الراضی باللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(راضی باللہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
أبو العباس محمد بن جعفر المقتدر
خلیفۃ الاسلام، امیر المومنین
Gold dinar of al-Radi, 323 AH.jpg
الراضی باللہ کے عہدِ خلافت میں ضرب کیا جانے والا طلائی دینار۔ زمانہ: 323ھ/ 935ء
خلافت عباسیہ کا بیسواں خلیفہ
معیاد عہدہ 24 اپریل 934ء12 دسمبر 940ء
(6 سال 7 ماہ 19 دن شمسی)
پیشرو القاھر باللہ
جانشین المتقی للہ
والد المقتدر باللہ
پیدائش رمضان 296ھ/ جون 909ء
وفات ہفتہ 9 ربیع الاول 329ھ/ 12 دسمبر 940ء
(عمر: 35 سال قمری، 33 سال شمسی)
بغداد، خلافت عباسیہ، موجودہ عراق
مذہب سنی اسلام

الراضی باللہ خلافت عباسیہ کا بیسواں خلیفہ تھا جس نے 322ھ/ 934ء سے 328ھ/ 940ء تک حکومت کی۔ مختصر مدت حکومت میں اُس نے اُمور مملکت کو منظم اور بہتر کرنے کی کوششیں کیں مگر وزراء اور امراء کے ہاتھوں میں اختیارات ہونے کے باعث وہ اِس میں ناکام رہا۔ اُس کے زمانہ میں قرامطہ دنیائے اسلام کے لیے خطرہ بنے رہے اور بغداد میں حنابلہ کی شورشوں نے ہنگامے برپا کیے رکھے۔ نظام سلطنت مفلوج رہا اور محض کچھ نئے کاموں کے الراضی باللہ کا عہد بھی مزید انحطاط و زوال کی جانب گامزن رہا۔خلافت عباسیہ کے اُن خلفاء میں الراضی باللہ بھی شامل ہے جن کے ادوارِ حکومت میں سلطنت مزید رُو بہ زوال ہوئی۔

نام و نسب[ترمیم]

الراضی باللہ کا نام محمد بن جعفر المقتدر باللہ ہے۔ کنیت ابو اسحاق ہے۔ مؤرخ اسلام علامہ شمس الدین ذہبی (متوفی 748ھ) نے لکھا ہے کہ الراضی کا نام احمد بن المقتدر باللہ جعفر ہے۔[1] البتہ محمد نام پر سب مؤرخین کا اتفاق ہے۔ خطاب الراضی باللہ ہے جو 322ھ/ 934ء میں بیعتِ خلافت کے واسطے اِختیار کیا گیا۔ الراضی کا نسب یوں ہے:

محمد بن المقتدر باللہ جعفر بن المعتضد باللہ احمد بن الموفق باللہ بن المتوکل علی اللہ بن المعتصم باللہ بن ہارون الرشید بن المہدی باللہ بن ابو جعفر منصور بن محمد ابن علی ابن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب الہاشمی بغدادی۔[2]

ولادت/ حلیہ[ترمیم]

الراضی کی ولادت ماہِ ربیع الثانی 297ھ/ دسمبر 909ء کو بغداد میں ہوئی۔[3][4] علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ/ 1505ء) کی تصریح کے مطابق الراضی کی ولادت ماہِ رمضان 296ھ/ جون 909ء میں ہوئی کیونکہ بوقتِ وفات اُس کی عمر 31 سال 6 ماہ قمری تھی، اِس حساب سے الراضی باللہ کی ولادت ماہِ رمضان 296ھ/ جون 909ء میں بغداد میں ہوئی۔مؤرخین علامہ جلال الدین سیوطی کے بیان کو مستند مانتے ہیں۔[5]

والدین[ترمیم]

تعلیم و ترتبیت[ترمیم]

المقتدر باللہ نے الراضی کو علمائے عصر سے تعلیم دلوائی۔ سماعِ حدیث امام بغوی سے کیا۔ ادب اور شاعری سے خصوصی لگاؤ تھا۔[6][7] الراضی باللہ علمی اعتبار سے نہایت لائق و فائق تھا۔ تاریخ، ادب اور شاعری میں صاحبِ کمال تھا۔ عرب شعراء نے اُس کے اشعار کا ایک دیوان بھی مرتب کیا ہے۔ اِس کے علاوہ تاریخ میں بڑی وسیع معلومات رکھتا تھا۔ علماء اور اہل کمال کا بہت قدردان تھا۔ علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ/ 1505ء) نے لکھا ہے کہ: الراضی باللہ نہایت سخی، عقلمند، ادیب، شاعر، فصیح، علماء کو دوست رکھنے والا تھا۔ اُس کے بہت سے اشعار مدون ہیں۔[8]

تخت نشینی اور ابتدائی واقعات[ترمیم]

