ اور عوام الناس میں عادت مطالعہ کے فروغ کے لئے خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے پاکستان کے مختلف شہروں میں عظیمیہ روحانی لائبریریز قائم کیں۔ پاکستان کے علاوہ چنددیگر ممالک میں بھی عظیمیہ روحانی لائبریریز کا قیام عمل میں آیا۔

خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے بحیثیت روحانی معالج ہزاروں افرادسے بالمشافہ ملاقات کی اور بذریعہ خطوط اور فون سروس لاکھوں افراد کے مسائل کا حل بلامعاوضہ پیش کیا ہے۔ آپ کی زیر سرپرستی قائم’’خواجہ شمس الدین عظیمی ایجوکیشنل سوسائٹی ‘‘ نے سرجانی ٹاؤن کراچی میں بچوں کو جدید تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے کی غرض سے عظیمی پبلک ہائر سیکنڈری اسکول قائم کیا۔ ۔[1]


حالاتِ زندگی[ترمیم]

آپ کے والد ماجد کا نام حاجی انیس احمد انصاری اور والدہ ماجدہ کا نام امت الرحمن ہے۔آپ کی پیدائش بروز پیر مورخہ 17؍اکتوبر1927ء مطابق 1346ھ بمقام قصبہ ا نبیٹھہ پیر زادگان ضلع سہارنپور یوپی میں ہوئی ۔ والدین نے نام شمس الدین رکھا۔ میزبان رسول ﷺحضرت خالد ابو ایوب انصاری ثسے نسبی تعلق کی بناء پر آپ کے نام کے ساتھ انصاری بھی لکھا گیا۔آپ کے آباؤاجدادصوبہ ہرات افغانستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے۔اس خاندان کا شجرہ افغانستان کے علاقہ ہرات کے مشہور صوفی بزرگ خواجہ عبداﷲ انصاری ؒ(جو پیر ہرات کے نام سے بھی مشہور ہیں) سے ہوتا ہوا حضرت ابو ایوب انصاری ث تک پہنچتا ہے۔ حاجی انیس احمدانصاری کے ہاں چار بیٹوں اور دوبیٹیوں کی ولادت ہوئی۔ شمس الدین انصاری اپنے بھائیوں میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ آپ کے بڑے بھائی (مولانا) محمد ادریس انصاری کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کی کتاب ‘‘میری نماز‘‘ کافی مشہورتصنیف ہے، معروف محترم عالم دین حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ؒ،حاجی انیس احمد انصاری کے پھوپھاتھے اس لحاظ سے مولاناخلیل احمدسہارنپوری ؒ رشتہ میں شمس الدین انصاری کے دادا ہوئے۔

شمس الدین انصاری کا بچپن سہارنپور میں ہی گزرا۔ تقسیم ہند سے قبل کے دور میں اسکول کالج کی تعلیم عام نہیں ہوتی تھی۔ ابتدائی تعلیم عموماً گھروں پردی جاتی تھی یا پھر دینی مدارس مسلمانوں میں حصول تعلیم کا ایک اہم ذریعہ تھے۔ شمس الدین انصاری کی ابتدائی تعلیم جس میں اردو اور فارسی کی تعلیم شامل تھی گھر پر ہی ہوئی۔ آپ کے بڑے بھائی (مولانا) محمد ادریس انصاری اردو اور فارسی میں آپ کے استاد بنے۔ قرآن پاک ناظرہ پڑھنے اور حفظ کرنے کے لئے آپ کو مدرسہ بھیجا گیا۔ آپ نے 12سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا۔ اپنی نو جوانی کے ایام میں آپ سہانپورسے دہلی آگئے۔یہاں حکیم امتیاز الدین کی طبابت کا بہت چرچا تھا۔ دہلی میں آپ نے حکیم امتیاز الدین کی شاگردی اختیار کی اور ان سے دوا سازی اور نسخہ نویسی سیکھی۔ شمس الدین انصاری کے بڑے بھائی (مولانا) محمد ادریس انصاری نے دہلی سے ایک رسالہ ’’آفتاب نبوت ‘‘ جاری کیا اور اپنے چھوٹے بھائی شمس الدین انصاری کو اپنی معاونت کے لئے کہا۔ چنانچہ آپ رسالہ آفتاب نبوت سے منسلک ہوگئے۔ اس دوران آپ نے رسالہ کے منتظم اور معاون مدیر کے فرائض سرانجام دیئے۔ 1946کے آخر میں روزنامہ خلافت بمبئی اور مولانا اختر علی خان کے اخبار زمیندار میں قیام پاکستان کے حق میں مضامین لکھے۔

