جان ملٹن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جان ملٹن
(انگریزی میں: John Milton ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
John-milton.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 9 دسمبر 1608[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 8 نومبر 1674 (66 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن[3]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات گردے فیل  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش چالفونت سینٹ جیلیس (1665–)  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of England.svg مملکت انگلستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عارضہ اندھا پن  ویکی ڈیٹا پر بیماری (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی کرسٹس
جیسز کالج  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف، شاعر، سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان لاطینی زبان، یونانی زبان، عبرانی، انگریزی[4]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
John Milton signature.svg 
P literature.svg باب ادب

جان ملٹن (انگریزی: John Milton؛ 9 دسمبر 1608 – 8 نومبر 1674) انگریزی کا ایک عظیم شاعر جس کے کلام کو نہ صرف انگریزی ادب میں بلکہ عالمی ادب میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس کی بعض نظمیں دنیا کے اعلیٰ ترین ادب میں شمار کی جاتی ہیں۔ جان ملٹن کی شاعری کی عظمت پر سب کو اتفاق ہے لیکن اس کی نجی زندگی، اس کی سیاست اور اس کے مذہبی خیالات کے بارے میں اس کے نقادوں میں ہمیشہ سخت اختلاف رہا ہے۔

سوانح[ترمیم]

ملٹن لندن میں پیدا ہوا اور سینٹ پال اسکول اور کرائسٹ کالج، کیمبرج میں تعلیم حاصل کی۔ اس نے انگریزی اور لاطینی دونوں میں شاعری کی۔ شروع میں وہ کلیسیا میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ بعد میں اس نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔ اس لیے کہ کلیسیائے انگلستان میں رسم پرستی بہت آ گئی تھی۔ آخر کار اس نے شاعری پر پوری توجہ صرف کرنے کا فیصلہ کیا اور کیمبرج میں تعلیم ختم کرنے کے بعد وہ اپنے باپ کی دیہی جائداد پر رہنے لگا۔ یہاں اس نے کئی نظمیں لکھیں جن میں اس کی ایک نہایت عظیم نظم لسی ڈس (Lycidas) بھی ہے جو اس نے اپنے دوست ایڈورڈ کنگ کی وفات پر لکھی تھی۔ 1638ء میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد وہ اٹلی گیا۔ وہاں سیر کے علاوہ کافی مطالعہ بھی کیا اور اہم شخصیتوں سے ملا۔ ان میں گیلیلیو بھی تھا۔ ایک سال بعد واپس آیا اور بڑے زور شور کے ساتھ کلیسیا میں اصلاح کی مہم میں لگ گیا۔ کئی رسالے لکھے۔ 1643ء میں اس نے میری پاول کے ساتھ شادی کی جو ایک سال بعد اسے چھوڑ کر چلی گئی۔

اسی سال ملٹن نے چار رسالے لکھنے شروع کیے جن پر طوفان کھڑا ہو گیا۔ ایک میں اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے کے ساتھ نبھ نہ سکے تو طلاق لے لینا اخلاقاً جائز ہے۔ اس نے ایک اور رسالہ پریس کی آزادی پر لکھا جس کا عنوان "آریوپوگٹیکا" (Areopogitica) تھا۔ اسے اس کی نثری تصنیفات میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس میں پارلیمنٹ کی پریس پر لگائی ہوئی سنسر شپ پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ ایک اور رسالہ میں اس نے اس پر بحث کی ہے کہ رعایا اپنے نااہل بادشاہ کو تخت سے ہٹا سکتی ہے اور اسے موت کی سزا بھی دے سکتی ہے۔ اس کے نتیجہ کے طور پر اسے کرامول نے اپنی حکومت میں سکریٹری یا وزیر بنا لیا اور اسے بیرونی زبانوں کا محکمہ سپرد کیا گیا۔اسی زمانہ میں اس نے برطانوی عوام کی مدافعت میں کئی رسالے لکھے۔

ملٹن کی آنکھیں بچپن سے بہت خراب تھیں جب اتنا سرکاری کام اس کے سر پر آ پڑا تو آنکھیں بالکل جواب دے گئیں اور وہ بالکل اندھا ہو گیا اور اپنے سکریٹری کی مدد سے کام چلانے لگا۔

1663ء میں ملٹن نے ایلزبیتھ من شل سے شادی کر لی۔ وہ آخر تک دولت مشترکہ کی حمایت کرتا رہا اور جب شاہیت دوبارہ قائم (1660ء) ہو گئی تو وہ کچھ عرصہ کے لیے روپوش ہو گیا۔ اس کی بعض کتابیں جلا دی گئیں۔ عام معافی میں اسے بھی معاف کر دیا گیا اور اس کے بعد سے وہ خاموش زندگی گزارنے لگا۔

وہ ایک زمانہ سے ایک شاہکار نظم لکھنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے اب ایک طویل نظم بلینک ورس میں لکھی جو 1667ء میں مکمل ہوئی۔ یہ بارہ جلدوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا نام اس نے "فردوسِ گم شدہ" (Paradise Lost) رکھا۔ ہم عصروں نے بے حد تعریف کی اور اس کے بعد سے یہ عظیم رزمیہ نظموں میں شمار ہونے لگی۔ اس میں آدم اور حوا کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ جب وہ باغ عدن میں تھے۔ اس کے ذریعہ اس نے اس دنیا میں پھیلی ہوئی برائیوں کی وجہ سمجھائی ہے۔ "فردوسِ بازیافتہ" (Paradise Regained) اس کی ایک اور طویل بلینک ورس نظم ہے جو چار جلدوں میں ہے۔ اس میں اس نے یہ بتایا ہے کہ کس طرح یسوع آدم سے برتر تھے۔ کس طرح شیطان ان کو ترغیب دینے میں ناکام رہا۔ اسی کے ساتھ اس نے یونانی ٹریجڈی کے نمونہ پر ایک منظوم ڈراما بھی لکھا جس کا قصہ انجیل ہی سے لیا گیا تھا۔ ملٹن اگرچہ بنیادی طور پر پروٹسٹنٹ مسلک کا تھا لیکن بہت ساری چیزوں کے بارے میں اس کے اپنے ذاتی عقائد تھے جو اس نے اپنے ایک رسالہ میں تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ یہ رسالہ اس کی زندگی میں شائع نہیں ہوا۔ اس کا سراغ بہت بعد میں لگا اور پھر یہ شائع ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119162033 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Мильтон Джон — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119162033 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ

ماخذ[ترمیم]

  • "John Milton | Biography, Works, & Facts"۔ بریٹانیکا۔