عباسی فوج نے بروز ہفتہ یکم جمادی الاول 322ھ/ 19 اپریل 940ء کو القاھر باللہ کو خلافت سے معزول کردیا اور اُس کی آنکھیں نکال دیں، تب ابو العباس محمد بن المقتدر باللہ کو بلوا کر اُس کے ہاتھوں پر خلافت کے لیے بیعت کی، اور اُس کا لقب الراضی باللہ رکھا۔ البتہ ابوبکر الصولی کی رائے تھی کہ اُس کا لقب المرضی باللہ رکھا جائے مگر یہ مشورہ قبول نہیں کیا گیا۔ الراضی بروز جمعرات 6 جمادی الاول 322ھ/24 اپریل 934ء کو خلیفہ بنا۔الراضی کے انتخاب کے بعد القاھر باللہ کو بلوایا گیا اِس حالت میں کہ وہ بالکل نابینا تھا، آنکھیں نکالی ہوئی تھیں اور الراضی کے سامنے اُسے کھڑا کردیا گیا۔ القاھر باللہ نے قانونی طور پر خلافت سے دستبرداری کرکے خلافت الراضی کے سپرد کردی، اب الراضی قانونی طور پر خلیفہ بن گیا۔ الراضی نے ابو علی ابن مُقْلَہ کو بلوایا اور اُس کی وزرات سونپی اور علی ابن عیسیٰ کو اُس کا نگران مقرر کیا۔ اِس کے بعد القاھر باللہ کے قید خانہ میں جتنے بھی قیدی تھے، اُن سب کو رہا کردیا اور القاھر باللہ کے طبیب عیسیٰ کو بلوا کر 2 لاکھ دینار کا جرمانہ وصول کیا۔ القاھر باللہ نے اپنی جتنی امانتیں اُس طبیب کے پاس رکھی تھیں، سب اُس سے الراضی نے وصول کرلیں جن میں سونا، چاندی اور قیمتی ہیرے، جواہرات تھے۔[9]

القاھر باللہ نے اپنے زمانہ میں المقتدر باللہ کے لڑکوں کو قید کردیا تھا، الراضی بھی مقید تھا۔ القاھر باللہ کی گرفتاری و معزولی کے بعد تک الراضی اپنی والدہ کے ساتھ قید خانہ میں مقید تھا۔[10] القاھر باللہ کی معزولی کے بعد امراء نے الراضی کو قید خانہ سے نکال کر بالاتفاق خلیفہ بنایا۔الراضی کو ترکوں نے خلیفہ بنایا تھا، اِس لیے وہ الراضی پر حاوی رہے۔ سیماء ترکی نے اُس کو مجبور کر کے القاھر باللہ کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پِھروا دیں۔مؤرخ ابن الاثیر الجزری (متوفی 630ھ) نے اِس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ القاھر باللہ الراضی کی بیعت کے بعد بھی خلافت سے دستبردار نہ ہوتا تھا۔ اُس کی تخت نشینی کے بعد جب القاھر باللہ پر دستبرداری کے لیے زور ڈالا گیا تو وہ رضا مند نہ ہوا، اِس انکار پر اُس کی آنکھوں پر سلائیاں پِھروا دی گئیں۔ اِس واقعہ کا سبب جو بھی ہو مگر اِس کی تصریح مؤرخ ابن مسکویہ (متوفی 421ھ/ 1030ء) کے بیان سے ہوتی ہے کہ یہ قابل نفرت فعل ترکوں کے ہی اشارہ پر عمل میں آیا۔ القاھر باللہ نے اپنے زمانہ میں معتوب امراء سے بڑی دولت حاصل کی تھی، الراضی نے یہ سب دولت واپس وصول کرلی۔[11]

واقعات عہدِ خلافت[ترمیم]

  • محرم 322ھ/ جنوری 935ء میں مرداویج کا انتقال ہوگیا جو دیلم کا سپہ سالار تھا، اُس کی سلطنت بہت بڑھ گئی تھی۔ لوگوں میں چرچا رہا کرتا تھا کہ دیلم کا ارادہ ہے کہ وہ بغداد پر حملہ کرے۔ یہ خود کہا کرتا تھا کہ میرا ارادہ ہے کہ عرب کی سلطنت تباہ کرکے اہل عجم کی سلطنت ازسر نو قائم کروں۔[12]
  • 322ھ/ 934ء میں بغداد میں محمد بن علی الشلمغانی کا ظہور ہوا، اُسے ابن العرانہ بھی کہا جاتا تھا۔ وہ الوہیت کا دعویدار تھا۔ المقتدر باللہ کے دورِ حکومت میں بھی اُسے ایک بار خالد بن عباس کے سامنے پش کیا گیا تھا اور اُس پر یہ الزام تھا کہ تناسخ کا دعویٰ کرتا ہے مگر اُس نے انکار کرکے اپنی جان بچا لی تھی۔ اِس بار اُسے گرفتار کرکے الراضی کے سامنے پیش کیا گیا اور پھر پرانے الزامات عائد ہوئے اور اُس نے اِن الزامات میں سے چند کا اقرار کرلیا۔ اِس بناء پر فقہاء نے اُس کے قتل کا فتویٰ دیا، البتہ کہا گیا کہ اگر اپنے دعویٰ سے توبہ کرلے تو قابل معافی ہے لیکن اُس نے توبہ کرنے سے انکار کردیا۔ اولاً اُسے 80 کوڑے مارے گئے اور پھر اُس کو قتل کردیا گیا۔ اِس کا دوسرا ساتھی ابن ابی عون بھی اِس کے ہمراہ قتل کیا گیا۔ ابن ابی عون کفریہ کلمات میں محمد بن علی الشلمغانی کا ساتھ دیتا تھا۔[13]
  • جمعرات 15 ربیع الثانی 322ھ/ 3 اپریل 934ء کو عبیداللہ مہدی کا انتقال ہوا جسے دولت فاطمیہ کا خلیفہ اول کہا جاتا تھا۔ اُس نے نومبر 909ء سے 3 اپریل 934ء تک حکومت کی۔