شمس الدین انصاری دورِ شباب (بیس سال کی عمر) میں تھے کہ تقسیم ہند عمل میں آئی۔ ان دنوں آپ پٹیالہ میں مقیم تھے۔ شمس الدین انصاری پٹیالہ سے لاہور آگئے اور وہاں سے ریاست بھاولپور کے شہرصادق آباد آگئے۔ صادق آباد میں حصول معاش کے لئے ابتدائی طورپرمحنت مزدوری کی۔ کچھ عرصہ بعد کپڑے کی ایک دکان قائم کرلی۔ اس دوران آپ کوتحصیل کی سطح پر شکر کی ڈیلر شپ مل گئی چنانچہ کپڑے کا کاروبار ترک کرکے آپ نے صادق آباد میں شکر کی ڈیلر شپ لے لی۔لیکن صادق آباد میں آپ کا دل نہ لگا اور بہتر مستقبل کے لئے کراچی آگئے۔ کراچی آکر حکیم محمد سعید کے قائم کردہ ہمدرد واخانہ کے شعبہ تشخیص و تجویز میں ملازمت اختیارکی۔ کچھ عرصہ بعد کراچی میں اپنے ذاتی کاروبار کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان سے قبل دہلی میں آپ کے بڑے بھائی مولانا ادریس انصاری رسالہ’’ آفتاب نبوت ‘‘ شائع کرتے تھے۔ آپ کو اس کام میں بہت دلچسپی تھی۔ 1950-1951ء میں آپ نے رسالہ آفتاب نبوت کراچی سے جاری کیا۔ وسائل کی کمی تھی۔ چنانچہ اس رسالہ کے تقریباً تمام کام جن میں انتظامی معاملات ،مضمون نگاری ،ادارتی ذمہ داریاں، طباعت ،سر کولیشن وغیرہ شامل ہیں آپ خود ہی سر انجام دیا کرتے تھے۔ آفتاب نبوت میں آپ ایک کالم ’’روحانی ڈاک ‘‘کے نام سے بھی لکھا کرتے تھے۔ ماہنامہ آفتاب نبوت تقریباً دوڈھائی سال جاری رہا۔

کراچی میں ایک دن شمس الدین انصاری کسی دوست سے ملاقات کے لئے روزنامہ ڈان کے دفتر گئے تو وہاں اتفاقی طورپرمحمدعظیم صاحب(قلندربابا اولیاء ؒ) سے ملاقات ہوگئی۔ محمدعظیم صاحب کے حسن ِ سلوک سے شمس الدین انصاری بہت متاثر ہوئے۔ پھر ان دونوں حضرات کے درمیان ربط ضبط بڑھتا چلا گیا۔ اس دوران انصاری صاحب کو محمد عظیم صاحب کے روحانی مقام ومرتبہ کا اندازہ ہوا۔ کچھ عرصے بعد شمس الدین انصاری باقاعدہ محمد عظیم صاحب کی روحانی شاگردی میں آگئے۔

حضرت محمد عظیم کے درِ معرفت سے وابستہ ہونے کے بعدشمس الدین انصاری کی روحانی و صوفیانہ تعلیم وتربیت کا آغاز ہوا۔ آپ نے اپنے استادکی خدمت میں 16سال تک رہ کر روحانی علوم حاصل کئے۔ صوفیانہ تربیت کے دوران گزرنے والی کیفیات اور مشاہدات کے بارے میں تصوف کی کتابوں میں تفصیلات مرقوم ہیں۔ قلندربابا اولیاء ؒنے روحانیت سے شغف رکھنے والے اپنے تمام مریدین کی تعلیم و تربیت فرمائی تاہم اپنے مرید شمس الدین انصاری کی روحانی تربیت پر بہت زیادہ توجہ دی۔ اس دوران قلندربابا اولیائؒ نے انہیں خواجہ کا لقب بھی عطا فرمایا۔ چنانچہ لوگوں نے انہیں خواجہ صاحب کہنا شروع کردیا۔ خواجہ شمس الدین کو اپنی روحانی نسبت پربہت زیادہ فخر ہے۔اس فخر کا اظہار انہوں نے اپنے نام کے ساتھ عظیمی لکھ کر بھی کیا ہے۔ اس طرح قلندربابا اولیاء ؒ کے اس شاگردکو لوگ خواجہ شمس الدین عظیمی کے نام سے جاننے اورپکارنے لگے۔

1969ء میں روزنامہ حریت کراچی میں روحانی علوم اور تصوف کے حوالہ سے خدمت خلق کے لئے ایک ہفتہ وار کالم بعنوان ’’ روحانی علاج‘ کی اشاعت کا آغاز ہوا۔اس کالم میں بھی آپ نے اپنا نام خواجہ شمس الدین عظیمی ہی لکھا۔ سلسلۂ عظیمیہ کے بانی و مرشد حضرت قلندربابا اولیائؒ 27جنوری 1979ء کو واصل بحق ہوئے۔ آپ ؒ کے انتقال کے بعد سلسلہ عظیمیہ کی سربراہی کا مرتبہ آپ ؒ کے خصوصی تربیت یافتہ روحانی فرزند خواجہ شمس الدین عظیمی کوملا۔

خواجہ شمس الدین عظیمی نے بحیثیت سربراہ سلسلہ عظیمیہ، سلسلہ عظیمیہ کے پیغام کو عوام الناس میں زیادہ سے زیادہ متعارف و روشناس کرانے کے لئے آپ نے اپنے مرشد قلندربابا اولیائؒ کی زیر سرپرستی ان کی زندگی میں اور بعد از وصال دونوں ادوار میں نہایت سرگرم کردار ادا کیا۔ اس دوران آپ نے اپنے قلم کو خوب استعمال کیا۔ اخبارات ورسائل میں کالم ومضامین تحریر کئے۔ ایک ماہنامہ رسالہ روحانی ڈائجسٹ کا اجراء کیا۔ پمفلٹس لکھے ،کتابیں تحریر کیں۔ روز افزوں پھیلتے ہوئے سلسلہ عظیمیہ کے انتظامی معاملات کو بہتر طورپر چلانے کے لئے اراکین سلسلہ کی روحانی تربیت وتعلیم اور باہمی رابطہ کے لئے خانقاہی نظام کی طرز پر مراقبہ ہال کے نام سے ایک تنظیمی وتربیتی ڈھانچہ تشکیل دیا۔

80کے عشرے میں سلسلہ عظیمیہ کے پیغام کی کشش اور مقبولیت کے باعث اس سلسلہ سے وابستگان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ ان میں پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم افرادکے علاوہ بیرون ملک مقیم افراد کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ اب سالکین راہ طریقت کی تربیت و تعلیم کے لئے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔ روحانی علوم اور تصوف کی تعلیم دینے والے اس ادارہ کانام قلندرشعور اکیڈمی رکھا گیا۔ تصوف اور روحانی علوم کا فروغ ،سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات کاتعارف ،ان تعلیمات کی تفہیم اور تدریس ، اسلامیات ، علاج معالجہ اور دیگر موضوعات پر تصنیف و تالیف کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے جوخواجہ شمس الدین عظیمی کے قلم سے نکل کر خواص و عوام کے استفادہ کے لئے عام ہے۔ ان کی تحریر کردہ کتابوں کی تعداد 40سے زائد ہے۔ ان میں کئی کتابوں کے انگریزی، عربی ، فارسی ، روسی ، تھائی اور سندھی زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ آپ نے ساٹھ سے زائد کتابچے تحریر کئے ۔کئی اخبارات و رسائل میں کالم و مضامین تحریر کئے ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف موضوعات پرکتابوں کے پیش لفظ تحریر کئے ہیں۔