وزرائے الراضی باللہ[ترمیم]

حنابلہ[ترمیم]

امام احمد بن حنبل (متوفی 241ھ/ 855ء) کے پیرؤکاروں کو حنبلی (جمع: حنابلہ) کہتے ہیں۔ 323ھ/ 935ء میں حنابلہ کی وجہ سے بغداد میں بڑا ہنگامہ بپا ہوگیا۔ اِس کا سبب یہ ہوا کہ ترکوں ارو دوسری عجمی اقوام کے اثر سے بغداد کی اخلاقی حالت عرصہ دراز سے بگڑی ہوئی تھی۔ 323ھ/ 935ء میں حنابلہ نے اِس کی اصلاح کی وجہ سے احتساب شروع کردیا۔ فوجی افسران اور عام لوگوں کے گھروں میں چھاپے مارتے اور جہاں نبیذ نظر آتی، اُسے بہا دیتے، گانے والی عورتوں کو مارتے، آلاتِ موسیقی کو توڑ ڈالتے، مردوں کو عورتوں کے ساتھ چلنے سے روکتے۔ اِن کے احتساب سے بغداد میں بڑا ہنگامہ بپا ہوگیا اور بغداد کے کوتوال کو اِن کے خلاف کارروائی کرنا پڑی۔ اِس نے شارع عام پر ایک ساتھ دو حنبلیوں کے اجتماع کی ممانعت کردی اور مذہبی مناظروں کو بالکل روک دیا۔ اِس سے حنابلہ کا جوش اور بڑھ گیا، اُنہوں نے مار پیٹ شروع کردی جو شافعی نظر آتا، اُسے پٹوا دیتے۔ اِس سے بہت سے شوافع کی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ صورت دیکھ کر الراضی نے نہایت سخت احکام جاری کیے کہ اگر حنابلہ اِن مذہبی سخت گیریوں سے باز نہ آئے تو اِن کو پوری سزاء دی جائے گی اور بے دریغ اِن کا استحصال کیا جائے۔[14]

وزیر سلطنت ابن مقلہ کی معزولی[ترمیم]

324ھ/936ء میں بغداد کی فوجیں ابن مقلہ کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئیں اور اِس کے مکان پر حملہ کردیا۔ اِسے اور اِس کے بیٹوں کو گھر چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ ساجیہ نے باغیوں کو سمجھا بجھا کر واپس کیا ۔ محمد بن یاقوت اور ابن مقلہ میں مخالفت تھی۔ ابن یاقوت کو ابن مقلہ نے قید کروایا تھا۔ اِس لیے ابن مقلہ کو یقین ہوگیا کہ یہ کام محمد بن یاقوت کی جماعت کا ہے، چنانچہ اِس نے اِس کو خارج البلد کردیا۔ اِس سے پھر فوجیوں میں برہمی پیدا ہوگئی۔ ابن مقلہ کے غلاموں نے بڑی مشکل سے روکا۔ ابن مقلہ نے دیکھا کہ ساری ہنگامہ آرائی محمد بن یاقوت اور اِس کے بھائی مظفر کی قید کی بناء پر ہے، اِس لیے مجبور ہوکر مظفر کو رہا کردینا پڑا۔ رہائی کے بعد مظفر نے حجریہ کو بلا کر ابن مقلہ کو گرفتار کرلیا اور بغدادی فوجوں نے ابن مقلہ کی جگہ دوسرے وزیر کے تقرر کا مطالبہ کیا۔ الراضی نے وزیر کا انتخاب اِنہی کی رائے پر چھوڑ دیا، اُنہوں نے عبدالرحمن بن عیسٰی کو وزیر بنالیا۔ اور ابن مقلہ کو اِس کے حوالے کردیا گیا۔ اِس نے اِس سے بڑی دولت وصول کی لیکن عبدالرحمن نااہل تھا، اِس لیے چند ہی دنوں کے بعد اِس کو وزارت سے مستعفی ہونا پڑا۔ اِس کے پاس ابن مقلہ سے حاصل کی ہوئی بڑی دولت تھی۔ اِس لیے اِس کو اور اِسے کے بھائی کو گرفتار کر کے اِن سے ایک لاکھ 70 ہزار اشرفیاں وصول کی گئیں۔[15]

ہارون بن غریب کی بغاوت[ترمیم]