سلسلہ عظیمیہ کے پیغام کوزیادہ سے زیادہ لوگوں اور زیادہ سے زیادہ علاقوں تک پہنچانے کے لئے خواجہ شمس الدین عظیمی انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔ سلسلہ عظیمیہ کے پیغام کی تبلیغ ،ارکان سلسلہ کی تعلیم کے لئے آپ نے نہ صرف پاکستان کے کئی شہروں کے سفر کئے بلکہ پاکستان سے باہر بھی آپ تقریباً اٹھارہ ممالک کے تبلیغی و تعلیمی دورے کر چکے ہیں۔ پاکستان اور بیرون پاکستان کئی جامعات اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں خواجہ شمس الدین عظیمی کو لیکچر کے لئے مدعو کیا گیا۔پاکستان اوربیرون پاکستان مختلف ریڈیو اور ٹی وی چینلز سے بھی عظیمی صاحب کے پروگرام نشر ہوئے۔ سلسلہ عظیمیہ کی جانب سے سلسلہ کے ارکان کے لئے بالخصوص اور روحانی علوم کے شائق لوگوں کے لئے بالعموم مختلف تربیتی اور تنظیمی پروگرام خواجہ شمس الدین عظیمی کی زیر سرپرستی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ [2] ،[3] ، [4] ، [5]

بحیثیت مصنف[ترمیم]

خواجہ شمس الدین عظیمی کا نام پاکستان میں صوفیانہ افکار کے فروغ و اشاعت میں نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے تصوف روحانیت ، پیراسائیکالوجی اور دیگر موضوعات پر تین درجن سے زائد کتابیں اور اسی سے زائد کتابچے تحریر کئے ۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کی بعض کتابوں کا انگریزی ، عربی ، فارسی ،روسی ،تھائی، سندھی اور پشتو زبانوں میں ترجمہ ہو چکاہے۔ خواجہ شمس الدین عظیمی تقریباً چار عشروں سے تصنیف و تالیف اور تحریر کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ آپ نے 1950ء کے عشرے میں کراچی سے ایک رسالہ ’’آفتاب نبوت‘‘ جاری کیاجو ڈیڑھ دو سال تک شائع ہوتارہا۔اس کے بعد تحریر و تصنیف کے شعبہ میں ایک طویل وقفہ رہا۔1969ء میں روزنامہ حریت کراچی میں ایک کالم بعنوان ’’روحانی علاج ‘‘لکھنا شروع کیا جو چند ہفتوں میں ہی بہت مقبول ہوگیا۔چند سال بعد آپ نے روزنامہ جنگ (پاکستان اور روزنامہ لندن ایڈیشن) روزنامہ ہفت روزہ اخبار جہاں میں کالم لکھنا شروع کئے ۔علاوہ ازیں روزنامہ جنگ کے مڈویک میگزین میں آپ نے پیراسائیکالوجی کے زیر عنوان مضامین بھی لکھے۔ مذکورہ اخبارات کے علاوہ آپ کے کالم ومضامین کئی دوسرے اخبارات وجرائد میں شائع ہوئے ۔ 1978ء میں آپ نے ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کراچی سے شائع کرنا شروع کیا جو اپنے آغاز سے تاحال باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے۔ روحانی ڈائجسٹ میں آپ نے مسائل کے حل کے لئے ایک مستقل کالم روحانی ڈاک کے علاوہ نورالٰہی ،نور نبوت کے نام سے مختصر مضامین ،آواز دوست کے نام سے اداریئے تحریر کئے ۔ چند سال بعد صدائے جرس کے عنوان سے مضامین لکھنے شروع کئے۔ ان کے علاوہ مرکزی مراقبہ ہال میں ہر جمعہ کو ہونے والی محفل مراقبہ میں آپ کی تقاریر بھی بعد ازاں روحانی ڈائجسٹ میںشائع ہوتی رہیں۔آپ کا ایک کالم روحانی سوال وجواب کے زیر عنوان بھی ہرماہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہوتاہے۔ سیکنڈری کلاسز (جماعت ششم اور ہفتم )کے لئے آپ نے اسلامیات کی درسی کتب بھی تحریر کی ہیں۔ [6]

کتب[ترمیم]

  • ۔رنگ و روشنی سے علاج۔ (سن اشاعت: 1977ء)۔ مکتبہ تاج الدین بابا، کراچی
  • ۔ روحانی علاج۔ (سن اشاعت: 1978ء) ۔ مکتبہ تاج الدین بابا، کراچی
  • ۔ٹیلی پیتھی سیکھیے۔ (سن اشاعت: 1981ء) ۔ عظیمی پرنٹرز،کراچی
  • ۔تذکرۂ قلندر بابا اولیاءؒ۔ (سن اشاعت: 1982ء) ۔ مکتبہ بابا تاج الدین،کراچی
  • ۔ روحانی نماز۔ (سن اشاعت: 1983ء) ۔ عظیمی پرنٹرز،کراچی
  • ۔جنّت کی سیر۔ (سن اشاعت: 1984ء) ۔ عظیمی پرنٹرز،کراچی
  • ۔قلندر شعور۔ (سن اشاعت: 1986ء) ۔ عظیمی پرنٹرز،کراچی
  • ۔تجلّیات۔ (سن اشاعت: 1990ء) ۔ عظیمی پرنٹرز،کراچی
  • ۔کشکول۔ (سن اشاعت: 1990ء) ۔ عظیمی پرنٹرز،کراچی
  • ۔آوازِ دوست۔ (سن اشاعت: 1990ء) ۔ عظیمی پرنٹرز،کراچی
  • ۔روحانی ڈاک (جلد اول)۔ (سن اشاعت: 1991ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔روحانی ڈاک (جلد دوم)۔ (سن اشاعت: 1992ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔پیراسائیکلوجی۔ (سن اشاعت: 1992ء) ۔ عظیمی پرنٹرز،کراچی
  • ۔ توجیہات۔ (سن اشاعت: 1993ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔روحانی ڈاک (جلد سوم)۔ (سن اشاعت: 1993ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔روحانی ڈاک (جلد چہارم)۔ (سن اشاعت: 1994ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔نظریہ رنگ و نور۔ (سن اشاعت: 1994ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔ مراقبہ۔ (سن اشاعت: 1995ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔ خواب اور تعبیر۔ (سن اشاعت: 1996ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔ محمد رسول اللہﷺ (جلد اول)۔ (سن اشاعت: 1996ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔ محمد رسول اللہﷺ (جلد دوم)۔ (سن اشاعت: 1997ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔معمولاتِ مطب۔ (سن اشاعت: 1998ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔ کلر تھراپی۔ (سن اشاعت: 1998ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔ شرح لوح و قلم۔ (سن اشاعت: 1999ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔ہمارے بچے۔ (سن اشاعت: 2000ء) ۔ ہیلنگ سینٹر، مانچیسٹر
  • ۔بڑے بچوں کے لیے۔ (سن اشاعت: 2001ء) ۔ ہیلنگ سینٹر، مانچیسٹر
  • ۔ محمد رسول اللہﷺ (جلد سوم)۔ (سن اشاعت: 2002ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔اللہ کے محبوبﷺ۔ (سن اشاعت: 2002ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔101 اولیاء اللہ خواتین۔ (سن اشاعت: 2002ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔اسمِ اعظم۔ (سن اشاعت: 2002ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔قوس و قزح۔ (سن اشاعت: 2002ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔صدائے جرس۔ (سن اشاعت: 2003ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔روحانی حج اور عمرہ۔ (سن اشاعت: 2003ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔خواتین کے مسائل۔ (سن اشاعت: 2003ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔ذات کا عرفان۔ (سن اشاعت: 2003ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔محبوب بغل میں۔ (سن اشاعت: 2003ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔اسلامیات (چھٹی جماعت کے لیے)۔ (سن اشاعت: 2003ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔احسان و تصّوف۔ (سن اشاعت: 2004ء) ۔ شعبۂ علومِ اسلامیہ، بہاؤالدین زکریہ یونیورسٹی ملتان
  • ۔روح کی پکار۔ (سن اشاعت: 2005ء) ۔ مکتبہ عظیمیہ، لاہور
  • ۔خطباتِ ملتان۔ (سن اشاعت: 2007ء) ۔ شعبۂ علومِ اسلامیہ، بہاؤالدین زکریہ یونیورسٹی ملتان
  • ۔اسلامیات (ساتویں جماعت کے لیے)۔ (سن اشاعت: 2007ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔اسلامیات (آٹھویں جماعت کے لیے)۔ (سن اشاعت: 2007ء) ۔ الکتاب پبلی کیشنز، کراچی
  • ۔ہمارے بچے (حصہ دوم)۔ (سن اشاعت: 2010ء) ۔ انصاری بک سینٹر، کراچی
  • ۔وقت۔ (سن اشاعت: 2011ء) ۔ انصاری بک سینٹر، کراچی
  • ۔بارانِ رحمت۔ (سن اشاعت: 2012ء) ۔ شعبۂ علومِ اسلامیہ، بہاؤالدین زکریہ یونیورسٹی ملتان