الراضی کی بیعتِ خلافت کے بعد ہارون بن غریب کو بھی خلافت کا شوق سر چڑھا۔ ہارون خلیفہ المقتدر باللہ کا ماموں زاد بھائی تھا اور کوفہ، دینور، ماسبندان کے علاقوں پر نائب حاکم تھا۔ اِس لیے اِس نے لوگوں کو اپنی حمایت کی دعوت دی اور فوجیوں اور امراء میں سے بہت سے لوگ اِس کے ساتھ ہوگئے۔ مال و دولت اِس کے پاس وافر مقدار میں جمع ہونے لگی۔ اِس نے اپنا رعب و دبدبہ بڑھا لیا اور اِس کے قدم مضبوط ہوگئے۔ ہارون نے بغداد کی جانب پیش قدمی کا ارادہ کیا، تب اِس کے مقابلہ کے لیے محمد بن یاقوت جو نگران اعلیٰ تھا، بغداد کے تمام فوجیوں کو لے کر آگے بڑھا اور لڑائی چھڑ گئی، یہاں تک کہ خود ہارون بن غریب بھی نکل کر میدانِ جنگ میں آ پہنچا اور اِس فکر میں رہا کہ کسی طرح محمد بن یاقوت کو موقع پا کر گرفتار کرلے۔ اِتفاق سے ہارون کا گھوڑا اُسے لے کر گر گیا اور اُس وقت اُس کے ایک غلام نے اُس پر حملہ کرکے اُس کا سر تن سے جدا کردیا اور محمد بن یاقوت کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ اِس کے بعد ہارون کے سبھی ساتھی شکست کھا کر بھاگ گئے اور ابن یاقوت اِس حالت میں بغداد پہنچا کہ ہارون بن غریب کا سر نیزے پر اُٹھائے ہوئے تھا، جس کی وجہ سے تمام شہری بہت خوش ہوئے اور الراضی کی حکومت کے پہلے سال میں نمودار ہونے والے فتنہ کا قلع قمع ہوگیا۔[16] (ابن کثیر نے اِس واقعہ کا صرف خلاصہ لکھا ہے جبکہ دیگر مؤرخین نے اِسے مفصل بیان کیا ہے، یہاں خلاصہ لکھا گیا ہے)۔

دولت عباسیہ کی تقسیم اور عماد الدولہ دیلمی کی حکومت[ترمیم]

المتوکل علی اللہ کے قتل کے بعد خلافت عباسیہ زوال کی جانب گامزن ہوچکی تھی، روز بروز خودسر اُمراء اور حوصلہ مند اشخاص اپنی خود مختار حکومتیں قائم کرتے چلے گئے۔ اِن خودمختار حکومتوں کے سلاطین، بادشاہ خلافت عباسیہ کے خلیفہ سے توثیق کے بغیر کبھی حکمران تسلیم نہیں کیے جاتے تھے بلکہ وہ سندِ خلافت کے متقاضی ہوا کرتے تھے۔ سندِ خلافت کے بغیر خود مختار حکومت کے حکمران کو باغی ہی سمجھا جاتا تھا اور وہ کم از کم قانونی حیثیت کا حامل خیال نہیں کیا جاتا تھا۔ سندِ خلافت کے بعد وہ قانونی حیثیت کے حامل ہوجاتے اور اُنہیں باقاعدہ خلیفہ بغداد کی قانونی سرپرستی حاصل ہوجاتی تھی۔ 322ھ/ 934ء میں آل بویہ کے ایک فرد عماد الدولہ دیلمی نے شیراز پر حملہ کرکے اپنی خودمختار حکومت قائم کرلی۔ شیراز پر قبضہ کے بعد عماد الدولہ دیلمی نے ابن مقلہ سے مفتوحہ علاقوں کی حکومت کی سند کی درخواست کی اور خلافت بغداد کی اطاعت کے ثبوت کے لیے ایک معمولی رقم سالانہ اداء کرنے کا وعدہ کیا۔ ابن مقلہ نے منظور کرلیا اور الراضی کی جانب سے اِس کو خلعت اور لواء حکومت بھجوا دیا گیا۔ اِس سے اِس کی عظمت و شان بہت بڑھ گئی۔ اِس کے حریف مرداویج پر اِس کا یہ اعزاز بہت گراں گزرا۔ اِس نے اِس پر فوج کشی کردی۔ مرداویج اِس سے صرف اپنی اطاعت کا خواہشمند تھا۔ عماد الدولہ دیلمی کے پیش نظر ابھی اور مقاصد تھے اِس لیے اُس نے مرداویج سے اُلجھنا مناسب نہ سمجھا اور اِس کی اطاعت اور خطبہ میں اِس کا نام لینے کا وعدہ کرکے صلح کرلی۔[17] عباسی قلمرو میں عراق اور خوزستان کا علاقہ نہایت سیر حاصل اور عباسی خلفاء کی ذاتی جاگیر تھا۔ اِس لیے اِس کو حکومت کے حصول کے لیے امراء میں بڑی کشمکش رہتی تھی۔ امیر یاقوت، عماد الدولہ دیلمی، مرداویج، ابو عبداللہ بریدی سب اِس کے لیے دست و گریباں رہتے تھے۔ الراضی کے زمانہ میں یہ کشمکش عروج کو پہنچی، مرداویج کے قتل کے بعد عماد الدولہ دیلمی نے یاقوت کو شکست دے کر صلح کرنے پر مجبور کردیا اور عراق اور خوزستان میں اِس کی قوت اِس قدر بڑھ گئی کہ الراضی نے اِس کو فارس، عراق اور خوزستان کے مفتوحہ علاقوں پر باقاعدہ مقرر کردیا اور عماد الدولہ دیلمی کو شیراز کو مستقر بنایا۔[18] عماد الدولہ دیلمی جمادی الثانی 338ھ/ دسمبر 949ء تک حکومت کرتا رہا۔