کتابچے[ترمیم]

  • - آدمی اور انسان
  • - اسم اعظم
  • - شب قدر میں اﷲ تعالیٰ کی تجلی کا دیدار کیجئے
  • - مراقبہ سے بیماریوں کا علاج
  • - روحانی خواتین
  • - حضرت آدمؑ
  • - حضرت اسمٰعیل ؑ
  • - حضرت یعقوبؑ
  • - حضرت نوح ؑ
  • - حضرت ابراہیم ؑ
  • - حضرت ادریسؑ
  • - پیر اور مرید
  • - کہکشاں
  • - قوس ِ قزح
  • - روشنی قید نہیں ہوتی
  • - کیا آپ کو اپنا نام معلوم ہے
  • - اے واعظو اے منبرنشینوں
  • - بارش
  • - عامل معمول
  • - تعلیمی نشست
  • - انسان اور لوح محفوظ
  • - ہر انسان اﷲ کا دوست بن سکتا ہے
  • - یقین اور مشاہدہ
  • - انبیاء کی مائیں
  • - نماز اور مراقبہ
  • - تعارف سلسلہ ٔ عظیمیہ
  • - کن فیکون
  • - سونابنانے گاگُر
  • - ایٹم بم
  • - ہمار ادل
  • - زمین ناراض ہے
  • - دلہن
  • - انسانی مشین
  • - مرکزی مراقبہ ہال
  • - محبوب بغل میں
  • - احسن الخالقین
  • - بے روح عقل
  • - سانس کی لہریں
  • - استغناء
  • - حیرت کے چودہ سال
  • - حضرت صالحؑ
  • - حضرت یوسفؑ
  • - حضرت لوطؑ
  • - کائناتی سسٹم
  • - علم الکتاب


تراجم[ترمیم]

اقوال و ارشادات[ترمیم]

  • ۔ آپس میں محبت سے رہو۔ اپنے اندر محبت پیدا کرو۔
  • ۔ اللہ کی مخلوق سے محبت کے ساتھ پیش آؤ۔ ایسی محبت کے ساتھ جو مامتا کی طرح ہو۔ اللہ تعالیٰ کی طرح محبت کرو۔
  • ۔ جو اپنے لئے چاہو اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرو۔
  • ۔ ہمارا ہر بھائی سکون کی دولت سے مالا مال ہو۔ اللہ ہم کو دیکھے اور ہم اللہ کو دیکھیں۔
  • ۔ اللہ تعالیٰ کو ہی اپنا رازق سمجھو۔ اس سے اس یقین کے ساتھ مانگو جیسے بچہ اپنی ماں سے مانگتا ہے تو ماں اپنی مامتا سے مجبور ہو کر اپنے بچے کی خواہش کو پورا کرتی ہے۔
  • ۔ اللہ تعالیٰ کو دور نہ جانو وہ تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ تم سے قریب ہے۔ عرش پر تلاش نہ کرو۔ اپنے اندر تلاش کرو۔ اگر تم اکیلے ہو تو دوسرا اللہ ہے اگر تم دو ہو تو تمہارے

ساتھ تیسرا اللہ ہے۔

  • ۔ اللہ تعالیٰ سے دوستی پیدا کرو کیونکہ اللہ کے دوستوں کو خوف اور غم نہیں ہوتا۔
  • ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرو مت۔ اللہ تعالیٰ کو محبت سے پہچانو۔ کیونکہ اللہ محبت ہے اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔
  • ۔ سکون زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے اور روح کے عرفان کے بغیر سکون ممکن نہیں۔
  • ۔ اللہ تعالیٰ کی قربت اور روح کا عرفان حاصل کرنے کا بہترین اور آسان طریقہ مراقبہ ہے۔
  • ۔ شک کو دل میں جگہ نہ دو کیونکہ شک شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ جس کے ذریعہ وہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور کرتا ہے۔
  • ۔ ہر بندے کا اللہ کے ساتھ محبوبیت کا رشتہ قائم ہے، ایسی محبوبیت کا رشتہ جس میں بندہ اپنے اللہ کے ساتھ راز و نیاز کرتا ہے۔
  • ۔ انسان کا اصل جسم روح ہے۔ روح بھی دو رخ پر قائم ہے۔ ایک رخ روح کا مظاہرہ یعنی جسم مثالی Aura اور دوسرا رخ خود روح ہے۔
  • ۔ ہر چیز جس کا وجود اس دنیا میں ہے یا آئندہ ہو گا وہ کہیں پہلے سے موجود ہے یعنی دنیا میں کوئی چیز اس وقت تک موجود نہیں ہو سکتی جب تک وہ پہلے سے موجود نہ ہو۔
  • ۔ راسخ العلم لوگوں کے ذہن میں یقین کا ایسا پیٹرن بن جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ہر عمل اور زندگی کی ہر حرکت ہر ضرورت اللہ کے ساتھ وابستہ کر دیتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوتی ہے کہ ہمارے لئے اللہ نے جو نعمتیں مخصوص کر دی ہیں وہ ہمیں ہر حال میں میسر آئیں گی اور یہ یقین ان کے اندر استغنا پیدا کر دیتا ہے۔۔
  • ۔ برائی یا بھلائی کا جہاں تک تعلق ہے کوئی عمل دنیا میں برا ہے نہ اچھا ہے۔ دراصل کسی عمل میں معنی پہنانا اچھائی یا برائی ہے معانی پہنانے سے مراد نیت ہے۔ عمل کرنے سے

پہلے انسان کی نیت میں جو کچھ ہوتا ہے، وہی خیر یا شر ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی (جنوری 2007ء)، سلسلۂ عظیمیہ اور اس کی علمی و سماجی خدمات کا تحقیقی جائزہ، مکتبہ روحانی ڈائجسٹ، ص: 141
  2. ^ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی (جنوری 2007ء)، سلسلۂ عظیمیہ اور اس کی علمی و سماجی خدمات کا تحقیقی جائزہ، مکتبہ روحانی ڈائجسٹ، ص: 141
  3. ^ مشتاق احمد عظیمی، خانقاہی نظام، مکتبہ عظیمیہ، ص: 303
  4. ^ مشتاق احمد عظیمی، یارانِ طریقت، مکتبہ عظیمیہ
  5. ^ شہزاد احمد عظیمی (جنوری 2008ء)، تذکرہ خواجہ شمس الدین عظیمی، الکتاب پبلیکیشنز
  6. ^ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی (جنوری 2007ء)، سلسلۂ عظیمیہ اور اس کی علمی و سماجی خدمات کا تحقیقی جائزہ، مکتبہ روحانی ڈائجسٹ، ص: 191


بیرونی روابط[ترمیم]

[1]


--ذیشان 13:41, 30 جولا‎ئی 2013 (م ع و)