مرداویج کا قتل[ترمیم]

اِس مصالحت کے تھوڑے ہی دن بعد مرداویج کو اِس کی فوج کے ترکوں نے قتل کردیا۔ اِس کا یہ سبب ہوا کہ آخر عمر میں مرداویج کا مزاج بدل گیا، بات بات میں عمائدِ سلطنت سے بگڑ جاتا تھا۔ خصوصاً ترکوں کے ساتھ اِس کا برتاؤ نہایت توہین آمیز تھا۔ عید سدہ پارسیوں کی ایک عید تھی جو 10 بہمن کو منائی جاتی تھی، اِس میں فارسی لوگ بڑا جشن مناتے تھے، تمام کوہ و صحرا اور دشت و جبل میں آگ روشن کرتے تھے۔ اِس موقع پر مرداویج نے آتش افروزی کی رسم کے لیے انتظام کا حکم دیا اور خود اِس کے معائنہ کے لیے گیا۔ یہ انتظام اِس کو پسند نہ آیا اور ترکوں کو عمائدِ سلطنت پر اِس کا غصہ اُتارا۔ دوسرے دن اصفہان میں داخل ہونے والا تھا، اِس لیے فوجوں کے اجتماع کی وجہ سے صبح سے ہی ہنگامہ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ مرداویج بہت برہم ہوا، پوچھا کہ خیمہ کے پاس کس کے گھوڑے ہیں؟۔ بتایا گیا یہ ترکوں کے ہیں۔ یہ سن کر اور برافروختہ ہوگیا اور حکم دیا کہ گھوڑوں کی زینیں اِن کے سواروں کے پشت پر باندھ دی جائیں اور اِسی طریقہ سے اِن کو اصفہان میں داخل کیا جائے۔ اِس حکم کی تعمیل ہوئی ۔ ترک اور دیلمی اِس توہین سے بگڑ گئے۔ اصفہان میں داخلہ کے بعد مرداویج تنہا حمام کے لیے گیا۔ ترکوں کو موقع مل گیا، اُنہوں نے گھس کر قتل کردیا۔ اِس کا بھائی وشمگیر اِس کا جانشین ہوا۔[19]

یاقوت اور مظفر، محمد کی گرفتاری[ترمیم]

الراضی کا حاجب محمد ابن یاقوت اِس پر بہت حاوی تھا۔ حکومت کے جملہ اِختیارات اِسی کے ہاتھوں پر تھے۔ وزیر دولت ابن مقلہ محض عضوء معطل تھا۔ یہ بڑا سازشی بندہ تھا۔ ابن یاقوت کا اقتدار اِس کو گوارا نہ ہوا اور اِس کا دشمن ہوگیا اور الراضی سے اِس کی خفیہ شکایات کرکے اِس کو ابن یاقوت سے برگزشتہ کردیا۔ اِس نے محمد ابن یاقوت کو اِس کے بھائی مظفر گرفتار کرکے قید کردیا۔[20]

والی موصل ناصر الدولہ ہمدانی کی مخالفت اور اطاعت[ترمیم]

الراضی کی جانب سے امیر ابوالحسن بن عبداللہ بن حمدان الملقب بہ ناصر الدولہ ہمدانی موصل و دیار ربیعہ کا والی تھا۔ اِس کی روش بارگاہِ خلافت کے ساتھ مخالفانہ تھی۔ اِس لیے اِس کے چچا ابوالعلاء بن حمدان کے الراضی سے خفیہ اِس کے مقبوضات کے ٹھیکے لے لیے اور موصل پہنچا۔ ناصر الدولہ ہمدانی کو اِس کی خبر ہوئی اور وہ اِس کے استقبال کے بہانہ سے یہاں سے نکل گیا اور ایک مقام پر رک گیا۔ ابوالعلاء موصل پہنچا تو معلوم ہوا کہ ناصر الدولہ ہمدانی دوسرے راستہ سے اِس کے استقبال کو گیا ہے۔ ابوالعلاء اُس کے مکان پر ٹھہر گیا۔ ناصر الدولہ ہمدانی برابر خبریں لے رہا تھا۔ ابوالعلاء کے موصل پہنچتے ہی فوراً واپس آگیا۔ اِس کو گرفتار کرکے قتل کروا دیا۔ ابوالعلاء الراضی کا فرستادہ تھا۔ اِس کا قتل گراں گزرا اور الراضی نے ابن مقلہ کو ناصر الدولہ ہمدانی کے مقابلہ پر روانہ کیا۔ ناصر الدولہ ہمدانی میں ابن مقلہ کے مقابلہ کی سکت نہ تھی، اِس لیے اُس نے موصل چھوڑ دیا۔ ابن مقلہ چند دنوں ٹھہر کر موصل کا انتظام درست کیا اور اِس کے بعد علی بن طباب اور ماکرد دیلمی کو موصل کی حفاظت کے لیے چھوڑا اور بغداد لوٹ گیا۔ ابن مقلہ کی واپسی کے بعد ناصر الدولہ ہمدانی نے اِن دونوں کو نکال باہر کیا اور الراضی سے عفوء تقصیر کرا کے دوبارہ موصل کی حکومت کی سند حاصل کرلی۔[21]

امیر ابن یاقوت کا قتل[ترمیم]

324ھ/ 936ء میں امیر ابن یاقوت کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔ اِس کی تفصیل یہ ہے کہ یاقوت کا کاتب ابوعبداللہ بریدی بڑا خود غرض اور چالاک تھا۔ یاقوت نے اپنی جانب اہواز کا علاقہ اِس کے ٹھیکا میں دے دیا تھا اور اِس پر مستقل قبضہ جمانے کے لیے یاقوت کے ساتھ فریب کی فکر میں تھا۔ عماد الدولہ دیلمی کے مقابلہ پر شکست کھانے کے بعد جب یاقوت باحالِ تباہ عسکر مکرم واپس آیا تو ابوعبداللہ نے اِس کے پاس اِس کی سلامتی پر مبارکباد کہلا بھیجی اور یہ مشورہ دیا کہ عسکر مکرم میں قیام کرے۔ چونکہ اِس کی شکست کی وجہ سے اِس کی مالی حالت خراب ہوچکی ہے اور وہ فوجوں کے اخراجات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اِس لیے وہ بغدادی فوجوں کے پاس بھجوا دے اور 50 ہزار اشرفیاں امداد کے طور پر بھیجے۔ امیر ابن یاقوت شریف النفس اور سادہ دل آدمی تھا، اِس فریب میں آگیا لیکن پھر ابوعبداللہ بریدی نے مدد سے ہاتھ روک لیا اور یاقوت دشواری میں مبتلاء ہوگیا، اِدھر فوج نے رقم کا مطالبہ کیا اور بعض مخالفین نے تنگ کرنا شروع کردیا۔ یاقوت نے ابوعبداللہ کو اِس کی خبر دی۔ اِس نے لکھ بھیجا کہ آپ فوجوں کو میرے پاس بھیج دیجئیے۔ اِس نے سادہ لوحی سے فوجیں بغداد بھیج دیں۔ ابوعبداللہ نے فوج کے منتخب حصہ کو اہواز میں روک لیا اور بقیہ کو واپس کردیا۔ اِس سے یاقوت کو زیادہ مالی پریشانی ہوئی اور اِسے مجبور ہوکر اہواز جانا پڑا۔ ابوعبداللہ پاء پیادہ اِس کے استقبال کو نکلا۔ دست و بوس ہوا اور بڑی عزت و تکریم سے لے جاکر ٹھہرایا۔ اِس طرف تو یہ ظاہرداری برتی، دوسری جانب فوج کو بھڑکا دیا۔ وہ یاقوت کے قتل پر آمادہ ہوگئی۔ابوعبداللہ نے ابن یاقوت کو چپکے سے نکل جانے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ وہ خفیہ عسکر مکرم لوٹ گیا۔ اِس کے بعد ابوعبداللہ نے لکھ بھیجا کہ عسکر مکرم میں بھی قیام مناسب نہیں ہے، یہاں فوجوں کے تعاقب کا خطرہ ہے، اِس لے تستر کے قلعہ میں چلا جائے اور عامل تستر کو لکھ کر 50 ہزار دینار دِلوا دئیے۔ ابن یاقوت کا وفاءدار خادم مونس ابوعبداللہ کی بدینتی کو سمجھ گیا، اُس نے یاقوت کو اِس کی فریب کاری کی اطلاع دی اور مشورہ دیا کہ آپ بغداد چلے چلیے، یہ فوراً ابوعبداللہ کو اہواز سے نکالنے کی کوشش کریں لیکن اِس کو ابوعبداللہ پر اتنا اعتماد تھا کہ مونس کے بیان کو غلط تصور کیا اور اِس کی کمزوری دیکھ کر جو لوگ اِس کے ساتھ باقی رہے تھے، وہ بھی اِس سے الگ ہوگئے۔ یاقوت کے پاس صرف مختصر جماعت رہ گئی، اِس دوران میں اِس کا لڑکا مظفر آگیا۔ مظفر نے بھی مشورہ دیا کہ آپ بغداد چل کر حصولِ مقصد کی کوشش کیجئیے، اگر اِس میں کامیابی نہ ہوئی تو پھر موصل و دیارِ ربیعہ پر قبضہ کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن یاقوت نے اِس کا کہنا بھی سنا، اور مظفر باپ سے مایوس ہوکر اہواز چل دیا۔ ابوعبداللہ نے اِس کی ظاہری پذیرائی میں کوئی فرق نہ کیا لیکن اِس کی نگرانی پر آدمی مقرر کردیا۔ اہواز میں ابوعبداللہ کی حیثیت محض یاقوت کے نائب کی سی تھی، اِس لیے اِسے خطرہ پیدا ہوا کہ اگر یاقوت کے قریب موجود رہا تو جو لوگ اِس کا ساتھ چھوڑ کر اِس سے پاس اہواز چلے آئے ہیں، ممکن ہے وہ کسی وقت پھر یاقوت سے مل جائیں۔ اِس لیے ابوعبداللہ نے یاقوت کو لکھا کہ بارگاہِ خلافت سے مجھے حکم ملا ہے کہ میں آپ کو بغداد بھیج دوں۔ یہ علاقہ جبل روانہ کردوں، وہاں آپ کو کوئی علاقہ مل جائے گا۔ اِس حکم کو رد کرنا میرے امکان میں نہیں ہے۔ یاقوت نے چند دن کی مہلت مانگی۔ ابوعبداللہ نے انکار کردیا اور اِس کے ساتھ یاقوت کے مقابلہ کے لیے فوجین روانہ کردیں۔ اِس وقت یاقوت کی آنکھیں کھلیں اور اِسے چاروناچار مقابلہ کے لیے نکلنا پڑا۔ لیکن یاقوت کی قوت بہت کمزور ہوچکی تھی۔ اِس کو شکست ہوگئی اور ابوعبداللہ کے آدمیوں نے یاقوت کو پکڑ کر قتل کردیا۔ یاقوت کا لڑکا مظفر اہواز میں ہی تھا، ابوعبداللہ نے اُسے گرفتار کرکے بغداد بھیج دیا اور یاقوت کے علاقہ کا حکمران بن گیا۔(امیر یاقوت کے تفصیلی حالات ابن الاثیر الجزری نے لکھے ہیں مگر یہاں خلاصہ لکھا گیا ہے)۔ [22]

حوادثات قرامطہ[ترمیم]

وفات[ترمیم]

الراضی نے الراضی نے مرضِ استسقاء[23] میں بروز ہفتہ 9 ربیع الاول 329ھ/ 12 دسمبر 940ء کو بغداد میں وفات پائی۔[24] الراضی کی عمر بوقت وفات 31 سال 6 ماہ قمری [25] اور 30 سال 6 ماہ 23 دن شمسی تھی۔

اوصاف و خصائل[ترمیم]

الراضی پست ہمت نہ تھا حتیٰ المقدور اپنے اِقتدار کو سنبھالے رکھا۔ اُس کے عہد کے امراء خود بھی صاحبِ جوہر اور تہورِ شجاعت میں یگانہ تھے مگر الراضی کی حسنِ قابلیت تھی کہ بے دست و پاء ہوتے ہوئے اُن کو مرہونِ منت بناتا رہا۔

الراضی فوجی معاملات میں کافی دقیق تجربہ کار ماہ تھا، عباسی فوج گزشتہ کئی خلفاء کے ادوار سے زوال پزیر ہوتی چلی آ رہی تھی، باقاعدہ اُصول جو وضع ہوئے تھے اُن پر عباسی فوج کا کئی سالوں سے عمل جاری نہیں ہوتا تھا۔ الراضی نے فوجی معاملات کو درست کرنے کی کوشش کی۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے لکھا ہے کہ: الراضی آخری خلیفہ تھا جس نے فوج کی تنخواہ کے قواعد بنائے۔"[26]

الراضی کئی معاملاتِ خلافت و اُمور میں آخری خلیفہ ثابت ہوا ہے جنہیں علامہ خطیب بغدادی نے بیان کیا ہے اور اِنہیں بیانات کو علامہ جلال الدین سیوطی نے نقل کیا ہے۔ علامہ خطیب بغدادی (متوفی 463ھ/ 1071ء) نے الراضی کے متعلق کہا ہے کہ الراضی باللہ کے بہت زیادہ فضائل ہیں مگر منجملہ اِن کے یہ کہ وہ آخری خلیفہ ہے جس کے اشعار مدون ہوئے۔وہ آخری خلیفہ تھا جس نے فوج کی تنخواہوں کے متعلق قوانین مرتب کیے۔ وہ آخری خلیفہ گزرا ہے جس نے جمعہ میں خطبہ پڑھا۔ وہ آخری خلیفہ ہوا ہے جس نے ندماء کے ساتھ ہم جلیسی اختیار کی اور وہ آخری خلیفہ ہے جس نے خلفائے متقدمین کی رسوم کے مطابق اِنعام تقسیم کیے۔ وہ آخری خلیفہ ہے جس نے قدماء کے مطابق اپنی ہیئت اور لباس مقرر کیا۔[27]

خطبہ جمعہ[ترمیم]

الراضی خلافت عباسیہ کا آخری خلیفہ ہے جس نے منبر پر خطبہ دیا۔ نمازِ جمعہ خود پڑھاتا اور خطبہ بلیغ دیتا تھا۔ ابو الحسن زرقویہ کہتے ہیں کہ اسماعیل خطبی شبِ عید کو الراضی کے پاس گئے، الراضی نے اُن سے پوچھا کہ کل عید کی نماز پڑھانے کے بعد کیا دعاء مانگوں؟۔ اُنہوں نے کہا: تم یہ آیت بطور دعاء پڑھنا:

رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (سورۃ الاحقاف: آیت 15)

اے میرے رب! مجھے تو توفیق دے کہ تو نے جو اِحسان مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں، اُن کا شکر گزار بنوں اور یہ کہ نیک عمل کروں جن کو تو پسند کرے اور میرے لیے میری اولاد کو نیک بنا دے۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمانبرداروں میں ہوں۔[28] الراضی نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، میرے لیے یہ دعاء بہت بہتر ہے۔ اِس کے بعد 400 دینار ایک غلام کو دے کر اُن کے ساتھ کردیا۔ [29]

الراضی باللہ کے عہدِ خلافت میں وفات پانے والے اعیان[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حافظ شمس الدین الذہبی: سیر اعلام النبلاء، جلد 15، ص 130، رقم الترجمہ 58، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1401ھ، 1981ء۔
  2. حافظ شمس الدین الذہبی: سیر اعلام النبلاء، جلد 15، ص 130، رقم الترجمہ 58، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1401ھ، 1981ء۔
  3. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 10، ص 125، تحت الراضی باللہ خلیفہ عباسی،  مطبوعہ 1393ھ، 1973ء لاہور۔
  4. حافظ شمس الدین الذہبی: سیر اعلام النبلاء، جلد 15، ص 130، رقم الترجمہ 58، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1401ھ، 1981ء۔
  5. جلال الدین سیوطی:  تاریخ الخلفاء، تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  ص 430، مطبوعہ لاہور 2008ء۔
  6. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی:  تاریخ ملت، جلد 2، ص 481،  تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  مطبوعہ لاہور 1991ء۔
  7. جلال الدین سیوطی:  تاریخ الخلفاء، تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  ص 430، مطبوعہ لاہور 2008ء۔
  8. جلال الدین سیوطی:  تاریخ الخلفاء، تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  ص 430، مطبوعہ لاہور 2008ء۔
  9. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 11، ص 325، تذکرہ تحت سنہ ہجری 322ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  10. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی:  تاریخ ملت، جلد 2، ص 481،  تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  مطبوعہ لاہور 1991ء۔
  11. شاہ معین الدین ندوی:  تاریخ اسلام، جلد 2 ص 322،  تذکرہ تحت خلافت الراضی باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور 2004ء۔
  12. جلال الدین سیوطی:  تاریخ الخلفاء، تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  ص 428، مطبوعہ لاہور 2008ء۔
  13. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 11، ص 326/327، تذکرہ تحت سنہ ہجری 322ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  14. شاہ معین الدین ندوی:  تاریخ اسلام، جلد 2 ص 325،  تذکرہ تحت خلافت الراضی باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور 2004ء۔
  15. شاہ معین الدین ندوی:  تاریخ اسلام، جلد 2 ص 325/326،  تذکرہ تحت خلافت الراضی باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور 2004ء۔
  16. ابن کثیر الدمشقی: البدایہ والنہایہ، جلد 11، ص 326، تذکرہ تحت سنہ ہجری 322ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  17. شاہ معین الدین ندوی:  تاریخ اسلام، جلد 2 ص 323،  تذکرہ تحت خلافت الراضی باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور 2004ء۔
  18. شاہ معین الدین ندوی:  تاریخ اسلام، جلد 2 ص 324،  تذکرہ تحت خلافت الراضی باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور 2004ء۔
  19. شاہ معین الدین ندوی:  تاریخ اسلام، جلد 2 ص 323/324،  تذکرہ تحت خلافت الراضی باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور 2004ء۔
  20. شاہ معین الدین ندوی:  تاریخ اسلام، جلد 2 ص 324،  تذکرہ تحت خلافت الراضی باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور 2004ء۔
  21. شاہ معین الدین ندوی:  تاریخ اسلام، جلد 2 ص 325،  تذکرہ تحت خلافت الراضی باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور 2004ء۔
  22. شاہ معین الدین ندوی:  تاریخ اسلام، جلد 2 ص 326/327،  تذکرہ تحت خلافت الراضی باللہ العباسی۔ مطبوعہ لاہور 2004ء۔
  23. جلال الدین سیوطی:  تاریخ الخلفاء، تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  ص 430، مطبوعہ لاہور 2008ء۔
  24. ابی سلیمان محمد بن عبداللہ بن زبر الربعی:  تاریخ مولد العلماء ووفیاتھم، ص 285۔ ذکر تحت سنۃ 329ھ، مطبوعہ منشورات مرکز المخطوطات، کویت، 1410ھ، 1990ء۔
  25. جلال الدین سیوطی:  تاریخ الخلفاء، تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  ص 430، مطبوعہ لاہور 2008ء۔
  26. جلال الدین سیوطی:  تاریخ الخلفاء، تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  ص 430، مطبوعہ لاہور 2008ء۔
  27. جلال الدین سیوطی:  تاریخ الخلفاء، تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  ص 430، مطبوعہ لاہور 2008ء۔
  28. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی:  تاریخ ملت، جلد 2، ص 492،  تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  مطبوعہ لاہور 1991ء۔
  29. جلال الدین سیوطی:  تاریخ الخلفاء، تذکرہ خلیفہ عباسی الراضی باللہ،  ص 431، مطبوعہ لاہور 2008ء۔
ذیلی شاخ بنو ہاشم
پیدائش: جون 909ء
 وفات:  12 دسمبر940ء
مناصب سنت
پیشتر
القاھر باللہ
خلیفہ اسلام، امیر المومنین
23 اپریل 934ء12 دسمبر940ء
اگلا
المتقی للہ